اللہ چاہتا ہے :
یُرِیۡدُ اللّٰہُ لِیُبَیِّنَ لَکُمۡ وَ یَہۡدِیَکُمۡ سُنَنَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ وَ یَتُوۡبَ عَلَیۡکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۲٦﴾ وَ اللّٰہُ یُرِیۡدُ اَنۡ یَّتُوۡبَ عَلَیۡکُمۡ ۟ وَ یُرِیۡدُ الَّذِیۡنَ یَتَّبِعُوۡنَ الشَّہَوٰتِ اَنۡ تَمِیۡلُوۡا مَیۡلًا عَظِیۡمًا ﴿۲۷﴾ يُرِيدُ اللَّـهُ أَن يُخَفِّفَ عَنكُمْ ۚ وَخُلِقَ الْإِنسَانُ ضَعِيفًا ﴿ النساء ٢٨﴾
اللہ چاہتا ہے کہ تم پر ان طریقوں کو واضح کرے اور انہی طریقوں پر تمہیں چلائے جن کی پیروی تم سے پہلے گزرے ہوئے صلحاء کرتے تھے ۔ وہ اپنی رحمت کے ساتھ تمہاری طرف متوجّہ ہونے کا ارادہ رکھتا ہے ، اور وہ علیم بھی ہے اور دانا بھی- ہاں، اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ خود اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور نکل جاؤ. اللہ تم پر سے پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے (4:26,27,28]
Allah wishes to explain things to you and guide you to the ways of those who have gone before you and to turn to you in mercy. Allah is all knowing and all wise. He wishes to turn towards you in mercy, but those who follow their own passions want you to drift far away from the right path. God wishes to lighten your burdens, for, man has been created weak. (Quran 4: 26,27,28)
قرآن کو چھوڑنے والے :
وَعَنْ عَلِیِّ رَضِیَ اﷲُعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ یُوْشِکُ اَنْ یَّاْتِیَ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لَا یَبْقَی مِنَ الْاِسْلَامِ اِلَّا اسْمُہۤ وَلَا یَبْقٰی مِنَ الْقُرْاٰنِ اِلَّا رَسْمُہ، مَسَاجِدُ ھُمْ عَامِرَۃٌ وَھِیَ خَرَابٌ مِنَ الْھُدٰی عُلَمَآءُ ھُمْ شَرُّ مَنْ تَحْتَ اٰدِیْمِ السْمَآءِ مِنْ عِنْدِھِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَۃُ وَفِیْھِمْ تَعُوْدُ۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان)
" اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ عنقریب لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ اسلام میں صرف اس کا نام باقی رہ جائے گا اور قرآن میں سے صرف اس کے نقوش باقی رہیں گے۔ ان کی مسجدیں (بظاہر تو) آباد ہوں گی مگر حقیقت میں ہدایت سے خالی ہوں گی۔ ان کے علماء آسمان کے نیچے کی مخلوق میں سے سب سے بدتر ہوں گے۔ انہیں سے (ظالموں کی حمایت و مدد کی وجہ سے ) دین میں فتنہ پیدا ہوگا اور انہیں میں لوٹ آئے گا (یعنی انہیں پر ظالم) مسلط کر دیئے جائیں گے۔" (بیہقی)
یہ حدیث اس زمانہ کی نشان دہی کر رہی ہے جب عالم میں اسلام تو موجود رہے گا مگر مسلمانوں کے دل اسلام کی حقیقی روح سے خالی ہوں گے، کہنے کے لئے تو وہ مسلمان کہلائیں گے مگر اسلام کا جو حقیقی مدعا اور منشاء ہے اس سے کو سوں دور ہوں گے۔
قرآن جو مسلمانوں کے لئے ایک مستقل ضابطۂ حیات اور نظام علم ہے اور اس کا ایک ایک لفظ مسلمانوں کی دینی و دنیاوی زندگی کے لئے راہ نما ہے۔ صرف برکت کے لئے پڑھنے کی ایک کتاب ہو کر رہ جائے گا۔ چنانچہ یہاں " رسم قرآن" سے مراد یہی ہے کہ تجوید و قرأت سے قرآن پڑھا جائے گا، مگر اس کے معنی و مفہوم سے ذہن قطعاً نا آشنا ہوں گے، اس کے اوامر و نواہی پر عمل بھی ہوگا مگر قلوب اخلاص کی دولت سے محروم ہوں گے۔
مسجدیں کثرت سے ہوں گی اور آباد بھی ہوں گی مگر وہ آباد اس شکل سے ہوں گی کہ مسلمان مسجدوں میں آئیں گے اور جمع ہوں گے لیکن عبادت خداوندی، ذکر اللہ اور درس و تدریس جو بناء مسجد کا اصل مقصد ہے وہ پوری طرح حاصل نہیں ہوگا۔ اسی طرح وہ علماء جو اپنے آپ کو روحانی اور دنی پیشوا کہلائیں گے۔ اپنے فرائض منصبی سے ہٹ کر مذہب کے نام پر امت میں تفرقے پیدا کریں گے، ظالموں اور جابروں کی مدد و حمایت کریں گے۔ اس طرح دین میں فتنہ و فساد کا بیج بو کر اپنے ذاتی اغراض کی تکمیل کریں گے۔ (مشکوۃ شریف ۔ جلد اول ۔ علم کا بیان ۔ حدیث 263)
افتراق کی سبب دو چیزیں ہیں، عہدہ کی محبت یا مال کی محبت۔ سیدنا کعب بن مالک انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”ماذئبان جائعان أرسلا في غنم بأفسد لھا من حرص المرء علی المال و الشرف لدینہ” ترجمہ : دو بھوکے بھیڑئیے ، بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیئے جائیں تو وہ اتنا نقصان نہیں کرتے جتنا مال اور عہدہ کی حرص کرنے والا اپنے دین کے لئے نقصان دہ ہے۔ (الترمذی:۲۳۷۶ وھو حسن)
وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَـٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا ﴿سورة الفرقان25:30﴾
اور رسول کہے گا کہ "اے میرے رب، میری قوم کے لوگوں نے اس قرآن کو نشانہ تضحیک بنا لیا تھا" ﴿سورة الفرقان25:30﴾
--------------------
پیش لفظ
بسم الله الرحمن الرحيم
دین اسلام کی بنیاد قرآنو سنت پر ہے - قرآن اللہ کی طرف سے نبی آخر الزمان حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم پرتئیس برس میں نازل ہوا، جس کو حفظ اور کتابت کے زریعہ محفوظ کیا گیا، خلفاء راشدین کی کوششوں سے مدون نسخےحضرت عثمان (رضی الله) کے دور میں تقسیم کر دئےگئے- قرآن تا قیامت بنی نوع انسانیت کے لیے راہ ہدایت و نجات ہے- رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی سنت قرآن کا عملی نمونہ ہے جو تواتر سے نسل در نسل منتقل ہوتی ہے- احادیث کی کتب میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم اور صحابہ اکرام سے منسوب کلام، عمل اورتاریخی واقعات ہیں جن کو تحریری شکل میں خلفاء راشدین نے کتاب اللہ کے علاوہ مدون کرنا ضروری نہ سمجھا کسی زاتی وجہ سے نہیں کہ ان سے زیادہ رسول الله تعالی صلی الله علیہ وسلم سے محبت کون کرسکتا ہے؟ حضرت عمر (رضی الله) اور حضرت علی (رضی الله) بھی کتاب اللہ کے ساتھ کسی اور کتاب کودرست نہیں سمجھتے تھے کہ پہلی قومیں اس طرح کتاب اللہ کو چھوڑ کر برباد ہوئیں- قرآن، اب قرآن کے علاوہ کسی اورحدیث، کلام ، کتاب کا انکارکرتا ہے۔ خلفاء راشدین کے فیصلہ پر پہلی صدی حجرہ تک عمل ہوتا رہا- تیسری صدی میں مشہور احادیث کی کتب مدون ہوئیں ، جس کو وہ بہت فائدہ مند سمجھتے تھے، دین کی بنیاد انسانی نفس ، سمجھ کے مطابق فائدہ، نقصان پر نہیں بلکہ قرآن و سنت کی بنیاد پر ہوتی ہے، کس عمل میں نقصان زیادہ ہے یا فائدہ یہ الله تعالی کے بعد رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اور پھر خلفاء راشدین بہترسمجھتے ہیں، یہ بالترتیب اطاعت ہی اسلام کی بنیاد ہے-( وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا)
رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے خلفاء راشدین کی سنت اور خاص طور پر حضرت ابو بکر صدیق (رضی الله) اور حضرت عمر (رضی الله) کا نام لے ان کی سنت پر چلنے کا حکم دیا - رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت الله تعالی کی اطاعت ہے اور خلاف درزی اللہ کے حکم کا انکار۔ ایک کام جو شرعی طور پر جائز نہ ہو اس کو کیسےدرست تسلیم کیا جاسکتا ہے جبکہ نقصانات بھی ظاہرہوچکے ہوں- جس وجہ سے منع فرمایا تھا ہمارے علماء بھی علماء یہود و نصاری کے راستہ پر چل نکلے ہیں ، غیر ضروری باتوں فرقہ واریت پر زور اور اہم تعلیمات صرف زبانی جمع خرچ - احادیث کی کتب کو وحی کے طور پر قرآن کے ساتھ لازم ملزوم سمجھا جاتا ہے- جبکہ اسلام کے بنیادی 6 عقائید میں صرف اللہ کی کتب جو پیغمبروں پر نازل ہوئیں ایمان لازم ہے۔ احادیث کی غیرمستند کتب سے مستند ترین کتاب اللہ کی اہمیت کم ہوتے ہوتے تلاوت تک محدود ہو چکی ہے ( سند دینے والے تو منع کرکہ دنیا سے چلے گئیے)، مدارس میں بھی قرآن پر توجہ سرسری ہے- ایک ڈسکشن میں یہ معلوم کرکہ افسوس ہوا کہ اسلامک اسٹڈیز میں ڈاکٹریٹ کرنے والے عالم دین کو یہ علم نہیں کہ قرآن کے مطابق یہود و نصاری نےعلماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا رب کا درجہ دیا (9:31)- رسول الله تعالی صلی الله علیہ وسلم کے بعد دین اسلام کی ترویج میں خلفاء راشدین اور صحابہ اکرام نے مرکزی کردار ادا کیا، بعد والے کسی طرح بھی ان کو نظر انداز کرکہ اپنی طرف سے دین کی بنیاد میں ترامیم کرنے کا اختیار نہیں رکھتے یہ دروازہ بند ہوچکا جو ہزاروں تاویلیں کرنے سے بھی نہیں کھل سکتا- اسلام مکمل اطاعت ( total submission ) کا نام ہے- پہلی صدی کے بعد امام ابو حنیفہ نے فقہ پر کام کیا وہ محدث بھی تھے کسی بھی مشہور محدث سے زیادہ، صحابہ سے ملاقات کا بھی تذکرہ ملتا ہے ، مگر انہوں نے حدیث کی کتاب مدون نہ کی ، کیوں کہ وہ خلفاء راشدین کے حکم اور مقام کو اپنی عقل اور نفس سے بلند سمجھتے تھے-
قرآن کی اسلام اور مسلمانوں کی زندگی میں مرکزی حثیت کو بحال کرنے کی اشد ضرورت ہے، تاکہ فرقہ واریت ، اخلاقی پستی، فکری جمود اور دوسرے مسائل کا سدباب ہو سکے- اس لیئے ضرورت ہے کہ اسلام میں کتاب اللہ کے ساتھ دوسری کتب مدون کرنےکے معامله کا قرآن و سنت کی روشنی میں تحقیق و تجزیہ کیا جایےکہ:
کیا صرف قرآن الله تعالی کی آخری کتاب ہے یا اس کے ساتھ دوسری کتب بھی شامل ہیں؟
حقائق سب کےعلم میں لائے جائیں چاہےکتنے تلخ بھی ہوں، تاکہ علماء پرانی غلطیوں کا لاحاصل دفاع کرنےکی بجائے, پہلی صدی کےسادہ ، آسان، کامل دین اسلام کو اصل شکل میں بحال کرنے میں اپنا مثبت کردار ادا کرسکیں- الله تعالی کا فرمان ہے:
یُرِیۡدُ اللّٰہُ لِیُبَیِّنَ لَکُمۡ وَ یَہۡدِیَکُمۡ سُنَنَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ وَ یَتُوۡبَ عَلَیۡکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۲۶﴾ وَ اللّٰہُ یُرِیۡدُ اَنۡ یَّتُوۡبَ عَلَیۡکُمۡ ۟ وَ یُرِیۡدُ الَّذِیۡنَ یَتَّبِعُوۡنَ الشَّہَوٰتِ اَنۡ تَمِیۡلُوۡا مَیۡلًا عَظِیۡمًا ﴿۲۷﴾ يُرِيدُ اللَّـهُ أَن يُخَفِّفَ عَنكُمْ ۚ وَخُلِقَ الْإِنسَانُ ضَعِيفًا ﴿٢٨﴾
اللہ چاہتا ہے کہ تم پر ان طریقوں کو واضح کرے اور انہی طریقوں پر تمہیں چلائے جن کی پیروی تم سے پہلے گزرے ہوئے صلحاء کرتے تھے ۔ وہ اپنی رحمت کے ساتھ تمہاری طرف متوجّہ ہونے کا ارادہ رکھتا ہے ، اور وہ علیم بھی ہے اور دانا بھی- ہاں، اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ خود اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور نکل جاؤ. اللہ تم پر سے پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے (4:26,27,28]
یہ "ریسرچ پیپر" اسی اعلی مقصد کے حصول کی ایک کاوش ہے- "ریسرچ پیپر" کے تین حصے ہیں ، پہلے "اہم معلومات" ، دوسرے حصہ میں " تحقیق و تجزیہ" اور تیسرے حصہ میں صرف اس مقصد کے لیے مخصوص وہاٹس ایپ گروپ میں اعلی تعلیم یافتہ، اپنے اپنے فیلڈ میں ایکسپرٹ دوستوں سے دلچسپ سوال و جواب (Q&A) - اس پیپر میں آپ کو تکرار (repetitions) ملے گی کہ گراں محسوس ہو مگر موضوع کی اہمیت کے پیش نظر تکرار ناگریز ہے , جہاں ممکن ہو سکا تکرار کو کم کرنے کے لیے "فٹ نوٹس" پر ویب لنکس متعلقہ موضوع پر مواد مہیا کرتے ہیں، جس سے فائدہ حاصل کریں- ٹائپنگ اور اردو زبان کی غلطیاں نظر انداز کرتے ہوے مشمولات (contents) پرتوجہ دیں-
مکمل مطالعہ اورغور و فکر کے بعد مفید مشورے اور تجاویز کا خیر مقدم ، لیکن تنقید برایے تنقید، اور قرآن کی "محکم آیات" کےعلاوہ آیات سے ظن ,گمان قیاس آرائیاں, اندازے,آراء (speculations, inferences, decuctions، guess work, inference) ,نتیجه گیری, کی بُنیادووں پر دین کی نہ عمارت کھڑی کی جاسکتی نہ نۓ "بنیادی احکام' [ Fundamentals of Faith] نکالے جاسکتے ہیں , جبکہ قرآن کی واضح محکم آیات موجود ہوں جو سنت (اور غیر متنازعہ تاریخی حقائق) سے بھی ثابت ہوں:
قرآن سے ملنے والا علم وہ حق ہے جس کے مقابلے میں ظن و گمان کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ (النجم 53:28)
قرآن ایسا کلام ہے جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں جو بالکل سیدھی بات کرنے والا کلام ہے (الکہف 18:1,2)
اور ہم نے آپ پر ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں ہر چیز کی وضاحت موجود ہے اور (اس میں) مسلمانوں کے لئے ہدایت، رحمت اور خوشخبری ہے (16:89)
وہی تو ہے جس نے آپ پر کتاب نازل کی۔ جسکی کچھ آیات تو محکم ہیں اور یہی (محکمات) کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور دوسری متشابہات ہیں۔ اب جن لوگوں کے دل میں کجی ہے (پہلے ہی کسی غلط نظریہ پر یقین رکھتے ہیں) وہ فتنہ انگیزی کی خاطر متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔ اور انہیں اپنے حسب منشا معنی پہنانا چاہتے ہیں حالانکہ ان کا صحیح مفہوم اللہ کے سوا کوئی بھی نہیں جانتا۔ اور جو علم میں پختہ کار ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم ان (متشابہات) پر ایمان لاتے ہیں۔ ساری ہی آیات ہمارے پروردگار کی طرف سے ہیں۔ اور کسی چیز سے سبق تو صرف عقلمند لوگ ہی حاصل کرتے ہیں. (قرآن 7:3)
جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ زندہ رہے، یقیناً خدا سُننے والا اور جاننے والا ہے (8:42)
ہر سخت جھوٹے گناہگار کے لیے تباہی ہے جو آیتیں اللہ کی اپنے سامنے پڑھی جاتی ہوئی سنے پھر بھی غرور کرتا ہوا اس طرح اڑا رہے کہ گویا سنی ہی نہیں تو ایسے لوگوں کو دردناک عذاب کی خبر ( پہنچا ) دیجئے (الجاثية45:7,8)
بریگیڈئر آفتاب احمد خان (ر )
لاہور، پاکستان
فروری 2020 /10 جمادی الثانی 1441 ھ
تحقیق کیوں؟
ہمارے معاشرہ میں مذہبی عدم برداشت، شدت پسندی،سماجی،معاشرتی، اخلاقی، معاشی ،سیاسی بےراہ روی ، مشرکانہ رسوم اور گوناں مسائل کی وجہ قرآن سے دوری ہے- قبیح رسوم ہمارے معاشرہ میں تیزی سے پھیل رہی ہیں- علماء کا ایک طبقہ بھی ان برائیوں کو روکنے کی بجایے ان کا حصہ بن گیا ہے- سوشل میڈیا نے ہر ایک کو سہولت مہیا کی ہے کہ وہ اپنے نظریات کا اظھار اور فروغ کر سکے- افسوس کہ اس سہولت کو مثبت کی بجایے منفی طور پر دوسرے مسلمانوں پر تنقید اور طعنہ زنی کے لیے استعال کیا جاتا ہے- دین کا محدود علم مزید خرابی کی وجہ ہے- ہر ایک اپنے فرقہ ، مسلک کا دفاع اور دوسروں کی تضحیک میں مگن ہے اور اس کو دین اسلام کی خدمت اور دعوه سمجھ رہے ہیں- اس سلسلہ میں احادیث کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے، اکثر تحقیق، ریفرنس اور درجہ بندی کو ملحوظ خاطر رکھے بغیر- پچھتر( 75) کتب، پچیس ہزار احادیث (لاتعداد جو عام پبلش نہیں ہوئیں) بہت بڑی تعداد ہے جس پر عبور رکھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں- قرآن اور سنت جو مستند اور محفوظ ترین ہیں، سے کسی حد تک احتیاط کی جاتی ہے، ایک وجہ لاعلمی اور دوسرے غلطی فوری طور پر پکڑے جانے کا احتمال اور شدید ردعمل-
اسی سے منسلک دوسرا مسئلہ فرقہ واریت ہے جس نے امت مسلمہ کو بہت نقصان پنہچایا ہے جو تسلسل سے جاری ہے- فتنہ، فساد اور دہشت گردی کی بنیاد فرقہ واریت ہے جس کو روکنے میں علماء کا موئثر کردار بہت اہم ہے- گمراہ لوگ قرآن اوراپنی من پسند احادیث کے حوالوں کی من گھڑت تاویلون سے دینی ، ذہنی پراگندگی ، فتنہ و فساد اور دینی فکر میں اپنے نظریات کی ملاوٹ کرکہ نہ صرف دہشت گردی کا جواز گھڑ کر سادہ لوح مسلمان نوجوانوں کو جنگ کے ایندھن کے طور پر استعمال کرتے ہیں بلکہ فکری انتشار پیدا کرکہ غیر محسوس طریقہ سے فرقہ در فرقہ بناتے ہیں۔ وہ سادہ مسلمان اکٹریت کے یہود کے مذہبی پیشوا کے طور پر نجات دہندہ بن کر ان سے معاشی، سیاسی اور دوسرے فوائد حاصل کرتے ہیں۔ جو مسلمان ان کی فزیکل دسترس سے باہر ہیں ان کو زہنی غلام بنا کر سوشل میڈیا پرپراپیگنڈہ کروا کہ معاشی مدد اور پبلک سپورٹ حاصل کر تے ہیں-
جب پورا معاشرہ ابتری کا شکار ہے وہاں علماء کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں؟ علماء حق کا فرض ہے کہ وہ علماء اور معاشرہ کی دینی اور دنیاوی فلاح کے حصول میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ علماء یہود و نصاری کی مثالیں قرآن نے ہماری راہ نمائی کے دی ہیں، جس میں سبق ہے کہ ان کے علماء اللہ کی کتاب اور انبیاء کی تعلیمات پر اپنے نظریات کو ترجیح دیتے تھے۔ تورات کو چھوڑ کر تلمود کو پکڑ لیا جو علماء کی تفسیریں، تحریریں ہیں ۔ ادھر بھی ایسے ہی حالا ت ہیں جس خدشہ کا کھلا عام خلفاء راشدین نے اعلان کیا تھا مگر ہمارا نفس حاوی ہو گیا اور ہم نے ان کی سنت کو رد کرکہ اپنے لئیے تباہی کا راستہ اختیار کر لیا اور پھر کہتے ہیں کہ یہ کیا ہو گیا؟ یہ اللہ کا عذاب ہے اپنے نفس اور دوسروں کو خدا بنانے کا نتیجہ !
اس غلو اور جہالت کا پرامن طریقہ سے قران و سنت کی طاقت سے سدباب کرنا حکومت ، ارباب اختیار ، انٹلیکچوئیلز اور ہر ایک مسلمان کا دینی فریضہ ہے۔ ہم کو معلوم ہے کہ قران نے دعوہ ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا حکم دیا ہے۔ اس مقالہ کا مقصد آپ کو ناقابل تردید حقائق سے آگاہ کرنا ہے ، صدیوں سے قائیم مائینڈ سیٹ کو راتوں رات تبدیل نہیں کیا جاسکتا مگر ہمارا فرض کوشش کرنا ہے ، باقی ھدائیت دینا صرف اللہ کے اختیار میں ہے، جو شخص کوشش کرتا ہے اللہ اسے ہدائیت دیتا ہے اور جو جان بوجھ کر گمراہی اختیار کرے وہ اسے ادھر بھٹکنے کو چھوڑ دیتا ہے- دین میں جبر نہیں ، ہم کسی پر داروغہ نہیں ، ہمارا فرض صرف قرآن و سنت رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے اعلان حق کرنا ہے۔
یُرِیۡدُ اللّٰہُ لِیُبَیِّنَ لَکُمۡ وَ یَہۡدِیَکُمۡ سُنَنَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ وَ یَتُوۡبَ عَلَیۡکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۲۶﴾ وَ اللّٰہُ یُرِیۡدُ اَنۡ یَّتُوۡبَ عَلَیۡکُمۡ ۟ وَ یُرِیۡدُ الَّذِیۡنَ یَتَّبِعُوۡنَ الشَّہَوٰتِ اَنۡ تَمِیۡلُوۡا مَیۡلًا عَظِیۡمًا ﴿۲۷﴾ يُرِيدُ اللَّـهُ أَن يُخَفِّفَ عَنكُمْ ۚ وَخُلِقَ الْإِنسَانُ ضَعِيفًا ﴿٢٨﴾
اللہ چاہتا ہے کہ تم پر ان طریقوں کو واضح کرے اور انہی طریقوں پر تمہیں چلائے جن کی پیروی تم سے پہلے گزرے ہوئے صلحاء کرتے تھے ۔ وہ اپنی رحمت کے ساتھ تمہاری طرف متوجّہ ہونے کا ارادہ رکھتا ہے ، اور وہ علیم بھی ہے اور دانا بھی- ہاں، اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ خود اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور نکل جاؤ. اللہ تم پر سے پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے (4:26,27,28]
ان خواہشات نفس کی پیروی کرنے والوں سے مراد وہ ہر طرح کے لوگ ہیں جو اللہ کی ہدایات پر اپنے آباؤ اجداد کے رسم و رواج کو مقدم سمجھتے اور انہی چیزوں سے محبت رکھتے ہیں خواہ وہ یہود و نصاریٰ ہوں یا منافق یا دوسرے مشرکین ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے معاشرتی برائیوں کے خاتمہ کے لیے بیشمار ایسے احکامات نازل فرمائے جن پر عمل کرنا اکثر لوگوں کو ناگوار تھا-
اس طرح یہ نادان لوگ اس اصلاح کے کام میں رکاوٹیں ڈال رہے تھے جو اس وقت احکام الہٰی کے تحت انجام دیا جا رہا تھا ۔ دوسری طرف یہودی تھے جنہوں نے صدیوں کی موشگافیوں سے اصل خدائی شریعت پر اپنے خود ساختہ احکام و قوانین کا ایک بھاری خول چڑھا رکھا تھا ۔ بے شمار پابندیاں اور باریکیاں اور سختیاں تھیں جو انہوں نے شریعت میں بڑھالی تھیں ۔ بکثرت حلال چیزیں ایسی تھیں جنہیں وہ حرام کر بیٹھے تھے ۔ بہت سے اوہام تھے جن کو انہوں نے قانون خداوندی میں داخل کر لیا تھا ۔
اب یہ بات ان کے علماء اور عوام دونوں کی ذہنیت اورمزاج کے بالکل خلاف تھی کہ وہ اس سیدھی سادھی شریعت کی قدر پہچان سکتے جو قرآن پیش کر رہا تھا ۔ وہ قرآن کے احکام کو سن کر بے تاب ہو جاتے تھے ۔ ایک ایک چیز پر سو سو اعتراضات کرتے تھے ۔ ان کا مطالبہ تھا کہ یا تو قرآن ان کے فقہاء کے تمام اجتہادات اور ان کے اسلاف کے سارے اوہام و خرافات کو شریعت الہٰی قرار دے ، ورنہ یہ ہرگز کتاب الہٰی نہیں ہے-
یہ اشارہ ہے منافقین اور قدامت پرست جہلاء اور نواحی مدینہ کے یہودیوں کی طرف ۔ منافقین اور قدامت پرستوں کو تو وہ اصلاحات سخت ناگوار تھیں جو تمدن و معاشرت میں صدیوں کے جمے اور رچے ہوئے تعصبات اور رسم و رواج کے خلاف کی جارہی تھیں - اسلام کو بھی اس قسم کے حالات کا چیلنج پیش ہے جس کا تدارک ضروری ہے-
موضوع تحقیق (تھیم) :
دینی معاملات میں راہنمائی کے لئیے کتاب اللہ قرآن، سنت رسول الله تعالی صلی الله علیہ وسلم اور ان کے قریب ترین چار ساتھی اصحاب و خلفاء راشدین ، حضرت ابو بکر(رضی اللہ)، حضرت عمر (رضی اللہ)، حضرت عثمان (رضی اللہ) اور حضرت علی (رضی اللہ) کی سنت کو باقی سب لوگوں پر دائیمی ترجیح حاصل ہے۔ ان کے طریقہ سے دین اسلام کو پہلی صدی کے اصل خالص دین اسلام کی طرف واپس لے جانا ہے جس کے کمال پر پہنچنے کا اعلان اللہ تعالی نےحجۃ الوداع (10 ہجری۔ 631ء) کو کردیا تھا (المائدہ ٥:٣)- کمال کےبعد زوال شروع ہو جاتا ہے جو ابتک جاری ہے… ہماری خواہش دعا اورکوشش ہونی چاہیے کہ اس "کمال" کی منزل کا سفر کبھی نہ چھوڑیں اور پہلی صدی ہجری کے دین کامل اسلام کے احیاء کی جدوجہد کریں-
قرآن کریم الله تعالی کی طرف نازل کردہ تمام بنی نوع انسان کے لیے تا قیامت آخری کتاب ہدایت ہے، جو قرآن کے مطابق؛ مکمل، مفصل، آسان اور محفوظ ہے- اللہ نے اس کو آخری رسول الله تعالی صلی الله علیہ وسلم پر نازل فرمایا جنہوں نے اس کے نفاذ کا عملی نمونہ پیش کیا جسے سنت رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کہتے ہیں جو نسل در نسل تواتر سے منتقل ہو رہی ہے-
اب اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ:
اگر قرآن مکمل مفصل، محفوظ ابدی کتاب ہدایت ہے تو پھر کیا مزید کسی اور کتاب یا کتب کی ضرورت ہے؟
اگر مزید کتب کی ضرورت ہے تو کیا قرآن نے ایسی مزید کتب کا حکم دیا یا منع فرمایا ؟
خلفاء راشدین مہدین ، جن کی سنت پر عمل درآمد کا رسول الله تعالی صلی الله علیہ وسلم نے سختی سے حکم دیا تھا ، اس سلسلہ میں خلفاء راشدین مہدین کی سنت کیا ہے؟
ایک غلط فہمی کا ازالہ، اس مقالہ کا ان حضرات کے نظریات جن کو "منکرحدیث" کے خطابات سےنوازا جاتا ہے کوئی واسطہ نہیں- صرف لفظ احادیث کی حد تک مماثلت ہے، یھاں احادیث کا انکار نہیں، احترام ہے صرف احادیث کو کتاب کی شکل میں مدون کرنے کا جائزہ لیا جا رہا ہے قرآن او سنت کی روشنی میں ، جبکہ دوسرے حضرات احادیث کا انکار کرتے ہیں اور دلائل دیتے ہیں، قرآن کےعلاوہ سنت اورحدیث کا انکارکرتے ہیں- ہم ان سے متفق نہیں٠ ہمارا اور ان کا تھیم ، بیانیہ مختلف ہے:
موضوع تحقیق (تھیم) یہ نہیں کہ:
- حدیث کی کیا اہمیت ہے اورکیا فوائد ؟
- حدیث وحی تھی یا نہیں؟
- حدیث کی کتابت درست ہوئی یا غلطیاں ہیں یا نہیں؟
- احادیث فوری لکھی گیئں یا تیسری صدی میں ؟
- احادیث کتب مرتب کرنے والے نیک ، پرہیزگار تھے یا ولی اللہ تھے یا نہیں ؟
- احادیث کتب مرتب نہ ہوتیں تو کیا ہو جاتا ؟
یہ سب علیحدہ مضامین ہیں ، جو ہمارے تھیسس کا موضوع نہیں نہ ہی ان کو تفصیلی طور پر ڈسکسس کیا گیاہے- ضمنی طورکہیں ذکر آتا ہے تو مختصر کمنٹس اور فٹ نوٹ پر لنک میں تفصیل، ان موضوعات پر لا تعداد کتابیں اور انٹرنیٹ پر مواد موجود ہے - جس کو زیادہ دلچسپی ہو وہ "دو اسلام - ڈاکٹر غلام جیلانی برق" اور اس پر جوابی مباحث دیکھ سکتا ہے ..
اصل موضوع، تھیم قارئین کو سمجھنے میں میں مشکل پیش آتی ہے کیونکہ بارہ صدیوں سے جو پڑھایا اور بتلایا گیا بلکہ جسے عملی طور پرایمان کاحصہ سمجھا جاتا ہو , اس پر سوال اٹھایا جائے اور وہ بھی قرآن و سنت اور خلفاء راشدین مھدیین ( ہدایت یافتہ، رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کا عطا کردہ مخصوص لقب اور اعزاز) کے توسط سے اور احادیث کے ریفرنس سے، اسےآسانی سے قبول کرنا بہت مشکل ہے ، انسان سوچتا ہے کہ کہیں میرے ساتھ کوئی دھوکہ تو نہیں ہو گیا؟
ایسی حالت میں انسان فوری طور پر انکار (Denial) اور دفاع (Defensive) کی حالت میں چلا جاتا ہے, تھیم کو سمجھے بغیر یا وہ اپنے طرف سے پہلے سے قائم نظریات اور (Preconceived) خیالات کے زیر اثر حقائق اور دلائیل کو جذبات سے دبا دیتے ہیں-
لہٰذا ضروری ہے کہ تھیم کو تفصیل سے بیان کر دیا جایے :
" آخری کتاب یا کتب؟ قرآن و سنت کی طرف واپسی" مقالہ کا ، تھیم , موضوع :
.جن اصحابہ (رضوان الله) کی سنت کو پکڑنے کا رسول صلی الله علیہ وسلم نے حکم فرمایا ۔۔۔ جنہوں نے قرآن کی کتابت کروائی.. کاتب وحی و حافظ قرآن اور دو ذاتی شہادتوں کے ساتھ کمیٹی سے خاص نگرانی میں قرآن کو مدون کتاب کرکہ محفوظ کیا جو کہ رسول صلی الله علیہ وسلم چھوڑ گیے تھے۔ انہی صحابہ میں سے حضرت عمر رضی الله نے بہت سوچ بچار کے بعد فیصلہ کیا کہ ، کیونکہ پہلی امتیں کتاب اللہ کے مقابل دوسری کتب لاکر برباد ہوئیں، لہذا کتاب اللہ کے علاوہ کوئی اور کتاب نہی۔ ہو گی، اس پر دوسرے خلفاء راشدین ، مھدین کی حمایت شامل رہی اور صحابہ اکرام بھی مجموعی طور پر عمل پیرا ہویے، ا خلفاء راشدین ، مھدین کے پاس رسول صلی الله علیہ وسلم کی طرف سے اتھارٹی تھی- ایک صدی کے بعد اس کی خلاف درزی ہوئی-
"خلفاء راشدین ، مھدنین" صرف سیاسی حکمران نہ تھے بلکہ دینی رہنما بھی تھے ، خلفاء راشدین کا یہ خصوصی اعزاز ہے، جنہوں نے اہم دینی فیصلے کیےجن پر عمل ہو رہا ہے- . پہلی صدی کے بعد جب احادیث کو کتابوں کی شکل میں مرتب کرنے کا رواج پڑا تو وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا- ایک سادہ آسان دین اسلام ، مشکل مذھب میں تبدیل ہو گیا ، اللہ کی آخری کتاب کو نظر انداز کر کہ "قیل و قال" میں الجھ گیے جس خدشہ کا اظہار حضرت علی (رضی الله) نے کیا تھا جب انہوں نے بھی حضرت عمر (رضی الله) کے فیصلے کو درست قرار دیا تھا-
قرآن کو کوئی تبدیل نہیں کر سکتا ، اگر کوئی اختلاف بھی ہو تو بآسانی حل موجود ہے کہ محکمات آیات ہی "ام الکتاب" ہیں (قرآن 3:7) لیکن یہ حکم احادیث پر نہ لاگو کیا گیا- قرآن کے ساتھ اس وقت پچھتر کتب اور پچیس ہزار سے زیادہ مختلف درجات کی احادیث موجود ہیں اور فرقے بھی ، اپنے مخالف کی احدیث کو ضعیف ، کہہ کر مسترد کرتے ہیں اور تاویلیں اور مباحث میں مشغول رہتے ہیں- یہود کا یہی طریقہ تھا جو ہم نے قرآن ، رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ، خلفاء راشدین و مھدین کی سنت کے برخلاف کیا- کیونکہ اکثرمذہبی پیشواؤں کا ذاتی مفاد اس میں پوشیدہ اور وابستہ ہے (اچھے پرخلوص علماء کی بھی کمی نہیں ) ، جس نے پہلی صدی حجرہ کے اسلام کی طرف واپسی ، اصلاح کی بات کی ملعون قرار پایا-
دوسری طرف "اہل القرآن" یا ملتے جلتے نام ہیں جنہوں نے دوسری ایکسٹریم پوزیشن اختیار کر رکھی ہے کہ ، صرف قرآن .. جبکہ قرآن رسول صلی الله علیہ وسلم کی اطاعت اور اسوۂ حسنہ کی بھی بات کرتا ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا -
قرآن کے مطالعہ اور سنت رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے سب کچھ واضح ہو جاتا ہے اور ہم کو صاف ہدایت و رہنمائی ملتی ہے. اس کی روشنی میں یہ تحقیقی مقالہ تحریر کیا ہے تاکہ اس پر بحث ہو اور ہم مشکلات سے نکل کر قرآن و سنت پر عمل کر سکیں اور پہلی صدی حجرہ والا دین اسلام جو اصل ہے اس تک مکمل طور پر پہنچنے کی کوشش کریں, مگر واضح رہے کہ :
- اصول دین ، فروغ دین کو بلکل نہیں ٹچ کیا جارہا (اگرچہ وہ علماء نے اخذ کرکہ تشکیل دئیے ہیں ) -
- یعنی اسلام کے چھ بنیادی اصول اور پانچ ستون کو ڈسکس نہیں کیا جارہا ، ان پر ایمان لازم ہے-
- کسی فرقہ کی تضحیک یا تعریف مقصد نہیں -
- کسی نئے فرقہ کی ضرورت نہیں ، فرقہ واریت قرآن نے ممنوع قرار دی ہے- صرف اسلام اور مسلمان-
- یہ صرف ایک علمی تحقیق ہے، تاکہ قرآن پر تدبر کریں اور قرآن کی اصل حیثیت بحال کی جائیے-
- جس طرح اسلام پریکٹس کر رہے ہیں اس پر قرآن و سنت کی روشنی میں عمل پیرا رہیں-
- صبر و تحمل سے دوسروں کوبرداشت کریں اور دینی مواد کو طعنہ و تشنع کی بجاتے مثبت طورپر استعمال کریں-
- متواتر احادیث ، سب سے زیادہ مستند (authentic) ہیں جن کاانکار کفر,اس پراتفاق ہے-
- احادیث جو کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے منسوب ہوں، ضعیف بھی ہوں تو ان کا احترام لازم ہے کہ ممکن ہے درست ہوں چہ جائیکہ غیر مناسب قرآن وسنت کے خلاف ہوں- اس عظیم علمی ، تاریخی خزانہ کی اپنی اہمیت ہے-
یہ سب علیحدہ مضامین ہیں ، جو ہمارے تھیسس کا موضوع نہیں نہ ہی ان کو تفصیلی طور پر ڈسکسس کیا گیاہے- ضمنی طورکہیں ذکر آتا ہے تو مختصر کمنٹس ، ان موضوعات پر لا تعداد کتابیں اور انٹرنیٹ پر مواد موجود ہے - جس کو زیادہ دلچسپی ہو وہ "دو اسلام - ڈاکٹر غلام جیلانی برق" اور اس پر جوابی مباحث دیکھ سکتا ہے ..
آخری کتاب ہدایت: قرآن کا تعارف قرآن سے
کسی مسلمان کو قرآن مجید کے تعارف کی ضرورت نہیں، مختصر تعارف <<ادھر پڑھ>> سکتے ہیں- کچھ آیات یاد دہانی کے لیے پیش ہیں- قرآن کے متعلق الله نے واضح کر دیا کہ :
Video : https://youtu.be/MTwt9h8iNhU
1۔ قرآن مجید رب العالمین کا نازل کردہ کلام حق ہے (آل عمران 3:60) یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی بھی شک نہیں پرہیز گارو ں کے لیے ہدایت ہے (قرآن 2:2)
2۔ قرآن سے ملنے والا علم وہ حق ہے جس کے مقابلے میں ظن و گمان کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ (النجم 53:28)
3۔قرآن مجید کلام الٰہی ہے اور اس کے کلام الٰہی ہونے میں کوئی شک نہیں۔ یہ اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے ہدایت ہے۔ (البقرہ 2:2)
4۔اس کلام کو اللہ نے نازل کیا ہے اور وہی اس کی حفاظت کرے گا۔(الحجر15:9)
5.قرآن ایسا کلام ہے جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں جو بالکل سیدھی بات کرنے والا کلام ہے (الکہف 18:1,2)
6۔قرآن کو واضح عربی کتاب کہا گیا کہ لوگ سمجھ سکیں (یوسف18:1,2)۔
7۔ باطل نہ اس کلام کے آگے سے آ سکتا ہے نہ پیچھے سے۔ (الفصلت 41:42)
8۔یہ کتاب میزان ہے۔ یعنی وہ ترازو ہے جس میں رکھ کر ہر دوسری چیز کی قدر وقیمت طے کی جائے گی۔ (الشوریٰ42:17)
9۔یہ کتاب فرقان یعنی وہ کسوٹی ہے جو کھرے اور کھوٹے کا فیصلہ کرتی ہے۔(الفرقان 25:1)
10۔ تمام سلسلہ وحی پر مہیمن یعنی نگران ہے۔ (المائدہ5:48)
11۔قرآن کریم لوگوں کے اختلافات کا فیصلہ کرنے کے لیے اتاری گئی ہے۔ (البقرہ2:213)
12۔یہی وہ کتاب ہدایت ہے جس کو ترک کر دینے کا مقدمہ روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کے حضور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مخاطبین کے حوالے سے پیش کریں گے۔ (الفرقان25:30)
فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ( المرسلات 77:50)
14.تِلْكَ آيَاتُ اللَّـهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۖ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّـهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ(الجاثية45:6)
یہ الله کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل سچی پڑھ کر سناتے ہیں پھر اللہ اور اس کی آیتوں کو چھوڑ کر کونسی حدیث پر ایمان لائیں گے، (الجاثية45:6)
15.وَيْلٌ لِّكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ ﴿٧﴾ يَسْمَعُ آيَاتِ اللَّـهِ تُتْلَىٰ عَلَيْهِ ثُمَّ يُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَا ۖ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ (الجاثية45:7)
ہر سخت جھوٹے گناہگار کے لیے تباہی ہے (-جو آیات الہیٰ سنتا ہے جو اس پر پڑھی جاتی ہیں پھر نا حق تکبر کی وجہ سے اصرار کرتا ہے گویاکہ اس نے سنا ہی نہیں پس اسے دردناک عذاب کی خوشخبری دے دو (الجاثية45:7,8)
16.هَـٰذَا هُدًى ۖوَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّن رِّجْزٍ أَلِيمٌ (الجاثية45:11)
“یہ (قرآن) تو ہدایت ہے اور جو اپنے رب کی آیتوں کے منکر ہیں ان کے لیے سخت دردناک عذاب ہے”(الجاثية45:11)
اور ہم نے آپ پر ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں ہر چیز کی وضاحت موجود ہے اور (اس میں) مسلمانوں کے لئے ہدایت، رحمت اور خوشخبری ہے (16:89)
اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں قرآن مجید کی حیثیت بیان کی ہے- جو کچھ قرآن مجید کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے کہا ہے وہ کسی دوسری کتاب کے بارے میں نہیں کہا۔ قرآن مجید کے سوا کسی اور مذہبی کتاب، کسی پیغمبرسے منسوب کلام، کسی عالم اور محقق کی رائے کے بارے میں اللہ تعالیٰ اس طرح کی کوئی بات نہیں کہتے۔ اس لیے جو کوئی بھی قرآن کی آیات مبارکہ کے بارے میں شک شبہ ، تامل کرے ، اگر مگراور من گھڑت تاویلوں سے ان کو بے اثر کرنے کی کوشش کرے تو وہ اچھی طرح سمجھ لے کہ وہ الله کی نافرمانی کی جرأت کر رہا ہے۔ اصحاب سبت کا واقعہ ایک سبق ہے- (قرآن 7:163,166, 2:65,66).
قرآن کا عملی نمونہ سنت رسول اللہ صلعم میں موجود ہے ۔۔۔ جو تواتر سے صدیوں سے نسلدر نسل منتقل ہو رہی ہے ، احادیث کی کتب میں بھی شامل ہیں-
"در حقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسولؐ میں ایک بہترین نمونہ تھا، ہر اُس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخر کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے " (33:21)
~~~~~~~~~~~~~~~