Featured Post

قرآن مضامین انڈیکس

"مضامین قرآن" انڈکس   Front Page أصول المعرفة الإسلامية Fundaments of Islamic Knowledge انڈکس#1 :  اسلام ،ایمانیات ، بنی...

The Islamic State اسلامی ریاست


قرآن نے اسلامی ریاست اور حکومت کے بنیادی اصول مقرر کر دیے ہیں، ان اصولوں پرعمل درآمد کے بغیر صرف "اسلامی" کہنے سے کوئی ریاست "اسلامی"نہیں بن جاتی :
The basic principles of Islamic State has been laid down by Quran:
1.اللہ کی حاکمیت (3:189) Sovereignty belongs of Allah 
2. الله کا قانون (5:44,45,46,47) Law of God
3.مشاورت (42:38) Consultation
4.حکمرانوں کے فرائض (3:110) (22:41) Duties and obligations of rulers
اَمَرُوۡا بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ نَہَوۡا عَنِ الۡمُنۡکَرِ
اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، معروف کا حکم دیں گے اور منکر سے منع کریں گے (22:41)
"if We give them authority in the land, establish prayer and give zakah and enjoin what is right and forbid what is wrong.(Quran 22:41)
 5.نظام مملکت سے دیانت داری  (8:27) Trustfulness with the state and system  
6.امانتیں امانت داروں کو اور انصاف (4:58)  Render trusts to whom due, judge with justice.
7. حاکم وقت کی اطاعت کا حکم  (4:59)   Obedience to the ruler within bounds
8. اطاعت حاکم کی حد  (76:24)  Limits of obedience to rulers 
9.آمریت کی نفی (3:79) Autocracy rejected
10.دوسرے نظاموں کی نفی (25:43, 45:24)  Rejection of other systems 
11.بری قیادت کی پیروی کا انجام11:98     Results of following bad leaders
وَ لِلّٰہِ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ  قَدِیۡرٌ ﴿۱۸۹﴾

ایک بہت اہم سوال ہے کہ جب پاکستان کے آیین میں کوئی قانون قرآن سنت کے خلاف نہیں ہو سکتا اور بتدریج تمام قوانین کو قرآن کو سنت کے مطابق کرنا ہے تو پھر اب تک ایسا کیوں نہیں ہوا ؟ اس کا (سرکاری ) ... جواب >>>>>>
 آئین پاکستان کی اسلامی شقوں پر عمل درآمد میں کوتاہی 
 ویسے تو آئین میں کئی ایسی شقیں موجود ہیں جن کی روزانہ کی بنیاد پر ہماری ریاست، حکومت، اسمبلیاں وغیرہ کھلی خلاف ورزی کرتی ہیں اور اس خلاف ورزی پر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی، لیکن آئین کی اسلامی شقوں کے ساتھ جو اس ملک میں ہو رہا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے۔

ایک طرف ان شقوں کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو دوسری طرف کوئی اس بارے میں آواز تک بلند نہیں کرتا اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آئین کی اسلامی شقیں آئین کا حصہ ہیں ہی نہیں۔

 آئین کی حکمرانی اور عملداری کی بات کرنے والوں کے منہ سے کبھی یہ بات نہیں سنی جاتی کہ آخر آئینِ پاکستان کی اسلامی شقوں پر عملدرآمد کی بجائے اُن کی کھلی خلاف ورزی ایک معمول کیوں بن گیا ہے۔

1. آئینِ پاکستان سود کے فوری خاتمے کا حکم دیتا ہے، معاشرے کو مکمل اسلامی ماحول فراہم کرنے کی ہدایت دیتے، تمام قوانین کو اسلام کے مطابق ڈھالنے کی ڈیڈ لائن دیتا ہے.

2.اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹس پر بحث کرکے پارلیمنٹ کو اسلام مخالف قوانین میں اسلام کے مطابق ترامیم کرنے کا حکم دیتا ہے، ممبرانِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلیوں کی اہلیت کے لیے بہتر اور باعمل مسلمان ہونے کی پابندی عائد کرتا ہے.

3. شراب، جوئے، جسم فروشی، فحاشی، منشیات جیسی برائیوں کے خاتمے کی ضمانت دیتا ہے۔ ان آئینی شقوں کی کھلے عام خلاف ورزی جاری ہے لیکن کوئی کچھ نہیں بولتا۔ کوئی اس پر بھی آرٹیکل 6لگانے کا مطالبہ کرے۔

4.ا آئین جلد اور سستے انصاف کی فراہمی کا بھی حکم دیتا ہے۔ کیا عدالتیں ایسا کر رہی ہیں، اگر نہیں تو پھر یہاں آرٹیکل 6 کس کے خلاف لگنا چاہیے؟ 
یہی آئین بنیادی انسانی حقوق، عورتوں، بچوں اور اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے اور لاپتہ افراد کے تصور کو ہی نہیں مانتا لیکن یہ سب بھی پاکستان میں ایک معمول ہے۔

ریاست، سیاستدان، عدلیہ اور میڈیا صرف اُس آئین اور اُن آئینی شقوں کیخلاف ورزی پر بولتے ہیں جو اُن کے لیے اہم ہیں۔ آئین کی کئی شقوں خصوصاً آئین کی اسلامی شقوں کے ساتھ جو ہو رہا ہے اُس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بحیثیت قوم ہم آئین کو نہیں مانتے بلکہ آئین کو اپنی مرضی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

آئینِ پاکستان کے اس استحصال پر تو آدھے پاکستان پر آرٹیکل 6لگنا چاہیے۔ ہمارے پاس آئین ضرور ہے لیکن اس پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔ ہم آئین آئین کی گردان تو ضرور کرتے ہیں لیکن آئین کے ایک حصے سے سوتیلوں والا سلوک کیا جا رہا ہے۔ اس کھلے تضاد پر تو میڈیا بھی خاموش ہے کیوں کہ میڈیا کا ایک حصہ سیاسی جماعتوں کا ماوتھ پیس بن چکا۔ افسوس!

ملک کی بدقسمتی ہو گی اگر مشتبہ ریپو ٹیشن کے سیاست دان وزیر اعظم ، جج یا چیف جسٹس یا اداروں کے سربراہ  بن جائیں
سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلے میں مشاہدہ کیا کہ ٹیکس حکام کو جسٹس کی اہلیہ  کے خلاف تین غیر ملکی جائیدادوں کا اعلان نہ کرنے کے الزامات کی تحقیقات کرنے کے لیے اس کی ہدایت اور ان کے بچوں اور سپریم جوڈیشل کونسل (جے ڈی سی) کو اپنے نتائج پیش کرنا قدرتی انصاف (natural justice) کے اصول کی خلاف ورزی ہے- انگریزی قانون میں، قدرتی انصاف (natural justice) ایک تکنیکی اصطلاح (audi alteram partem)- 
سب کو معلوم ہے کہ کرپٹ ، رشوت خورعہدے دار اپنی ناجائز آمدنی بیوی، بچوں، عزیزوں ، ملزموں وغیرہ کے نام پر ملک میں اور بیرون ملک رکھتے ہیں تاکہ خود پکڑے نہ جائیں- اخبارات اس قسم کی ناجائز ٹی ٹی ٹرانزیکشنز (TT Transactions) سے بھرے پڑے ہیں (3, 2 link 1)- اب اگر کس جج کے لیے یہ جائز قرار دیا جایے گا تو پھر یہ ایک،  ترجیح، روایت (precedence) بن جایے گی اور کوئی مجرم پکڑا نہ جا سکے گا-
انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہینے ملک کے لوگوں کو اندھے ، بہرے ، بے زبان جانور نہیں سمجھنا چاہیے- 
کیا اسلام انصاف کرنے اور ملزم کو دفاع  کا حق نہیں دیتا؟ اسلام تو کافر کے ساتھ بھی انصاف کرنے کو کہتا ہے (قرآن : 60:8)
1.تو پھر یہ انگریز کے قانون کیوں؟
2.اب فیصلہ ہو جایے کہ پاکستان میں برطانیہ کا قانون لاگو ہے یا قرآن کا ؟ 
3.کیا ہم ابھی تک غلام ہیں ؟ 
4.یا انگریزوں کے بعد انگریزوں کے  غلام ہمارے حکمران اور ججز ہیں؟ 
5.کیا اب ہمیں آزادی کی ایک اور تحریک چلانا ہو گئی؟ 
 ” اور جو شخص اس قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتا جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہ کافر(٤٤) (ظالم ٤٥ . فاسق٤٧ ) ہے (قرآن : ٤٧،٤٥:٤٤)
دوسرے نظاموں کی نفی (25:43, 45:24)  Rejection of other systems 
  بری قیادت کی پیروی کا انجام11:98     
*پریزیڈنٹ  یا جو بھی ذمہ دار ہے اس کو اس قسم کے شخص/ اشخاص کی اہم عھدوں پرتقرری (appontment)  سے انکار کرنا ہو گا ،  قرآن میں ہے کہ :
1..اہلیت کے مطابق منتخب کریں (4:58. 2:247)
2.میرٹ ، لوگوں کے مابین انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں (4:58)
 3.انصاف کے لئے مضبوطی سے کھڑے ہو جاؤ (4:135) 
4.کسی کے اعتماد ، بھروسہ کو ٹھیس مت پہنچاؤ (2:283)
5.حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ (2:42)
6.اچھے کاموں کی نصیحت، برے کاموں سے منع کرو (31:17)
7.نفس کی حرص سے اپنے آپ کو بچائیں (64:16)
8.ایک دوسرے کے مال کو ناجائز استعمال نہ کریں (4:29)
9.خود عمل کرنے کے بعد لوگوں کو راستبازی کا حکم دو (2:44)
 10.گناہ اور ناجائز کاموں کے خلاف جدوجہد کریں (5:63)
11.کسی شخص پراس کی استعداد سے زیادہ بوجھ مت ڈالو (2:286)
12.  بد دیانت لوگوں کی حمایت نہ  کریں (4:105)
13.گناه اور ﻇلم و زیادتی میں مدد نہ کرو (5:2)
14.نیکی اور پرہیزگاری میں تعاون کریں(5:2) 
15.’’ اکثریت ‘‘ حق کی کسوٹی نہیں ہے (6:116)
16.انصاف کرو (5:8)
 آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لئے ہے اور اللہ تعالٰی ہرچیز پر قادر ہے ۔  [سورة آل عمران 3 آیت: 189]
And to Allah belongs the dominion of the heavens and the earth, and Allah is over all things competent. [ Surat Aal e Imran: 3 Verse: 189]

لِلّٰہِ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا فِیۡہِنَّ ؕ وَ ہُوَ  عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۱۲۰﴾

 اللہ ہی کی سلطنت ہے  آسمانوں کی اور زمین کی اور ان چیزوں کی جو ان میں موجود ہیں اور وہ ہر شے پر پوری قدرت رکھتا ہے ۔  [سورة المائدة 5 آیت: 120]
 To Allah belongs the dominion of the heavens and the earth and whatever is within them. And He is over all things competent. [Surat ul Maeeda: 5 Verse: 120]

اللہ وحدہ الہ ہے اور وہی قادر مطلق ہے :

اس کے سامنے تمام رسول سرتسلیم خم کرتے ہیں اور سب رسول آخری فیصلہ اللہ کے سپرد کرتے ہیں اس میں حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) بھی اپنا فیصلہ اللہ کے سپرد کرتے ہیں ۔ جس کے ہاتھ میں زمین وآسماں کی حکومت ہے ۔ اور یہ آخری تبصرہ اس پوری سورت کے مضمون کی طرف اشارہ ہے ۔ اس سورة کا مرکزی موضوع ” الدین “ ہے اور دین اور دینداری کا اظہار اللہ کی شریعت کی اطاعت میں ہوتا ہے ۔ صرف اللہ کے قوانین و ضوابط اخذ کرنا اور صرف اسی کے مطابق فیصلے کرنا اس لئے کہ وہی بادشاہ ہے جس کے سوا کوئی بادشاہ نہیں ہے ۔ زمین و آسمان کے درمیان جس قدر چیزیں بھی ہیں وہ اس کی مملوک ہیں اور یہ مالک اور بادشاہ یہ آرڈنینس جاری فرماتا ہے ۔ (آیت) ” ومن لم یحکم بما انز اللہ فاولئک ھم الکافرون “ ” اور جو شخص اس قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتا جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہ کافر ہے ۔ “ یہی ایک مسئلہ ہے اور یہ اللہ کی حاکمیت کا مسئلہ ہے ۔ یہ عقیدہ توحید کا مسئلہ ہے ۔ اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا مسئلہ ہے ‘ جس کے بعد ہی مکمل توحید وجود میں آتی ہے اور صرف اللہ الہ وحاکم قرار پاتا ہے ۔ ..

اللہ وحدہ الہ ہے اور وہی قادر مطلق ہے ۔ اس کے سامنے تمام رسول سرتسلیم خم کرتے ہیں اور سب رسول آخری فیصلہ اللہ کے سپرد کرتے ہیں اس میں حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) بھی اپنا فیصلہ اللہ کے سپرد کرتے ہیں ۔ جس کے ہاتھ میں زمین وآسماں کی حکومت ہے ۔ اور یہ آخری تبصرہ اس پوری سورت کے مضمون کی طرف اشارہ ہے ۔ اس سورة کا مرکزی موضوع ” الدین “ ہے اور دین اور دینداری کا اظہار اللہ کی شریعت کی اطاعت میں ہوتا ہے ۔ صرف اللہ کے قوانین و ضوابط اخذ کرنا اور صرف اسی کے مطابق فیصلے کرنا اس لئے کہ وہی بادشاہ ہے جس کے سوا کوئی بادشاہ نہیں ہے ۔ زمین و آسمان کے درمیان جس قدر چیزیں بھی ہیں وہ اس کی مملوک ہیں اور یہ مالک اور بادشاہ یہ آرڈنینس جاری فرماتا ہے ۔ 

 ” ومن لم یحکم بما انز اللہ فاولئک ھم الکافرون “ (٥:٤٤)
 ” اور جو شخص اس قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتا جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہ کافر(٤٤) (ظالم ٤٥ . فاسق٤٧ ) ہے “  (٤٧،٤٥:٤٤)
 یہی ایک مسئلہ ہے اور یہ اللہ کی حاکمیت کا مسئلہ ہے ۔ یہ عقیدہ توحید کا مسئلہ ہے ۔ اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا مسئلہ ہے ‘ جس کے بعد ہی مکمل توحید وجود میں آتی ہے اور صرف اللہ الہ وحاکم قرار پاتا ہے ۔ [سید قطب شہید]
 ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس جملہ میں خطاب یہود کو ہے لیکن نفس مضمون کے لحاظ سے اس کا خطاب عام ہے جس میں یہود و نصاریٰ کے علاوہ مسلمان بھی شامل ہیں اور اس میں بتایا گیا ہے کہ کتاب اللہ یا منزل من اللہ وحی کے مطابق فیصلہ نہ کرنا کافروں کا کام ہوتا ہے مسلمانوں کا نہیں۔ (5:44) [کیلانی ]
اگر  مسلم ممالک میں مکمل طور پر شریعت نافذ نہیں تو بغاوت ، فساد ، دہشت گردی، خود کش حملوں سے فساد فی الارض  کی بجایے پر امن جدو جہد سے مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں-

صرف الله کا قانون
"ہم نے توراۃ نازل کی جس میں ہدایت اور روشنی تھی سارے نبی، جو مسلم تھے، اُسی کے مطابق اِن یہودی بن جانے والوں کے معاملات کا فیصلہ کرتے تھے، اور اِسی طرح ربانی اور احبار بھی (اسی پر فیصلہ کا مدار رکھتے تھے) کیونکہ انہیں کتاب اللہ کی حفاظت کا ذمہ دار بنایا گیا تھا اور وہ اس پر گواہ تھے پس (اے گروہ یہود!) تم لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو اور میری آیات کو ذرا ذرا سے معاوضے لے کر بیچنا چھوڑ دو جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں (44) توراۃ میں ہم نے یہودیوں پر یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت، اور تمام زخموں کے لیے برابر کا بدلہ پھر جو قصاص کا صدقہ کر دے تو وہ اس کے لیے کفارہ ہے اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی ظالم ہیں (45) پھر ہم نے ان پیغمبروں کے بعد مریمؑ کے بیٹے عیسیٰؑ کو بھیجا توراۃ میں سے جو کچھ اس کے سامنے موجود تھا وہ اس کی تصدیق کرنے والا تھا اور ہم نے اس کو انجیل عطا کی جس میں رہنمائی اور روشنی تھی اور وہ بھی توراۃ میں سے جو کچھ اُس وقت موجود تھا اُس کی تصدیق کرنے والی تھی اور خدا ترس لوگوں کے لیے سراسر ہدایت اور نصیحت تھی (46) ہمارا حکم تھا کہ اہل انجیل اس قانون کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے اس میں نازل کیا ہے اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی فاسق ہیں (5:47)

یہاں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے حق میں جو خدا کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں تین حکم ثابت کیے ہیں ۔ ایک یہ کہ وہ کافر ہیں ، دوسرے یہ کہ وہ ظالم ہیں ، تیسرے یہ کہ وہ فاسق ہیں ۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جو انسان خدا کے حکم اور اس کے نازل کردہ قانون کو چھوڑ کر اپنے یا دوسرے انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین پر فیصلہ کرتا ہے ، وہ دراصل تین بڑے جرائم کا ارتکاب کرتا ہے ۔ اوّلاً اس کا یہ فعل حکم خداوندی کے انکار کا ہم معنی ہے اور یہ کفر ہے ۔ ثانیاً اس کا یہ فعل عدل و انصاف کے خلاف ہے ، کیونکہ ٹھیک ٹھیک عدل کے مطابق جو حکم ہو سکتا تھا وہ تو خدا نے دے دیا تھا ، اس لیے جب خدا کے حکم سے ہٹ کر اس نے فیصلہ کیا تو ظلم کیا ۔ تیسرے یہ کہ بندہ ہونے کے باوجود جب اس نے اپنے مالک کے قانون سے منحرف ہو کر اپنا یا کسی دوسرے کا قانون نافذ کیا تو درحقیقت بندگی و اطاعت کے دائرے سے باہر قدم نکالا اور یہی فسق ہے ۔ یہ کفر اور ظلم اور فسق اپنی نوعیت کے اعتبار سے لازماً انحراف از حکم خداوندی کی عین حقیقت میں داخل ہیں ۔ ممکن نہیں ہے کہ جہاں وہ انحراف موجود ہو وہاں تینوں چیزیں موجود نہ ہوں ۔ البتہ جس طرح انحراف کے درجات و مراتب میں فرق ہے اسی طرح ان تینوں چیزوں کے مراتب میں بھی فرق ہے ۔ جو شخص حکم الہٰی کے خلاف اس بنا پر فیصلہ کرتا ہے کہ وہ اللہ کے حکم کو غلط اور اپنے یا کسی دوسرے انسان کے حکم کو صحیح سمجھتا ہے وہ مکمل کافر اور ظالم اور فاسق ہے ۔ اور جو اعتقاداً حکم الہٰی کو برحق سمجھتا ہے مگر عملاً اس کے خلاف فیصلہ کرتا ہے وہ اگرچہ خارج از ملت تو نہیں ہے مگر اپنے ایمان کو کفر ، ظلم اور فسق سے مخلوط کر رہا ہے ۔ اسی طرح جس نے تمام معاملات میں حکم الہٰی سے انحراف اختیار کر لیا ہے وہ تمام معاملات میں کافر ، ظالم اور فاسق ہے ۔ اور جو بعض معاملات میں مطیع اور بعض میں منحرف ہے اس کی زندگی میں ایمان و اسلام اور کفر و ظلم و فسق کی آمیزش ٹھیک ٹھیک اسی تناسب کے ساتھ ہے جس تناسب کے ساتھ اس نے اطاعت اور انحراف کو ملا رکھا ہے ۔ بعض اہل تفسیر نے ان آیات کے اہل کتاب کے ساتھ مخصوص قرار دینے کی کوشش کی ہے ۔ مگر کلام الہٰی کے الفاظ میں اس تاویل کے لیے کوئی گنجائش موجود نہیں ۔ اس تاویل کا بہترین جواب وہ ہے جو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے دیا ہے ۔ ان سے کسی نے کہا کہ یہ تینوں آیتیں تو بنی اسرائیل کے حق میں ہیں ۔ کہنے والے کا مطلب یہ تھا کہ یہودیوں میں جس نے خدا کے نازل کردہ حکم کے خلاف فیصلہ کیا ہو وہی کافر ، وہی ظالم اور وہی فاسق ہے ۔ اس پر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نعم الاخرۃ لکم بنو اسرائیل اَن کانت لھم کل مُرّ ۃ ولکم کل حلوۃ کلّا واللہ لتسلکن طریقھم قدر الشراک ۔ ” کتنے اچھے بھائی ہیں تمہارے لیے یہ بنی اسرائیل کہ کڑوا کڑوا سب ان کے لیے ہے اور میٹھا میٹھا سب تمہارے لیے ! ہرگز نہیں ، خدا کی قسم تم انہی کے طریقہ پر قدم بقدم چلو گے ۔ .[تفہیم القرآن ]

مشاورت 

وَ الَّذِیۡنَ اسۡتَجَابُوۡا لِرَبِّہِمۡ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ ۪ وَ اَمۡرُہُمۡ شُوۡرٰی بَیۡنَہُمۡ ۪ وَ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ  یُنۡفِقُوۡنَ ﴿ۚ۳۸﴾

 اور اپنے رب کے فرمان کو قبول کرتے ہیں  اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور ان کا ( ہر )  کام آپس کے مشورے سے ہوتا ہے اور جو ہم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں سے  ( ہمارے نام پر ) دیتے ہیں ۔ [سورة الشورى 42 آیت: 38]

 And those who have responded to their lord and established prayer and whose affair is [determined by] consultation among themselves, and from what We have provided them, they spend. [ Surat us Shooraa: 42 Verse: 38] 
مشورہ اور اس کے متعلقات :۔ مشورہ سے متعلق قابل ذکر امور یہ ہیں : 
(١) مشورہ انفرادی امور میں کیا جاسکتا ہے جیسا کہ آپ نے واقعہ افک کے دوران کئی صحابہ سے مشورہ لیا اور اجتماعی امور میں بھی جیسا کہ اس آیت سے واضح ہے۔ 
(٢) مشورہ صرف اسی سے لینا چاہئے جو مشورہ دینے کی اہلیت رکھتا ہوں۔ ہر کس و ناکس سے نہ مشورہ لینے کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ کوئی لیتا ہے۔ اجتماعی امور میں مومنوں کا امیر مجلس شوریٰ منتخب کرتا ہے اور اس سے مشورہ لیتا ہے۔ 
(٣) مشورہ صرف ایسے امور میں کیا جاسکتا ہے۔ جہاں کتاب و سنت میں کوئی صریح حکم موجود نہ ہو۔ اور اس کا تعلق بالعموم تدبیری امور سے ہوتا ہے۔ جیسا کہ آپ نے اسارٰی بدر کے معاملہ میں صحابہ سے مشورہ کیا تھا کہ انہیں قتل کردیا جائے یا فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے یا جنگ احد کے متعلق یہ مشورہ کیا تھا کہ یہ جنگ مدینہ میں رہ کر لڑی جائے یعنی صرف مدافعت کی جائے یا کھلے میدان میں لڑی جائے۔
(٤) مشورہ کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ زیر بحث مسئلہ کے سب پہلو سامنے آجائیں۔ اور جو پہلو اقرب الی الحق ہو اسے اختیار کیا جائے۔ مختصر لفظوں میں اس کا مقصد دلیل کی تلاش ہوتا ہے۔
(٥) اس مقصد کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ ہر صاحب مشورہ کو اپنی رائے کے اظہار کی پوری آزادی دی جائے۔ 
(٦) یہ تشخیص کرنا کہ اقرب الی الحق کون سا پہلو ہے ؟ میر مجلس کا کام ہے۔ اس کا انحصار آراء کی کثرت اور قلت پر نہیں۔ بلکہ اگر ایک دو شخصوں کی رائے بھی اقرب الی الحق ہو تو اسے ہی اختیار کیا جائے گا۔ جیسا کہ آپ نے اساریٰ بدر کے موقعہ پر فرمایا تھا کہ اگر سیدنا ابوبکر صدیق (رض) اور سیدنا عمر دونوں ایک رائے پر متفق ہوجاتے تو میں اسی کے مطابق عمل کرتا۔ یا جنگ احد کے متعلق آپ کو یہ مشورہ دینے والے کہ جنگ کھلے میدان میں لڑی جائے چند جوشیلے نوجوان مسلمان تھے لیکن آپ نے ان کی قلت کے باوجود انہی کی رائے کو اختیار کیا۔ 
(٧) آخری فیصلہ کا اختیار میر مجلس کو ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا :
فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِيْنَ ( ١٥٩ ) 3 ۔ آل عمران :159)
جب کسی فریق کے پاس کوئی دلیل موجود نہ ہو یا دونوں طرف دلائل یکساں ہوں تو اس وقت کثرت رائے کے مطابق فیصلہ کیا جاسکتا ہے اور ایسی صورت میں کثرت ہی بذات خود ایک دلیل بن جاتی ہے۔ اس طرح قطع نزاع تو ہوجاتا ہے مگر اس صورت میں وضوح حق ضروری نہیں۔ اور اس کی مثال بالکل قرعہ اندازی کی سی ہوتی ہے۔
اسلام میں خلیفہ کا انتخاب :۔ 
رہی یہ بات کہ آیا امیر کا انتخاب بھی مشورہ سے ہوگا یا یہ معاملہ مشورہ سے باہر ہے۔ تو اکثر علماء کا خیال ہے یہ معاملہ مشورہ سے باہر ہے۔ اس پر پہلی دلیل یہ ہے کہ یہ سورة مکی ہے جبکہ مسلمانوں کی ریاست کا تصور تک نہ تھا اور دوسری دلیل یہ ہے کہ مسلمانوں کا اولین امیر خود نبی ہوتا ہے اور اس کے انتخاب کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ تیسری دلیل یہ ہے کہ خلفائے راشدین کا انتخاب کسی ایک مخصوص طریق پر نہیں ہوا۔ پہلے خلیفہ کا انتخاب صرف مدینہ میں بعض صحابہ کے اجتماع میں ہوا۔ سیدنا عمر نے نام پیش کرکے بیعت کی۔ پھر سب نے بیعت کرلی۔ دوسرے خلیفہ سیدنا عمر کو سیدنا ابوبکر صدیق (رض) نے نامزد کیا۔ تیسرے خلیفہ سیدنا عثمان (رض) کو ایک چھ رکنی کمیٹی نے منتخب کیا اور چوتھے خلیفہ کو سیدنا عثمان (رض) کے قاتلوں نے زبردستی نامزد کیا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے۔ خلیفہ یا امیر المؤمنینکا سب مسلمانوں کے مشورہ کے تحت منتخب ہونا ضروری نہیں۔ مسلمانوں کا امیر جس راستے سے آئے اگر ان کو کتاب و سنت کے مطابق چلاتا ہے تو وہ ان کا فی الواقع امیر ہے، ورنہ نہیں۔ [عبدالرحمان کیلانی ]

تفہیم القرآن سے:

 اس چیز کو یہاں اہل ایمان کی بہترین صفات میں شمار کیا گیا ہے ، اور سورہ آل عمران ( آیت 159 ) میں اس کا حکم دیا گیا ہے ۔ اس بنا پر مشاورت اسلامی طرز زندگی کا ایک اہم ستون ہے ، اور مشورے کے بغیر اجتماعی کام چلانا نہ صرف جاہلیت کا طریقہ ہے بلکہ اللہ کے مقرر کیے ہوئے ضابطے کی صریح خلاف ورزی ہے ۔ مشاورت کو اسلام میں یہ اہمیت کیوں دی گئی ہے؟
١.اس کے وجوہ پر اگر غور کیا جائے تو تین باتیں واضح طور پر ہمارے سامنے آتی ہیں ۔ ایک یہ کہ جس معاملے کا تعلق دو یا زائد آدمیوں کے مفاد سے ہو ، اس میں کسی ایک شخص کا اپنی رائے سے فیصلہ کر ڈالنا اور دوسرے متعلق اشخاص کو نظر انداز کرینا زیادتی ہے ۔ مشترک معاملات میں کسی کو اپنی من مانی چلانے کا حق نہیں ہے ۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ایک معاملہ جتنے لوگوں کے مفاد سے تعلق رکھتا ہو اس میں ان سب کی رائے لی جائے ، اور اگر وہ کسی بہت بڑی تعداد سے متعلق ہو تو ان کے معتمد علیہ نمائندوں کو شریک مشورہ کیا جائے ۔ 
٢.دوسرے یہ کہ انسان مشترک معاملات میں اپنی من مانی چلانے کی کوشش یا تو اس وجہ سے کرتا ہے کہ وہ اپنی ذاتی اغراض کے لیے دوسروں کا حق مارنا چاہتا ہے ، یا پھر اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو بڑی چیز اور دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے ۔ اخلاقی حیثیت سے یہ دونوں صفات یکساں قبیح ہیں ، اور مومن کے اندر ان میں سے کسی صفت کا شائبہ بھی نہیں پایا جا سکتا ۔ مومن نہ خود غرض ہوتا ہے کہ دوسروں کے حقوق پر دست درازی کر کے خود ناجائز فائدہ اٹھانا چاہے ، اور نہ وہ متکبر اور خود پسند ہوتا ہے کہ اپنے آپ ہی کو عقل کل اور علیم و خبیر سمجھے ۔ 
٣.تیسرے یہ کہ جن معاملات کا تعلق دوسروں کے حقوق اور مفاد سے ہو ان میں فیصلہ کرنا ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے ۔ کوئی شخص جو خدا سے ڈرتا ہو اور یہ جانتا ہو کہ اس کی کتنی سخت جواب دہی اسے اپنے رب کے سامنے کرنی پڑے گی ، کبھی اس بھاری بوجھ کو تنہا اپنے سر لینے کی جرأت نہیں کر سکتا ۔ اس طرح کی جرأتیں صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو خدا سے بے خوف اور آخرت سے بے فکر ہوتے ہیں ۔ خدا ترس اور آخرت کی باز پرس کا احساس رکھنے والا آدمی تو لازماً یہ کوشش کرے گا کہ ایک مشترک معاملہ جن جن سے بھی متعلق ہو ان سب کو ، یا ان کے بھروسے کے نمائندوں کو اس کا فیصلہ کرنے میں شریک مشورہ کرے ، تاکہ زیادہ سے زیادہ صحیح اور بے لاگ اور مبنی بر انصاف فیصلہ کیا جا سکے ، اور اگر نادانستہ کوئی غلطی ہو بھی جائے تو تنہا کسی ایک ہی شخص پر اس کی ذمہ داری نہ آ پڑے ۔

یہ تین وجوہ ایسے ہیں جن پر اگر آدمی غور کرے تو اس کی سمجھ میں یہ بات اچھی طرح آ سکتی ہے کہ اسلام جس اخلاق کی انسان کو تعلیم دیتا ہے ، مشورہ اس کا لازمی تقاضا ہے اور اس سے انحراف ایک بہت بڑی بد اخلاقی ہے جس کی اسلام کبھی اجازت نہیں دے سکتا ۔ اسلامی طرز زندگی یہ چاہتا ہے کہ مشاورت کا اصول ہر چھوٹے بڑے اجتماعی معاملے میں برتا جائے ۔ گھر کے معاملات ہوں تو ان میں میاں اور بیوی باہم مشورے سے کام کریں اور بچے جب جوان ہو جائیں تو انہیں بھی شریک مشورہ کیا جائے ۔ خاندان کے معاملات ہوں تو ان میں کنبے کے سب عاقل و بالغ افراد کی رائے لی جائے ۔ ایک قبیلے یا برادری یا بستی کے معاملات ہوں اور سب لوگوں کا شریک مشورہ ہونا ممکن نہ ہو ، ان کا فیصلہ کوئی ایسی پنچایت یا مجلس کرے جس میں کسی متفق علیہ طریقے کے مطابق تمام متعلق لوگوں کے معتمد علیہ نمائندے شریک ہوں ۔ 

ایک پوری قوم کے معاملات ہوں تو ان کے چلانے کے لیے قوم کا سربراہ سب کی مرضی سے مقرر کیا جائے ، اور وہ قومی معاملات کو ایسے صاحب رائے لوگوں کے مشورے سے چلائے جن کو قوم قابل اعتماد سمجھتی ہو ، اور وہ اسی وقت تک سربراہ رہے جب تک قوم خود اسے اپنا سربراہ بنائے رکھنا چاہے ۔ کوئی ایماندار آدمی زبردستی قسم کا سربراہ بننے اور بنے رہنے کی خواہش یا کوشش نہیں کر سکتا ، نہ یہ فریب کاری کر سکتا ہے کہ پہلے بزور قوم کے سر پر مسلط ہو جائے اور پھر جبر کے تحت لوگوں کی رضامندی طلب کرے ، اور نہ اس طرح کی چالیں چل سکتا ہے کہ اس کو مشورہ دینے کے لیے لوگ اپنی آزاد مرضی سے اپنی پسند کے نمائندے نہیں بلکہ وہ نمائندے منتخب کریں جو اس کی مرضی کے مطابق رائے دینے والے ہوں ۔ ایسی ہر خواہش صرف اس نفس میں پیدا ہوتی ہے جو نیت کی خرابی سے لوث ہو ، اور اس خواہش کے ساتھ : اَمْرُھُمْ شُوْریٰ بَینَھُمْ کی ظاہری شکل بنانے اور اس کی حقیقت غائب کر دینے کی کوششیں صرف وہی شخص کر سکتا ہے جسے خدا اور خلق دونوں کو دھوکا دینے میں کوئی باک نہ ہو ، حالانکہ نہ خدا دھوکا کھا سکتا ہے ، اور نہ خلق ہی اتنی اندھی ہو سکتی ہے کہ کوئی شخص دن کی روشنی میں علانیہ ڈاکہ مار رہا ہو اور وہ سچے دل سے یہ سمجھتی رہے کہ وہ ڈاکہ نہیں مار رہا ہے بلکہ لوگوں کی خدمت کر رہا ہے ۔ 

اَمْرُھُمْ شُوْریٰ بَیْنَھُمْ کا قاعدہ خود اپنی نوعیت اور فطرت کے لحاظ سے پانچ باتوں کا تقاضا کرتا ہے : 

١.اول یہ کہ اجتماعی معاملات جن لوگوں کے حقوق اور مفاد سے تعلق رکھتے ہیں انہیں اظہار رائے کی پوری آزادی حاصل ہو ، اور وہ اس بات سے پوری طرح باخبر رکھے جائیں کہ انکے معاملات فی الواقع کس طرح چلا ئے جا رہے ہیں ، اور انہیں اس امر کا بھی پورا حق حاصل ہو کہ اگر وہ اپنے معاملات کی سربراہی میں کوئی غلطی یا خامی یا کوتاہی دیکھیں تو اس پر ٹوک سکیں ، احتجاج کر سکیں ، اور اصلاح ہوتی نہ دیکھیں تو سربراہ کاروں کو بدل سکیں ۔ لوگوں کا منہ بند کر کے اور ان کے ہاتھ پاؤں کس کر اور ان کو بے خبر رکھ کر ان کے اجتماعی معاملات چلانا صریح بد دیانتی ہے جسے کوئی شخص بھی : اَمْرُھُمْ شُوریٰ بَینَھُمْ کے اصول کی پیروی نہیں مان سکتا ۔ 
٢.دوم یہ کہ اجتماعی معاملات کو چلانے کی ذمہ داری جس شخص پر بھی ڈالنی ہو اسے لوگوں کی رضامندی سے مقرر کیا جائے ، اور یہ رضامندی ان کی آزادانہ رضامندی ہو ۔ جبر اور تخویف سے حاصل کی ہوئی ، یا تحریص و اطماع سے خریدی ہوئی ، یا دھوکے اور فریب اور مکاریوں سے کھسوٹی ہوئی رضامندی درحقیقت رضامندی نہیں ہے ۔ ایک قوم کا صحیح سربراہ وہ نہیں ہوتا جو ہر ممکن طریقہ سے کوشش کر کے اس کا سربراہ بنے ، بلکہ وہ ہوتا ہے جس کو لوگ اپنی خوشی اور پسند سے اپنا سربراہ بنائیں ۔
٣. سوم یہ کہ سربراہ کار کو مشورہ دینے کے لیے بھی وہ لوگ مقرر کیے جائیں جن کو قوم کا اعتماد حاصل ہو ، اور ظاہر بات ہے کہ ایسے لوگ کبھی صحیح معنوں میں حقیقی اعتماد کے حامل قرار نہیں دیے جاسکتے جو دباؤ ڈال کر ، یا مال سے خرید کر ، یا جھوٹ اور مکر سے کام لے کر ، یا لوگوں کو گمراہ کر کے نمائندگی کا مقام حاصل کریں ۔ 
٤.چہارم یہ کو مشورہ دینے والے اپنے علم اور ایمان و ضمیر کے مطابق رائے دیں ، اور اس طرح کے اظہار رائے کی انہیں پوری آزادی حاصل ہو ۔ یہ بات جہاں نہ ہو ، جہاں مشورہ دینے والے کسی لالچ یا خوف کی بنا پر ، یا کسی جتھہ بندی میں کسے ہوئے ہونے کی وجہ سے خود اپنے علم اور ضمیر کے خلاف رائے دیں ، وہاں در حقیقت خیانت اور غداری ہو گی نہ کہ : اَمْرُھُمْ شُوْریٰ بَیْنَھُمْ کی پیروی ۔
٥. پنجم یہ کہ جو مشورہ اہل شوریٰ کے اجماع ( اتفاق رائے ) سے دیا جائے ، یا جسے ان کے جمہور ( اکثریت ) کی تائید حاصل ہو ، اسے تسلیم کیا جائے ۔ کیونکہ اگر ایک شخص یا ایک ٹولہ سب کی سننے کے بعد اپنی من مانی کرنے کا مختار ہو تو مشاورت بالکل بے معنی ہو جاتی ہے ، اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرما رہا ہے کہ ان کے معاملات میں ان سے مشورہ لیا جاتا ہے بلکہ یہ فرما رہا ہے کہ ان کے معاملات آپس کے مشورے سے چلتے ہیں ۔ اس ارشاد کی تعمیل محض مشورہ لے لینے سے نہیں ہوجاتی ، بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ مشاورت میں اجماع یا اکثریت کے ساتھ جو بات طے ہو اسی کے مطابق معاملات چلیں ۔ 
اسلام کے اصول شوریٰ کی اس توضیح کے ساتھ یہ بنیادی بات بھی نگاہ میں رہنی چاہیے کہ یہ شوریٰ مسلمانوں کے معاملات چلانے میں مطلق العنان اور مختار کل نہیں ہے بلکہ لازماً اس دین کے حدود سے محدود ہے جو اللہ تعالیٰ نے خود اپنی تشریع سے مقرر فرمایا ہے ، اور اس اصل الاصول کی پابند ہے کہ تمہارے درمیان جس معاملہ میں بھی اختلاف ہو اس کا فیصلہ کرنا اللہ کا کام ہے ، اور تمہارے درمیان جو نزاع بھی ہو اس میں اللہ اور رسول کی طرف رجوع کرو ۔ اس قاعدہ کلیہ کے لحاظ سے مسلمان شرعی معاملات میں اس امر پر تو مشورہ کر سکتے ہیں کہ کسی نص کا صحیح مفہوم کیا ہے ، اور اس پر عمل در آمد کس طریقہ سے کیا جائے تاکہ اس کا منشا ٹھیک طور سے پورا ہو ، لیکن اس غرض سے کوئی مشورہ نہیں کر سکتے کہ جس معاملہ کا فیصلہ اللہ اور اس کے رسول نے کر دیا ہو اس میں وہ خود کوئی آزادانہ فیصلہ کریں ۔ 
 وَ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ  یُنۡفِقُوۡنَ ﴿ۚ۳۸﴾ اور جو ہم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں سے  ( ہمارے نام پر ) دیتے ہیں:
اس کے تین مطلب ہیں :
١. ایک یہ کہ جو رزق حلال ہم نے انہیں دیا ہے اسی میں سے خرچ کرتے ہیں ، اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے مال حرام پر ہاتھ نہیں مارتے ۔ 
٢.دوسرے یہ کہ ہمارے دیے ہوئے رزق کو سَینت کر نہیں رکھتے بلکہ اسے خرچ کرتے ہیں ۔ 
٣.تیسرے یہ کہ جو رزق انہیں دیا گیا ہے اس میں سے راہ خدا میں بھی خرچ کرتے ہیں ، سب کچھ اپنی ہی ذات کے لیے وقف نہیں کر دیتے ۔
پہلے مطلب کی بنیاد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف رزق حلال و طیب ہی کو اپنے دیے ہوئے رزق سے تعبیر فرماتا ہے ۔ ناپاک اور حرام طریقوں سے کمائے ہوئے رزق کو وہ اپنا رزق نہیں کہتا ۔ دوسرے مطلب کی بنیاد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جو رزق انسان کو دیتا ہے وہ خرچ کرنے کے لیے دیتا ہے ، سینت سَینت کر رکھنے اور اس پر مارزر بن کر بیٹھ جانے کے لیے نہیں دیتا ۔ اور تیسرے مطلب کی بنیاد یہ ہے کہ خرچ کرنے سے مراد قرآن مجید میں محض اپنی ذات پر اور اپنی ضروریات پر ہی خرچ کر دینا نہیں ہے ، بلکہ اس کے مفہوم میں انفاق فی سبیل اللہ بھی شامل ہے ۔ انہی تین وجوہ سے اللہ تعالیٰ خرچ کرنے کو یہاں اہل ایمان کی ان بہترین صفات میں شمار فرما رہا ہے جن کی بنا پر آخرت کی بھلائیاں انہی کے لیے مختص کی گئی ہیں ۔ [سیدابواعلی مودودی  تفہیم القرآن]

ووٹ کی شرعی حیثیت Vote and Islamic Law

آج کی دنیا میں اسمبلیوں، کونسلوں، میونسپل وارڈوں اور دوسری مجالس اورجماعتوں کے انتخابات میں جمہوریت کے نام پر جو کھیل کھیلا جا رہا ہے کہ زور و زر اور غنڈا گردی کے سارے طاغوتی وسائل کا استعمال کرکے یہ چند روزہ موہوم اعزازا حاصل کیا جاتا ہے اور اس کے عالم سوز نتائج ہروقت آنکھوں کے سامنے ہیں اور ملک و ملّت کے ہمدرد و سمجھ دار انسان اپنے مقدور بھر اس کی اصلاح کی فکر میں بھی ہیں،لیکن عام طور پر اس کو ایک ہارجیت کا کھیل اور خالص دنیاوی دھندا سمجھ کر ووٹ لیے اور دیے جاتے ہیں۔ لکھے پڑھے دین دار مسلمانوں کو بھی اس طرف توجہ نہیں ہوتی کہ یہ کھیل صرف ہماری دنیا کے نفع نقصان اور آبادی یا بربادی تک نہیں رہتا بلکہ اس کے پیچھے کچھ طاعت و معصیت اور گناہ و ثواب بھی ہے جس کے اثرات اس دنیا کے بعد بھی یا ہمارے گلے کا ہار عذابِ جہنم بنیں گے، یا پھر درجاتِ جنت اور نجاتِ آخرت کا سبب بنیں گے۔ ...[پڑھتےجائیں …….]

اسلامی ریاست کی بنیادی ذمہ داریاں: نظام ، تماز ، زکات،  اَمَرُوۡا بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ نَہَوۡا عَنِ الۡمُنۡکَرِ :


اَلَّذِیۡنَ  اِنۡ مَّکَّنّٰہُمۡ  فِی الۡاَرۡضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَ اَمَرُوۡا بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ  نَہَوۡا عَنِ الۡمُنۡکَرِ ؕ وَ لِلّٰہِ عَاقِبَۃُ الۡاُمُوۡرِ ﴿۴۱﴾

 یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم زمین میں ان کے پاؤں جما دیں تو یہ پوری پابندی سے نمازیں قائم کریں اور زکوٰتیں دیں اور اچھے کاموں کا حکم کریں اور برے کاموں سے منع کریں  تمام کاموں کا انجام اللہ کے اختیار میں ہے-[سورة الحج 22 آیت: 41]  

 [And they are] those who, if We give them authority in the land, establish prayer and give zakah and enjoin what is right and forbid what is wrong. And to Allah belongs the outcome of [all] matters. [Surat ul Hajj: 22 Verse: 41]

 اس آیت اسلامی طرز حکومت کے خدوخال اور حکومت چلانے والوں کے اوصاف بیان کئے گئے ہیں۔ اسلام میں ریاست کا قیام اصل مقصود نہیں بلکہ یہ کسی دوسرے عظیم مقصد کے حصول کا ذریعہ ہے۔ لہذا ایک اسلامی ریاست کی ذمہ داریاں بھی غیر اسلامی ریاستوں سے بہت زیادہ ہیں۔ مثلاً ایک غیر اسلامی ریاست کی ذمہ داریاں محض یہ ہیں کہ پولیس کے ذریعہ امن بحال رکھا جائے۔ انتظامیہ کے ذریعہ حکومت کاروبار چلایا جائے اور فوج کے ذریعہ سرحدوں کی حفاظت کی جائے۔ جبکہ ایک اسلامی ریاست یہ ذمہ داریاں بھی پورا کرتی ہے اور یہ اس کا ثانوی فریضہ ہوتا ہے اس کے قیام کے اولین مقاصد یہ ہیں۔
١۔ پوری ریاست میں نماز اور زکوٰۃ کا نظام قائم کیا جائے۔
٢۔ مکروہ کاموں کی روک تھام کی جائے اور اچھے کاموں کو فروغ دیا جائے اور ان اغراض کے لئے محکمہ قائم کئے جائیں اور اس طرح۔
٣۔ ملک سے ظلم وجود کو ختم کرکے عدل و انصاف قائم کیا جائے اور اس راہ میں جو باطل قوتیں مزاحم ہوں۔ ان کو دور کیا جائے اور اسی کا نام جہاد ہے۔ 
علاوہ ازیں چونکہ ایک اسلامی ریاست کی بنیاد اخلاقی اقدار پر اٹھتی ہے، اسی لئے اسلام نے حکومت کے انتظام و انصرام کو وہ اہمیت نہیں دی جو اخلاقی اقدار کو دی ہے اور یہی چیز ایک اسلامی طرز حکومت کو دوسرے تمام اقسام حکومت سے ممتاز کرتی ہے۔ اس آیت میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عموماً اور مہاجرین کی خصوصاً اور بالخصوص خلفائے راشدین کی حقانیت اور فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ جن کے ذریعہ وہ تمام امور بطریق احسن سرانجام پائے جو اس آیت میں مذکور ہیں۔ اور جن کی داغ بیل خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ڈالی تھی۔ [٧٠] یعنی ایک ایسی طرز حکومت کے قیام کا تصور خواہ موجودہ حالات ناممکن نظر آرہا ہو لیکن ہر کام کا انجام تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جو ابابیلوں کے لشکر سے ہاتھیوں کے لشکر کو بھی پٹوا سکتا ہے۔ وہ آخر ایک اہل حق کی کمزور سی جماعت کے مقابلہ میں کفار کے کروفر والے لشکر کو مغلوب کیوں نہیں کرسکتا۔ [عبدالرحمان کیلانی]
خیانت مت کرو 
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَخُوۡنُوا اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ وَ تَخُوۡنُوۡۤا اَمٰنٰتِکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۷﴾

 اے ایمان والو! تم اللہ اور رسول  ( کے حقوق ) میں جانتے ہوئے خیانت مت کرو اور اپنی قابل حفاظت چیزوں میں خیانت مت کرو ۔  [سورة الأنفال 8 آیت: 27]

O you who have believed, do not betray Allah and the Messenger or betray your trusts while you know [the consequence]. [ Surat ul Anfaal: 8 Verse: 27]

امانتوں میں خیانت کی مختلف صورتیں :۔ 
امانتوں میں خیانت کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ امانتوں سے مراد وہ تمام عہد معاہدے اور وہ ذمہ داریاں ہیں جو کسی انسان پر عائد کی گئی ہوں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ سے انسان کا عہد، عہد میثاق بھی ہے جس کو پورا کرنے پر انسان اللہ کا نافرمان رہ ہی نہیں سکتا اور وہ عہد بھی جو انسان ذاتی طور پر اللہ سے باندھتا ہے جیسے نذریں اور منتیں وغیرہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خیانت یہ ہے کہ جن باتوں پر کسی مسلمان نے آپ سے بیعت کی ہے۔ ان میں فرار کی راہیں سوچنے لگے اور لوگوں سے معاہدے دین کے بھی ہوسکتے ہیں۔ صلح و جنگ کے سمجھوتے بھی، نکاح کے بھی، پھر انسان پر اس کے منصب کے لحاظ سے طرح طرح کی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ 
غرض اس آیت کے مضمون میں انسان کی پوری زندگی آجاتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کو اپنی زندگی کے ہر واقعہ کے وقت متنبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ کسی حال میں خیانت نہ کرے۔ اور بالخصوص جس بات پر اس آیت میں مسلمانوں کو متنبہ کیا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ کفار سے متعلق مسلمانوں کی پالیسی کو منافقوں یا مشکوک لوگوں کے سامنے ظاہر نہ کریں اور اس سلسلہ میں انتہائی احتیاط سے کام لیں۔ کیونکہ ہر قسم کی جنگی تدابیر اللہ اور اس کے رسول کی امانت ہیں اور ایسے اقدامات کے متعلق کافروں کو اشارتاً یا کنایتہ مطلع کرنا یعنی جنگی راز کو فاش کرنا بھی امانت میں خیانت ہے۔ جس کے نتائج انتہائی خطرناک ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ بسا اوقات فتح شکست میں بدل جاتی ہے- [کیلانی ]
حکمران کو اقتدار ایک امانت ہے جس کو اللہ کے حکم کے مطابق استعمال کرنا ہے اس میں فرائض ، مل و متاع ، سرکاری خزانہ کا درست استعمال شامل ہے - اج کے دور میں سیاست و حکومت ایک کاروبار بن چکا ہے ، مال و دولت حاصل کرنے کا ذریعہ نہ کہ اللہ کے احکام پر عمل درآمداور نہ ہی عوام کی  فلاح و خدمت -

 اسلامی جمہوریت ایک مکمل جمہوریت ہے اتنی مکمل جتنی کوئی جمہوریت ہوسکتی ہے
 البتہ جو چیز اسلامی جمہوریت کو مغربی جمہوریت سے الگ کرتی ہے وہ یہ ہے کہ مغرب کا نظریہ سیاسی 'جمہوری حاکمیت' کا قائل ہے اور اسلام جمہوری خلافت کا-مغربی جمہوریت ایک مطلق العنان خدائی ہے جو اپنے اختیارات کو آزادانہ استعمال کرتی ہے- اس کے برعکس اسلامی جمہوریت ایک پابند آئین بندگی ہے جو اپنے اختیارات کو خدا کی دی ہوئی ہدایات کے مطابق اس کی مقررکردہ حدود کے اندر استعمال کرتی ہے-"  (مولانا مودودی -- اسلامی نظام زندگی اور اس کے بنیادی  تصورات)

"سیاسی کام میں ہمارے لئے سب سے بڑی رُکاوٹ بیوروکریسی اور فوج نے ڈالی۔ ان دونوں کی تربیت انگریز نے کی تھی اور اس تربیت کی بناء پر وہ ہرگز یہاں اسلامی حکومت کا قیام نہیں چاہتے تھے۔ جن لوگوں نے پاکستان بنایا تھا، اُن میں سے انگریز کے پروردہ زمیندار، سرمایہ دار بھی یہاں اسلام کی حکومت نہیں چاہتے تھے۔ ہمارے لئے صرف عوام کا جذبہ ہی رہ گیا تھا جس کو ہم کام میں لا سکتے تھے۔ چُنانچہ ہم نے اس جذبے کو مہم کی شکل میں اُبھارا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب تک کسی کو یہ ہمت نہیں ہوئی کہ وہ اس ملک کو ایک سیکولر ریاست بنا سکے"
(مولانا مودودی رحمۃاللہ علیہ کا جماعت کی امارت سے سبکدوش ہونے سے پہلے مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس سے آخری خطاب۔۔ صفحہ نمبر 320 روداد  جماعت اسلامی  حصہ سوم۔ مُرَتٌبہ شیخ افتخار احمد۔۔ شعبۂ تنظیم جماعت اسلامی پاکستان)

پاکستان میں  نفاذ اسلام کی سٹریٹیجی

اامت مسلمہ گزشتہ صدیوں سے اضطراب (turmoil) میں ہے، پاکستان جو کہ اسلام کے نام پر وجود میں آیا نام کی  حد تک اسلامی مملکت ہے جس پر ایسے لوگ حکومت کرتے چلے آ رہے ہیں جواسلام کے نفاذ میں مخلص  نہیں- ضیاء الحق نے کچھ کوشش کی مگر تضادات بہت تھے-  پاکستان میں اسلام کا نام سیاسی قوت و طاقت حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنا دینی اور سیکولر سیاسی پارٹیوں کا شیوا ہے- آئین میں بہت دعوی کیا جاتا ہے کہ قرآن و سنت کے بر خلاف قوانین نہیں ہو سکتے مگر جب قوانین پر عمل درآمد کی بات ہوتی ہے تو یہ عملی طور پر ایک سراب ہے- آیین پاکستان کی شق 62، 63 جو کہ ممبران اسمبلی کو اسلامی شعار اورصادق و امین کے میعار پر رکھتی ہیں، ایک ریٹرننگ افسرامیدوار سے کلمہ، آیات الکرسی ، دعا قنوت سن کر مطمین ہو جاتا ہے چاہے اس ںےکروڑوں غبن کیے ہوں- لہٰذا اسمبلیاں اور کابینہ،  کی اکثریت مجرم اور ملزموں پرمشتمل ہے- حالیہ نیب قوانین میں ردوبدل کیا اسلام کے مطابق ہے؟ موجودہ نظام، مقننہ، عدلیہ اور دوسرے اداروں سے  نفاذاسلام کی توقع رکھنا عبث (Futile) ہے-

ان حالات میں فکرمند عوام مایوس ہیں مگر ان کے ساتھ ساتھ محب وطن دردمند تعلیم یافتہ لوگ بھی مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں- کچھ لوگ فرسٹیشن میں مذہبی شدت پسند گروہوں کی طرح سارا ملبہ جمہوریت پر ڈالتے ہیں-  وہ سمجھتے ہیں کہ جمہوریت مغربی سیکولر سرمایه داری نظام کا حصہ ہے جس کے زریعہ سے کرپٹ، ملک دشمن،اسلام دشمن، خراب لوگوں کو حکمرانی دی جاتی ہے تاکہ وہ غیر ملکی ایجینڈا کی تکمیل میں ممد ثابت ہوں- ان کے خیال میں اسلامی سیاسی نظام ملک کے مسائل کا واحد حل ہے- یہ (perception) بظاہرغلط معلوم نہیں ہوتا- 

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی بقا اور ترقی، اسلام کے ساتھ وابستہ ہے- اسلام ںے تا قیامت  هر مسئله کا حل پیش کیا ہے اور بہت سے معاملات میں راہنما اصول اور قوانین شریعت دے  کر، تفصیل اور عمل درآمد کا طریقہ مسلمانوں کی صوابدید پر چھوڑ دیا ہے- ان میں سے ایک سیاسی نظام ہے- قرآن اور  رسول اللہ ﷺ  ۓ (i)اللہ کی حاکمیت (3:189) (ii) الله کا  قانون  (5:44,45,46,47) , (iii) مشاورت (42:38) (iv)حکمرانوں کے فرائض (3:110) (22:41)   (v)  نماز ، زکوٰۃ  کا نظام ،  اَمَرُوۡا بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ نَہَوۡا عَنِ الۡمُنۡکَرِ (22:41)، انصاف (5:8) اور مزید رہنما اصول دیے [https://bit.ly/IslamicState-Pk ] - ان اصولوں پر قائم حکومت کو اسلامی کہا جا سکتا ہے-

رسول اللہ ﷺ نےنہ اپنا جانشین مقرر فرمآیا اور نہ ہی خلفاء راشدین نے کسی ایک طریقہ پر اتفاق کیا- چنانچہ چاروں خلفاء راشدین مختلف طریقوں سے برسر اقتدار آنے،مگرعرب قبائلی معاشرہ کے  طرز مشاورت نے اہم کردار ادا کیا- قبائلی رہنما کی طرف سے خلیفہ کی بیعت پورے قبیلہ کی طرف سے ہوتی، صحابہ کرام اور اہل مدینہ کی خصوصی اہمیت ساری مملکت کی نمائیندگی کے طور پر قبول کی جاتی- اگر خلافت راشدہ کا سلسلہ ملوکیت سے منقطع نہ ہوتا تو شاید کسی ایک طریقہ پر اتفاق ہو جاتا یا مزید طریقے پیدا ہوتے (واللّہ اعلم)

مسلم تاریخ سے ظاہر ہوتا ہے کہ بادشاہت کو خلافت، امارت، سلطنت وغیرہ کے ناموں سے اسلامی جواز مہیا کیا جاتا رہا- بہت سے مسلمان حکمران اپنے عدل و انصاف کے لیے مشہور ہیں-  پچھلی صدی سے جب مسلمانوں کو مغربی استعمار سے آزادی حاصل ہوئی تو جمھوریت کے نظام کو اپنایا گیا- یہ نظام اس وقت دنیا کے اکثر ممالک میں مختلف شکل میں موجود ہے- ہر ملک نے اپنے ماحول کے مطابق اس میں تبدیلیاں کیں- مغرب برطانیہ ، فرانس، جرمنی امریکہ کا اپنا اپنا جمہوری نظام ہے- جنوبی کوریا، سنگاپور ، ملایشیا، ترکی ، تائیوان وغیرہ کی اپنی جمہوریت ہے اور وہ ترقی کر رہے ہیں- بیشتر عرب ممالک میں ڈکٹیٹر شپ  یا  براے نام جمہوریت ہے- انڈیا، بنگلہ دیش نے جمہوریت سے بہتر نتایج حاصل کیے اور ترقی کے سفر پر گامزن ہیں اور ہم ابھی تک کی کسی مسیحا یا "آب حیات" کی تلاش  میں ہیں- یاد رہے کہ قیام پاکستان ایک جمہوری جدوجہد کا نتیجہ تھا-

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”حکمت و دانائی کی بات مومن کا گمشدہ سرمایہ ہے، جہاں بھی اس کو پائے وہی اس کا سب سے زیادہ حقدار ہے“  (سنن ابن ماجه 4169)

یعنی بہ نسبت کافر کے مسلمان کو حکمت حاصل کرنے کا زیادہ شوق ہونا چاہئے، افسوس ہے کہ ایک مدت دراز سے مسلمانوں کو حکمت کا شوق جاتا رہا نہ دنیا کی حکمت سیکھتے ہیں نہ دین کی، اور کفار حکمت یعنی دنیاوی علوم اور سائنس وغیرہ سیکھ کر ان پر غالب ہو گئے۔

 

نظام کوئی بھی ہو اس پر عمل درآمد کرنے والے لوگ ہوتے ہیں- اگر وہ کرپٹ ، بد دیانت ہوں تو صرف نام حکومت کو اسلامی نہیں بنا دیتا جیسا کہ موجودہ صورت حال سے ظاہر ہے- کوئی بھی سیاسی نظام ہو بدکردار لوگ اس کو اپنے کردار کے مطابق ڈھال کر خراب کر ڈالتے ہیں- 

مصر میں اخوان المسلمین کی 75 سالہ جدوجہد کے بعد مرسی (رح) کا المناک انجام بہت کچھ واضح کرتا ہے- عربی زبان بولنے والے ، قرآن کو سمجھنے والے ، 51% اکثریت کے ساتھ منتخب ایمان دار، اعلی تعلیم یافتہ، پکا مسلمان، جس کے پاس بہت اعلی ٹیم بھی تھی اس کو وہاں کی اسٹیبلشمنٹ اور کرپٹ اشرفیہ نے نہ صرف اقتدار سے محروم کیا بلکہ ما ورا عدالت قتل بھی کر دیا- الجیریا میں اسلام پسندوں کو کامیابی کے با وجود حکومت نہ ملی پھر جو کچھ ہوا سامنے ہے- تیونس بھی ایک مثال ہے-

ایک اور مثال ہمارے پاس عمران خان کی ہے ، وہی کچھ اس کے ساتھ ہو رہا ہے، جو مرسی کی ساتھ ہوا- قاتلانہ حملہ بھی ہو چکا ہے-

کوئی سبق ؟

اشرفیہ جس کو اسٹبلشمنٹ کی مکمل سپورٹ ہے کسی اور کو طاقت کے ایوانوں میں برداشت نہیں کرتی-  اسٹبلشمنٹ ایک وسیع اصطلاح ہے جو صرف فوج پر مشتمل نہیں ہوتی اگرچہ وہ اس کا اہم جزو ہے جس کا سربراہ اسے کنٹرول کرتا ہے- اعلی افسران اس کے احکام کی اطاعت کرتے ہیں- باقی فوج ویسے ہی ہے جیسے کہ معصوم عوام ، ان کو اسلام کے نعرے سے پرجوش رکھا جاتا ہے تاکہ جہاد کے جذبہ سے ملک (اوراشرفیہ) کی حفاظت کر سکیں- ان پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے کہ کوئی ایسا شخص جو کہ قدم بہ قدم نہ چل سکے (out of step) اسے نچلی سطح سے ہی فارغ کر دیا جایے- 

سخت فوجی ڈسپلن کی وجہ سے ان سے کسی قسم کی سیاسی توقعات وابستہ کرنا حقائق سے چشم پوشی اورخام خیالی ہے جو ملک کی تباہی کا نسخہ (recipe of disaster) ہے جس سے پرہیز لازم ہے- 

بزور طاقت و دہشت گردی کسی بھی گروہ  کی طرف سے حکومت پر غلبہ کی کوشش (بغاوت) کو سختی سے کچل دیا جاتا ہے-

ڈاکٹر اسرار احمد (رح) کی اسلامی نظام خلافت کی جدوجہد کو کون نہیں جانتا؟ مرحوم کو سب کچھ سمجھ آ گیا تھا اس لیے انہوں  ۓ غیر انتخابی سیاسی جدوجهد اور پر امن تبلیغ  کا راستہ اختیار کیا اس پر بحث ممکن ہے-

تحریک طالبان (TTP) ایک باغی کٹھ پتلی ٹولہ ہے جو سوانے عوام کے قتل اور فساد فی الارض کے کچھ حاصل نہیں کر سکتی- وہ بیرونی و اندرونی طاقتوں کے آلہ کار ہیں- ان کو انڈیا اور افغان طالبان کی مدد حاصل ہے تاکہ پاکستان غیر مستحکم رہے اور دنیا میں ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہے- افغان طالبان  ۓ غیر ملکی تسلط سے آزادی حاصل کر لی مگر افغانستان کا دنیا میں کیا کردار ہے یہ کوئی چھپی ہوئی بات نہیں-

بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان پر  75 سال سے قابض اشرفیہ اور بیرونی طاقتوں کو قبول نہیں کہ کوئی بھی بہتر سیاسی قیادت  موجودہ یا کسی بھی نظام کے ذریعہ حکومت حاصل کر سکے بفرض محال اگر عوامی دباؤ سے ایسا ہو بھی تو وہ اس سے تعاون نہ کرکہ ناکام کرکہ گرا دی جائے گی جیسا کہ حالیہ واقعات سے ظاہر ہے-

ان حالات میں کیا کریں؟

پاکستان کے مسائل کا ملبہ صرف جمہوریت پر ڈالنا جبکہ اردگرد اسی سے بہتر نتائج حاصل  کیے جا رہے ہوں اور اس کو اسلامی شریعت کے مکمل طابع کرکہ (بہت کچھ قانونی طور پر حاصل کیا گیا ہے) مزید بہتر کرنے کی بجایے کسی اور انسانی تخلیق کردہ نظام اس کو اسلامی اصطلاحات  کا لیبل لگا کر اسلامی سیاسی نظام  کے طور پر پیش کرنے کا  نظریاتی تجربہ کہاں تک ممکن (workable) ہے کچھ کہنا مشکل ہے- کوئی دانشور ہی اس پر روشنی ڈال سکتا ہے- افغانستان کے قبائلی معاشرہ کا موجودہ نظام کتنا اسلامی اور کتنا غیر اسلامی ہے یہ ایک الگ بحث ہے- ایرانی ملایت کا ماڈل، جمہوریت کی ایک مقامی شکل ہے جس کے خلاف ایران میں مزاحمت جاری ہے-

علم سیاسیات (political science) میں تجربات کرنے کی بجاتے موجودہ سسٹم کو بہتر کریں، اپنا مشن، ترجیحات کو سیدھا کریں، نظام کو چلانے والی ٹیم، گڈ گورننس (good governance) کے لیے اہل افراد تیار کریں جو ہرادارہ ، طبقہ میں ہوں، اسلام کا بتدریج نفاذ معاشرتی سطح پر کر سکیں، زبردستی نہیں رضاکارانہ طور پر ان لوگوں پر جو اسلام کو قبول کرنے پرتیار کیے جائیں- ورنہ مرسی (مصر)، عمران خان (صرف ریاست مدینہ کی بات کرنا) ، سید احمد شہید (بالا کوٹ) اور بہت  مثالیں موجود ہیں-

عوام میں شعور پیدا کریں ، کہ روٹی روزی کے علاوہ بھی کچھ فرائض ہیں- انسان بئیں، مسلمان بنیں عملی طور پر اچھا معاشرہ قائم کریں تو اس معاشرہ میں سے اچھی قیادت ہر جگہ موجود ہو گی جو مطلوبہ نتائج دے سکے گی-

اسوہ حسنہ ، سنت  رسول اللہ ﷺ سے بہت کچھ سبق سیکھنے کی ضرورت ہے-  رسول اللہ ﷺ نے دعوه ، تبلیغ سے معاشرہ تیار کیا پھر حکومت مدینہ میں بغیر لشکرکشی کے ملی ، باقی تاریخ ہے-

----------------

اسلام، جمہوریت اور کفر: تحقیقی جائزہ

 پچھتر سال کے بعد بھی ایک طبقہ بنیادی سوالات میں الجھا ہوا ہے اور کنفیوزن کا شکار ہے کہ؛ جمہوریت کفریہ نظام ہے یا اسلام کی روح کے مطابق نہہیں؟ اس بحث کے روح رواں وہ ساتھی ہیں جو موجودہ حالات سے فرسٹیشن کا شکار ہیں،  طالبان کے برانڈ کے اسلام سے متاثرہیں وہ طالبان جن کو اسلام کےبنیادی  اصولوں سے اختلاف ہے خوارج کے جانشین دہشت گر- پاکستان کا موجودہ نظام جس پر جمہوریت کا لیبل لگایا گیاہے، جمہوریت نہیں ایک ہائبرڈ (hybrid) سسٹم ہے جس میں طاقت کسی اور کے پاس ہے ، ذمہ وار کوئی اور ہے- یہ آمریت کی بگڑی شکل ہے- جس کو جمہوریت کہنا ایک مذاق ہے- 

مولانا مودودی (رح) ںے بہت غورو خوض اور تفکر کے بعد پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے جماعت اسلامی کو  عملی سیاست میں شامل کیا- وہ جمہور پر چند آدمیوں کی عملی حاکمیت کے قائل نہیں، ان کے مطابق اسلام جمہوریت کو ایک ایسے بنیادی قانون کا پابند بناتا ہے جو کائنات کے اصل حاکم (Sovereign) نے مقرر کیا ہے۔ اس قانون کی پابندی جمہور اور اس کے سربراہ کاروں کو لازماً کرنی پڑتی ہے اور اس بناء پر وہ مطلق العنانی سرے سے پیدا ہی نہیں ہونے پاتی جو بالآخر جمہوریت کی ناکامی کا اصل سبب بنتی ہے۔

علامہ اقبال نے مغرب کے جمہوری نظام کی خرابیوں کونمایاں کرنے کا فریضہ بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ سرانجام دیا ہے۔ مغربی جمہوریت پر اقبال کی تنقید جمہوری نظام کی نفی نہیں بلکہ اصلاح کے جذبے سے پھوٹی ہے۔ ہمارے ہاں جمہوری عمل سے بیزار اور جمہوری نظام سے متنفر حلقے اُن کے اشعار کو اپنے استدلال کی تائید میں پیش کرنے کے عادی ہیں- اسلامی فکر کی نئی تشکیل" کے موضوع پر اپنے خطبات میں اقبال نے بڑی قطعیت کے ساتھ کہہ رکھا ہے کہ روح جب زمان و مکان کے ساتھ اپنا تعلق اُستوار کر لیتی ہے تو مادہ کہلاتا ہے- چنانچہ کسی بھی معاشرے کی روحانی سربلندی کا اندازہ صرف اور صرف اُس کے مادی خدوخال ہی سے کیا جا سکتا ہے- اقبال کے ہاں "روحانی جمہوریت" کی اصطلاح ایک طویل اور عمیق غور و فکر کا نتیجہ ہے۔  اُنہوں نے آج سے ایک صدی پیشتر "Islam as a Moral and Political Ideal" کے عنوان سے اپنے خطبہ میں "مساوات" کو اسلام کا معاشرتی نظام اور "جمہوریت کو اسلام کا سیاسی نظام قرار دیا تھا"

 

 اقبال نے ''اسلام میں اصولِ حرکت ''کے موضوع پر اپنے خطبے میں روحانی جمہوریت کے قیام، استحکام اور فروغ کو اسلام کا حقیقی مقصود قرار دیا ہے. اقبال کے خیال میں مغرب کا جمہوری نظام امیروں کے مفادات کے حصول کی خاطر غریبوں کا خون چُوستے چلے جانے کا وسیلہ بن کر رہ گیا ہے۔ یہ نظام امیروں کے معاشی مفادات کے تحفظ اورارتقاء کی خاطر غریبوں کا استحصال روا رکھنا جائز سمجھتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ آج کا یورپ انسان کی اخلاقی اور روحانی ترقی میں زبردست رکاوٹوں کا سبب ہے۔ اسلام کی سچی تعبیر ان انسانی مصائب کی چارہ گر ثابت ہو سکتی ہے۔ اسلام کے آفاقی اصولوں کے مطابق روحانی جمہوریت کا قیام اور فروغ انسان کے معاشی دُکھوں کو شفا بخش سکتا ہے۔ روحانی جمہوریت کا مطلب علمائے کرام کی شہنشاہیت نہیں بلکہ اِس کے برعکس یہ انسانی مساوات کے اسلامی اصولوں پر مبنی معاشی عدل و انصاف کا عوامی جمہوری نظام ہے۔ "اسلامی نظام کے خدوخال اُجاگر کرنے کی خاطراس گہری فلسفیانہ بحث کے دوران اُنھوں نے بڑی قطعیت کے ساتھ جمہوریت کو اسلام کا سیاسی آئیڈیل قرار دیا ہے۔ اُن کے خیال میں جمہوریت کا یہ تصور انسانی معاشرے کواسلام کی اہم ترین عطا ہے۔  اقبال نے لکھا ہے کہ اسلام میں نہ تو اشرافیہ کا کوئی وجود ہے اور نہ ہی کسی مراعات یافتہ طبقے کی کوئی گنجائش ہے، نہ مُلائیت ہے اور نہ ہی ذات پات پر مبنی کسی نسلی طبقاتی نظام کا کوئی جواز موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مکمل انسانی مساوات کے اسلامی تصور پر عمل نے قرنِ اوّل کے مسلمانوں کو دُنیا کی عظیم ترین سیاسی قوّت بنا دیا تھا۔  [ماخوز: اقبال اور جمہوریت، پروفیسر فتح محمد ملک]

اخوان المسلمون کی جدوجہد بھی جمہوری طریقہ پررہی

کیا طالبان اپنی تحقیق سے کوئی نظام پیش کریں گے ؟

مزید .......

Al Khilafah الخلافة


“Al-Khilafah Possible” is a research response by Brigadier Aftab Ahmad Khan (Retired): A freelance writer, researcher, and blogger, holds Masters in Political Science, Business Admin, Strategic Studies, spent over two decades in exploration of The Holy Quran, other Scriptures, teachings & followers. He  writes for “The Defence Journal” since 2006. His work is available at https://SalaamOne.com/About accessed by over 4.5 Millions. He can  be reached at: abbu.jak@gmail.com  Read >>>>



پاکستان میں نفاذ اسلام کی دستوری جدوجہد کے سلسلے میں 1951ء میں تمام مسالک کے نمائندہ علماء نے متفقہ طور پر 22 دستوری نکات مرتب کیے۔ یہ علماء جملہ اسلامی فرقوں کے نمائندہ علماء اور ملک کے عوام کی دینی اور روحانی وابستگی کا مرکز ہیں جنہیں پاکستانی عوام کے جذبات کا نشان قرار دیا جاتا ہے۔ ان علماء نے ۲۲ نکات پر مشتمل یہ آئینی سفارشات متفقہ طور پر طے کی تھیں جبکہ لا دین عناصر مسلمانوں کے مذہبی اختلافات کی وجہ سے کسی متفقہ آئین کو ناممکن قرار دیتے تھے۔ 
دستور اسلامی کے لئے ۳۱ علماء کے طے کردہ ان ۲۲ نکات پر ہر مسلمہ اسلامی فرقہ متفق ہے۔ ان نکات سے اس غلط پروپیگنڈے کا طلسم بھی توڑ ڈالا کہ دورِ جدید کے مقتضیات کو ملحوظ رکھتے ہوئے کسی اسلامی آئین کا وجود ممکن نہیں۔ یہ بائیس نکات اسلامی فلاحی ریاست کا بنیادی خاکہ ہیں اور انہیں آج کے کسی بھی جدید ترقی یافتہ آئینی خاکے کے مقابلے میں پیش کیا جاسکتا ہے۔
1. اصل حاکم تشریعی وتکوینی حیثیت سے اللہ رب العالمین ہے۔
2. ملک کا قانون کتاب وسنت پر مبنی ہوگا اور کوئی ایسا قانون نہ بنایا جا سکے گا، نہ کوئی ایسا انتظامی حکم دیا جا سکے گا جو کتاب وسنت کے خلاف ہو۔
(تشریحی نوٹ): اگر ملک میں پہلے سے کچھ ایسے قوانین جاری ہوں جو کتاب وسنت کے خلاف ہوں تو اس کی تصریح بھی ضروری ہے کہ وہ بتدریج ایک معینہ مدت کے اندر منسوخ یا شریعت کے مطابق تبدیل کر دیے جائیں گے۔
3. مملکت کسی جغرافیائی، نسلی، لسانی یا کسی اور تصور پر نہیں بلکہ ان اصول ومقاصد پر مبنی ہوگی جن کی اساس اسلام کا پیش کیا ہوا ضابطہ حیات ہے۔
4. اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ قرآن وسنت کے بتائے ہوئے معروفات کو قائم کرے، منکرات کو مٹائے اور شعائر اسلامی کے احیا واعلا اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری اسلامی تعلیم کا انتظام کرے۔
5. اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانان عالم کے رشتہ اتحاد واخوت کو قوی سے قوی تر کرنے اور ریاست کے مسلم باشندوں کے درمیان عصبیت جاہلیہ کی بنیادوں پر نسلی ولسانی، علاقائی یا دیگر مادی امتیازات کے ابھرنے کی راہیں مسدود کر کے ملت اسلامیہ کی وحدت کے تحفظ واستحکام کا انتظام کرے۔
6. مملکت بلا امتیاز مذہب ونسل وغیرہ تمام ایسے لوگوں کی لابدی انسانی ضروریات یعنی غذا، لباس، مسکن، معالجہ اور تعلیم کی کفیل ہوگی جو اکتساب رزق کے قابل نہ ہوں یا نہ رہے ہوں یا عارضی طو رپر بے روزگاری، بیماری یا دوسرے وجوہ سے فی الحال سعی اکتساب پر قادر نہ ہوں۔
7. باشندگان ملک کو وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو شریعت اسلامیہ نے ان کو عطا کیے ہیں، یعنی حدود قانون کے اندر تحفظ جان ومال وآبرو، آزادیٔ مذہب ومسلک، آزادیٔ عبادت، آزادیٔ ذات، آزادیٔ اظہار رائے، آزادیٔ نقل وحرکت، آزادیٔ اجتماع، آزادیٔ اکتساب رزق، ترقی کے مواقع میں یکسانی اور رفاہی ادارات سے استفادہ کا حق۔
8. مذکورہ بالا حقوق میں سے کسی شہری کا کوئی حق اسلامی قانون کی سند جواز کے بغیر کسی وقت سلب نہ کیا جائے گا اور کسی جرم کے الزام میں کسی کو بغیر فراہمی موقع صفائی وفیصلہ عدالت کوئی سزا نہ دی جائے گی۔
9. مسلمہ اسلامی فرقوں کو حدود قانون کے اندرپوری مذہبی آزادی حاصل ہوگی۔ انھیں اپنے پیرووں کو اپنے مذہب کی تعلیم دینے کا حق حاصل ہوگا۔ وہ اپنے خیالات کی آزادی کے ساتھ اشاعت کر سکیں گے۔ ان کے شخصی معاملات کے فیصلے ان کے اپنے فقہی مذہب کے مطابق ہوں گے اور ایسا انتظام کرنا مناسب ہوگا کہ انھی کے قاضی یہ فیصلہ کریں۔
10. غیر مسلم باشندگان مملکت کو حدود قانون کے اندر مذہب وعبادت، تہذیب وثقافت اور مذہبی تعلیم کی پوری آزادی حاصل ہوگی اور انھیں اپنے شخصی معاملات کا فیصلہ اپنے مذہبی قانون یا رسم ورواج کے مطابق کرانے کاحق حاصل ہوگا۔
11. غیر مسلم باشندگان مملکت سے حدود شرعیہ کے اندر جو معاہدات کیے گئے ہوں، ان کی پابندی لازمی ہوگی اور جن حقوق شہری کا ذکر دفعہ نمبر ۷ میں کیا گیا ہے، ان میں غیر مسلم باشندگان ملک اور مسلم باشندگان ملک سب برابر کے شریک ہوں گے۔
12. رئیس مملکت کامسلمان مرد ہونا ضروری ہے جس کے تدین، صلاحیت اور اصابت رائے پر جمہور اور ان کے منتخب نمائندوں کو اعتماد ہو۔
13. رئیس مملکت ہی نظم مملکت کا اصل ذمہ دار ہوگا، البتہ وہ اپنے اختیارات کا کوئی جزو کسی فرد یا جماعت کو تفویض کر سکتا ہے۔
14. رئیس مملکت کی حکومت مستبدانہ نہیں بلکہ شورائی ہوگی، یعنی وہ ارکان حکومت اور منتخب نمائندگان جمہور سے مشورہ لے کر اپنے فرائض انجام دے گا۔
15. رئیس مملکت کو یہ حق حاصل نہ ہوگا کہ وہ دستور کوکلاً یا جزواً معطل کر کے شوریٰ کے بغیر حکومت کرنے لگے۔
16. جو جماعت رئیس مملکت کے انتخاب کی مجاز ہوگی، وہی کثرت آرا سے اسے معزول کرنے کی بھی مجاز ہوگی۔
17. رئیس مملکت شہری حقوق میں عامۃ المسلمین کے برابر ہوگا اور قانونی مواخذہ سے بالاتر نہ ہوگا۔
18. ارکان وعمال حکومت اور عام شہریوں کے لیے ایک ہی قانون وضابطہ ہوگا اور دونوں پر عام عدالتیں ہی اس کو نافذ کریں گی۔
19. محکمہ عدلیہ، محکمہ انتظامیہ سے علیحدہ اور آزاد ہوگا تاکہ عدلیہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں ہیئت انتظامیہ سے اثر پذیر نہ ہو۔
20. ایسے افکار ونظریات کی تبلیغ واشاعت ممنوع ہوگی جو مملکت اسلامی کے اساسی اصول ومبادی کے انہدام کا باعث ہوں۔
21. ملک کے مختلف ولایات واقطاع مملکت واحدہ کے اجزاء انتظامی متصور ہوں گے۔ ان کی حیثیت نسلی، لسانی یا قبائلی واحدہ جات کی نہیں، محض انتظامی علاقوں کی ہوگی جنھیں انتظامی سہولتوں کے پیش نظر مرکز کی سیادت کے تابع انتظامی اختیارات سپرد کرنا جائز ہوگا، مگر انھیں مرکز سے علیحدگی کا حق حاصل نہ ہوگا۔
22. دستور کی کوئی ایسی تعبیر معتبر نہ ہوگی جو کتاب وسنت کے خلاف ہو۔
اسمائے گرامی علماء و بزرگان دین:
1. (علامہ) سلیمان ندوی (صدر مجلس ہذا)
2. (مولانا) سید ابو الاعلیٰ مودودی (امیر جماعت اسلامی پاکستان)
3. (مولانا) شمس الحق افغانی (وزیر معارف، ریاست قلات)
4. (مولانا) محمد بدر عالم (استاذ الحدیث، دار العلوم الاسلامیہ اشرف آباد، ٹنڈو الٰہ یار، سندھ)
5. (مولانا) احتشام الحق تھانوی (مہتمم دار العلوم الاسلامیہ اشرف آباد، سندھ)
6. (مولانا) محمد عبد الحامد قادری بدایونی (صدر جمعیۃ علمائے پاکستان، سندھ)
7. (مفتی) محمد شفیع (رکن بورڈ آف تعلیمات اسلام، مجلس دستور ساز پاکستان)
8. (مولانا) محمد ادریس (شیخ الجامعہ، جامعہ عباسیہ بہاولپور)
9. (مولانا) خیر محمد (مہتمم خیر المدارس، ملتان)
10. (مولانا مفتی) محمد حسن (مہتمم جامعہ اشرفیہ، نیلا گنبد لاہور)
11. (پیر صاحب) محمد امین الحسنات (مانکی شریف، سرحد)
12. (مولانا) محمد یوسف بنوری (شیخ التفسیر، دار الاسلامیہ اشرف آباد، سندھ)
13. (حاجی) خادم الاسلام محمد امین (خلیفہ حاجی ترنگ زئی، المجاہد آباد، پشاور صوبہ سرحد)
14. (قاضی) عبد الصمد سربازی (قاضی قلات، بلوچستان)
15. (مولانا) اطہر علی (صدر عامل جمعیۃ علماے اسلام، مشرقی پاکستان)
16. (مولانا) ابو جعفر محمد صالح (امیر جمعیت حزب اللہ، مشرقی پاکستان)
17. (مولانا) راغب احسن (نائب صدر جمعیت علمائے اسلام، مشرقی پاکستان)
18. (مولانا) محمد حبیب الرحمن (نائب صدر جمعیۃ المدرسین، سرسینہ شریف، مشرقی پاکستان)
19. (مولانا) محمد علی جالندھری (مجلس احرار اسلام پاکستان)
20. (مولانا) داؤد غزنوی (صدر جمعیۃ اہل حدیث پاکستان)
21. (مفتی) جعفر حسین مجتہد (رکن بورڈ آف تعلیمات اسلام، مجلس دستور ساز پاکستان)
22. (مفتی حافظ) کفایت حسین مجتہد (ادارۂ عالیہ تحفظ حقوق شیعہ پاکستان، لاہور)
23. (مولانا) محمد اسماعیل (ناظم جمعیت اہل حدیث پاکستان، گوجرانوالہ)
24. (مولانا) حبیب اللہ (جامعہ دینیہ دار الہدیٰ، ٹھیڑی، خیر پور میرس)
25. (مولانا) احمد علی (امیر انجمن خدام الدین شیرانوالہ دروازہ، لاہور)
26. (مولانا) محمد صادق (مہتمم مدرسہ مظہر العلوم، کھڈہ، کراچی)
27. (پروفیسر) عبد الخالق (رکن بورڈ آف تعلیمات اسلام، مجلس دستور ساز پاکستان)
28. (مولانا) شمس الحق فرید پوری (صدر مہتمم مدرسہ اشرف العلوم ڈھاکہ)
29. (مفتی) محمد صاحب داد عفی عنہ (سندھ مدرسۃ الاسلام، کراچی)
30. (مولانا) محمد ظفر احمد انصاری (سیکرٹری بورڈ آف تعلیمات اسلام، مجلس دستور ساز پاکستان)
31. (پیر صاحب) محمد ہاشم مجددی (ٹنڈو سائیں داد، سندھ)
  1. اللہ کی حاکمیت (3:189) Sovereignty belongs of Allah
  2. مشاورت (42:38) Consultation-  rulers make decisions after consultations
  3.  حکمرانوں کے فرائض (3:110) (22:41) Duties and obligations of rulers
  4.  نظام مملکت سے دیانت داری  (8:27) Trustfulness with the state and system  
  5.  حاکم وقت کی اطاعت کا حکم  (4:59)   Obedience to the ruler within bounds
  6.  اطاعت حاکم کی حد  (76:24)  Limits of obedience to rulers 
  7. آمریت کی نفی (3:79) Autocracy rejected
  8. دوسرے نظاموں کی نفی (25:4345:24)  Rejection of other systems 
  9.   بری قیادت کی پیروی کا انجام11:98     Results of following bad leaders 
  10. decision making in public matters, 3:159
https://salaamone.com/vote-shariah/

جنوبی ایشیائی جمہوریت: ماضی کے آثار South Asian democracy: the vestiges of the past

تقسیم کے نتیجے میں ایک مسلم ریاست وجود میں آئی لیکن جاگیرداروں کے زیر تسلط مسلم لیگ کی قیادت نہ تو جمہوری ادارے بنانے کی صلاحیت رکھتی تھی اور نہ ہی ایسا کرنے کا ارادہ رکھتی تھی کیونکہ اس کا کوئی نچلی سطح پر نیٹ ورک نہیں تھا۔ مزید مسئلہ یہ تھا کہ تقسیم کے بعد اسے مسلح افواج کا ایک غیر متناسب حصہ وراثت میں ملا جس کی جڑیں پنجاب اور موجودہ خیبر پختونخواہ میں ہیں۔ فوجی اعلیٰ افسران نے سول بیوروکریسی کے ساتھ ملی بھگت سے جمہوری آئین کی تشکیل کی نیم دل کوششوں کو ناکام بنا دیا۔
  مذہبی رہنماووں نے ابتدائی طور پر ایک علیحدہ مسلم ملک کے خیال کے خلاف، نویں اور دسویں صدی کے اسلامی فقہ کا حوالہ دیتے ہوئے غیر جمہوری عناصر کی حمایت کی جنہوں نے مضبوط آدمی (بادشاہ/ملک/سلطان) کو نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا تھا۔
چونکہ اسلام کی ابتداء ہندوستان میں مسلم جرنیلوں سے ہوئی، اس لیے جنرل کے طور پر بادشاہ یا بادشاہ کے طور پر جنرل کا نمونہ مسلم عوامی نفسیات میں جڑ گیا جس نے جمہوری نظام کے امکانات کو مزید دور دھکیل دیا۔ جمہوری نظام کو کبھی کبھار نافذ کیا جاتا ہے اور پھر ختم کیا جاتا ہے، بہترین طور پر نیم جمہوری رہا ہے۔ انتخابات، اگر اور جب منعقد ہوتے ہیں، کنٹرول یا انجنیئر ہوتے ہیں۔ ووٹرز سے جوڑ توڑ کیا جاتا ہے۔ سرکاری نظریہ، ذات پات (براداری)، علاقائی وابستگی اور نسل کے علاوہ روایتی طبقاتی درجہ بندی پاکستان میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے اور نتائج کا تعین کرتی ہے۔ ہمارے بدمعاش اپنے بدمعاشوں سے بہتر عوام کی حالت کو  اور جمہوری نظریات کو مجروح کرتے ہیں۔
بھارت کو تیسری دنیا کی جمہوریت کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی گہرائی میں دیکھے تو پتہ چلے گا کہ یہاں پرانی حماقتیں پھر سے سر اٹھا چکی ہیں اور تکنیکی طور پر جمہوری عمل کے ذریعے حکومت کرتی ہیں۔ تمام اداروں پر اجارہ داری ہے اور اعلیٰ ذاتوں کی ایک چھوٹی اقلیت کے ذریعے چلائی جاتی ہے جس کا ہندوستانی زندگی کے تمام شعبوں پر مضبوطی سے قبضہ ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، تقسیم سے پہلے کے رہنما مغربی جمہوری یا سوشلسٹ نظریات سے متاثر ہو کر سیاست دانوں کے ہندوتوا برانڈ کے لیے اسٹیج چھوڑ کر غائب ہو گئے جو سیکولر ریاست کو ہندو ریاست سے بدلنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس میں حب الوطنی کا مطلب روایتی ہندو اقدار کو برقرار رکھنا ہے جو کہ اس سے نکل چکی ہیں۔ ذات پات کا نظام ، ایمان اور حب الوطنی کے مسائل الگ الگ ہیں اور دونوں کو آپس میں ملانا اگر مہلک نہیں تو بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔ 
خلاصہ یہ ہے کہ ، پاکستان کی طرف سے مذہبی نظریہ کا جو برانڈ قائم کیا گیا ہے وہ اب ختم ہو چکا ہے۔ ملک اب ایک بند معاشرہ ہے جس میں استثنیٰ کے تصور سے کارفرما ہے جو عملی طور پر نمائندگی کے حق اور اپنے شہریوں کی مساوات کو تسلیم نہیں کرتا۔ اقلیتوں کے ارکان اس کے آئین کے مطابق کم شہری ہیں۔ یہ ملک جمہوریت کے لیے زبانی کلامی دعوے کرتا ہے لیکن بوناپارٹزم کو اپنے زخموں کے علاج کے طور پر خوش آمدید کہتا ہے۔
دونوں پڑوسی، بصورت دیگر دشمن، ایک ہی راستے پر چل رہے ہیں۔ اپنے مذہبی عقائد اور روایتی اقدار سے متاثر ہو کر وہ نظریاتی ریاستوں میں تبدیل ہو رہے ہیں۔
نظریہ اور عقیدہ فطری طور پر جمہوریت کے مخالف ہیں کیونکہ ان میں اختلاف رائے، قطبیت اور اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ لہذا جمہوریت مغربی دانشوروں کا خواب بنی ہوئی ہے، جو لوگوں کے سمندر میں ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے۔ درجہ بندی، روایات اور توہمات جنوبی ایشیا کے ڈی این اے میں ہیں، جمہوریت نہیں۔ اس سے نکلنے کا راستہ یہ ہے کہ ماضی کی بنیاد پرستانہ انداز میں دوبارہ تشریح کی جائے، وہ ماضی جو اپنے تمام غیر انسانی اثرات کے ساتھ ہمارا حال ہے۔ 
https://www.dawn.com/news/1765153 / soofiOl@hotmail.com

Popular Books