Featured Post

قرآن مضامین انڈیکس

"مضامین قرآن" انڈکس   Front Page أصول المعرفة الإسلامية Fundaments of Islamic Knowledge انڈکس#1 :  اسلام ،ایمانیات ، بنی...

Showing posts with label Commandsاحکام. Show all posts
Showing posts with label Commandsاحکام. Show all posts

حقوق العباد - الله تعالی کی رحمت، انصاف آور بخشش Haqooq ul Ibad



 چار اہم باتیں اور ان کا آپس میں تعلق سمجھنا بہت اہم ہے : 
١)   مقصد حیات ، آزمايش آورآخرت میں حساب کتاب، نیک اور بد اعمال کا بدلہ ، سزا و جزا 
٢) نیک اور بد برابر نہیں
٣) اللہ کا عدل و انصاف 
٤) اللہ ان بندوں جنہوں نے اپنے نفس پر زیادتی کی (گناہ کیے) ان کی طرف سے توبہ کرنے پریہ سب گناہ معاف فرما دیتا ہے - 
اس میں چوتھا نقطۂ بہت اہم ہے جس کو درست طور پر نہ سمجھنے سے پہلے تین نقاط بے معنی ہو جاتے ہیں- اور قرآن میں بظاہر تضاد معلوم ہوتا ہے- مگر قرآن میں اگر اختلاف ہو تو پھر یہ الله تعالی کا کلام کیسے ہو سکتا ہے؟ (4:83)  
کیا اپنے نفس پر زیادتی ( (اَسۡرَفُوۡا عَلٰٓى اَنۡفُسِهِمۡ) انفرادی گناہ ہے جس کا تعلق کس فرد یا افراد کی اپنی ذات اپنے نفسس سے ہے؟ (جیسے شرک ، کفر، انفرادی عبادات ،نماز ، روزہ، حج وغیرہ، حقوق اللہ میں کمی یا سستی) یا اس معافی میں  سا رے گناہ (حقوق اللہ اور حقوق العباد )   شامل ہیں؟   
اس اہم  معامله پر تحقیق و تجزیہ، تمام غلط فہمیاں دور کر دیتا ہے >>>>






.
~~~~~~~~~
🌹🌹🌹
🔰 Quran Subjects  🔰 قرآن مضامین 🔰
"اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا" [ الفرقان 25  آیت: 30]
The messenger said, "My Lord, my people have deserted this Quran." (Quran 25:30)
~~~~~~~~~

احکام القرآن


جو میری ہدایت پر عمل کرے گا وہ نہ گمراہ، نہ بدبخت ہوگا (اقرآن20:123)

Whosoever will follow My guidance will neither go astray nor get into trouble” [Quran 20:123]

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

اللہ کی کتاب میں ہدایت اور نور ہے، جو اسے پکڑے گا وہ ہدایت پر رہے گا اور جو اسے چھوڑ دے گا وہ گمراہ ہوجائے گا۔"(صحیح مسلم : 6227)  حقوق قرآن:

ایمان، تلاوت، تفکر، عمل اور تبلیغ ز مَن بر صُوفی و مُلاّ سلامے: کہ پیغامِ خُدا گُفتَند ما را ولے تاویلِ شاں در حیرت اَنداخت: خُدا و جبرئیلؑ و مصطفیؐ را میری جانب سے صُوفی ومُلاّ کو سلام پہنچے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے احکامات ہم تک پہنچائے، لیکن انہوں نے اُن احکامات کی جو تاویلیں کیں،اُس نے اللہ تعالیٰ، جبرائیل ؑاور محمد مصطفیﷺ کو بھی حیران کر دیا۔ (علامہ محمد اقبال) قران کے سادہ، آسان، عام فہم، پیغام کو مسخ کردیا

 میں نے تم کو ایک ایسے صاف اور روشن راستہ پر چھوڑا ہے جس کی رات بھی دن کی طرح روشن ہے، اس راستہ سے میرے بعد صرف ہلاک ہونے والا ہی انحراف کرے گا (ماجہ 43)

قرآن ایک معجزہ : https://bit.ly/QuranMojza

Quran Sites / Links

English: 

Quran Subjects: https://QuranSubjects.wordpress.com

Message For Islamic Revival (رساله تجديد الاسلام) : https://Quran1book.wordpress.com

Urdu اردو :

قرآن مضامین : https://QuranSubjects.blogspot.com

رساله تجديد الاسلام  : https://Quran1book.blogspot.com

English & Urdu اردو  Mixed: https://SalaamOne.com

Facebook: 

https://www.facebook.com/QuranSubject

https://www.facebook.com/IslamiRevival

Twitter: Ahkam Al Quran احکام القرآن : https://twitter.com/QoranGuides

Digital Book (Over 520 Pages A-5) OR https://bit.ly/AhkamAlQuran-pdf

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قرآن سیکھو اور پھر اسے پڑھو اور یہ یاد رکھو کہ اس شخص کی مثال جو قرآن سیکھتا ہے پھر اسے ہمیشہ پڑھتا رہتا ہے اس پر عمل کرتا ہے اور اس میں مشغولیت یعنی تلاوت وغیرہ کے شب بیداری کرتا ہے اس تھیلی کی سی ہے جو مشک سے بھری ہو جس کی خوشبو تمام مکان میں پھیلتی ہے اور اس شخص کی مثال جس نے قرآن سیکھا اور سو رہا یعنی وہ قرآن کی تلاوت قرأت شب بیدار سے غافل رہا یا اس پر عمل نہ کیا اس تھیلی کی سی ہے جسے مشک پر باندھ دیا گیا ہو۔ (ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)   (مشکوٰۃ المصابیح: حدیث نمبر: 2152) 

حضرت علی مرتضی ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے ایک دن فرمایا:

 "آگاہ ہو جاؤ ایک بڑا فتنہ آنے والا ہے۔" 

میں نے عرض کیا:

"یا رسول اللہ! اس فتنہ کے سر سے بچنے اور نجات پانے کا ذریعہ کیا ہے؟

" آپ ﷺ نے فرمایا:

1۔ "کتاب اللہ، اس میں تم سے پہلے امتوں کے (سبق آموز) واقعات ہیں

اور تمہارے بعد کی اس میں اطلاعات ہیں، (یعنی اعمال و اخلاق کے جو دنیوی و اخروی نتائج و ثمرات مستقبل میں سامنے آنے والے ہیں، قرآن مجید میں ان سب سے بھی آگاہی دے دی گئی ہے) 

*2۔ اور تمہارے درمیان جو مسائل پیدا ہوں قرآن میں ان کا حکم اور فیصلہ موجود ہے (حق و باطل اور صحیح و غلط کے بارے میں)*

3۔ وہ قول فیصل ہے، وہ فضول بات اوریا وہ گوئی نہیں ہے۔ 

4۔جو کوئی جابر و سرکش اس کو چھوڑے گا (یعنی غرور و سرکشی کی راہ سے قرآن سے منہ موڑے گا) اللہ تعالیٰ اس کو توڑ کے رکھ دے گا

*5۔ اور جو کوئی ہدایت کو قرآن کے بغیر تلاش کرے گا اس کے حصہ میں اللہ کی طرف سے صرف گمراہی آئے گی* (یعنی وہ ہدایتِ حق سے محروم رہے گا) 

6۔قرآن ہی حبل اللہ المتین یعنی اللہ سے تعلق کا مضبوط وسیلہ ہے، اور محکم نصیحت نامہ ہے، اور وہی صراطِ مستقیم ہے۔

7۔ وہی وہ حق مبین ہے جس کے اتباع سے خیالات کجی سے محفوظ رہتے ہیں اور زبانیں اس کو گڑ بڑ نہیں کر سکتیں (یعنی جس طرح اگلی کتابوں میں زبانوں کی راہ سے تحریف داخل ہو گئی اور محرفین نے کچھ کا کچھ پڑھ کے اس کو محرف کر دیا اس طرح قرآن مین کوئی تحریف نہیں ہو سکے گی، اللہ تعالیی نے تا قیامت اس کے محفوظ رہنے کا انتظام فرما دیا ہے)

 8۔ اور علم والے بھی اس کے علم سے سیر نہیں ہوں گے (یعنی قرآن میں تدبر کا عمل اور اس کے حقائق و معارف کی تلاش کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا اور کبھی ایسا وقت نہیں آئے گا کہ قرآن کا علم حاصل کرنے والے محسوس کریں کہ ہم نے علم قرآن پر پورا عبور حاصل کر لیا اور اب ہمارے حاصل کرنے کے لئے کچھ باقی نہیں رہا، بلکہ قرآن کے طالبین علم کا حال ہمیشہ یہ رہے گا کہ وہ علم قرآن میں جتنے آگے بڑھتے رہین گے اتنی ہی ان کی طلب ترقی کرتی رہے گی اور ان کا احساس یہ ہو گا کہ جو کچھ ہم نے حاصل کیا ہے وہ اس کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں ہے جو ابھی ہم کو حاصل نہیں ہوا ہے)

9۔ اور وہ قرآن کثرت مزاولت سے کبھی پرانا نہیں ہو گا (یعنی جس طرح دنیا کی دوسری کتابوں کا حال ہے کہ بار بار پڑھنے کے بعد ان کے پڑھنے میں آدمی کو لطف نہیں آتا، قرآن مجید کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے وہ جتنا پڑھا جائے گا اور جتنا اس میں تفکر و تدبر کیا جائے گا اتنا ہی اس کے لطف و لذت میں اضافہ ہو گا)

10۔ اور اس کے عجائب (یعنی اس کے دقیق و لطیف حقائق و معارف) کبھی ختم نہیں ہوں گے۔ 

11۔قرآن کی یہ شان ہے کہ جب جنوں نے اس کو سنا تو بےاختیار بول اٹھے۔

إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ (الجن، 1،2:72)

ہم نے قرآن سنا جو عجیب ہے، رہنمائی کرتا ہے بھلائی کی، پس ہم اس پر ایمان لے آئے۔

*12، جس نے قرآن کے موافق بات کہی اس نے سچی بات کہی،*

*13۔ اور جس نے قرآن پر عمل کیا وہ مستحقِ اجر و ثواب ہوا*

*14۔ اور جس نے قرآن کے موافق فیصلہ کیا اس نے عدل و انصاف کیا*

*15۔اور جس نے قرآن کی طرف دعوت دی اس کو صراطِ مستقیم کی ہدایت نصیب ہو گئی۔*

(جامع ترمذی، سنن دارمی) (معارف الحدیث، حدیث نمبر: 1084)

تخلیق آدم، ابلیس , میثاق الست وآزمائش

انسان کے ذہن میں اکثر یہ سوالات اٹھتے ہیں کہ : ہم اس دنیا میں کیوں ہیں؟ ہمارا مقصد حیات کیا ہے؟ کامیاب انسان کون ہے؟ الله تعالی ہم سے کیا چاہتا ہے؟ نجات اور بخشش کے لیے کیا اہم ترین ہے؟

 الله تعالی نے ان اہم ترین سوالات کا جواب قرآن میں مکمل تفصیل سے دیا اور مزید ہماری آسانی کے لیےان کا خلاصہ صرف تین آیات میں دے دیا کہ دنیا و آخرت میں کامیابی اور خسارہ (ناکامی) کی بنیاد, کون سے اہم ستونوں پر کھڑی ہے:

ترجمہ : انسان درحقیقت بڑے خسارے میں ہے، سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے، اور نیک اعمال کرتے رہے، اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے (قرآن,سورة العصر: 103)

[مزید تفصیل .....]

لیکن اسنان کی تخلیق اور آزمائش کی تفصیل کا علم ضروری ہے - الله نے فرمایا: (ترجمہ)

" ہم نے انسان کو سٹری ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے بنایا (15:26 تفسیر) اور اُس سے پہلے جنوں کو ہم آگ کی لپٹ سے پیدا کر چکے تھے [ترجمہ : سورہ الحجر آیت 26 سے 50]  پھر یاد کرو اُس موقع کو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا کہ "میں سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے ایک بشر پیدا کر رہا ہوں جب میں اُسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی روح سے کچھ پھونک دوں تو تم سب اس کے آگے سجدے میں گر جانا" چنانچہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے کہ اُس نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا رب نے پوچھا "اے ابلیس، تجھے کیا ہوا کہ تو نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ نہ دیا؟ Read more »

الصَّلٰوةَ , نمازاور الجمع بین الصلاتین



پانچ فرض نماز (الصَّلٰوةَ) کے اوقات اور الجمع بین الصلاتین، نمازوں کو جمع کرنا

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ 0 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوۡكِ الشَّمۡسِ اِلٰى غَسَقِ الَّيۡلِ وَقُرۡاٰنَ الۡـفَجۡرِ‌ؕ اِنَّ قُرۡاٰنَ الۡـفَجۡرِ كَانَ مَشۡهُوۡدًا ۞ 
ترجمہ:
نماز قائم کرو زوالِ آفتاب سے لے کر رات کے اندھیرے تک اور فجر کے قرآن کا بھی التزام کرو کیونکہ قرآنِ فجر مشہُود ہوتا ہے۔
تفسیر:
اس آیت میں مجملا یہ بتایا گیا ہے کہ پنج وقتہ نماز، جو معراج کے موقع پر فرض کی گئی تھی، اس کے اوقات کی تنظیم کس طرح کی جائے۔ 
حکم ہوا کہ ایک نماز تو طلوع آفتاب سے پہلے پڑھ لی جائے، اور 
چار نمازیں زوال آفتاب کے بعد سے ظلمت شب تک پڑھی جائیں۔ 

پھر اس حکم کی تشریح کے لیے جبریل ؑ بھیجے گئے جنہوں نے نماز کے ٹھیک ٹھیک اوقات کی تعلیم نبی ﷺ کو دی۔ چناچہ ابو داؤد ؑ اور ترمذی میں ابن عباس ؓ کی روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا 
”جبریل ؑ نے دو مرتبہ مجھ کو بیت اللہ کے قریب نماز پڑھائی۔
 پہلے دن ظہر کی نماز ایسے وقت پڑھائی جبکہ سورج ابھی ڈھلا ہی تھا اور سایہ ایک جوتی کے تسمے سے زیادہ دراز نہ تھا،
 پھر عصر کی نماز ایسے وقت پڑھائی جبکہ ہر چیز کا سایہ اس کے اپنے قد کے برابر تھا، 
پھر مغرب کی نماز ٹھیک اس وقت پڑھائی جبکہ روزہ دار روزہ افطار کرتا ہے،
پھر عشاء کی نماز شفق غائب ہوتے ہی پڑھا دی، اور فجر کی نماز اس وقت پڑھائی جبکہ روزہ دار پر کھانا پینا حرام ہوجاتا ہے۔

 دوسرے دن انہوں نے ظہر کی نماز مجھے اس وقت پڑھائی جبکہ ہر چیز کا سایہ اس کے قد کے برابر تھا،

اور عصر کی نماز اس وقت جبکہ ہر چیز کا سایہ اس کے قد سے دوگنا ہوگیا،
 اور مغرب کی نماز اس وقت جبکہ روزہ دار روزہ افطار کرتا ہے، 
اور عشاء کی نماز ایک تہائی گزر جانے پر، اور
 فجر کی نماز اچھی طرح روشنی پھیل جانے پر۔ پھر جبریل ؑ نے پلٹ کر مجھ سے کہا کہ اے محمد ﷺ ، یہی اوقات انبیاء (علیہم السلام) کے نماز پڑھنے کے ہیں، اور نمازوں کے صحیح اوقات ان دونوں وقتوں کے درمیان ہیں“۔ (یعنی پہلے دن ہر وقت کی ابتداء اور دوسرے دن ہر وقت کی انتہا بتائی گئی ہے۔ ہر وقت کی نماز ان دونوں کے درمیان ادا ہونی چاہیے)۔
قرآن مجید میں خود بھی نماز کے ان پانچوں اوقات کی طرف مختلف مواقع پر اشارے کیے گئے ہیں۔ چناچہ سورة ہود میں فرمایا 
اَقِمِ الصَّلوٰةَ طَرَفَیِ النَّھَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ۔ ط (آیت 114)
”نماز قائم کر دن کے دونوں کناروں پر (یعنی فجر اور مغرب) اور کچھ رات گزرنے پر (یعنی عشاء)“
وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوع الشَّمسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِھَا وَمِنْ اٰنآئیَ الّیْلِ فَسَبِّحْ وَاَطْرَاف النَّھَارِ (آیت 130)
" اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کر طلوع آفتاب سے پہلے (فجر) اور غروب آفتاب سے پہلے (عصر) اور رات کے اوقات میں پھر تبیح کر (عشاء) اور دن کے سروں پر (یعنی صبح، ظہر اور مغرب) 
پھر سورة روم میں ارشاد ہوا 
فَسُبْحٰنَ اللہ حین تُمسُونَ وَحِیْنَ تُصْبِحُوْ نَہ وَلَہُ الْحَمدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْا رْضِ وَعَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْھِرُوْنَ (آیات 17۔ 18)
" پس اللہ کی تسبیح کرو جبکہ تم شام کرتے ہو (مغرب) اور صبح کرتے ہو (فجر)۔ اسی کے لیے حمد ہے آسمانوں میں اور زمین میں۔ اور اس کی تسبیح کرو دن کے آخری حصے میں (عصر) اور جبکہ تم دوپہر کرتے ہو (ظہر) 
قرآن مجید میں نماز کے لیے کہیں تو صلوة کا لفظ استعمال ہوا ہے اور کہیں اس کے مختلف اجزاء میں سے کسی جز کا نام لے کر پوری نماز مراد لی گئی ہے، مثلا *تسبیح، حمد، ذکر، قیام، رکوع، سجود وغیرہ*
(تفہیم القرآن ,مفسر: مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی، ماخوز)


اس سہولت کا زکر بہت کم ملتا ہے ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو ایک بہت بڑی سہولت دی۔
علمی دیانت (intellectual honesty) کا تقاضا ہے کہ ان احادیث کا زکر بھی ہو۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے مدینہ منورہ میں ظہر وعصر کو ملاکر پڑھا؛ *حالانکہ یہ کسی خطرہ یا سفر کی حالت نہ تھی۔* حضرت ابو الزبیر  کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید سے پوچھا کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایسا کیوں کیا؟ حضرت سعید نے جواب دیا کہ میں نے بھی یہ بات حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھی تھی تو انہوں نے بتایا کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا مقصد تھا کہ *لوگ تنگی میں مبتلا نہ ہوں* (صحیح مسلم، 1633، 1629، الجمع بین الصلاتین فی الحضر)

جو لوگ اس حدیث سے جمع کو مطلقاً جائز سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ جائز ہے بشرطیکہ عادت نہ بنا لے۔
اہل تشیع الجمع بین الصلاتین (ظہر، معصر اور مغرب و عشاء) پریکٹس کرتے ہیں.
فتح الباری میں ہے کہ ابن سیرین رحمہ اللہ، ربیعہ، ابن منذر اور فقال الکبیر کا یہی مذہب تھا۔ خطابی رحمہ اللہ نے بعض کی طرف منسوب کیا ہے۔ جمہور کا مذہب یہ ہے کہ بغیر کسی عزر کے جائز نہیں ہے۔

ظاہری جمع، حقیقی جمع ، جمع تقدیم وجمع تاخیر
 مروجہ عام نظریہ ۔۔۔۔ 
اگر کوئی شخص سفر یا کسی شرعی عذر کی وجہ سے دو نمازوں کو اکٹھا کرنا چاہے تو اس سلسلہ میں فقہاء وعلماء کرام کا اختلاف ہے۔ فقہاء وعلماء کرام کی ایک جماعت نے سفر یا موسلادھار بارش کی وجہ سے ظہر وعصر میں جمع تقدیم وجمع تاخیر اسی طرح مغرب وعشاء میں جمع تقدیم وجمع تاخیر کی اجازت دی ہے؛ لیکن فقہاء وعلماء کرام کی دوسری جماعت نے احادیث نبویہ کی روشنی میں حقیقی جمع کی اجازت نہیں دی ہے۔ ۸۰ ہجری میں پیدا ہوئے مشہور تابعی وفقیہ حضرت امام ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ کی بھی یہی رائے ہے۔ ہندوپاک کے علماء کا بھی یہی موقف ہے۔ فقہاء وعلماء کی یہ جماعت، اُن احادیث کو جن میں جمع بین الصلاتین کا ذکر آیا ہے، ظاہری جمع پر محمول کرتی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ظہر کی نماز آخری وقت میں اور عصر کی نماز اوّلِ وقت میں ادا کی جائے، مثلاً ظہر کا وقت ایک بجے سے چار بجے تک ہے اور عصر کا وقت چار بجے سے غروب آفتاب تک تو ظہر کو چار بجے سے کچھ قبل اور عصر کو چار بجے پڑھا جائے۔ اس صورت میں ہر نماز اپنے اپنے وقت کے اندر ادا ہوگی؛ لیکن صورت وعمل کے لحاظ سے دونوں نمازیں اکٹھی ادا ہوں گی، اسی طرح مغرب کی نماز آخری وقت میں اور عشاء کی نماز اوّلِ وقت میں پڑھی جائے، اس کو جمع ظاہری یا جمع صوری یا جمع عملی کہا جاتا ہے۔ اس طرح تمام احادیث پر عمل بھی ہوجائے گا اور قرآن وحدیث کا اصل مطلوب ومقصود (یعنی نمازکی وقت پر ادائیگی) بھی ادا ہوجائے گا۔ (دارالعلوم دیوبند)

  1. https://salaamone.com/salah-join/ 
  2. http://www.darululoom-deoband.com/urdu/magazine/new/tmp/04-Jama%20Bain%20Salatain_MDU_12_Dec_15.htm

انفرادی و بین الاقوامی معاہدات کی پابندی کے احکام



وعدے اور معاہدے توڑنا ، دھوکہ دہی کا رواج عام ہے ، معاہدات کی پابندی کا حکم ہے ۔
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم 0 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَ اَوۡفُوۡا بِعَهۡدِ اللّٰهِ اِذَا عَاهَدتُّمۡ وَلَا تَنۡقُضُوا الۡاَيۡمَانَ بَعۡدَ تَوۡكِيۡدِهَا وَقَدۡ جَعَلۡتُمُ اللّٰهَ عَلَيۡكُمۡ كَفِيۡلًا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا تَفۡعَلُوۡنَ‏ ۞ وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّتِىۡ نَقَضَتۡ غَزۡلَهَا مِنۡۢ بَعۡدِ قُوَّةٍ اَنۡكَاثًا ؕ تَتَّخِذُوۡنَ اَيۡمَانَكُمۡ دَخَلًاۢ بَيۡنَكُمۡ اَنۡ تَكُوۡنَ اُمَّةٌ هِىَ اَرۡبٰى مِنۡ اُمَّةٍ‌ ؕ اِنَّمَا يَبۡلُوۡكُمُ اللّٰهُ بِهٖ ‌ؕ وَلَيُبَيِّنَنَّ لَـكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ مَا كُنۡـتُمۡ فِيۡهِ تَخۡتَلِفُوۡنَ ۞ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَجَـعَلَكُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰـكِنۡ يُّضِلُّ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِىۡ مَنۡ يَّشَآءُ‌ ؕ وَلَـتُسۡــئَلُنَّ عَمَّا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ۞ وَلَا تَتَّخِذُوۡۤا اَيۡمَانَكُمۡ دَخَلًاۢ بَيۡنَكُمۡ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعۡدَ ثُبُوۡتِهَا وَتَذُوۡقُوا السُّوۡۤءَ بِمَا صَدَدْتُّمۡ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌ۚ وَ لَـكُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ۞ وَلَا تَشۡتَرُوۡا بِعَهۡدِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِيۡلًا‌ ؕ اِنَّمَا عِنۡدَ اللّٰهِ هُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ۞(القرآن - سورۃ نمبر 16 النحل, آیت نمبر 91-95)
ترجمہ:
اللہ کے عہد کو پورا کرو جبکہ تم نے اس سے کوئی عہد باندھا ہو، اور اپنی قسمیں پختہ کرنے کے بعد توڑ نہ ڈالو جبکہ تم اللہ کو اپنے اوپر گواہ بنا چکے ہو اللہ تمہارے سب افعال سے باخبر ہے ۞ تمہاری حالت اُس عورت کی سی نہ ہو جائے جس نے آپ ہی محنت سے سوت کاتا اور پھر آپ ہی اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا تم اپنی قسموں کو آپس کے معاملات میں مکر و فریب کا ہتھیار بناتے ہو تاکہ ایک قوم دوسری قوم سے بڑھ کر فائدے حاصل کرے حالاں کہ اللہ اس عہد و پیمان کے ذریعہ سے تم کو آزمائش میں ڈالتا ہے، اور ضرور وہ قیامت کے روز تمہارے تمام اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا ۞ اگر اللہ کی مشیت یہ ہوتی (کہ تم میں کوئی اختلاف نہ ہو) تو وہ تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا، مگر وہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں ڈالتا ہے اور جسے چاہتا ہے راہ راست دکھا دیتا ہے، اور ضرور تم سے تمہارے اعمال کی باز پرس ہو کر رہے گی ۞ (اور اے مسلمانو،) تم اپنی قسموں کو آپس میں ایک دوسرے کو دھوکہ دینے کا ذریعہ نہ بنا لینا، کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی قدم جمنے کے بعد اکھڑ جائے اور تم اِس جرم کی پاداش میں کہ تم نے لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکا، برا نتیجہ دیکھو اور سخت سزا بھگتو ۞ اللہ کے عہد کو تھوڑے سے فائدے کے بدلے نہ بیچ ڈالو، جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے اگر تم جانو ۞
(القرآن - سورۃ نمبر 16 النحل, آیت نمبر 91-95)

علی الترتیب تین قسم کے معاہدوں کو ان کی اہمیت کے لحاظ سے الگ الگ بیان کر کے ان کی پابندی کا حکم دیا گیا ہے۔ 

1. ایک وہ عہد جو انسان نے اللہ کے ساتھ باندھا ہو، اور یہ اپنی اہمیت میں سب سے بڑھ کر ہے۔

2۔ دوسرا وہ عہد جو ایک انسان یا گروہ نے دوسرے انسان یا گروہ سے باندھا ہو اور اس پر اللہ کی قسم کھائی ہو، یا کسی نہ کسی طور پر اللہ کا نام لے کر اپنے قول کی پختگی کا یقین دلایا ہو۔ یہ دوسرے درجے کی اہمیت رکھتا ہے۔

3۔  تیسرا وہ عہد و پیمان جو اللہ کا نام لیے بغیر کیا گیا ہو۔ اس کی اہمیت اوپر کی دو قسموں کے بعد ہے۔ لیکن پابندی ان سب کی ضروری ہے اور خلاف ورزی ان میں سے کسی کی بھی روا نہیں ہے۔

 *بین الاقوامی معاہدات (اقوام متحدہ اور دوسرے)  کی پابندی*

یہاں خصوصیت کے ساتھ عہد شکنی کی اس برترین قسم پر ملامت کی گئی ہے جو دنیا میں سب سے بڑھ کر موجب فساد ہوتی ہے اور جسے بڑے بڑے اونچے درجے کے لوگ بھی کار ثواب سمجھ کر کرتے اور اپنی قوم سے داد پاتے ہیں۔

*قوموں اور گروہوں کی سیاسی، معاشی اور مذہبی کشمکش میں یہ آئے دن ہوتا رہتا ہے کہ ایک قوم کا لیڈر ایک وقت میں دوسری قوم سے ایک معاہدہ کرتا ہے اور دوسرے وقت میں محض اپنے قومی مفاد کی خاطر یا تو اسے علانیہ توڑ دیتا ہے یا درپردہ اس کی خلاف ورزی کر کے ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے۔*
 یہ حرکتیں ایسے ایسے لوگ کر گزرتے ہیں جو اپنی ذانی زندگی میں بڑے راستباز ہوتے ہیں۔ اور ان حرکتوں پر صرف یہی نہیں کہ ان کی پوری قوم میں سے ملامت کی کوئی آواز نہیں اٹھتی، بلکہ ہر طرف سے ان کی پیٹھ ٹھونکی جاتی ہے اور
 *اس طرح کی چالبازیوں کو ڈپلومیسی کا کمال سمجھا جاتا ہے۔* 
اللہ تعالیٰ اس پر متنبہ فرماتا ہے کہ ہر معاہدہ دراصل معاہدہ کرنے والے شخص اور قوم کے اخلاق و دیانت کی آزمائش ہے اور جو لوگ اس آزمائش میں ناکام ہوں گے وہ اللہ کی عدالت میں مؤاخذہ سے نہ بچ سکیں گے۔
 
یہ فیصلہ تو قیامت ہی کے روز ہوگا کہ جن اختلافات کی بنا پر تمہارے درمیان کشمکش برپا ہے ان میں برسر حق کون ہے اور برسر باطل کون۔ لیکن بہرحال، خواہ کوئی سراسر حق پر ہی کیوں نہ ہو، اور اس کا حریف بالکل گمراہ اور باطل پرست ہی کیوں نہ ہو، اس کے لیے یہ کسی طرح جائز نہیں ہوسکتا کہ وہ اپنے حریف کے مقابلہ میں عہد شکنی اور کذب و افترا اور مکر و فریب کے ہتھیار استعمال کرے۔

اگر وہ ایسا کرے گا تو قیامت کے روز اللہ کے امتحان میں ناکام ثابت ہوگا، کیونکہ حق پرستی صرف نظریے اور مقصد ہی میں صداقت کا مطالبہ نہیں کرتی، طریق کار اور ذرائع میں بھی صداقت ہی چاہتی ہے۔ یہ بات خصوصیت کے ساتھ ان مذہبی گروہوں کی تنبیہ کے لیے فرمائی جا رہی ہے جو ہمیشہ اس غلط فہمی میں مبتلا رہے ہیں کہ ہم چونکہ خدا کے طرفدار ہیں اور ہمارا فریق مقابل خدا کا باغی ہے اس لیے ہمیں حق پہنچتا ہے کہ اسے جس طریقہ سے بھی ممکن ہو زک پہنچائیں۔ ہم پر ایسی کوئی پابندی نہیں ہے کہ خدا کے باغیوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں بھی صداقت، امانت اور وفائے عہد کا لحاظ رکھیں۔ ٹھیک یہی بات تھی جو عرب کے یہودی کہا کرتے تھے کہ لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمّیِّیْنَ سَبِیْلٌ۔ یعنی مشرکین عرب کے معاملہ میں ہم پر کوئی پابندی نہیں ہے، ان سے ہر طرح کی خیانت کی جاسکتی ہے، جس چال اور تدبیر سے بھی خدا کے پیاروں کا بھلا ہو اور کافروں کو زک پہنچے وہ بالکل روا ہے، اس پر کوئی مؤاخذہ نہ ہوگا۔
تفہیم القرآن 
🌹🌹🌹
🔰 *Quran Subjects*  🔰 *قرآن مضامین* 🔰

*"اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا" [ الفرقان 25  آیت: 30]*
*کیا یہ لوگ قرآن پر تدبر ّنہیں کرتے یا ان کے دلوں پر قفل پڑچکے ہیں[47:24]*
*قرآن کے پیغام کوپھیلانا "جہاد کبیرہ" ہے(25:52)*
🤷🏻‍♂️
*FB* - https://www.facebook.com/QuranSubject
*English*- https://QuranSubjects.wordpress.com  
*Urdu*- https://Quransubjects.blogspot.com 
Strive Corruption: https://TCPwebs.wordpress.com
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*A Project of "SalaamOne Network" 🔰 سلام ون نیٹ ورک*
4.5 Million beneficiaries world wide and counting .....
Dawah, information, Knowkedge, Social Media (Eng/Urdu  (دعوہ، انفارمیشن، علم، سوشل میڈیا)
https://SalaamOne.com/about
By Brig Aftab Khan (r)
#Quran #Islam #Muslims

غیر اللہ کو سجدہ حرام




قرآن میں سورہ یوسف میں لفظ " سجدہ " سے بکثرت لوگوں کو غلط فہمی ہوئی ہے، حتی کہ ایک گروہ نے تو اسی سے استدلال کر کے بادشاہوں اور پیروں کے لیے سجدہ تحیۃ اور سجدہ تعظیمی کا جواز نکال لیا
دوسرے لوگوں کو اس قباحت سے بچنے کے لیے اس کی یہ توجیہ کرنی پڑی کہ اگلی شریعتوں میں صرف سجدہ غیر اللہ کے لیے حرام تھا، باقی رہا وہ سجدہ جو عبادت کے جذبہ سے خالی ہو تو وہ اللہ کے سوا دوسروں کو بھی کیا جاسکتا تھا، البتہ شریعت محمدی میں ہر قسم کا سجدہ غیر اللہ کے لیے حرام کردیا گیا۔
https://QuranSubjects.blogspot.com
" بادشاہ کے ملازموں نے کہا آخر تو کیوں ہامان کو سجدہ کرنے سے انکار کرتا ہے ؟ ہم بھی آدمی ہیں مگر شاہی حکم کی تعمیل کرتے ہیں، اس نے جواب دیا تم لوگ نادان ہو، کیا ایک فانی انسان جو کل خاک میں مل جانے والا ہے اس قابل ہوسکتا ہے کہ اس کی بڑائی مانی جائے ؟

کیا میں اس کو سجدہ کروں جو ایک عورت کے پیٹ سے پیدا ہوا، کل بچہ تھا آج جوان ہے کل بوڑھا ہوگا اور پرسوں مر جائے گا؟

 نہیں میں تو اس ازلی و ابدی خدا ہی کے آگے جھکوں گا جو حی وقیوم ہے۔ وہ جو کائنات کا خالق اور حاکم ہے، میں تو بس اسی کی تعظیم بجا لاؤں گا، اور کسی کی نہیں "۔ (تلمود)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَرَفَعَ اَبَوَيۡهِ عَلَى الۡعَرۡشِ وَخَرُّوۡا لَهٗ سُجَّدًا‌ۚ ...
 (القرآن - سورۃ نمبر 12 يوسف، آیت نمبر 100)
ترجمہ:
"(شہر میں داخل ہونے کے بعد)اس (یوسف علیہ السلام ) نے اپنے والدین کو اُٹھا کر اپنے پاس تخت پر بٹھایا اور سب اس کے آگے بے اختیار سجدے میں جُھک گئے ۔۔"

سجدہ کا مفہوم

ساری غلط فہمیاں دراصل اس وجہ سے پیدا ہوئی ہیں کہ لفظ "سجدہ " کو موجودہ اسلامی اصطلاح کا ہم معنی سمجھ لیا گیا، یعنی ہاتھ، گھٹنے اور پیشانی زمین پر ٹکانا، 

حالانکہ سجدہ کے اصل معنی محض جھکنے کے ہیں اور یہاں یہ لفظ اسی مفہوم میں استعمال ہوا ہے، قدیم تہذیب میں یہ عام طریقہ تھا (اور آج بھی بعض ملکوں میں اس کا رواج ہے) کہ کسی کا شکریہ ادا کرنے کے لیے، یا کسی کا استقبال کرنے کے لیے، یا محض سلام کرنے کے لیے سینے پر ہاتھ رکھ کر کسی حد تک آگے کی طرف جھکتے تھے،

اسی جھکاؤ کے لیے عربی میں سجود اور انگریزی میں (Bow) کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں، بائیبل میں اس کی بکثرت مثالیں ہم کو ملتی ہیں کہ قدیم زمانے میں یہ طریقہ آداب تہذیب میں شامل تھا، چناچہ حضرت ابراہیم کے متعلق ایک جگہ لکھا ہے کہ انہوں نے اپنے خیمہ کی طرف تین آدمیوں کو آٹے دیکھا تو وہ ان کے استقبال کے لیے دوڑے اور زمین تک جھکے۔ عربی بائیبل میں اس موقع پر جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں وہ یہ ہیں 
فلما نظر رکض لاستقبالھم من باب الخیمۃ و سجد الی الارض (تکوین 18۔ 3) 
پھر جس موقع پر یہ ذکر آتا ہے کہ بنی حت نے حضرت سارہ کے دفن کے لیے قبر کی زمین مفت دی وہاں اردو بائٰیبل کے الفاظ یہ ہیں ابرھام نے اٹھ کر اور بنی حت کے آگے جو اس ملک کے لوگ ہیں، آداب بجا لاکر ان سے یوں گفتگو کی، اور جب ان لوگوں نے قبر کی زمین ہی نہیں بلکہ ایک پورا کھیت اور ایک غار نذر میں پیش کردیا تب ابرھام اس ملک کے لوگوں کے سامنے جھکا،
 مگر عربی ترجمہ میں ان دونوں مواقع پر آداب بجا لانے اور جھکنے کے لیے سجدہ کرنے ہی کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ 
فقام ابراہیم و سجد لشعب الارض لبنی حت (تکوین 23۔ 7) 
فسجد ابراہیم امام شعب الارض (23۔ 12) 
انگریزی بائیبل میں ان مواقع پر جو الفاظ آئے ہیں وہ یہ ہیں:
Bowed himself toward thee ground 
Bowed himself to the people of the land and Abraham bowed
اس مضمون کی مثالیں بڑی کثرت سے بائیبل میں ملتی ہیں اور ان سے صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ اس سجدے کا مفہوم وہ ہے ہی نہیں جو اب اسلامی اصطلاح کے لفظ " سجدہ " سے سمجھا جاتا ہے۔
جن لوگوں نے معاملہ کی اس حقیقت کو جانے بغیر اس کی تاویل میں سرسری طور پر یہ لکھ دیا ہے کہ اگلی شریعتوں میں غٰیر اللہ کو تعظیمی سجدہ کرنا یا سجدہ تحیۃ بجالانا جائز تھا انہوں نے محض ایک بےاصل بات کہی ہے۔
اگر سجدے سے مراد وہ چیز ہو جسے اسلامی اصطلاح میں سجدہ کہا جاتا ہے، تو وہ خدا کی بھیجی ہوئی کسی شریعت میں کبھی کسی غیر اللہ کے لیے جائز نہیں رہا ہے۔

بائیبل میں ذکر آتا ہے کہ بابل کی اسیری کے زمانے میں جب اخسویرس بادشاہ نے ہامان کو اپنا امیر الامرا بنایا اور حکم دیا کہ سب لوگ اس کو سجدہ تعظیمی بجا لایا کریں تو مرد کی جو بنی اسرائیل کے اولیاء میں سے تھے یہ حکم ماننے سے انکار کردیا (آستر 3 1۔ 2) 

تلمود میں اس واقعہ کی شرح کرتے ہوئے اس کی جو تفصیل دی گئی ہے وہ پڑھنے کے لائق ہے 
" بادشاہ کے ملازموں نے کہا آخر تو کیوں ہامان کو سجدہ کرنے سے انکار کرتا ہے ؟ ہم بھی آدمی ہیں مگر شاہی حکم کی تعمیل کرتے ہیں، اس نے جواب دیا تم لوگ نادان ہو، کیا ایک فانی انسان جو کل خاک میں مل جانے والا ہے اس قابل ہوسکتا ہے کہ اس کی بڑائی مانی جائے ؟

کیا میں اس کو سجدہ کروں جو ایک عورت کے پیٹ سے پیدا ہوا، کل بچہ تھا آج جوان ہے کل بوڑھا ہوگا اور پرسوں مر جائے گا؟

 نہیں میں تو اس ازلی و ابدی خدا ہی کے آگے جھکوں گا جو حی وقیوم ہے۔ وہ جو کائنات کا خالق اور حاکم ہے، میں تو بس اسی کی تعظیم بجا لاؤں گا، اور کسی کی نہیں "۔

یہ تقریر نزول قرآن سے تقریبا ایک ہزار برس پہلے ایک اسرائیلی مومن کی زبان سے ادا ہوئی ہے اور اس میں کوئی شائبہ تک اس تخیل کا نہیں پایا جاتا کہ غیر اللہ کو کسی معنی میں بھی " سجدہ " کرنا جائز ہے۔(تفہیم القرآن)

Mis-Translation as Worship?

Hebrews had various traditions of paying homage and respect, which may be confused to mean ‘worship’. Some have been mentioned in the Bible: Bowing frequently to the ground (Genesis;33:3-4); Falling prostrate on the ground (Esther;8:3; Mathew;2:11; Luke;8:41); Embracing and kissing the feet (Mathew;28:9; Luke;7:38,45); Kissing the dust (Psalms;72:9; Isaiah;49:23). Some example are: And there came two angels to Sodom at even; and Lot sat in the gate of Sodom: and Lot seeing them rose up to meet them; and he bowed himself with his face toward the ground;”(Genesis;19:1); “And he lift up his eyes and looked, and, lo, three men stood by him: and when he saw them, he ran to meet them from the tent door, and bowed himself toward the ground,”(Genesis;18:2); “And the old man said, Peace be with thee; howsoever let all thy wants lie upon me; only lodge not in the street.”(Judges;19:20).

It is reasoned that Jesus is divine because he accepted the worship of some of his followers. Conversely, a closer look at the texts indicates that this view is based on dubious translation and misinterpretation. The term “worship” is found in the narrative mentioned in ‘King James Version’ and ‘The Revised Standard Version’, about three wise men who came from the East. They were reported to have said, “Where is the baby born to be the king of the Jews? We saw his star when it came up in the east, and we have come to worship him.”(Matthew;2:2). The word translated as worship, form the ancient Greek script is ‘pros-koo-neh’-o’(proskune>w-proskun’ew) probably derivative of Koo’-Ohn (ku>wn-ku’wn);a primary word; a dog, “hound”, literal or figurative) dog (meaning to kiss, like a dog licking his master’s hand); to fawn or crouch to, i.e. (literal or figurative) prostrate oneself in homage (do reverence to, adore): worship. A careful look at the narrative in perspective reveal that the wise men of east came to see the ‘King of Jews’, not the ‘God of Jews’, the logical meanings of the Greek word ‘proskune>w-proskun’ew’ should be Prostrate Oneself In Homage (do reverence to, adore) as customary done in the East to the kings. The men of East did not say; ‘Where is the baby born to be the God of the Jews? Had they instead of king said ‘God of Jews’, the possibility to WORSHIP him would have had some rationale.

The worship as related to God, is mentioned in an other place in Bible: “We know that God hears not sinners: but if any man be a worshipper of God, and do his will, him he hears. Since the world began it was never heard that any one opened the eyes of a man born blind. If this man were not from God, he could do nothing.”(John;9:31-33). Here besides calling Jesus as a man from God, the word ‘worshipper of God’ is used which is translation of Greek  word ‘qeosebh>v-theh-os-eb-ace’; (derived from qeo>v and se>bomai); meaning: reverent of God, i.e. pious – worshipper of God. Hence proper world for worship-related with God in Greek is ‘qeosebh>v-theh-os-eb-ace’ and not proskune>w,- pros-koo-neh’-o. In continuation of same narrative, the miraculously cured blind man said: “And he said, Lord, I believe. And he worshipped him.”(John;9:38). The word worshipped used here for Jesus, is the translation of Greek word proskune>w,- pros-koo-neh’-o also used in verse Matthew;2:2, explained above, meaning Prostrate Oneself In Homage  and not qeosebh>v- ‘theh-os-eb-ace’; used to express reverence and – worship of God.[Translations from; ‘Greek Dictionary of The New Testament’; by James Strong, S.T.D., LL.D.]

The comparison of different translations of verse 9:38 of the Gospel according to John is self-explanatory:

  1. “And he said, Lord, I believe. And he worshipped him” (King John’s Version)
  2. “He said, “Lord, I believe”; and he worshiped him”(Revised Standard Version)
  3. “And he said, I believe, Lord: and he did him homage”(Darby Translation: by John Nelson Darby)
  4. “I believe, Sir,” he said. And he threw himself at his feet.”(By Richard Francis Weymouth)
  5. “and he said, “I believe, sir,’ and bowed before him.” (Young’s Bible 1863: By Robert Young).

The most accurate and relevant translations is found at serial 5), ‘Young’s Bible Translation New Testament 1863 Version: Translated by Robert Young who translated ‘proskune>w,- pros-koo-neh’-o’ as bowed and not as worship.

In “The American Bible”, the scholarly translators added a footnote that: ‘This verse, omitted in important MSS (manuscripts), may be an addition for a baptismal liturgy. This verse is not found in important ancient manuscripts containing this Gospel. It is probably a later addition made by Church scribes for use in baptismal services’. George M. Lamsa, a renowned authority on the Bible and its original language, elucidate; ‘The Aramaic word seg-eed’, worship, also means to bend or to kneel down[cgid, seg-eed’; (Aramaic) worship, corresponding to Hebrew; cagad, saw-gad’; to prostrate oneself (in homage), fall down].

Easterners in greeting each other generally bowed the head or bent down. …‘He worshipped him’ does not imply that he worshipped Jesus in a manner as God is worshipped. Such an act would have been regarded as blasphemous and a breach of the First Commandment in the eyes of the Jews, and the man might have been stoned. But he knelt before him in token of homage and gratitude.’ Hence it is appropriate to understand the word worship used in the context for Jesus in the translations of New Testament, to mean   ‘bowed in homage and gratitude’. Jesus Preached to Worship only One God:

Reference: Trinity, Divinity of Jesus | Faith Forum (wordpress.com)

1. https://QuranSubjects.blogspot.com 
2. https://youtu.be/MtuF2N2Utz4
🌹🌹🌹
"اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا" [ الفرقان 25  آیت: 30]
کیا یہ لوگ قرآن پر تدبر ّنہیں کرتے یا ان کے دلوں پر قفل پڑچکے ہیں[47:24]
قرآن کے پیغام کوپھیلانا "جہاد کبیرہ" ہے(25:52)

#Quran #Islam #Muslims #Hadith #Bidah #بدعة
[11:53 am, 08/12/2020] Brig AftabKhan (r): أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم 0 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

رَبِّ قَدۡ اٰتَيۡتَنِىۡ مِنَ الۡمُلۡكِ وَ عَلَّمۡتَنِىۡ مِنۡ تَاۡوِيۡلِ الۡاَحَادِيۡثِ‌ ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اَنۡتَ وَلِىّٖ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ‌ ۚ تَوَفَّنِىۡ مُسۡلِمًا وَّاَلۡحِقۡنِىۡ بِالصّٰلِحِيۡنَ ۞ 
ترجمہ:
اے میرے ربّ، تُو نے مجھے حکومت بخشی اور مجھے باتوں کی تہہ تک پہنچنا سکھایا۔ زمین و آسمان کے بنانے والے، تُو ہی دُنیا اور آخرت میں میرا سرپرست ہے، میرا خاتمہ اسلام پر کر اور انجامِ کار مجھے صالحین کے ساتھ ملا۔“
(القرآن - سورۃ نمبر 12 يوسف , آیت نمبر 101)

اَنۡتَ وَلِىّٖ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ‌
تُو  (اللہ ) ہی دُنیا اور آخرت میں میرا سرپرست ہے، 
تَوَفَّنِىۡ مُسۡلِمًا وَّاَلۡحِقۡنِىۡ بِالصّٰلِحِيۡنَ 
میرا خاتمہ اسلام پر کر اور انجامِ کار مجھے صالحین کے ساتھ ملا۔“
اللہ کا دین اسلام ہے اور اس پر ایمان والے مومنین صرف مسلمان ہیں۔ 
SalaamOne.com/muslim-only
~~~~~~~~~
🌹🌹🌹
🔰 Quran Subjects  🔰 قرآن مضامین 🔰
"اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا" [ الفرقان 25  آیت: 30]
The messenger said, "My Lord, my people have deserted this Quran." (Quran 25:30)
~~~~~~~~~

Obedience اللہ , رسول اور اہل اختیار کی اطاعت کا حکم



یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡکُمۡ ۚ فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ فَرُدُّوۡہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ  اِنۡ کُنۡتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ ذٰلِکَ خَیۡرٌ  وَّ  اَحۡسَنُ  تَاۡوِیۡلًا ﴿4:59﴾   

اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی بھی اطاعت کرو اور تم میں سے جو لوگ صاحب اختیار ہوں ان کی بھی ۔  پھر اگر تمہارے درمیان کسی چیز میں اختلاف ہوجائے تو اگر واقعی تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اسے اللہ اور رسول کے حوالے کردو ۔ یہی طریقہ بہترین ہے اور اس کا انجام بھی سب سے بہتر ہے ۔ ۔  ﴿4:59﴾

 O you who have believed, obey Allah and obey the Messenger and those in authority among you. And if you disagree over anything, refer it to Allah and the Messenger, if you should believe in Allah and the Last Day. That is the best [way] and best in result. [4:59]
This verse is the basis of the whole religious, cultural and political system of Islam and is the first and foremost article of the constitution of an Islamic State. It lays down permanently the following fundamental principles:.... keep reading >>>>

یہ آیت اسلام کے پورے مذہبی ، تمدنی اور سیاسی نظام کی بنیاد اور اسلامی ریاست کے دستور کی اولین دفعہ ہے ۔ اس میں حسب ذیل اصول مستقل طور پر قائم کر دیے گئے ہیں:

( ۱ ) اسلامی نظام میں اصل مطاع اللہ تعالیٰ ہے 
 ایک مسلمان سب سے پہلے بندہ خدا ہے ، باقی جو کچھ بھی ہے اس کے بعد ہے ۔ مسلمان کی انفرادی زندگی ، اور مسلمانوں کے اجتماعی نظام ، دونوں کا مرکز و محور خدا کی فرمانبرداری اور وفاداری ہے ۔ دوسری اطاعتیں اور وفاداریاں صرف اس صورت میں قبول کی جائیں گی کہ وہ خدا کی اطاعت اور وفاداری کی مد مقابل نہ ہوں بلکہ اس کے تحت اور اس کی تابع ہوں ۔ ورنہ ہر وہ حلقہ اطاعت توڑ کر پھینک دیا جائے گا جو اس اصلی اور بنیادی اطاعت کا حریف ہو ۔ یہی بات ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق ۔ خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کے لیے کوئی اطاعت نہیں ہے ۔ 

( ۲ ) اسلامی نظام کی دوسری بنیاد رسول کی اطاعت ہے ۔ یہ کوئی مستقل بالذات اطاعت نہیں ہے بلکہ اطاعت خدا کی واحد عملی صورت ہے ۔ رسول اس لیے مطاع ہے کہ وہی ایک مستند ذریعہ ہے جس سے ہم تک خدا کے احکام اور فرامین پہنچتے ہیں ۔ ہم خدا کی اطاعت صرف اسی طریقہ سے کر سکتے ہیں کہ رسول کی اطاعت کریں ۔ کوئی اطاعت خدا رسول کی سند کے بغیر معتبر نہیں ہے ، اور رسول کی پیروی سے منہ موڑنا خدا کے خلاف بغاوت ہے ۔ اسی مضمون کو یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ من اطاعنی فقد اطاع اللہ و من عصانی فقد عصی اللہ ۔ ” جس نے میری اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے خدا کی نافرمانی کی ۔ “ اور یہی بات خود قرآن میں پوری وضاحت کے ساتھ آگے آرہی ہے ۔ 

( ۳ ) اولی الامر“ کی اطاعت
 مذکورہ بالا دونوں اطاعتوں کے بعد اور ان کے ماتحت تیسری اطاعت جو اسلامی نظام میں مسلمانوں پر واجب ہے وہ ان” اولی الامر“ کی اطاعت ہے جو خود مسلمانوں میں سے ہوں ۔ ”اولی الامر “ کے مفہوم میں وہ سب لوگ شامل ہیں جو مسلمانوں کے اجتماعی معاملات کے سربراہ کار ہوں ، 
  • خواہ وہ ذہنی و فکری رہنمائی کرنے والے علماء ہوں ، یا 
  • سیاسی رہنمائی کرنے والے لیڈر ، یا 
  • ملکی انتظام کرنے والے حکام ، یا 
  • عدالتی فیصلے کرنے والے جج ، یا
  •  تمدنی و معاشرتی امور میں قبیلوں اور بستیوں اور محلوں کی سربراہی کرنے والے شیوخ اور سردار ۔ 

غرض جو جس حیثیت سے بھی مسلمانوں کا صاحب امر ہے وہ اطاعت کا مستحق ہے ، اور اس سے نزاع کر کے مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں خلل ڈالنا درست نہیں ہے ۔ 
بشرطیکہ وہ خود مسلمانوں کے گروہ میں سے ہو ، اور
خدا و رسول کا مطیع ہو ۔ یہ دونوں شرطیں اس اطاعت کے لیے لازمی شرطیں ہیں اور یہ نہ صرف آیت مذکورہ صدر میں صاف طور پر درج ہیں ، بلکہ حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پوری شرح و بسط کے ساتھ بیان فرما دیا ہے ۔ 

مثلاً حسب ذیل احادیث ملاحظہ ہوں: السمع و الطاعۃ المرء المسلم فی ما احب و کرہ مالم یؤمر بمعصیۃ فاذا امر بمعصیۃ فلا سمع ولا طاعۃ ۔ ( بخاری و مسلم )
 مسلمان کو لازم ہے کہ اپنے اولی الامر کی بات سنے اور مانے خواہ اسے پسند ہو یا ناپسند ، تاوقتیکہ اسے معصیت کا حکم نہ دیا جائے ۔ اور جب اسے معصیت کا حکم دیا جائے تو پھر اسے نہ کچھ سننا چاہیے نہ ماننا چاہیے ۔ لا طاعۃ فی معصیۃ انما الطاعۃ فی المعروف ۔ ( بخاری و مسلم ) 

خدا اور رسول کی نافرمانی میں کوئی اطاعت نہیں ہے ۔ 
اطاعت جو کچھ بھی ہے ”معروف“ میں ہے ۔ یکون علیکم امراء تعرفون و تنکرون فمن انکر فقد بری و من کرہ فقد سم ولکن من رضی و تابع فقالوا افلا نقاتلھم؟ قال لا ما صلّوا ۔ ( مسلم ) 
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم پر ایسے لوگ بھی حکومت کریں گے جن کی بعض باتوں کو تم معروف پاؤ گے اور بعض کو منکر ۔
  •  تو جس نے ان کے منکرات پر اظہار ناراضی کیا وہ بری الذمہ ہوا ۔ اور
  • جس نے ان کو ناپسند کیا وہ بھی بچ گیا ۔ 
  • مگر جو ان پر راضی ہوا اور پیروی کرنے لگا وہ ماخوذ ہوگا ۔ 
صحابہ نے پوچھا ، پھر جب ایسے حکام کا دور آئے تو کیا ہم ان سے جنگ نہ کریں ،

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں جب تک کہ وہ نماز پڑھتے رہیں ۔ یعنی ترک نماز وہ علامت ہو گی جس سے صریح طور پر معلوم ہو جائے گا کہ وہ اطاعت خدا و رسول سے باہر ہو گئے ہیں ، اور پھر ان کے خلاف جدوجہد کرنا درست ہو گا ۔ شِرَار ائمّتکُم الّدیْن تبغضونہم و یبغضونکم و تلعنونہم و یلعنونکم قلنا یا رسول اللہ افلا نناذبھم عند ذالک؟ قال لا ما اقاموا فیکم الصلوۃ ، لا مَا اقاموا فیکم الصلوۃ ۔ ( مسلم )
 حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے بدترین سردار وہ ہیں جو تمہارے لیے مبغوض ہوں اور تم ان کے لیے مبغوض ہو ۔ تم ان پر لعنت کرو اور وہ تم پر لعنت کریں ۔ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جب یہ صورت ہو تو کیا ہم ان کے مقابلہ پر نہ اٹھیں؟ فرمایا نہیں ، جب تک وہ تمہارے درمیان نماز قائم کرتے رہیں ۔ نہیں ، جب تک وہ تمہارے درمیان نماز قائم کرتے رہیں ۔
 اس حدیث میں اوپر والی شرط کو اور زیادہ واضح کر دیا گیا ہے ۔ اوپر کی حدیث سے گمان ہوسکتا تھا کہ اگر وہ اپنی انفرادی زندگی میں نماز کے پابند ہوں تو ان کے خلاف بغاوت نہیں کی جاسکتی ۔ لیکن یہ حدیث بتاتی ہے کہ نماز پڑھنے سے مراد دراصل مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں نماز کا نظام قائم کرنا ہے ۔ یعنی صرف یہی کافی نہیں ہے کہ وہ لوگ خود پابند نماز ہوں ، بلکہ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ ان کے تحت جو نظام حکومت چل رہا ہو وہ کم از کم اقامت صلوٰۃ کا انتظام کرے ۔ یہ اس بات کی علامت ہوگی کہ ان کی حکومت اپنی اصولی نوعیت کے اعتبار سے ایک اسلامی حکومت ہے ۔ 

ورنہ اگر یہ بھی نہ ہو تو پھر اس کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ حکومت اسلام سے منحرف ہوچکی ہے اور اسے الٹ پھینکنے کی سعی مسلمانوں کے لیے جائز ہو جائے گی ۔ اسی بات کو ایک اور روایت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ ” نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے من جملہ اور باتوں کے ایک اس امر کا عہد بھی لیا کہ ان لا ننازع الامر اھلہ الا ان تروا کفرا بَوَاحًا عندکم من اللہ فیہ برھان ، یعنی یہ کہ” ہم اپنے سرداروں اور حکام سے نزاع نہ کریں گے ، اِلّا یہ کہ ہم ان کے کاموں میں کھلم کھلا کفر دیکھیں جس کی موجودگی میں ان کے خلاف ہمارے پاس خدا کے حضور پیش کرنے کے لیے دلیل موجود ہو ۔ “ ( بخاری و مسلم ) ( ٤ ) 

(٤) چوتھی بات جو آیت زیر بحث میں ایک مستقل اور قطعی اصول کے طور پر طے کر دی گئی ہے یہ ہے کہ اسلامی نظام میں خدا کا حکم اور رسول کا طریقہ بنیادی قانون اور آخری سند ( Final authority ) کی حیثیت رکھتا ہے ۔

مسلمانوں کے درمیان ، یا حکومت اور رعایا کے درمیان جس مسئلہ میں بھی نزاع واقع ہوگی اس میں فیصلہ کے لیے قرآن اور سنت کی طرف رجوع کیا جائے گا اور جو فیصلہ وہاں سے حاصل ہوگا اس کے سامنے سب سر تسلیم خم کر دیں گے ۔ 

اس طرح تمام مسائل زندگی میں کتاب اللہ و سنت رسول اللہ کو سند اور مرجع اور حرف آخر تسلیم کرنا اسلامی نظام کی وہ لازمی خصوصیت ہے جو اسے کافرانہ نظام زندگی سے ممیز کرتی ہے ۔ جس نظام میں یہ چیز نہ پائی جائے وہ بالیقین ایک غیر اسلامی نظام ہے ۔
 اس موقع پر بعض لوگ یہ شبہہ پیش کرتے ہیں کہ تمام مسائل زندگی کے فیصلہ کے لیے کتاب اللہ و سنت رسول اللہ کی طرف کیسے رجوع کیا جا سکتا ہے جبکہ میونسپلٹی اور ریلوے اور ڈاک خانہ کے قواعد و ضوابط اور ایسے ہی بے شمار معاملات کے احکام سرے سے وہاں موجود ہی نہیں ہیں ۔ لیکن درحقیقت یہ شبہہ اصول دین کو نہ سمجھنے سے پیدا ہوتا ہے ۔ 
مسلمان کو جو چیز کافر سے ممیز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ کافر مطلق آزادی کا مدعی ہے ، اور مسلمان فی الاصل بندہ ہونے کے بعد صرف اس دائرے میں آزادی کا متمتع ہوتا ہے جو اس کے رب نے اسے دی ہے ۔ کافر اپنے سارے معاملات کا فیصلہ خود اپنے بنائے ہوئے اصول اور قوانین اور ضوابط کے مطابق کرتا ہے اور سرے سے کسی خدائی سند کا اپنے آپ کو حاجت مند سمجھتا ہی نہیں ۔
 اس کے برعکس مسلمان اپنے ہر معاملہ میں سب سے پہلے خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرتا ہے ، پھر اگر وہاں سے کوئی حکم ملے تو وہ اس کی پیروی کرتا ہے ، اور اگر کوئی حکم نہ ملے تو وہ صرف اسی صورت میں آزادی عمل برتتا ہے ، اور اس کی یہ آزادی عمل اس حجت پر مبنی ہوتی ہے کہ اس معاملہ میں شارع کا کوئی حکم نہ دینا اس کی طرف سے آزادی عمل عطا کیے جانے کی دلیل ہے ۔

”قرآن مجید چونکہ محض کتاب آئین ہی نہیں ہے بلکہ کتاب تعلیم و تلقین اور صحیفہ وعظ و ارشاد بھی ہے ، اس لیے پہلے فقرے میں جو قانونی اصول بیان کیے گئے تھے ، اب اس دوسرے فقرے میں ان کی حکمت و مصلحت سمجھائی جا رہی ہے ۔ اس میں دو باتیں ارشاد ہوئی ہیں :
  1. ایک یہ کہ مذکورہ بالا چاروں اصولوں کی پیروی کرنا ایمان کا لازمی تقاضا ہے ۔ مسلمان ہونے کا دعویٰ اور ان اصولوں سے انحراف ، یہ دونوں چیزیں ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں ۔
  2.  دوسرے یہ کہ ان اصولوں پر اپنے نظام زندگی کو تمیر کرنے ہی میں مسلمانوں کی بہتری بھی ہے ۔ صرف یہی ایک چیز ان کو دنیا میں صراط مستقیم پر قائم رکھ سکتی ہے اور اسی سے ان کی عاقبت بھی درست ہو سکتی ہے ۔
  3. یہ نصیحت ٹھیک اس تقریر کے خاتمہ پر ارشاد ہوئی ہے جس میں یہودیوں کی اخلاقی و دینی حالت پر تبصرہ کیا جا رہا تھا ۔ اس طرح ایک نہایت لطیف طریقہ سے مسلمانوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ تمہاری پیش رو امت دین کے ان بنیادی اصولوں سے منحرف ہو کر جس پستی میں گر چکی ہے اس سے عبرت حاصل کرو ۔ جب کوئی گروہ خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی ہدایت کو پس پشت ڈال دیتا ہے ، اور ایسے سرداروں اور رہنماؤں کے پیچھے لگ جاتا ہے جو خدا رسول کے مطیع فرمان نہ ہوں ، اور اپنے مذہبی پیشواؤں اور سیاسی حاکموں سے کتاب و سنت کی سند پوچھے بغیر ان کی اطاعت کرنے لگتا ہے تو وہ ان خرابیوں میں مبتلا ہونے سے کسی طرح بچ نہیں سکتا جن میں بنی اسرائیل مبتلا ہوئے ۔ [تفہیم القرآن ]



Popular Books