Featured Post

قرآن مضامین انڈیکس

"مضامین قرآن" انڈکس   Front Page أصول المعرفة الإسلامية Fundaments of Islamic Knowledge انڈکس#1 :  اسلام ،ایمانیات ، بنی...

Showing posts with label Dawahدعوه. Show all posts
Showing posts with label Dawahدعوه. Show all posts

اے انسان! قرآن ‏میں ‏تمہارا ‏زکر ‏



’’ہم نے تمہاری طرف ایک ایسی کتاب نازل کی ہے، جس میں تمہارا تذکرہ ہے کیا تم سمجھتے نہیں‘‘۔
قرآن کریم میں ارشاد الٰہی ہے کہ: 
لَقَدۡ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكُمۡ كِتٰبًا فِيۡهِ ذِكۡرُكُمۡ‌ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ۞(سورۃ نمبر 21 الأنبياء, آیت نمبر 10)
ترجمہ : ’’ہم نے تمہاری طرف ایک ایسی کتاب نازل کی ہے، جس میں تمہارا تذکرہ ہے کیا تم سمجھتے نہیں‘‘۔
تمہارا تذکرہ؟
اس سے ایک عجیب سا احساس دل میں منڈلانے لگا، بالآخر سوچا کہ میں دیکھوں تو قرآن مجید میں میرا تذکرہ کس انداز میں ہے؟
 میں کون ہوں؟
اور کن لوگوں میں سے ہوں؟
قرآن پاک میں غور کریں …
ایک قوم کا تذکرہ ان الفاظ میں ہے :
ترجمہ: ’’وہ لوگ رات کو کم سوتے ہیں اور سحری کے اوقات میں استغفار کرتے ہیں اور ان کے مالوں میں سائل اور غیر سائل سب محتاجوں کا حق ہے‘‘۔ (سورۃ الذاریات: 17 تا 19)
کچھ اور لوگوں کا تذکرہ ان الفاظ میں موجود ہے…
ترجمہ: ’’ان کے پہلو خواب گاہوں سے جدا رہتے ہیں، وہ اپنے رب کو خوف اور امید سے پکارتے ہیں اور جو ہم نے ان کو رزق دیا ہے، اس میں سے خرچ کرتے ہیں‘‘۔ (سورۃ السجدہ: 16)
پھر کچھ پڑھو  تو… ان لوگوں کا تذکرہ سامنے آتا ہےجو…
ترجمہ: ’’لوگ اپنے پروردگار کے سامنے سربسجود اور کھڑے ہوکر اپنی راتیں گزار دیتے ہیں‘‘۔ (سورۃ الفرقان: 64)
کچھ اور اوراق پلٹو تو یوں نظر آتا ہے…
ترجمہ: ’’وہ خوشحالی اور تنگی دونوں حالتوں میں خرچ کرتے ہیں اور غصہ پی جانے والے اور لوگوں کو معاف کردینے والے ہیں اور خدا تعالیٰ نیکو کاروں کو محبوب رکھتے ہیں‘‘۔ (سورۃ آل عمران: 134)
ایسے ہی چند لوگوں کا اور  تذکرہ ہے… >>>>>>

اسلام کا غلبہ


اسلام دین کامل ہے جس پر عمل کرکہ مسلمانوں نے ماضی میں نظریاتی ، سیاسی و فوجی غلبہ حاصل کیا۔ غلبہ دراصل نظریاتی، فکری، روحانی ہے، سیاسی ، عسکری غلبہ ایک نتیجہ ہے جو مستقل نہیں ہوتا  کیونکہ یہ مسلمانوں کے اعمال پر منحصر ہے- قرآن کا اقوام کا قانون عروج و زوال  ہے: 
اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوۡمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِہِمۡ ؕ (قرآن 13:11)
الله لوگوں کی حالت کو تبدیل نہیں کرتا  جب تک وہ خود اپنے (نفس) کی حالت کو نہ بدلے“(قرآن 13:11)
 وہ کسی نعمت کو جو اس نے کسی قوم کو عطا کی ہو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ قوم خود اپنے طرزِ عمل کو نہیں بدل دیتی اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے (8:53)
عروج و زوال ملسمانوں پر بحیثیت قوم بدعملی کی وجہ سے ہوتا ہے اسلام ایک دین ہے نظریہ ہے جس کو زوال نہیں صرف غلبہ ہے جو ہمیشہ سے قائم ہے- 
نظریاتی اور فکری غلبہ مضبوط اور دیر پا ہوتا ہے، اللہ کا فرمان ہے: ،
ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَ دِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ ؕ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیۡدًا (48:28)
It is He who sent His Messenger with guidance and the religion of truth to manifest it over all religion. And sufficient is Allah as Witness.(48:28)
وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے ہر دین پر غالب کرے ، اور اللہ تعالٰی کافی ہے گواہی دینے والا ۔(48:28)  >>>>>

صرف خود نیکی کرنا کافی نہیں بلکہ معاشرہ کو برائیوں سے بچانا اور نیکی کہ ترغیب بھی ضروری


کسی جرم کا براہ راست ارتکاب کرنا ہی صرف جرم نہیں ہے ‘ بلکہ کسی فرض کی عدم ادائیگی کا فعل بھی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ مثلاً ایک مسلمان ذاتی طور پر گناہوں سے بچ کر بھی رہتا ہے اور نیکی کے کاموں میں بھی حتی الوسع حصہ لیتا ہے۔ وہ صدقہ و خیرات بھی دیتا ہے اور نماز ‘ روزہ کا اہتمام بھی کرتا ہے۔ یہ سب کچھ تو وہ کرتا ہے مگر دوسری طرف، معاشرہ میں برائیوں کو روکنے اور نیکی کی ترغیب کی کوشش نہیں کرتا، کہ کیا میں نے سب کا ٹھیکہ لے رکھا ہے؟ یہ سنگین جرم ہے۔
 اللہ اور اس کے دین کی نصرت ‘ اقامت دین کی جدوجہد اور اس جدوجہد میں اپنے مال اور اپنے وقت کی قربانی جیسے فرائض سے پہلو تہی کا رویہ اپنائے ہوئے ہے تو ایسا شخص بھی گویا مجرم ہے اور عذاب کی صورت میں وہ اس کی لپیٹ سے بچ نہیں پائے گا۔ اس لحاظ سے یہ دل دہلا دینے والی آیت ہے۔ امربالمعروف و نہی عن المنکر لازم ہے۔

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم 0 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَاتَّقُوۡا فِتۡنَةً لَّا تُصِيۡبَنَّ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡكُمۡ خَآصَّةً‌ ۚ وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ‏ ۞ 
(القرآن - سورۃ نمبر 8 الأنفال , آیت نمبر 25)
ترجمہ:
اور ڈرو اس فتنے سے جو تم میں سے صرف گنہگاروں ہی کو اپنی لپیٹ میں نہیں لے گا اور جان لو کہ اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے
 تفسیر:
وَاتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِيْبَنَّ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَاۗصَّةً ۚوَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ
یہ خطاب پورے معاشرے سے عموما ان لوگوں سے خصوصاً ہے جن پر انفرادی اصلاح کا رجحان غالب ہوتا ہے اور اس رجحان کے سبب سے انہیں اس امر سے کچھ زیادہ تعلق خاطر نہیں رہتا کہ دوسرے لوگ کیا کرتے ہیں

ایسے لوگوں کو جھجنھوڑنے کے لیے فرمایا کہ اپنے معاشرے کے اندر ابھرنے والی خرابیوں سے بےتعلق نہ رہو بلکہ اپنے امکان اور اپنی صلاحیت کے حد تک اس کی اصلاح کی کوشش کرو اس لیے کہ معاشرے میں اگر کوئی خرابی جڑ پکڑ لے تو وہ بالتدریج ایک وبائے عا کی صورت اختیار کرلیتی ہے اور جب وبائے عام کی صورت اختیار کرلیتی ہے تو اس کے برے اثرات و نتائج انہی لوگوں کی حد تک محدود نہیں رہتے جو بالفعل ان برائیوں میں ملوث ہوتے ہیں بلکہ ان خرابیوں پر راضی یا خاموش رہنے والے بھی ان کی زد میں آجاتے ہیں اگرچہ وہ عملاً ان میں مبتلا نہ ہوں۔ 
اس حقیقت کو نبی ﷺ نے ایک کشتی کے مسافروں کی تمثیل سے سمجھایا ہے کہ اگر کچھ لوگ ایک کشتی میں سفر کریں، کچھ اس کے اوپر کے حصے میں، کچھ نیچے والے حصے میں، نیچے والے یہ محسو کر کے کہ انہیں پانی کے لیے اوپر جانے کی زحمت اٹھانی پڑتی ہے، یہ فیصلہ کریں کہ ہم کیوں نہ کشتی کے نیچے کے حصے میں سوراخ کرلیں اور اوپر والے یہ خیال کر کے کہ وہ اپنے حصے میں سوراخ کر رہے ہیں، ہمیں اس سے کیا سروکار، اس پر خاموش رہیں تو نیچے والوں کے اس فعل کے نتیجہ میں جشتی ڈوبے گی تو اوپر والوں اور نیچے والوں دونوں کو لے کر ڈوبے گی۔ 

*اس بنیاد پر اسلام نے ہر شخص پر دوسروں کو برائی سے روکتے رہنے کی ذمہ داری ڈالی ہے۔*
 پیغمبر ﷺ کا ارشاد ہے کہ تم میں سے جو شخص بھی کوئی برائی دیکھے، اگر ہاتھ سے اس کو روک سکتا ہو تو ہاتھ سے روکے، اگر ہاتھ سے نہ روک سکتا ہو تو زبان سے روکنے کی کوشش کرے، اگر اس کی بھی استعطاعت نہ رکھتا ہو تو دل سے اس کو برا سمجھے۔ اس سے نیچے ایمان کا کوئی وجہ نہیں ہے۔

یہ آیت جس سیاق میں آئی ہے اگر اس سیاق پر نظر دالیے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک گروہ تو ان لوگوں کا ہے جو حق کو ماننے کا زبان سے تو مدعی ہے لیکن اس کے مطالبات پورے کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتا۔ اس کو قرآن نے اس بات سے ڈرایا ہے کہ ایسے لوگ اگر اپنے رویے کی اصلاح نہیں کرتے تو خدا کا قانون ان کے اور ان کے دلوں کے درمیان حائل ہوجاتا ہے۔ دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جو حق کو مانتے ہیں لیکن اس حق سے انہیں اتنا لگاؤ نہیں ہوگا کہ وہ اس کی خاطر دوسروں کی ناراضگی مول لینے کے لیے تیار ہوں، ان لوگوں کو اس بات سے ڈرایا کہ *اگر معاشرے میں کوئی برائی پھیل گئی تو اس کے نتائج بد سے یہ لوگ بھی حفوظ نہ رہ سکیں گے* ۔ محفوط صرف وہ لوگ رہیں گے جو اپنی صلاحیت کی حد تک اپنا حق نصیحت ادا کرتے رہیں گے۔
*قطع نظر اس سے کہ کوئی ان کی بات سنتا ہے یا نہیں اور خوش ہوتا ہے یا نا خوش*
 وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ۔ 
یہ پاداش عمل کے قانون کے بےلچک اور بےرو رعایت ہونے کی تعبیر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ 
*خدا کے قوانین جس طرح جسمانیات و مادیات میں بےلچک ہیں اسی طرح اخلاقیات میں بھی بےلچک ہیں۔*

 فاسد آب و ہوا میں سانس لینے والا جس طرح آب و ہوا کے فساد سے لازماً متاثر ہوتا ہے اگر وہ ضروری احتیاطیں نہ کرے۔ اسی طرح برے ماحول میں زندگی گزارنے والا اس کے برے عواقب کی زد میں آجاتا ہے۔ اگر وہ شرطیں وہ ملحوط نہ رکھے جو اوپر مذکور ہوئیں۔ اس معاملے میں قانون الٰہی کسی کی رعایت اور کسی کی جانبدار نہیں کرتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
🌹🌹🌹
🔰 *Quran Subjects*  🔰 *قرآن مضامین* 🔰
*"اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا" [ الفرقان 25  آیت: 30]*
*کیا یہ لوگ قرآن پر تدبر ّنہیں کرتے یا ان کے دلوں پر قفل پڑچکے ہیں[47:24]*
*قرآن کے پیغام کوپھیلانا "جہاد کبیرہ" ہے(25:52)*
🤷🏻‍♂️
*FB* - https://www.facebook.com/QuranSubject
*English*- https://QuranSubjects.wordpress.com  
*Urdu*- https://Quransubjects.blogspot.com 
https://flip.it/6zSSlW
The Last, lost Book: https://Quran1book.blogspot.com
#Quran #Islam #Muslims #Pakistan #Society

اصلاح معاشرہ اور مسلمانوں کی ذمہ داری- دَعْوَة


جب معاشرے میں نافرمانی کا دور دورہ ہوجائے تو ایک مسلمان کی ذمہ داری صرف یہ نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو بچالے، بلکہ دوسروں کو راہ راست کی دعوت دینا بھی اس کی ذمہ داری ہے جس کے بغیر وہ مکمل طور پر بری الذمہ نہیں ہوسکتا، دوسرا نکتہ یہ ہے کہ حق کے ایک داعی کو کبھی مایوں ہو کر نہیں بیٹھنا چاہیے ؛ بلکہ اس امید کے ساتھ اپنا پیغام پہنچاتے رہنا چاہیے کہ شاید کوئی اللہ کا بندہ بات سمجھ جائے۔ الله کا فرمان ہے :

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم 0بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَاِذۡ قَالَتۡ اُمَّةٌ مِّنۡهُمۡ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡمَاْ ‌ ۙ اۨللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًا‌ ؕ قَالُوۡا مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ۞
فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡۤءِ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا بِعَذَابٍۭ بَـئِيۡسٍۭ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ۞ 
ترجمہ:
اور (وہ وقت انہیں یاد دلاؤ) جب انہی کے ایک گروہ نے (دوسرے گروہ سے) کہا تھا کہ : تم ان لوگوں کو کیوں نصیحت کر رہے ہو جنہیں اللہ یا تو ہلاک کرنے والا ہے، یا کوئی سخت قسم کا عذاب دینے والا ہے ؟ دوسرے گروہ کے لوگوں نے کہا کہ : یہ ہم اس لیے کرتے ہیں تاکہ تمہارے رب کے حضور بری الذمہ ہوسکیں اور شاید اس (نصیحت سے) یہ لوگ پرہیزگاری اختیار کرلیں۔ پھر جب یہ لوگ وہ بات بھلا بیٹھے جس کی انہیں نصیحت کی گئی تھی تو *برائی سے روکنے والوں کو تو ہم نے بچا لیا، اور جنہوں نے زیادتیاں کی تھیں، ان کی مسلسل نافرمانی کی بنا پر ہم نے انہیں ایک سخت عذاب میں پکڑ لیا*۔ (165 ،7:164)
 دراصل ان لوگوں کے تین گروہ ہوگئے تھے, آج بھی ہمیں معاشرہ میں یہی تین قسم کے لوگ نظر آئیں گے:
1.ایک گروہ مسلسل نافرمانی پر کمر باندھے ہوئے تھا.
2.دوسرا گروہ شروع میں انہیں سمجھاتا رہا اور جب نہ مانے تو مایوس ہو کر بیٹھ گیا
3. تیسرا گروہ مایوس ہونے کے بجائے بدستور انہیں نصیحت کرتا رہا،
اب دوسرے گروہ نے تیسرے گروہ سے کہا جب یہ لوگ مسلسل نافرمانی پر کمر باندھے ہوئے ہیں تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آنے والا ہے اس لئے ان کو سمجھانا وقت ضائع کرنا ہے۔
 يیہ تیسرے گروہ کا جواب ہے اور بڑا عارفانہ جواب ہے، انہوں نے اپنی کوششیں جاری رکھنے کی دو وجہیں بیان کیں:
1.ایک یہ کہ ہمارے نصیحت کرتے رہنے کا پہلا مقصد تو یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے سامنے ہماری پیشی ہو تو ہم یہ کہہ سکیں کہ یا اللہ ہم اپنا فریضہ ادا کرتے رہے تھے اس لئے ہم ان کے جرائم سے بری الذمہ ہیں اور
2.  دوسرا مقصد یہ ہے کہ ہم اب بھی یہ امید رکھتے ہیں کہ شاید کوئی اللہ کا بندہ ہماری بات سن لے اور گناہ سے باز آجائے.
اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ جواب خاص طور پر نقل فرما کر ہر مسلمان کو متنبہ فرمایا ہے کہ:
1۔ جب معاشرے میں نافرمانی کا دور دورہ ہوجائے تو ایک مسلمان کی ذمہ داری صرف یہ نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو بچالے، بلکہ دوسروں کو راہ راست کی دعوت دینا بھی اس کی ذمہ داری ہے جس کے بغیر وہ مکمل طور پر بری الذمہ نہیں ہوسکتا
2. دوسرا نکتہ یہ ہے کہ حق کے ایک داعی کو کبھی مایوں ہو کر نہیں بیٹھنا چاہیے ؛ بلکہ اس امید کے ساتھ اپنا پیغام پہنچاتے رہنا چاہیے کہ شاید کوئی اللہ کا بندہ بات سمجھ جائے۔
اصلاح معاشرہ اور مسلمانوں کی ذمہ داری- دَعْوَة: https://flip.it/IBrp10
آئیے اس کام میں اپنا حصہ ڈالیں ۔۔۔ قرآن کے پیغام کو عام کریں ۔۔۔
🌹🌹🌹

🔰 *Quran Subjects*  🔰 *قرآن مضامین* 🔰

"اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا" [ الفرقان 25  آیت: 30]
کیا یہ لوگ قرآن پر تدبر ّنہیں کرتے یا ان کے دلوں پر قفل پڑچکے ہیں[47:24]
قرآن کے پیغام کوپھیلانا "جہاد کبیرہ" ہے(25:52)
🤷🏻‍♂️
*English*- https://QuranSubjects.wordpress.com  
*Urdu*- https://Quransubjects.blogspot.com / https://flip.it/6zSSlW
The Last, lost Book: https://Quran1book.blogspot.com
#Quran #Society

نافرمان قوم پر ٹڈی کا عذاب ‏


 مختلف قسم کے عذاب یکے بعد دیگرے فرعون کی قوم پر مسلط ہوتے رہے، پہلے طوفان آیا جس میں ان کی کھیتیاں بہہ گئیں اس کے بعد جب انہوں نے ایمان لانے کا وعدہ کرکے حضرت موسیٰ ؑ سے دعا کروائی اور کھیت بحال ہوئے اور پھر بھی وہ ایمان نہ لائے تو ٹڈی دل نے کھیتوں کو برباد کرڈالا، پھر وہی وعدے کئے، اور یہ بلا دور ہوئی اور خوش حالی آنے لگی تو یہ پھر مطمئن ہو کر بیٹھ گئے اور ایمان نہ لائے تو ان کی پیداوار کو گھن لگادیا گیا، پھر وہی ساری داستان دہرائی گئی اور یہ پھر بھی نہ مانے تو مینڈکوں کی اتنی کثرت ہوگئی کہ وہ کھانے کے برتنوں میں نمودار ہوتے اور سارے کھانے کو خراب کردیتے، دوسری طرف پینے کے پانی میں ہر جگہ خون نکلنے لگا اور پانی پینا دوبھر ہوگیا۔

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم 0 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ وَالۡجَـرَادَ وَالۡقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ فَاسۡتَكۡبَرُوۡا وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ۞ 
(قرآن - سورۃ نمبر 7 الأعراف , آیت نمبر 133)
ترجمہ:
چنانچہ ہم نے ان پر طوفان، ٹڈیوں، گھن کے کیڑوں، مینڈکوں اور خون کی بلائیں چھوڑیں، جو سب علیحدہ علیحدہ نشانیاں تھیں۔  پھر بھی انہوں نے تکبر کا مظاہرہ کیا، اور وہ بڑے مجرم لوگ تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Don't Discard Quran  قرآن کو نظر انداز مت کریں

*قرآن ہدایت کی واحد، آخری ، مکمل ، محفوظ کتاب اللہ ہے ، بلاشک و شبہ* جبکہ باقی تمام کتابیں انسانی تحریریں، جو مکمل ہونے، غلطی، شک و شبہ سے مبرا ہونے کا دعوی نہیں کر سکتیں. مگر پھر بھی مسلمان قرآن کو نظر انداز کرتے ہیں: 
*"اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا" ( الفرقان 25  آیت: 30)*

*Quran is the Only Last, Complete, Protected Divine Book of Guidance, without any doubt*, all other books are human efforts, cannot claim to be complete, free from error and doubt, yet Muslims have discarded Quran: 
*"The Messenger will say, Lord, my people did indeed discard the Quran" (Quran 25:30)*
Explore ....
https://Quran1book.blogspot.com
https://Quransubjects.blogspot.com
#Quran

میثاق الست، میثاق توحید، فطرت انسانی میں شامل


اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو پیدا کرنے کے بعد ان کی پشت سے جتنے انسان پیدا ہونے والے تھے ان سب کو ایک جگہ اس طرح جمع فرمایا کہ وہ سب چیونٹیوں کے برابر جسم رکھتے تھے، پھر ان سے یہ عہد لیا کہ : کیا وہ اللہ تعالیٰ کو اپنا رب مانتے ہیں ؟

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم 0 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَ اِذۡ اَخَذَ رَبُّكَ مِنۡۢ بَنِىۡۤ اٰدَمَ مِنۡ ظُهُوۡرِهِمۡ ذُرِّيَّتَهُمۡ وَ اَشۡهَدَهُمۡ عَلٰٓى اَنۡفُسِهِمۡ‌ ۚ اَلَسۡتُ بِرَبِّكُمۡ‌ ؕ قَالُوۡا بَلٰى‌ ۛۚ شَهِدۡنَا ‌ۛۚ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنۡ هٰذَا غٰفِلِيۡنَ ۞ (قرآن - سورۃ نمبر 7 الأعراف, آیت نمبر 172)
ترجمہ:
اور (اے رسول ! لوگوں کو وہ وقت یاد دلاؤ) جب تمہارے پروردگار نے آدم کے بیٹوں کی پشت سے ان کی ساری اولاد کو نکالا تھا، اور ان کو خود اپنے اوپر گواہ بنایا تھا، (اور پوچھا تھا کہ) کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے جواب دیا تھا کہ : کیوں نہیں ؟ ہم سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں۔  (اور یہ اقرار ہم نے اس لیے لیا تھا) تاکہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکو کہ : ہم تو اس بات سے بیخبر تھے۔

اس آیت کریمہ میں جس عہد لینے کا ذکر ہے، حدیث میں اس کی تشریح یہ آئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو پیدا کرنے کے بعد ان کی پشت سے جتنے انسان پیدا ہونے والے تھے ان سب کو ایک جگہ اس طرح جمع فرمایا کہ وہ سب چیونٹیوں کے برابر جسم رکھتے تھے، پھر ان سے یہ عہد لیا کہ :
کیا وہ اللہ تعالیٰ کو اپنا رب مانتے ہیں ؟
 سب نے اقرار کیا کہ بیشک وہ اللہ تعالیٰ کو اپنا رب تسلیم کرتے ہیں (روح المعانی بحوالہ نسائی وحاکم و بیہقی وغیرہ) 
 لازمی مطلب یہ ہے کہ انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے تمام احکام کو مان کر ان پر عمل کریں گے، اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو دنیا میں بھیجنے سے پہلے ہی ان سے اپنی اطاعت کا اقرار لے لیا تھا، دنیا میں ایسے حضرات بھی ہوئے ہیں جن کو یہ واقعہ دنیا میں آنے کے بعد بھی یاد رہا ہے مثلاً حضرت ذوالنون مصری ؒ سے ان کا یہ ارشاد منقول ہے کہ : یہ عہد مجھے ایسا یاد ہے گویا اس وقت سن رہا ہوں۔ (معارف القرآن ج : 4، ص 115)

 لیکن یہ درست ہے کہ چند مستثنیات کو چھوڑ کر باقی انسان اس واقعے کو ایک عہد کی شکل میں تو بھول چکے ہیں

 مگر کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں کہ وہ یاد نہ رہنے کے باوجود اپنا طبعی اثر چھوڑ جاتے ہیں، یہ اثر آج بھی دنیا کے اکثر وبیشتر انسانوں میں موجود ہے کہ وہ اس کائنات کے ایک پیدا کرنے والے پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کی عظمت وکبریائی کے گن گاتے ہیں، جو لوگ مادی خواہشات کے گرداب میں پھنس کر اپنی فطرت خراب کرچکے ہوں ان کی بات تو اور ہے ؛ 

لیکن اللہ تعالیٰ کی عظمت و محبت ہر انسان کی فطرت میں سمائی ہوئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ کبھی فطرت سے دور کرنے والے بیرونی عوامل دور ہوتے ہیں تو انسان حق کی طرف اس طرح دوڑتا ہے جیسے اس کو اپنی کھوئی ہوئی پونجی اچانک مل گئی ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 جیسا کہ متعدد احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ  یہ معاملہ تخلیق آدم  کےموقع پر پیش آیا تھا ۔ اس وقت جس طرح فرشتوں کو جمع کر کے انسان اول کو سجدہ کریا گیا تھا اور زمین پر انسان کی خلافت کا اعلان کیا گیا تھا، اُسی طرح پوری نسلِ آدم کو بھی، جو قیامت تک پیدا ہونے والی تھی، اللہ تعالیٰ نے بیک وقت وجود اور شعور بخش کر اپنے سامنے حاضر کیا تھا اور ان سے اپنی ربوبیت کی شہادت لی تھی۔ اس آیت کی تفسیر میں  حضرت اُبَیّ بن کَعب نے غالباً نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے استفادہ کر کے جو کچھ بیان کیا ہے وہ اس مضمون کی بہترین شرح ہے ۔ وہ فرماتے ہیں:۔
”اللہ تعالیٰ نے سب کو جمع کیا اور (ایک ایک قسم یا ایک ایک دور کے)لوگوں کو الگ الگ گروہوں کی شکل میں مرتب کر کے انہیں انسانی صورت اور گویائی کی طاقت عطا کی،  پھر ان سے عہد و میثاق لیا اور انہیں آپ اپنے اوپر گواہ بناتے ہوئے پو چھا  کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ انہوں نے عرض کیا ضرور آپ ہمارے رب ہیں۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا  کہ میں تم پر زمین  و آسمان سب کو اور خود تمہارے باپ آدم کو گواہ ٹھیراتا ہوں تا کہ تم قیامت کے روز یہ نہ کہہ سکو کہ ہم کو اس کا علم نہ تھا۔ خوب جان لو کہ میرے سوا کوئی مستحقِ عبادت نہیں ہے اور میرے سوا کوئی رب نہیں ہے۔ تم میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرانا۔ میں تمہارے پاس اپنے پیغمبر بھیجوں گا جو تم کو یہ عہد و میثاق جو تم میرے ساتھ باندھ رہے ہو، یاد دلائیں گے اور تم پر اپنی کتابیں بھی نازل کروں گا ۔ اس پر سب انسانوں  نے کہا کہ ہم گواہ ہوئے، آپ ہی ہمارے رب اور آپ ہی ہمارے معبود  ہیں، آپ کے سوا نہ کوئی ہمارا رب ہے نہ کوئی معبود“۔
اس معاملہ کو بعض لو گ  محض تمثیلی انداز ِ بیان پر محمُول کرتے ہیں۔ ان کا خیال یہ ہے کہ دراصل یہاں قرآن مجید صرف یہ بات ذہن نشین کرنا چاہتا ہے کہ اللہ کی ربوبیت کا اقرار انسانی فطرت میں پیوست ہے، اور اس بات کو یہاں ایسے انداز سے بیان کیا گیا ہے کہ گویا یہ ایک واقعہ تھا جو عالمِ خارجی میں پیش آیا ۔ لیکن ہم اس تاویل کو صحیح نہیں  سمجھتے ۔ قرآن اور حدیث دونوں میں اسے بالکل ایک واقعہ کے طور  پر بیان گیا گیا ہے اور صرف بیانِ واقعہ پر ہی اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ یہ بھی ارشاد ہوا ہے کہ قیامت کے روز بنی آدم پر حجت قائم  کرتے ہوئے اس ازلی عہد و اقرار کو سند میں میں پیش کیا جائے گا۔ لہٰذا کوئی وجہ نہیں کہ ہم اُسے محض ایک تمثیلی بیان قرار دیں۔ہمارے نزدیک یہ واقعہ بالکلہ اسی طرح پیش آیا تھا جس طرح عالمِ خارجی میں واقعات پیش آیا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فی الواقع اُن تمام انسانوں کو جنہیں وہ قیامت تک پیدا کرنے کا ارادہ رکھتا تھا، بیک وقت زندگی اور شعور اور گویائی عطا کر کے اپنے سامنے حاضر کیا تھا، اور فی الواقع انہیں اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ کر دیا تھا کہ ان کا کوئی رب اور کوئی الٰہ اُس کی ذاتِ اقدس و اعلیٰ کے سوا نہیں ہے، اور ان کے لیے کوئی صحیح طریق زندگی  اُس کی بندگی و فرماں برداری (اسلام) کے سوا نہیں ہے۔ اس اجتماع کو اگر کوئی شخص بعدی از امکان سمجھتا ہے تو یہ محض اس کے دائرہ فکر کی تنگی کا نتیجہ ہے، ورنہ حقیقت میں تو نسلِ انسانی کی موجودہ تدریجی پیدائش جتنی قریب ازامکان ہے ، اتنا ہی ازل میں ان کا مجموعی ظہور، ابد میں ان کا مجموعی حشر و نشر بھی  قریب از امکان ہے۔  پھر یہ بات نہایت معقول معلوم ہوتی ہے کہ انسان جیسی صاحبِ عقل و شعور اور صاحب ِ تصرف و اختیارات مخلوق کو زمین پر بحیثیت خلیفہ مامور کرتے وقت اللہ تعالیٰ اسے حقیقت سے آگاہی بخشے اور اس سے اپنی وفاداری کا اقرار (Oath of allegiance ) لے۔ اس معاملہ کا پیش آنا قابلِ تعجب نہیں ، البتہ اگر یہ پیش نہ آتا تو ضرور قابلِ تعجب ہوتا ۔

اس آیات میں وہ غرض بیان کی گئی ہے  جس کے لیے ازل میں پوری نسلِ آدم سے اقرار لیا گیا تھا۔ اور وہ یہ ہے کہ انسانوں میں سے جو لوگ اپنے خدا سے بغاوت اختیار کریں وہ اپنے اِس جرم کے پوری طرح ذمہ دار قرار پائیں ۔ اُنہیں اپنی صفائی میں نہ تو لاعلمی کا عذر پیش کرنے کا موقع ملے اور نہ وہ سابق نسلوں پر اپنی گمراہی کی ذمہ داری ڈال کر خود بری الذمہ ہو سکیں گویا بالفاظ دیگر اللہ تعالیٰ اس ازلی عہد و میثاق کو اس بات پر دلیل قرار دیتا ہے کہ نوعِ انسانی میں سے ہر شخص انفرادی طور پر  اللہ کے الٰہِ واحد اور ربِّ واحد ہونے کی شہادت اپنے اندر لیے ہوئے ہے اور اس بنا پر یہ کہنا غلط ہے کہ کوئی شخص کامل بے خبری کے سبب سے، یا ایک گمراہ ماحول میں پر ورش پانے کے سبب سے اپنی گمراہی کی ذمہ داری سے بالکلیہ بری ہو سکتا ہے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ ازلی میثاق فی الواقع عمل میں آیا  بھی تھا تو کیا اس کی یاد ہمارے شعور اور حافظہ میں محفوظ ہے؟ کیا ہم میں سے کوئی شخص بھی یہ جانتا ہے کہ آغازِ آفرنیش میں وہ اپنے خدا کے سامنے پیش کیا گیا تھا اور اس سے اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ کا سوال ہوا تھا اور اس نے بلیٰ  کہا تھا؟ اگر نہیں تو پھر اُس اقرار کو جس کی یاد ہمارے شعور و حافظہ سے محو ہو چکی ہے ہمارے خلاف حجت کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اگر اُس میثاق کا نقش انسان کے شعور اور حافظہ میں تازہ رہنے دیا جاتا تو انسان کا دنیا کی موجودہ امتحان گاہ میں بھیجا جانا سرے سے فضول ہو جاتا کیونکہ اس کے بعد تو اس آزمائشِ و امتحان کے کوئی معنی ہی باقی نہ رہ جاتے۔ لہٰذا اس نقش کو شعور و حافظہ میں تو تازہ نہیں رکھا گیا، لیکن وہ تحت الشعور(Sub-conscious mind )  اور وِجدان(Intuition ) میں یقیناً محفوظ ہے۔ اس کا حال وہی ہے جو ہمارے تمام دوسرے تحت الشعوری اور وجدانی  علوم کا حال ہے۔ تہذیب و تمدّن اور اخلاق و معلاملات کے تمام شعبوں میں انسان سے آج تک جو کچھ بھی ظہور میں آیا ہے وہ سب درحقیقت انسان کے اندر بالقوة(Potentially )  موجود تھا۔ خارجی محرکات اور داخلی تحریکات نے مل جل کر اگر کچھ کیا ہے تو صرف اتنا  کہ جو کچھ بالقوة تھا اُسے بالفعل کر دیا ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی تعلیم، کوئی تربیت ، کوئی ماحول تا ثیر  اور کوئی داخلی تحریک انسان کے اندر کوئی چیز بھی،  جو اُس کے اندر بالقوة موجود نہ ہو، ہر گز پیدا نہیں  کر سکتی۔ اور اسی طرح یہ سب موثرات اگر اپنا تمام زور بھی صرف کردیں تو ان میں یہ طاقت نہیں ہے کہ اُن چیزوں میں سے ، جو انسان کے اندر بالقوة موجود ہیں، کسی چیز کو قطعی محو کر دیں۔ زیادہ سے زیادہ جو کچھ وہ کر سکتے ہیں وہ صرف یہ ہے کہ اسے اصل فطرت سے منحرف(Pervert )  کر دیں ۔ لیکن وہ چیز تمام تحریفات و تمسیخات کے باوجود اندر موجود رہے گی، ظہور میں آنے کے لیے زور لگاتی رہے گی، اور خارجی اپیل کا جواب دینے کے لیے مستعد رہے گی۔ یہ معاملہ جیسا کہ ہم نے ابھی بیان کیا، ہمارے تمام تحت الشعوری اور وجدانی علوم کے ساتھ عام ہے:
وہ سب ہمارے اندر بالقوة موجود ہیں، اور ان کے موجود ہونے کا یقینی ثبوت اُن چیزوں سے ہمیں ملتا ہےجو بالفعل ہم سے ظاہر ہوتی ہیں۔
ان سب کے ظہو رمیں آنے کے لیے خارجی تذکیر (یاد دہانی)، تعلیم، تربیت اور تشکیل کی ضرورت ہوتی ہے ، اور جو کچھ ہم سے ظاہر ہوتا ہے وہ گویا درحقیقت خارجی اپیل کا وہ جواب ہے جو ہمارے اندر کی بالقوة موجودات کی طرف سے ملتا ہے۔
ان سب کو اندر کی غلط خواہشات اور باہر کی غلط تا ثیرات دبا کر، پردہ ڈال کر ، منحرف اور مسخ کر کے کالعدم کر سکتی ہیں مگر بالکل معدوم نہیں کر سکتیں، اور اسی لیے اندرونی احساس اور بیرونی سعی دونوں سے اصلاح اور تبدیلی(Conversion )  ممکن ہوتی ہے۔
ٹھیک ٹھیک یہی کیفیت اُس وجدانی علم کی بھی ہے جو ہمیں کائنات میں اپنی حقیقی حیثیت، اور خالقِ کائنات کے ساتھ اپنے تعلق کے بارے میں حاصل ہے:
اس موجود ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ وہ انسانی زندگی کے ہر دور میں، زمین کے ہر خطہ میں، ہر بستی، ہر پشت اور ہر نسل میں اُبھرتا  رہا ہے اور کبھی دنیا کی کوئی طاقت اسے محو کر دینے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔
اس کے مطابقِ حقیقت ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ جب کبھی وہ اُبھر کر بالفعل ہماری زندگی میں کر فرما ہوا ہے اس نے صالح ار مفید نتائج ہی پیدا کیے ہیں۔
اس کو اُبھر نے اور ظہور میں آنے اور عملی صورت اختیار کرنے کے لیے ایک خارجی اپیل کی ہمیشہ ضروت رہی ہے ، چنانچہ انبیاء علیہم السلام اور کتبِ آسمانی  اور ان کی پیروی کرنے والے داعیانِ حق سب کے سب یہی خدمت انجام دیتے رہے ہیں۔ اسی لیے اُن کو قرآن میں مذکِّر(یاد دلانے والے)ذِکر (یاد)تذکرہ(یادداشت) اور اب ان کے کام کوتذکیر(یاد دہانی)کے الفاظ سے تعبیر گیا گیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ انبیاء اور کتابیں اور داعیانِ حق انسان کے اندر کوئی نئی چیز پیدا نہیں کرتے بلکہ اُسی چیز کو اُبھارتے اور تازہ کرتے ہیں جو ان کے اندر پہلے سے موجود تھی۔
نفسِ انسانی کی طرف سے ہر زمانہ میں اِس تذکیر کا جواب بصورتِ لبیک ملنا اس بات کا مزید ایک ثبوت ہے کہ اندر فی الواقع کوئی علم چھپا ہوا تھا جو اپنے پکارنے والے کی آواز پہچان کر جواب دینے کے لیے اُبھر آیا۔
پھر اسے جہالت اور جاہلیت اور خواہشات نفس اور تعصبات اور شیا طینِ جن و انس کی گمراہ کن تعلیمات و ترغیبات نے ہمیشہ دبانے اور چھپانے اور منحرف اور مسخ کرنے کی کوشش کی ہے جس کے نتیجے میں شرک، وہریت، الحاد ، زندقہ اور اخلاقی و عملی فساد رونما ہوتا رہا ہے۔ لیکن ضلالت کی ان ساری طاقتوں کے متحدہ عمل کے باوجود اس علم کا پیدائشی نقش انسان کی لوح دل پر کسی نہ کسی حد تک موجود رہا ہے اور اسی لیے تذکیر و تجدید کی کوششیں اُسے اُبھارنے میں کامیاب ہوتی رہی ہیں۔
بلاشبہ دنیا کی موجودہ زندگی میں حق اور حقیقت کے انکار پر مصر ہیں  وہ اپنی حجت بازیوں سے اس پیدائیشی نقش کے وجود کا انکار کر سکتے ہیں یا کم از کم اسے مشتبہ ثابت کر سکتے ہیں۔ لیکن جس روز یوم الحساب برپا ہو گا اس روز ان کا خالق ان کے شعور وحافظہ میں روزِ ازل کے اُس اجتماع کی یاد تازہ کر دے گا جبکہ انہوں نے اس کو اپنا واحد معبود اور واحد رب تسلیم کیا تھا۔ پھر وہ اس بات کا ثبوت بھی ان کے اپنے نفس ہی سے فراہم  کر دے گا  کہ اس میثاق کا نقش ان کے نفس میں برابر موجود رہا اور یہ بھی وہ ان کی اپنی زندگی ہی کے ریکارڈ سے علیٰ رؤس الا شہاد دکھاوے گا کہ انہوں نے کس کس طرح اس نقش کو دبایا، کب کب اور کن کن مواقع پر ان کے قلب سے تصدیق کی آوازیں اُٹھیں، اپنی اور اپنے گردوبیش کی گمراہیوں پر ان کے وجدان نے کہاں کہاں اور کس کس وقت صدائے انکار بلند کی، داعیانِ حق کی دعوت کا جواب دینے کے لیے ان کے اندر کا چھپا ہوا علم کتنی کتنی مرتبہ اور کس کس جگہ اُبھرنے پر آمادہ ہوا، اور پھر وہ اپنے تعصبات اور اپنی خواہشات نفس کی بنا پر کیسے کیسے حیلوں اور بہانوں سے اس کو فریب دیتے اور خاموش کر دیتے رہے۔ وہ وقت جبکہ یہ سارے راز فاش ہوں گے، حجت بازیوں کا نہ ہوگا بلکہ صاف صاف اقرار جرم کا ہوگا۔ اسی لیے قرآن مجید کہتا ہے کہ اس وقت مجرمین یہ نہیں کہیں گے کہ ہم جاہل تھے یا غافل تھے، بلکہ یہ کہنے پر مجبور ہوں گے کہ ہم کافر تھے۔ یعنی ہم نے جان بوجھ کر حق کا انکار کیا۔ وَ شَھِدُوْا عَلٓیٰ اَنْفُسِہِمْ اَنَّھُمْ کَانُوْ ا کَا فِرِیْنَ     (الاَنعام، ۱۳۰)۔
[تفہیم القرآن ]

🌹🌹🌹
🔰 *Quran Subjects*  🔰 *قرآن مضامین* 🔰

*"اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا" [ الفرقان 25  آیت: 30]*

*کیا یہ لوگ قرآن پر تدبر ّنہیں کرتے یا ان کے دلوں پر قفل پڑچکے ہیں[47:24]*

*قرآن کے پیغام کوپھیلانا "جہاد کبیرہ" ہے(25:52)*
🤷🏻‍♂️
*FB* - https://www.facebook.com/QuranSubject
*English*- https://QuranSubjects.wordpress.com  
*Urdu*- https://Quransubjects.blogspot.com 
https://flip.it/6zSSlW
The Last, lost Book: https://Quran1book.blogspot.com

شفاعت مغالطے

شفاعت قرآن و سنت کی روشنی میں





شفاعت کا لفظ شفع سے نکلا ہے جس کے معنی ایک چیز کو دوسری سے جوڑنے کے ہیں اور اسی مفہوم سے یہ ترقی کرکے کسی بات کی تائید و حمایت یا کسی کے حق میں سفارش کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ (تدبر 2/349) لغوی معنی سے قطع نظر اس کے اصطلاحی معنی یہ ہیں کہ قیامت کے دن حساب کتاب کے وقت کسی فرد کا کسی خاص مذہب یا شخصیت سے وابستہ ہونا اور اس شخصیت کی سفارش کا مل جانا، اس کی نجات کا سبب بن جائے گا۔ اس کی سب سے بڑی مثال اس وقت مسیحیت ہے جو دنیا کا سب سے بڑا مذہب ہے۔ عیسائیوں کے عقیدے کے مطابق ایک شخص جب سیدنا مسیح پر ایمان لے آتا ہے تو مسیحی عقائد پر اس کا یقین اور مسیح سے اس کی وابستگی اس کی نجات کے لیے کافی ہے۔


قرآن کے اولین مخاطب یعنی مشرکین عرب کی پوری مذہبیت اسی شفاعت کے عقیدے پر قائم تھی۔ ان کے نزدیک ان کے دیوی دیوتا خدا کے حضور ان کے حمایتی اور سفارشی تھے۔یہ بات صرف سفارش اور حمایت ہی پر نہیں رکتی بلکہ اس سے آگے بڑھ کر یہی چیز لوگوں کے شرک میں مبتلا ہوجانے کا سبب بن جاتی ہے۔ چنانچہ اسی بنیاد پر مسیحیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا کا بیٹا بنا دیا اور مشرکین عرب معاذ اللہ اپنے دیوی دیوتاؤں کو اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دے کر ان کی پرستش اور عبادت کیا کرتے تھے۔


یہ کوئی ایسی عجیب بات نہیں ہے۔ اس دنیا میں بھی یہ ہوتا ہے کہ جب ہم کسی مصیبت میں پھنس جاتے ہیں اور کوئی شخص ہماری مدد کرتا ہے تو ہم اس کے تا عمر شکرگزار رہتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح جو ہستی خدا کے حضور، انسان کے سارے گناہوں کے باجود اس کی نجات کا سبب بن رہی ہو، انسان اپنے دل میں اس کی غیر معمولی عقیدت اور محبت محسوس کرتا ہے۔ یہ محبت بڑھتی ہے، عظمت میں بدلتی ہے اور آخرکار معاملہ باقاعدہ پرستش اور خدا کے شریک بنانے تک پہنچ جاتا ہے۔ انسان اس ہستی کے گن گاتے گاتے ،انہیں خوش کرنے کے لیے ان کے حضور نذر ونیاز پیش کرتے،دنیا کے معاملات میں بھی ان سے مدد مانگتے اور ان سے دعا کرنے لگتے ہیں۔ یہی کچھ عیسائی اور مشرکین عرب کیا کرتے تھے۔ یہی سبب ہے کہ قرآن نہ صرف جگہ جگہ ان کے شرک کی مذمت کرتا ہے بلکہ ان کے اس عقیدہ شفاعت کی بھی بھرپور تردیدکرتا ہے۔


سورہ مائدہ کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت کے دن ہونے والا ایک ڈائیلاگ بڑی تفصیل سے نقل کر کے یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول نہ کسی غلط عقیدے کی تعلیم دیتے ہیں اور نہ وہ اللہ کے حضور کسی کی غلط سفارش کرتے ہیں۔ اسی طرح مشرکین عرب کے شرک اور شفاعت دونوں قسم کے نظریات کی بھی قرآن میں جگہ جگہ تردید کی گئی ہے مثلاً سورہ یونس میں فرمایا:


یہ اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ انہیں نفع دیتی ہیں اور نہ نقصان۔ اور وہ کہتے ہیں کہ یہ خدا کے حضور ہمارے سفارشی ہیں۔ان سے کہو کیا تم اللہ کو وہ بتاتے ہو جسے نہ وہ آسمان میں جانتا ہے اور نہ زمین میں ۔ یہ لوگ جو شرک کررہے ہیں اللہ کی ذات اس سے پاک ہے۔ (یونس 10:1


ایک سوال
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب قرآن اس معاملے میں ایک فیصلہ کن بات کہہ چکا ہے تو پھر کیا سبب ہے کہ مسلمانوں کے اندراس مسئلے میں اتنا غلو پایا جاتا ہے۔ میرے نزدیک اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک یہ کہ ہمارے ہاں لوگوں میں قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا رواج نہیں اور نہ انہیں یہ معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کیا کچھ فرمایا ہے۔
دوسرا سبب یہ ہے کہ قرآن نے ہر چند کے مختلف طریقوں سے قیامت کے دن ہر طرح کی شفاعت کی نفی کی ہے مگر بعض مقامات پر کچھ استثنا بھی دیا ہے۔ اسی استثنا کی وضاحت مختلف احادیث میں کی گئی ہے۔ مگر جب ان احادیث کو قرآن پاک کی روشنی میں نہیں سمجھا جاتا اور پھر ان کے ساتھ ضعیف و موضوع روایات میں گھڑے ہوئے قصے، واعظوں کی داستانیں اور لوگوں کی خواہشات شامل ہوتی ہیں تو عوام الناس کی سطح پر معاملہ کی نوعیت وہی کچھ ہوجاتی ہے جس کی تردید پورے قرآن کا موضوع ہے۔ اس لیے ضرور ی ہے کہ شفاعت کے حوالے سے دین کا موقف عام فہم انداز میں پوری طرح واضح کردیا جائے۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ چند بنیادی باتوں کو سمجھ لیا جائے ۔ یہ باتیں درج ذیل ہیں۔


دین کی بنیادی دعوت اور شفاعت
اس سلسلے میں پہلی بات یہ واضح ہونی چاہیے کہ دین کی بنیادی دعوت کیا ہے۔ دین کی بنیادی دعوت توحید و آخرت کی دعوت ہے جو مختلف نبی اور رسول اپنے اپنے زمانوں میں لے کر آئے۔ اس دعوت کی تفصیل یہ ہے کہ انسانوں کا ایک پروردگار ہے۔ انسانوں پر لازمی ہے کہ وہ اسی کی عبادت کریں اور اس کے احکام کی پیروی کریں۔ کیونکہ ایک دن وہ سارے انسانوں کو جمع کرکے ان کے تمام اعمال کا جائزہ لے گا اور پھر عدل کے ساتھ لوگوں کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کردے گا۔ پورا قرآن اس بات کی دعوت سے بھرا پڑا ہے کہ ایمان و عمل صالح کو اختیار کرو اور نجات پاجاؤ۔ قرآن نہ صرف یہ دعوت دیتا ہے بلکہ نجات کے معاملے میں انسان کی ہر دوسری امید صاف الفاظ میں توڑ دیتا ہے۔
اور ڈرو اس دن سے جب کوئی آدمی کسی دوسرے کے کام نہ آئے گا اور نہ اس سے کوئی بدلہ قبول کیا جائے گا نہ اس کے حق میں کسی کی سفارش کام آئے گی اور نہ ہی اسے کہیں سے مدد مل سکے گی۔‘‘(البقرہ 2:123 )


(اس دن) کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور انسان کو وہی ملے گا جس کے لیے اس نے محنت کی ہوگی۔ اور اس کی یہ محنت بہت جلد دیکھی جائے گی۔ پھر اسے پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ (النجم 53:38-41)۔


مسیحی اور یہودی اپنے اپنے نبیوں کو اللہ کی اولاد اور اس کا چہیتا کہتے تھے اور اسی بنیاد پر نجات کے امیدوار تھے۔ قرآن نے شفاعت اور نسلی وابستگی کی بنیاد پر نجات کی نفی صرف ان ہی کے لیے نہیں کی بلکہ اس کے ساتھ مسلمانوں کو بھی بتادیا گیا ہے کہ ہر مجرم کو اپنے جرائم کی سزا بہرحال بھگتنی ہوگی۔فرمایا:
’’ نہ تمھاری آرزووں سے کچھ ہونے کا ہے نہ اہل کتاب کی۔ جو کوئی برائی کرے گا، اس کا بدلہ پائے گا اور وہ اپنے لیے اللہ کے مقابل کوئی کارساز اور مددگار نہیں پائے گا۔‘‘(النسا 4:123 )


قرآن پاک اس بارے میں بالکل واضح ہے کہ شفاعت کی اگر کچھ حقیقت ہے بھی، اور جسے ہم آگے چل کر واضح کریں گے، تب بھی اس پر تکیہ کرنے کی کوئی گنجائش کسی معقول انسان کے پاس نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر انبیا اس لیے نہیں آئے تھے کہ لوگوں کو شفاعت کی بنیاد پر نجات کی امید دلائیں بلکہ وہ ایمان و عمل صالح کی بنیاد پر نجات کی دعوت دیتے تھے اور جہاں تک شفاعت کے اس مروجہ تصور کا سوال ہے جس میں انسان ساری زندگی رب کی نافرمانی کرتا ہے اور پھر کسی ’’بزرگ‘‘ کے بھروسے پر یہ امید بھی رکھتا ہے کہ شفاعت کے ذریعے سے اسے نجات مل جائے گی تو یہ تصور دین کی بنیادی دعوت ہی سے متصادم ہے۔


اللہ تعالیٰ کی صفات اور شفاعت
ایک دوسری بات یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ شفاعت کا مروجہ تصور اللہ تعالیٰ کی بہت سی صفات کے ساتھ ٹکراجاتا ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے ہمیں غور کرنا چاہیے کہ ہم اس دنیا میں لوگوں کی سفارش کب اور کن وجوہ کی بنا پر کرتے ہیں۔ اس دنیا میں سفارش کی پہلی بنیاد یہ ہے کہ کسی معاملے میں ہم کوئی اختیار رکھتے ہیں یا کسی عہدیدار پر ہمارا کوئی اثر و رسوخ یا احسان ہوتا ہے۔ اس کے بعد اس شخص کے پاس کسی کا مسئلہ آجاتا ہے۔ ایسی صورت میں ہم اپنے اختیار، عہدے، اثر و رسوخ اور تعلقات کو استعمال کرکے اس شخص کا مسئلہ حسب منشا حل کراتے ہیں۔ سرکاری دفاتر میں بہت سے معاملات اسی اصول پر چلتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے معاملے میں اس صورت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کوئی شخص کسی قسم کا اختیار رکھتا ہے نہ اس پر کسی کا اثر و رسوخ ہے اور نہ اس پر کسی کا احسان۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس کائنات کی ہر شے خدا کی ملکیت ہے۔ پورا قرآن 'لہ مافی السموات و الارض' یعنی ’جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ ہی کی ملکیت ہے‘ کی یاد دہانی سے بھرا ہوتا ہے۔ ایسے میں یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی کسی حیثیت یا مقام کی بنیاد پر کسی کی کوئی سفارش کرسکے۔ لہٰذا اس پہلو سے شفاعت کا عقیدہ رکھنا ممکن نہیں ہے۔


سفارش کی ایک دوسری بنیاد یہ ہوتی ہے کہ ایک منصف کے پاس معاملہ آئے وہ اپنے علم کی بنیاد پر کوئی فیصلہ کرنے جارہا ہو اور ہم یہ محسوس کرتے ہوں کہ اس شخص کو بہت سے حقائق اور واقعات کا علم ہی نہیں تو پھر ہم اس شخص پر صحیح صورتحال واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب وہ حقیقت جان لیتا ہے تو اسی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے۔ ہمارے ہاں مقدمات میں فیصلے بارہا اسی بنیاد پر ہوتے ہیں۔


اللہ تعالیٰ کے معاملے میں اس کا بھی کوئی سوال نہیں ہے۔ چنانچہ خاص اسی شفاعت کے مسئلے میں گفتگو کرتے ہوئے جس طرح اللہ تعالیٰ نے آیت الکرسی میں یہ بیان کیاہے کہ آسمان و زمین کی ہر شے اللہ کی ملکیت ہے، ٹھیک اسی طرح اسی مقام پر یہ بھی بتادیا ہے کہ یعلم ما بین ایدیھم وما خلفھم یعنی کوئی سفارش کرنے والا اسے لوگوں کے احوال کیا بتائے گا۔ وہ تو ان کے سامنے کے بھی اور پیچھے پیش آنے والے حالات ومعاملات سے بھی واقف ہے۔ اس لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ لاعلمی میں کوئی غلط فیصلہ کرجائے۔ اسی لیے شفاعت کی یہ بنیاد بھی خدا کے معاملے میں موجود نہیں ہوسکتی ۔


شفاعت کی ایک تیسری بنیاد یہ ہوسکتی ہے کہ منصف مغلوب الغضب ہو یعنی اس کا غصہ اس پر غالب آچکا ہو۔ ایسے میں کوئی ایسا فرد آگے بڑھتا ہے جس کے دل میں ہمدردی اور خیر خواہی پائی جاتی ہو ۔ پھر وہ سفارش کرکے لوگوں کی مدد کرتا ہے۔ گھروں میں عام طور پر جب باپ بچے پر غصہ ہوتا ہے تو ماں اسی بنیاد پر آگے بڑھ کر اس کی حمایت کرتی اور باپ سے اسے بچالیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نہ صرف یہ کہ مغلوب الغضب نہیں بلکہ یہ اس کی رحمت ہے جو ہمیشہ ان کے غصے پر حاوی رہتی ہے۔ اس کی صفت الرحمن، الرحیم، الرؤف ہے۔ ان سے زیادہ مخلوق کی محبت کس کے دل میں ہوسکتی ہے۔چنانچہ سفارش کی یہ بنیاد بھی اللہ تعالیٰ کے معاملے میں ممکن نہیں ہے۔


سفارش کی ایک اور قسم وہ ہوتی ہے جس میں ہم جائز ناجائز طور پر کبھی کسی کا مسئلہ حل کرتے ہیں اور کبھی کوئی دوسرا ہر اصول کو بالائے طاق رکھ کر ہمارا مسئلہ حل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے معاملے میں اس بات کا بھی کوئی سوال نہیں۔ اس لیے کہ ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کی صفت عدل کے بالکل خلاف ہوگا۔ ہم اوپر بیان کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن نجات کے لیے ایمان و عمل صالح کا ایک قطعی ضابطہ مقرر کردیا ہے۔اسے دین کی دعوت کے طور پر پیش کردیا ہے۔ اس کے بعد یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ اس ضابطے کو کسی وجہ سے خود ہی پامال کردیں۔


عقلی سوالات
شفاعت کا مروجہ نظریہ صرف دین اور پروردگار کی صفات ہی کے خلاف نہیں بلکہ اس پر بہت سے عقلی سوالات پیدا ہوجاتے ہیں۔ اگر شفاعت کا مطلب یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم ہمیں صرف اس بنیاد پر خدا کے عذاب سے بچا لیں گے کہ ہم ا ن کے امتی ہیں تو سوال یہ ہے کہ حضور کا امتی ہونے میں ہماری کیا خوبی ہے۔ ہماری غالب ترین اکثریت صرف اس وجہ سے مسلمان ہے کہ وہ مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہوگئی ہے۔ دین کبھی ہماری معرفت نہیں بنتا، ذاتی دریافت نہیں بنتا بلکہ تاعمر ہمارا تعصب بنا رہتا ہے۔ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم اگر کسی یہودی یا ہندو کے ہاں پیدا ہوجاتے تو ساری زندگی ہندو اور یہودی بنے رہتے۔


ہماری خوبی سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ پھر دیگر مذاہب کے پیروکاروں کا جرم کیا ہے؟ انہوں نے اپنے آپ کو ہندو یا عیسائی نہیں پیدا کیا۔ غور کیجیے کہ یہ خدا کا کون سا عدل ہے کہ قیامت میں مسلمان تو صرف اس لیے بخشے جائیں کہ وہ مسلمانوں کے ہاں پیدا ہوئے اور غیر مسلم اس لیے پکڑے جائیں کہ انہوں نے غیر مسلم گھرانوں میں جنم لیا ۔ کسی غیر مسلم نے اگر خدا سے یہ سوال کر لیا کہ میں تو اپنی مرضی سے کسی غیر مسلم کے ہاں پیدا نہیں ہوا تھا، تونے پیدا کیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ مجھے کیوں پکڑا جارہا ہے اور مسلمانوں کو کیوں چھوڑا جارہا ہے، تو اندازہ کرلیجیے کہ یہ خدا کے عدل پر کتنا شدید حملہ ہوگا۔


یہودی ہمارے جیسے ہی غلط تصورات کا شکار تھے۔ انہیں یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ اول تو انہیں عذاب دیں گے نہیں اور اگر اپنے عدل کی لاج رکھنے اور مخلوق خدا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے اگر آگ میں ڈالا گیا تو چند دن بعد انہیں باہر نکال لیا جائے گا ۔ جواب میں اللہ تعالیٰ نے اپنا دو ٹوک فیصلہ سنادیا۔ فرمایا:
وَقَالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلاَّ أَيَّاماً مَعْدُودَةً قُلْ أَاتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً فَلَنْ يُخْلِفَ اللَّهُ عَهْدَهُ أَمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ مَا لا تَعْلَمُونَ۔ بَلَى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً وَأَحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ فَأُوْلَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ۔ (البقرہ 2:80-81)
اور وہ کہتے ہیں کہ ان کو دوزخ کی آگ نہیں چھوئے گی مگر صرف گنتی کے چند دن۔ پوچھو: کیا تم نے اللہ کے پاس اس کے لیے کوئی عہد کرالیا ہے کہ اللہ اپنے عہد کی خلاف ورزی نہیں کرے گا یا تم اللہ پر ایک ایسی تہمت باندھ رہے ہو جس کے بارے میں تمھیں کچھ علم نہیں۔ کیوں نہیں،جس نے کوئی بدی کمائی اور اس کے گناہ نے اسے اپنے گھیرے میں لے لیا وہی لوگ دوزخ والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔


قرآن میں شفاعت کا تصور
جب یہ بات واضح ہوگئی کہ مندرجہ بالا بنیادوں پر شفاعت کا مروجہ تصور ناقابل قبول ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ اصل بات کیا ہے جو اس ضمن میں قرآن نے بیان کی ہے۔ہمارے نزدیک شفاعت کے ضمن میں اصل بات وہی ہے جو ذیل کی آیات سے ظاہر ہے۔


يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلائِكَةُ صَفّاً لا يَتَكَلَّمُونَ إِلاَّ مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَنُ وَقَالَ صَوَاباً۔ (النبا 78:3
جس دن جبرئیل اور فرشتے صف بستہ کھڑے ہوں گے۔کوئی بات نہیں کرے گا مگر جس کو رحمن اجازت دے اور وہ بالکل ٹھیک بات کہے۔


يَوْمَئِذٍ لا تَنفَعُ الشَّفَاعَةُ إِلاَّ مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَنُ وَرَضِيَ لَهُ قَوْلاً ۔ (طہ 20:109)
اس دن شفاعت نفع نہ دے گی۔ سوائے خدائے رحمان جس کو اجازت دے اور جس کے لیے کوئی بات کہنے کو پسند کرے۔


ان آیات سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ یعنی روزِ قیامت اللہ کے حضور کسی کے بارے میں کسی قسم کی سفارش کی کوئی گنجائش نہیں سوائے اس کے کہ رحمن اس بات کی اجازت دے ۔خدا کے اذن کے بعد دوسری چیز یہ ہے کہ بات کہنے والا بھی وہ بات کہے جو خلافِ عدل نہ ہو۔ تیسرے یہ کہ ہر کسی کے حق میں سفارش نہیں ہوسکتی بلکہ جس کے حق میں اجازت ہو گی صرف اسی کے بارے میں بات ہوگی۔


یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کیا بنیاد ہے جس پر اللہ تعا لیٰ کسی کے حق میں سفارش کی اجازت دیں گے۔ قرآن نے اس بنیاد کو خود ہی واضح کردیا ہے۔ یہ بنیاد کسی مذہب، نسل یا شخصیت سے وابستگی نہیں ہے بلکہ صرف اور صرف توحید سے وابستگی ہے۔ اس قانون کو اللہ تعالیٰ نے سورہ نساء میں دو مقامات پر بالکل کھول کر بیان کردیا ہے۔ فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ افْتَرَى إِثْماً عَظِيماً ۔ (النساء 4:4
بے شک اللہ تعالیٰ اس چیز کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک ٹھہرایا جائے، اس کے سوا جو کچھ ہے، جس کے لیے چاہے گا بخش دے گا۔


اس قانون میں تین چیزیں بیان ہوئی ہیں۔ ایک یہ کہ شرک کسی صورت میں نہیں بخشا جائے گا۔ دوسرے یہ کہ شرک سے ہلکے جرائم چاہے ان کی نوعیت کچھ بھی ہو معاف کیے جاسکتے ہیں۔ تیسری بات اللہ تعالیٰ نے خالص انسانی نفسیات کے پس منظر میں کی ہے ۔ وہ یہ کہ یہ معافی ہر شخص کے لیے نہیں ہوگی۔ اس تیسری بات کا مطلب سمجھ لیجیے۔ انسان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ جیسے ہی رعایت کا سنتا ہے فوراً گناہوں پر جری ہوجاتا ہے۔ یعنی ایک عام شخص اس آیت سے یہ مطلب لے سکتا ہے کہ اگر میں شرک نہیں کرتا تو کوئی حرج نہیں، قتل اور زنا تو کر سکتا ہوں کیوں کہ اس کی معافی ہوجائے گی۔


اللہ تعالیٰ نے تیسری بات سے یہ امید بھی توڑدی۔ یعنی کس کو معاف کرنا ہے اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ خود کریں گے۔ ہر شخص معافی کی یہ امید نہ رکھے۔ اوپر سورہ بقرہ میں یہود کے حوالے سے جو کچھ کہا گیا ہم اسے دہرا دیتے ہیں کیونکہ اسی سے یہ بات واضح ہے کہ یہ معافی کن کے لیے ہے اور کن کے لیے نہیں۔


اور وہ کہتے ہیں کہ ان کو دوزخ کی آگ نہیں چھوئے گی مگر صرف گنتی کے چند دن۔ پوچھو: کیا تم نے اللہ کے پاس اس کے لیے کوئی عہد کرالیا ہے کہ اللہ اپنے عہد کی خلاف ورزی نہیں کرے گا یا تم اللہ پر ایک ایسی تہمت باندھ رہے ہو جس کے بارے میں تمھیں کچھ علم نہیں۔ کیوں نہیں،جس نے کوئی بدی کمائی اور اس کے گناہ نے اسے اپنے گھیرے میں لے لیا وہی لوگ دوزخ والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (البقرہ 2:80-81)


ان آیات کو سورہ نساء کی آیت کے ساتھ ملاکر جیسے ہی پڑھا جاتا ہے اصل بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ معافی توحید پر قائم رہنے والے ان لوگوں کے لیے ہوگی جن کے گناہوں نے ان کا احاطہ نہیں کرلیا ہوگا۔یعنی ان کے نامہ اعمال میں بالفرض بڑے بڑے جرائم ہوے بھی مگر یہ گناہ ان کے دن رات کا شغل اور زندگی کا معمول نہیں ہوں گے ۔تواس کی شفاعت کی امید کی جا سکے گی -


شفاعت کی اصل حقیقت
شفاعت کے دو پہلو ہیں۔ ایک کسی مجرم کے گناہوں کی معافی اور دوسرے شفاعت کرنے والے کی حیثیت۔ معافی کے متعلق تو سارا قانون ہم نے اوپر بیان کردیا ہے۔ البتہ یہ مسئلہ ہنوز تشنہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر لوگوں کو اپنے ایک قانون کے تحت معاف کریں گے تو پھر اس میں دوسروں کی سفارش کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے۔ یہی وہ بات ہے جو اصل میں سمجھ لینی چاہیے اور جسے نہ سمجھنے کی بنا پر ساری غلط فہمی پیدا ہوتی ہے۔


شفاعت میں دراصل اللہ تعالیٰ کی دو صفات کا اظہار ہوتا ہے ۔ ایک اس کا عدل جس کے تحت جب ایک شخص معافی کا مستحق ہوجاتا ہے تو اسے معاف کرنے کا فیصلہ کرلیا جاتا ہے۔ دوسری صفت جس کا شفاعت میں ظہور ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ یہ رحمت دو طرفہ ہوگی ایک طرف مجرم کے ذرہ برابر ایمان کو بھی قبول کرکے جنت میں داخل کردیا جائے گا اور دوسری طرف خدا چاہے گا کہ اس موقع پر عزت کا تاج وہ اپنے کسی نیک بندے کے سر پررکھے۔ چنانچہ اس مجرم کے حق میں لوگوں کی سفارش قبول کی جائے گی۔اور اس میں بھی شرط وہی ہوگی کہ پہلے اللہ تعالیٰ اجازت دیں گے اور پھر کہنے والا اللہ تعالیٰ کے قانون عدل کے مطابق ہی معافی کی درخواست کرے گا۔ معافی کا فیصلہ تو اللہ تعالیٰ پہلے ہی کرچکے ہوں گے اس لیے اس شفاعت کو قبول کرلیا جائے گا۔ یوں اس مجرم کو جنت میں داخل کردیا جائے گا اور اس سفارش کرنے والے کی ہر جگہ تعریف ہوگی۔


مقام محمود اور یار لوگوں کا کمال
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری رسول اور نبی ہیں۔ آپ کی امت تعداد میں سب سے زیادہ ہے۔ آپ ہی نے دنیا سے شرک کے غلبے کو ختم کرکے توحید کو عام کیا تھا۔ آپ ہی کے ذریعے سے توحید کا پیغام سب سے زیادہ پھیلا ہے۔ یہی وہ سبب ہے جس کی بنا پر آپ کے ذریعے سے قیامت کے دن سب سے زیادہ لوگوں کی شفاعت ہوگی ۔ لیکن ۔ ۔ ۔ اور یہ ایک بہت بڑا ’لیکن‘ ہے۔ ۔ ۔ یہ شفاعت وہ نہیں ہوگی جو لوگ سمجھتے ہیں بلکہ وہ شفاعت ہوگی جو قرآن کے بیان کردہ حدود و قیود کے ساتھ اوپر بیان ہوئی ہے۔جس میں ہر مجرم کو اپنے کیے کی بدترین سزا بھگتنی ہوگی۔ جس میں کسی مشرک، سرکش اور گناہوں میں غرق کسی مجرم کی معافی کا کوئی امکان نہیں۔


بہرحال نبی کریم کی یہ شفاعت ہوگی اور اسی کو قرآن پاک نے مقام محمود (بنی اسرائیل 17:79) کہا ہے۔چونکہ حضور کی بے پناہ قربانیوں کی وجہ سے دنیا میں توحید غالب ہوگئی اور لوگ توحید پر قائم ہوگئے،اس لیے توحید پر قائم رہنے والے مجرمین کی معافی کا سارا کریڈٹ اللہ تعالیٰ حضور کو دے دیں گے اور یہی چیز قیامت کے دن حضور کی مدح و تعریف کا سبب بن جائے گی ۔


ہم بیان کرچکے ہیں کہ شفاعت حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی دعوت نہیں تھی۔ یہ اصل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضور کی خدمات کا ایک بدلہ ہے۔ شفاعت حضور کا اعزاز ہے جس میں آپ کو دیگر انبیا پر فضیلت دی گئی ہے۔ اسی لیے حضور نے ہر اذان کے بعد مسلمانوں کو اپنے لیے دعا کے لیے کہا ہے۔ اذان نماز کا اعلان ہے اور نماز چونکہ توحید کا سب سے بڑا اظہار ہے، اس لیے یہ ایک مناسب موقع ہے کہ اس وقت حضور کے لیے مقام محمود کی دعا کی جائے۔ مگر یار لوگوں کا یہ کمال ہے کہ اس دعا میں لوگوں نے زبردستی اپنے لیے شفاعت کی دعا کا اضافہ کردیا ہے۔ حالانکہ حضور نے اس کی تعلیم نہیں دی تھی۔


حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم شفاعت کی تعلیم دینے نہیں بلکہ ایمان و عمل صالح کی دعوت دینے آئے تھے۔ شفاعت حضور کو ملنے والا ایک اعزاز ہے، اس کا کسی مجرم کے گناہوں کی معافی سے کوئی تعلق نہیں۔ معافی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ایک قانون ہے جو قرآن نے خود بیان کردیا ہے اور جس کی تفصیل ہم اوپر کرچکے ہیں۔


عقیدۂ شفاعت اور احادیث
میں نے اس موضوع پر لکھتے وقت قرآن کے ساتھ ساتھ اس موضوع سے تمام احادیث، اور سلف و خلف کی آراء کو دیکھ لیا ہے۔ اس کے بعد مجھ پر دوچیزیں بہت اچھی طرح واضح ہوگئی ہیں۔ ایک یہ کہ جب قرآن پاک لوگوں کے علم و عمل کا محور نہیں رہتا تو دینی علم میں کتنے سنگین مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ شفاعت کے حوالے سے زیادہ تر غلط فہمی ضعیف روایات، گھڑی ہوئی داستانوں اور سب سے بڑھ اس انسانی خواہش سے پھیلی ہے کہ ہم دنیا میں گناہ کرتے رہیں اور قیامت کے دن ہمیں بغیر سزا کے چھوڑ دیا جائے۔ لیکن میرا یہ یقین ہے کہ قرآن پاک ایک بالکل دوسری جگہ کھڑا ہوا ہے۔ شفاعت کے حوالے سے جو کچھ صحیح احادیث ہیں، انہیں بھی قرآن کے اس ضابطے کی ہی روشنی میں سمجھنا چاہیے۔


قرآن پاک کی طرح صحیح احادیث میں بھی یہ بات بالکل واضح کردی گئی ہے کہ کسی مجرم کو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے آسرے پر نہیں رہنا چاہیے۔قیامت کے دن حضور اس کی کوئی مدد نہیں کریں گے۔ اس موضوع کی بکثرت روایات کتب احادیث میں آئی ہیں۔ طوالت سے بچنے کے لیے میں یہاں صرف ایک روایت بیان کررہا ہوں۔
’’سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور خیانت کے بارے میں گفتگو فرمائی اور (آخرت کے نتائج کے اعتبار سے) اُسے غیر معمولی اہمیت کا حامل گناہ قرار دیا۔


آپ نے فرمایا: قیامت کے دن میں تم میں سے کسی شخص سے اِس حال میں ہر گز نہ ملوں کہ اُس کی گردن پر کوئی بکری لدی ہوئی ہو اور وہ پکار رہی ہو یا اُس کی گردن پر کوئی گھوڑا لدا ہوا ہو اور وہ آواز دے رہا ہو۔ (پھر)وہ شخص کہے: اے اللہ کے رسول! میری مدد فرمائیے۔ جس پر میں کہوں گا :مجھے تمہارے معاملے میں اللہ کی طرف سے کوئی اختیار نہیں ہے۔ میں تو (جو حق پہنچانا تھا) تمہیں پہنچا چکا ہوں۔


یا میں تم میں سے کسی شخص سے اِس حال میں ہر گز نہ ملوں کہ اُس کی گردن پر کوئی اونٹ لدا ہوا ہواور وہ کچھ بتا رہا ہو۔ (پھر) وہ شخص کہے:اے اللہ کے رسول! میری مدد فرمائیے۔جس پر میں کہوں گا :مجھے تمہارے معاملے میں اللہ کی طرف سے کوئی اختیار نہیں ہے۔میں تو(جو حق پہنچانا تھا) تمہیں پہنچا چکا ہوں۔


یا اُس کی گردن پر کوئی ایسی شے ہو جو خاموش ہو۔ پھروہ شخص کہے:اے اللہ کے رسول! میری مدد فرمائیے۔ جس پر میں کہوں گا :مجھے تمہارے معاملے میں اللہ کی طرف سے کوئی اختیار نہیں ہے۔ میں تو (جو حق پہنچانا تھا) تمہیں پہنچا چکا ہوں۔


یا اُس کی گردن پر چمڑے کے ٹکڑے ہوں ۔پھر وہ شخص کہے: اے اللہ کے رسول! میری مدد فرمائیے۔ جس پر میں کہوں گا: مجھے تمہارے معاملے میں اللہ کی طرف سے کوئی اختیار نہیں ہے۔میں تو (جو حق پہنچانا تھا) تمہیں پہنچا چکا ہوں۔ (بخاری، رقم 2908


شفاعت: کیا بھروسہ کرنے کی چیز ہے؟
ہم شروع میں بیان کرچکے ہیں کہ شفاعت قرآن کی دعوت نہیں ہے بلکہ لوگوں کی غلط فہمیوں کی تردید میں برسبیل تذکرہ اس کا ذکر آگیا ہے ۔اور اب آپ کو سمجھ میں آگیا ہوگا کہ کیوں یہ قرآن کی دعوت نہیں ہے۔ یہ نیک لوگوں کا ایک اعزاز ہے نہ کہ گناہ گاروں کی بخشش کا ذریعہ۔ ان کی بخشش تو اللہ تعالیٰ اپنے قانون اور ضابطہ کے مطابق کریں گے۔


شفاعت کے اس پورے تصور پر جو قرآن پاک کی روشنی میں سامنے آتا ہے ذرا غور کیجیے۔ اس میں مجرموں کے لیے کون سی امید اور خوشی کی بات ہے۔ کون سا معقول آدمی چاہے گا کہ اس شفاعت پر وہ بھروسہ کرے جس میں بہت سی خواری جھیلنے اور بدترین سزا بھگتنے کے بعدآدمی جنت میں جائے گا۔ کیا بہتر نہیں ہے کہ انسان ایمان، اخلاق اور عمل صالح کے میدان میں ترقی کی کوشش کرے۔ اپنے گناہوں پر معافی مانگتا رہے اور خدا سے صراط مستقیم پر چلنے کی درخواست کرے۔ تاکہ قیامت کے دن انسان پہلے مرحلے پر ہی نجات حاصل کر لے۔وگرنہ کوئی اور سزا نہ ملے صرف میدان حشر کے 50 ہزار برس کی خواری بھی دنیا کی صرف 50 سالہ زندگی کے ہر مزے کو خراب کرنے کے لیے کافی ہے۔


پھر سورہ طہٰ کی جو آیت اوپر نقل کی گئی ہے اس سے یہ بالکل واضح ہے کہ شفاعت کی اجازت دینے یا نہ دینے کا سارا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ وہ کسی کے حق میں اجازت نہ دے تو کس کی مجال ہوگی کہ وہ کچھ کہہ سکے۔ یہ اجازت اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کی بنیاد پر دیں گے نہ کہ کسی انسان کی عظمت کی بنا پر۔ سورہ نبا اور سورہ طہٰ کی جو آیات ہم نے نقل کی ہیں وہاں اللہ تعالیٰ نے اپنا ایک نام ’الرحمن‘ استعمال کرکے اسے بالکل واضح کردیا۔ پھر سورہ نساء کی آیت 48 اور 116 جو اوپر نقل کی گئی ہیں یہ صاف بتاتی ہیں کہ اس شفاعت کا سبب توحید پر ایمان ہوگا۔اس لیے اس قسم کی شفاعت کو یقینی بھی بنانا ہے تو شرک کے شائبے سے بھی آدمی کو بھاگنا چاہیے۔ کیونکہ شرک کے بعد ہر قسم کی شفاعت کا امکان ختم ہوجاتا ہے۔


مسئلہ یہ ہے کہ۔ ۔ ۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ شفاعت دین کی دعوت ہے اور اسی لیے اس کا ہمارے ہاں اتنا چرچا ہے۔ اصل میں یہ تصور عام لوگوں کو عمل صالح کی محنت سے بے نیاز کردیتا ہے۔ لوگ ساری زندگی اپنی خواہش نفسانی کی پیروی کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ کوئی ’’بزرگ‘‘ قیامت کے دن سینہ تان کر اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہوجائے گا کہ جناب یہ میرا آدمی ہے آپ اس کو چھوڑ دیں۔ روز حشر اس چیز کا کوئی امکان نہیں۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ دین کی دعوت شفاعت کا تصور نہیں ہے بلکہ ایمان و عمل
صالح ہے۔روزِ قیامت جس شخص کے پاس یہ سرمایہ نہیں، اس کی کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ اسے کوئی نجات نہیں دلا سکتا۔


الله ہم سب کو اپنے سیدھے راستے کی طرف گامزن کرے -آمین
مصنف: ریحان احمد یوسفی


قرآن، ابدی معجزہ



 معجزے کے بجائےرسول الله کو  بھیجنے والے نے جو چیز ان کے پاس بھیجی ہے وہ یہ قرآن ہے۔ اس کے اندر بصیرت افروز روشنیاں موجود ہیں اور اس کی نمایاں ترین خوبی یہ ہے کہ جو لوگ اس کو مان لیتے ہیں ان کو زندگی کا سیدھا راستہ مل جاتا ہے اور ان کے اخلاق حسنہ میں رحمت الہٰی کے آثار صاف ہویدا ہونے لگتے ہیں۔ 
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم 0 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَاِذَا لَمۡ تَاۡتِهِمۡ بِاٰيَةٍ قَالُوۡا لَوۡلَا اجۡتَبَيۡتَهَا‌ ؕ قُلۡ اِنَّمَاۤ اَتَّبِعُ مَا يُوۡحٰٓى اِلَىَّ مِنۡ رَّبِّىۡ ‌ۚ هٰذَا بَصَآئِرُ مِنۡ رَّبِّكُمۡ وَهُدًى وَّ رَحۡمَةٌ لِّقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ۞
(سورۃ نمبر 7 الأعراف، آیت نمبر 203)
ترجمہ:
اے نبی، جب تم ان لوگوں کے سامنے کوئی نشانی (یعنی معجزہ) پیش نہیں کرتے تو یہ کہتے ہیں کہ تم نے اپنے لیے کوئی نشانی کیوں نہ انتخاب کر لی؟ اِن سےکہو”میں تو صرف اُس وحی کی پیروی کرتا ہوں
 جو میرے ربّ نےمیری طرف بھیجی ہے۔ یہ بصیر ت کی روشنیاں ہیں تمہارے ربّ کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت ہے اُن لوگوں کے لیے جو اسے قبول کریں۔
تفسیر
کفار کے اس سوال میں ایک صریح طعن کا انداز پایا جاتا تھا۔ یعنی ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ  جس طرح تم نبی بن بیٹھے ہو اسی طرح کوئی معجزہ بھی چھانٹ کر اپنے لیے بنا لائے ہوتے۔ لیکن آگے ملاحظہ ہو کہ اس طعن کا جواب کس شان سے دیا جاتا ہے۔
یعنی میرا منصب یہ نہیں ہے کہ جس چیز کی مانگ ہو یا جس کی میں خود ضرورت محسوس کروں اسے خود ایجاد یا تصنیف کر کے پیش کردوں۔ میں تو ایک رسول ہوں اور میرا منصب صرف یہ ہے کہ جس نے مجھے بھیجا ہے اس کی ہدایت پر عمل کروں۔ معجزے کے بجائے میرے بھیجنے والے نے جو چیز میرے پاس بھیجی ہے وہ یہ قرآن ہے۔ اس کے اندر بصیرت افروز روشنیاں موجود ہیں اور اس کی نمایاں ترین خوبی یہ ہے کہ جو لوگ اس کو مان لیتے ہیں ان کو زندگی کا سیدھا راستہ مل جاتا ہے اور ان کے اخلاق حسنہ میں رحمت الہٰی کے آثار صاف ہویدا ہونے لگتے ہیں۔ (تفہیم القران )

🌹🌹🌹
🔰 Quran Subjects  🔰 قرآن مضامین 🔰
"اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا"
The messenger said, "My Lord, my people have deserted this Quran." 
~~~~~~~~~
اسلام دین کامل کو واپسی ....
"اللہ چاہتا ہے کہ تم پر ان طریقوں  کو واضح کرے اور انہی طریقوں پر تمہیں چلائے جن کی پیروی تم سے پہلے گزرے ہوئے صلحاء کرتے تھے- وہ اپنی رحمت کے ساتھ تمہاری طرف متوجّہ ہونے کا ارادہ رکھتا ہے ، اور وہ علیم بھی ہے اور دانا بھی- ہاں، اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ خود اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور نکل جاؤ. اللہ تم پر سے پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے." (قرآن  4:26,27,28]
اسلام کی پہلی صدی، دین کامل کا عروج کا زمانہ تھا ، خلفاء راشدین اور اصحابہ اکرام، الله کی رسی قرآن کو مضبوطی سے پکڑ کر اس پر کاربند تھے ... پہلی صدی حجرہ کے بعد جب صحابہ اکرام بھی دنیا سے چلے گیے تو ایک دوسرے دور کا آغاز ہوا ... الله کی رسی قرآن کو بتدریج پس پشت ڈال کر تلاوت تک محدود کر دیا ...اور مشرکوں کی طرح فرقہ واریت اختیار کرکہ دین کامل کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے-  ہمارے مسائل کا حل پہلی صدی کے

اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ : اسلامی ریاست کی ایک اہم ذمہ داری، مساجد اور مدارس


دین اسلام کو نافذ کرنا اسلامی حکومت کی اہم ذمہ داری ہے،" اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ " اس کا اہم جزو ہے ، اللہ کا فرمان ہے:
اَ لَّذِيۡنَ اِنۡ مَّكَّنّٰهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَاَمَرُوۡا بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَنَهَوۡا عَنِ الۡمُنۡكَرِ‌ ؕ وَلِلّٰهِ عَاقِبَةُ الۡاُمُوۡرِ  (الحج 22:41)
"یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰة دیں گے، معرُوف کا حکم دیں گے اور مُنکَر سے منع کریں گے۔  اور تمام معاملات کا انجامِ کار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔"( الحج (22:41)

نماز کانطام ( اَقَامُوا الصَّلٰوةَ) قائم کرنے میں مساجد کا انتظام،  امام، خطیب ، ان کی تعلیم و تربیت شامل ہے۔ (ترکی  اور دوسرے مسلم آبادی والے  ممالک میں یہ نافذ ہے)
انڈیا مین انگریز کی غلامی میں یہ سب فرائض علما اکرام نے سنبھال لئیے اور دین  اسلام کو زوال سے بچانے میں اپنا کردار ادا کیا ، کچھ کمزوریوں کے باوجود یہ ایک اہم فریضہ ادا کر رہے ہیں- انگریزی دور سے پہلے انڈیا میں صرف دو مسلمان فرقہ یا گروہ تھے ، پھر دیو بندی ، بریلوی ، اہل حدیث کا اضافہ ہوا ، قادیانی مرزائی نے سرخ لائن کراس کی اور اسلام سے خارج ہوا-  اب لاتعداد مدارس ہیں اور ہر چھوٹے بڑے فرقے کے مدارس اور مساجد ہیں جو معاشرہ کی دینی ضروریات مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ فرقہ واریت پھیلانے میں بھی اپنا اپنا کردار ادا کر رہے ہیں- 
قیام پاکستان کے بعد حکومت،  ریاست اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہے
اب حکومت اوردینی مدارس کے منتظمین کی ذمہ داری ہے کہ بتدریج قرآن کے حکم پر عمل درآمد کریں نہ کہ مخالفت ۔۔ 
یہ درست ہے کہ ملک کا تعلیمی نظام برباد ہے ، ابھی تک سمت طے نہیں اور مدارس کو اگر حکومت سنبھال لے تو جو کچھ ہے وہ بھی برباد ہو جائیے گا۔۔ لیکن مدارس کی حالت بھی کوئی قابل فخر نہیں- حکومت کا نظام بہتری چاہتا ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ قرآن کے احکام عمل درآمد کو اس بہانے سے روک دیا جایے کہ 75 سال گزر گیے- یہ ناہلی نہیں بددیانتی ہے-  
اس لئیے قران کے حکم پر بتدریج عمل کی حکمت عملی road map پر متفق ہونا ضروری ہے ۔۔
یہ کام مرحلہ وار ہوگا جس میں وقت درکار ہے ،مگر اس کا اُغاز بھی نہیں ہو ا ۔۔ کیوں؟
مدارس کی انتظامیہ اعلی ِخدمت کے ساتھ ساتھ  ایک stake holder بن چکی ہیں ۔۔ 
ان کی دین پر مکمل اجارہ داری monopoly ہے جس کو وہ حکومت سے شئیر کرنے کو تیار نہیں ۔۔۔  کیونکہ اس میں معاشی ، سیاسی،  معاشرتی، فرقہ وارانہ ، غیر ملکی طاقتوں کے مفادات وابستہ ہیں-
 قرآن (22:41)  پر عمل درآمد کو وہ اپنے لئیے خطرہ سمجھتے ہیں ۔ اس لئیے اس کی بات بھی نہیں کرتے کہ آئیے ہم حکومت کو اپنی قرآنی ذمہ داری اٹھانے میں مدد کرنے کو تیار ہیں ۔۔
جب تک ِحکومت اور مدارس کی انتظامیہ اپنے مفادات کو بالاطاق رکھ کر قرآن (22:41) ، پر عمل درآمد میں مخلص نہیں ہوں کے یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ ۔۔۔ 
نقصان معاشرہ کا ہے اور امام ، خطیب ، مساجد کا سٹاف جن کے نہ کوئی پے  سکیل ہیں،  نہ پنشن،  نہ تعلیم ، نہ میڈیکل ۔۔۔ ان کا استحصال کرنے میں مدارس کی اشرافیہ اور حکومت دونوں ذمہ وار ہیں ۔۔
وہ چندے پر چل رہے ہیں اور دین کی خدمت بھی کرتے ہیں،  قرآن پڑھاتے ہیں تو ہم کہتے ہیں اجرت کیوں؟ مفت کرو ۔۔ بیمار ہوں تو اعلان ہوتا ہے اور چندہ اکٹھا کرو ۔۔ جو معاشرہ اپنے دین اسلام کے محافظوں سے یہ سلوک کرے (menial ) کی طرح وہ دنیا فتح کرنے کے خواب دیکھنا چھوڑ دے ، اخرت تو اللہ دیکھ لے گا ۔۔۔ 
ترکی میں بہت عمدہ نظام ہے 
ترکی:  ایک چوتھائی قابل طلباء امام خطیب اسکولوں میں جائیں گے

ترکی کا کہنا ہے کہ ہائی اسکولوں میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ایک چوتھائی طلباء کو  اسلامی مدرسوں میں بھیجا جائے گا۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسا کر کے اسلامی تعلیم کو غیر منصفانہ طور پر ترجیح دی جا رہی ہے۔
ترکی میں فی الحال مڈل اسکولوں کے آخری سال میں زیر تعلیم قابل طالبعلموں کی دس فیصد تعداد کو ایک نئے امتحانی نظام کے تحت رواں برس جون میں اسلامی تعلیم کے مدرسوں میں بھیجا جائے گا۔ یہ نیا تعلیمی نظام صدر طیب ایردوان کی ہدایت کے تحت مرتب کی گئیں تعلیمی اصلاحات کا حصہ ہے۔

ترک صدر ایردوان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اُن کے مقاصد میں سے ایک مقصد ترک نسل کو ’پاک‘ بنانا ہے۔ اس مقصد کے لیے ترکی میں ’امام خطیب‘ نامی اسکولوں کا سلسلہ مستقبل کے امام اور مبلغین کو تربیت دینے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ گزشتہ چھ برسوں میں ان اسکولوں میں طالب علموں کی تعداد لاکھوں میں پہنچ چکی ہے۔

ترک وزیر تعلیم عصمت یلدیز نے سی این این ترک سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امام خطیب اسکولوں کی مختص تعداد سائنسی اور عمومی تعلیم کے باسٹھ فیصد اسکولوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

عصمت یلدیز نے مزید کہا کہ ہر کسی کو امام خطیب اسکول نہیں بھیجا جا رہا اور اگر کوئی ایسا کہتا ہے تو یہ مبالغہ آرائی ہو گی۔

دوسری جانب ترک اپوزیشن پارٹی سی ایچ پی کے رکن پارلیمان اوتکو کاکیروزر نے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب حکومت کامیاب طلبا کو براہ راست ہی امام خطیب اسکولوں میں بھیج رہی ہے کیونکہ وہ ان اسکولوں کی ڈیمانڈ میں مطلوبہ کامیابی حاصل نہیں کر سکی۔
ارگان نے ابتدائی تعلیم مدرسہ قاسم پاشا سے حاصل کی۔جہاں اسلامی اور مغربی تعلیم دونوں دی جاتی تھی۔1965میں قرآن پاک حفظ کرکے فارغ ہوئے۔اسکے بعد امام خطیب ھائی سکول سے تعلیم حاصل کی ۔1973میں میٹرک اور دیگر اضافی مضامین پاس کرکے ایوب ھائی سکول سے ڈپلومہ کی سند حاصل کی۔اسی طرح مرمرہ یونیورسٹی سے بزنس ایڈمنیسٹریشن ڈگری حاصل کی۔وہ شروع ہی سے سیاسی دنیا میں دلچسپی رکھتے تھے 1976میں استمبول میں یوتھ پارٹی کے ہیڈ مقرر ہوئے ۔مارچ 1994میں استمبول کے مئیر منتخب کیئےگئے۔اس وقت استمبول پانی کی قلت ،آلودگی اور ٹریفک جیسے مسائل کا شکار تھا۔ان مسائل کوختم کرکے انہوں نے استمبول کو جدید شہر کی شکل دی اورکرپشن کو جڑسے ختم کردیااور استمبول کے دو بیلین ڈالرز کے قرضے کا بڑا حصہ بھی واپس کردیا۔1998میں ایک جلسے میں اسلامی نظم پڑھنے کے جرم میں چار مہینے کی سزا سنائی گئی اور مئیر شپ سے بھی ہٹادیاگیا۔2001میں انہونے جسٹس اینڈویلپمینٹ کے نام سے ایک پارٹی بنائی۔2002 کے الیکشن میں انکی پارٹی نے دوتہائی ووٹ لے کر فتح حاصل کی۔تب سے اب تک یہ پارٹی ترکی کی حکومت کوکامیابی سے سنبھالے ہوئے ہے۔رجب طیب اردگان کے سفر میں بہت سی مشکلات آئی مگر طیب اردگان ہمت نہ ہاری۔۔۔۔
~~~~~~~~~
🌹🌹🌹
🔰 Quran Subjects  🔰 قرآن مضامین 🔰
"اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا" [ الفرقان 25  آیت: 30]
The messenger said, "My Lord, my people have deserted this Quran." (Quran 25:30)
~~~~~~~~~
اسلام دین کامل کو واپسی ....
"اللہ چاہتا ہے کہ تم پر ان طریقوں  کو واضح کرے اور انہی طریقوں پر تمہیں چلائے جن کی پیروی تم سے پہلے گزرے ہوئے صلحاء کرتے تھے- وہ اپنی رحمت کے ساتھ تمہاری طرف متوجّہ ہونے کا ارادہ رکھتا ہے ، اور وہ علیم بھی ہے اور دانا بھی- ہاں، اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ خود اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور نکل جاؤ. اللہ تم پر سے پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے." (قرآن  4:26,27,28]
اسلام کی پہلی صدی، دین کامل کا عروج کا زمانہ تھا ، خلفاء راشدین اور اصحابہ اکرام، الله کی رسی قرآن کو مضبوطی سے پکڑ کر اس پر کاربند تھے ... پہلی صدی حجرہ کے بعد جب صحابہ اکرام بھی دنیا سے چلے گیے تو ایک دوسرے دور کا آغاز ہوا ... الله کی رسی قرآن کو بتدریج پس پشت ڈال کر تلاوت تک محدود کر دیا ...اور مشرکوں کی طرح فرقہ واریت اختیار کرکہ دین کامل کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے-  ہمارے مسائل کا حل پہلی صدی کے اسلام دین کامل کو واپسی میں ہے  .. مگر کیسے >>>>>>

Popular Books