Featured Post

قرآن مضامین انڈیکس

"مضامین قرآن" انڈکس   Front Page أصول المعرفة الإسلامية Fundaments of Islamic Knowledge انڈکس#1 :  اسلام ،ایمانیات ، بنی...

Showing posts with label Economyمعیشیت. Show all posts
Showing posts with label Economyمعیشیت. Show all posts

قرآن ربا اور فیاٹ (کاغذی ) کرنسی


 قرآنی احکام کونامکمل پیش کرنا انتہائی گمراہ کن ہے، جان بوجھ کر معلومات کو چھوڑنا جھوٹ بولنے کے مترادف ہے، بہت بڑا گناہ ہے۔ ایک مشہور قول ہے کہ؛ آدھا سچ اکثر مکمل جھوٹ ہوتا ہے- "صدی کے  بڑے(Scam of the Century  Unveiled) گھپلہ کو بے نقاب کیا گیا ہے"۔ ربا (سود)  کی حرمت پر اکثر پیش کی جانے والی دو آیات میں فرمانبردار بندوں پر اس کے مثبت اثرات کے وعدہ کے بارے میں بھی پوری حقیقت بیان کی گئی ہے۔ دونوں پہلو یکساں طور پر اہم ہیں اور دونوں احکام کومکمل طور پر ان کی روح (سپرٹ) کے مطابق نافذ کیا جانا لازم و ملزوم ہے، یہی اس تحقیق و مقالہ کا موضوع ہے۔
☆ https://bit.ly/QuranAurRibaUrdu-pdf [قرآن اور ربا ]


~~~~~~~~~
🌹🌹🌹
🔰 Quran Subjects  🔰 قرآن مضامین 🔰
"اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا" [ الفرقان 25  آیت: 30]
The messenger said, "My Lord, my people have deserted this Quran." (Quran 25:30)
~~~~~~~~~

TRADE,BUSINESS کاروبار تجارت




وَ مَا مِنۡ دَآبَّۃٍ  فِی الۡاَرۡضِ  اِلَّا عَلَی اللّٰہِ  رِزۡقُہَا وَ یَعۡلَمُ مُسۡتَقَرَّہَا وَ مُسۡتَوۡدَعَہَا ؕ کُلٌّ  فِیۡ  کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۶﴾
زمین پر چلنے پھرنے والے جتنے جاندار ہیں سب کی روزیاں اللہ تعالٰی پر ہیں  وہی ان کے رہنے سہنے کی جگہ کو جانتا ہے اور ان کے سونپے جانے  کی جگہ کو بھی ،  سب کچھ واضح کتاب میں موجود ہے ۔  [سورة هود 11  آیت: 6]
 And there is no creature on earth but that upon Allah is its provision, and He knows its place of dwelling and place of storage. All is in a clear register. [ Surat Hood: 11 Verse: 6]
تجارت کے رہنما اصول  :
  1. .رزق الله کے اختیار میں (11:6)
  2. رزق کی کمی بیشی الله کی طرف سے (17:30)
  3. رزق، دولت  میں بعض کو فضیلت (16:71)
  4. ناجائز کاروباراور رشوت کی ممانعت (2:188 )
  5. پورا ناپ تول (11:85, 17:35)
  6. ذخیرہ اندوزی کی ممانعت (,70:15,16,17)
  7. الله کا نفع (11:86)
  8. نفع نقصان الله کے اختیار میں (10:49)
  9. سود ممانعت (2:279, 2:278, 4:161)


یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمۡوَالَکُمۡ بَیۡنَکُمۡ بِالۡبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنۡ تَکُوۡنَ تِجَارَۃً عَنۡ تَرَاضٍ مِّنۡکُمۡ ۟ وَ لَا تَقۡتُلُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُمۡ رَحِیۡمًا ﴿۲۹﴾
اے ایمان والو! اپنے آپس کے مال ناجائز طریقہ سے مت کھاؤ، مگر یہ کہ تمہاری آپس کی رضامندی سے ہو خرید وفروخت، اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو  یقیناً اللہ تعالٰی تم پر نہایت مہربان ہے ۔  [سورة النساء 4  آیت: 29]

 O you who have believed, do not consume one another's wealth unjustly but only [in lawful] business by mutual consent. And do not kill yourselves [or one another]. Indeed, Allah is to you ever Merciful. [ Surat un Nissa: 4 Verse: 29]

باطل طریقے کون کون سے ہیں ؟
 باطل طریقوں سے مراد ہر وہ ذریعہ آمدنی ہے جسے شریعت نے حرام قرار دیا ہو۔ اور اس کی کئی صورتیں ہیں۔ مثلاً :
١۔ ہر وہ کام جس سے دوسرے کا مالی نقصان ہو جیسے چوری، ڈاکہ، غصب، غبن وغیرہ۔
٢۔ سود اور اس کی تمام شکلیں، خواہ یہ سود مفرد ہو، مرکب ہو، ڈسکاؤنٹ ہو، مارک اپ اور مارک ڈاؤن ہو یا خواہ یہ ذاتی قرضے کا سود ہو اور خواہ یہ ربا النسیئہ (مدت کے عوض سود) ہو یا ربا الفضل (ایک ہی جنس میں کمی بیشی کے ساتھ تبادلہ) ہو۔
٣۔ ہر ایسا کام جس میں تھوڑی سی محنت سے کثیر مال ہاتھ آتا ہو۔ جیسے جوا، لاٹری اور سٹہ بازی وغیرہ اور بعض حالتوں میں بیمہ پالیسی۔ ٤۔ اندھے سودے یا قسمت کے سودے جن میں صرف ایک ہی عوض مقرر ہوتا ہے دوسرا نہیں ہوتا۔ (عوضین یہ ہے کہ مثلاً ایک کتاب کی قیمت سو روپے ہے تو کتاب کا عوض سو روپے اور سو روپے کا عوض کتاب) جیسے غوطہ خور سے ایک غوطہ کی قیمت مقرر کرنا، بیع ملامسہ، منابذہ۔ بچوں کے کھیل کہ جس چیز پر بچے کا نشانہ لگے وہ اتنی قیمت میں اس کی۔ 
٥۔ ہر وہ لین دین جس میں کسی ایک فریق کا فائدہ یقینی ہو دوسرے کو خواہ فائدہ ہو یا نقصان جیسے سود اور ایسے تمام سودے اور معاملات جن میں یہ شرط پائی جاتی ہو۔
٦۔ ایسے سودے جو محض تخمینہ سے طے کیے جائیں اور ان میں دھوکہ کا احتمال موجود ہو جیسے کسی ڈھیر کا بالمقطع سودا کرنا یا مال خرید کر قبضہ کیے بغیر آگے چلا دینا یا غیر موجود مال کا سودا کرنا اور باغات وغیرہ کے پیشگی سودے (ان میں بیع سلم اور بیع عرایا کی رخصت ہے جو چھوٹے پیمانہ پر ہوتی ہے اور غریبوں کی سہولت کے لیے جائز کی گئی ہے۔ ) 
٧۔ وہ بیع جس میں مشتری دھوکہ دینے کی کوشش کرے مثلاً عیب چھپانا، جانور کا دودھ روک کر بیچنا، ناپ تول میں کمی بیشی کر جانا، دوسرے کو پھنسانے کے لیے بولی چڑھانا وغیرہ۔
٨۔ جو اشیاء حرام ہیں ان کی خریدو فروخت جیسے شراب کی سوداگری یا ان اشیاء کی جو شراب خانے میں استعمال ہوتی ہیں، مردار کا گوشت، تصویریں اور مجسمے، فحاشی پر مشتمل کتابیں اور تصویریں، کسی حرام کاروبار کے لیے دکان یا مکان کرایہ پر دینا، کاہن کی کمائی، فاحشہ کی کمائی، کتے کی قیمت وغیرہ۔ 
٩۔ حکومت کے ذریعہ دوسروں کے مال بٹورنا مثلاً لین دین کے جھوٹے مقدمات اور رشوت وغیرہ یا حکومت کا لوگوں کی زمین پر قبضہ کر کے ان کو اپنی مرضی کے مطابق لین دین پر مجبور کرنا۔ جیسے حکومت کے محکمہ ہائے ایل ڈی اے، کے ڈی اے وغیرہ دوسرے لوگوں کی زمینیں ان کی رضامندی کے بغیر حاصل (AQUIRE) کرلیتے ہیں۔ 
١٠۔ کتاب اللہ میں تحریف و تاویل اور غلط فتو وں سے مال بٹورنا اور یہ کام بالخصوص علماء سے مختص ہے۔ 
اب اس سلسلہ میں درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے :
 ١۔ سیدنا ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا۔ بائع اور مشتری صرف اسی حال میں جدا ہوں کہ وہ ایک دوسرے سے راضی ہوں۔ (ترمذی، ابو اب البیوع، باب البیعان بالخیار مالم یتفرقا)
٢۔ آپ نے فرمایا بیچنے والا اور خریدنے والا دونوں سودے کو پورا کرنے یا فسخ کرنے کا اس وقت تک اختیار رکھتے ہیں جب تک وہ جدا نہ ہوں سوائے بیع خیار کے (جس میں معین مدت کے اندر سودا فسخ کرنے کی شرط ہوتی ہے۔ ) (بخاری، کتاب البیوع، باب البیعان بالخیار مالم یتفرقا)
 ٣۔ ابو امامہ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جو شخص قسم کھا کر کسی مسلمان کا حق مار لیتا ہے اللہ اس کے لیے دوزخ واجب کردیتا ہے اور جنت اس کے لیے حرام ہوجاتی ہے۔ کسی نے آپ سے پوچھا اگرچہ یہ حق تلفی بالکل معمولی قسم کی ہو ؟ فرمایا اگرچہ وہ پیلو کے درخت کی ایک شاخ ہی کیوں نہ ہو۔ (مسلم بحوالہ فقہ السنہ جلد ٢ صفحہ ١٤٩)
٤۔ سیدنا ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اللہ عزوجل چار قسم کے آدمیوں سے دشمنی رکھتا ہے۔ ایک وہ جو قسمیں کھا کر سودا بازی کرتا ہو، دوسرے محتاج جو اکڑ باز ہو۔ تیسرے بوڑھے زانی سے اور چوتھے ظلم کرنے والے حاکم سے۔ (نسائی، کتاب الزکوٰۃ، باب الفقیر المحتال) ٥۔ سیدنا ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تین آدمیوں سے نہ کلام کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا اور انہیں دردناک عذاب ہوگا۔ میں نے پوچھا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! وہ کون ہیں ؟ وہ تو نامراد ہوگئے اور خسارہ میں رہے۔ فرمایا۔ ایک تہبند (ٹخنوں سے نیچے) لٹکانے والا۔ دوسرا احسان جتلانے والا اور تیسرا جھوٹی قسم کھا کر اپنا مال بیچنے والا۔ (مسلم، کتاب الایمان۔ باب غلظ تحریم تنفیق السلعۃ بالحلف)
٦۔ آپ نے فرمایا اے تاجروں کے گروہ ! سودے بازی میں بےہودہ باتیں اور قسمیں شامل ہوجاتی ہیں لہذا تم ان کے ساتھ صدقہ بھی ملا لیا کرو۔ (ترمذی، ابو اب البیوع، باب ماجاء فی التجار۔ نسائی، کتاب البیوع باب الحلف الواجب) 
٧۔ ناپ تول میں کمی سے متعلق آپ نے فرمایا بلاشبہ تم دو ایسے کاموں کے والی بنائے گئے ہو کہ تم سے پہلے کی قومیں اسی جرم کی پاداش میں ہلاک ہوئیں۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب فی المکیال والمیزان)
٨۔ ایک دفعہ آپ بازار تشریف لے گئے وہاں ایک تولنے والا کوئی جنس تول رہا تھا اسے دیکھ کر آپ نے فرمایا تول اور کچھ جھکتا تول۔ (نسائی، کتاب البیوع، باب الرجحان فی الوزن)
 ٩۔ سیدنا عمر (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اللہ یہود کو غارت کرے، ان پر چربی حرام کی گئی تو انہوں نے اسے پگھلایا پھر بیچ ڈالا۔ ، (بخاری، کتاب البیوع باب لایذاب شحم المیتۃ) 
١٠۔ جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا بلاشبہ اللہ نے شراب، مردار، سور اور بتوں کی سوداگری کو حرام کیا ہے۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب بیع المیتۃ والاصنام) 
١١۔ ابو مسعود انصاری (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے کتے کی قیمت، فاحشہ کی کمائی اور نجومی کی اجرت سے منع فرمایا ہے۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب ثمن الکلب) 
١٢۔ سیدنا ام سلمہ (رض) کہتی ہیں کہ آپ نے فرمایا میں بھی ایک آدمی ہوں۔ تم میرے سامنے جھگڑا لیے آتے ہو۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص اپنی دلیل دوسرے فریق کی نسبت اچھی طرح بیان کرتا ہے اور میں جو سنتا ہوں اس پر فیصلہ کردیتا ہوں۔ پھر اگر میں کسی کو اس کے مسلمان بھائی کا حق دلا دوں تو وہ ہرگز نہ لے۔ میں اسے دوزخ کا ایک ٹکڑا دلا رہا ہوں۔ (بخاری، کتاب الحیل، باب بلاعنوان۔ بخاری، کتاب الاحکام، باب من قضی لہ من حق اخیہ فلا یا خذہ) 
١٣۔ سیدنا ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا۔ جو شخص تصویریں بناتا ہے، قیامت کے دن اللہ اسے کہے گا کہ اب اس میں جان بھی ڈال اور وہ یہ کام کبھی نہ کرسکے گا۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب بیع التصاویر التی لیس فیہا الروح)
 ١٤۔ آپ نے فرمایا۔ بازار میں غلہ لانے والے کو رزق ملتا ہے اور ذخیرہ اندوز ملعون ہے۔ (ابن ماجہ، دارمی بحوالہ مشکوۃ، کتاب البیوع، باب الاحتکار، فصل ثانی)
١٥۔ واثلہ بن الاسقع کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے سنا کہ جس شخص نے اپنی عیب دار چیز عیب بتائے بغیر بیچی وہ ہمیشہ اللہ کے غضب میں رہے گا اور فرشتے اس پر لعنت کرتے رہیں گے۔ (ابن ماجہ بحوالہ مشکوۃ، کتاب البیوع، باب المنہی عنہا من البیوع۔ فصل ثالث)
١٦۔ آپ نے فرمایا۔ بائع اور مشتری دونوں جب تک جدا نہ ہوں، مختار ہیں۔ پھر اگر انہوں نے سچ بولا اور صاف گوئی سے کام لیا تو ان کے سودے میں برکت دی جاتی ہے۔ اور وہ عیب وغیرہ چھپا گئے اور جھوٹ بولا تو ان کے سودے سے برکت اٹھا لی جاتی ہے۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب اذابین البیعان نیز باب مایمحق الکذب والکتمان فی البیع)
١٧۔ سیدنا ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ (ایک دفعہ) آپ کا ایک غلہ کے ڈھیر پر گزر ہوا۔ آپ نے اپنا ہاتھ اس میں داخل کیا تو انگلیوں کو نمی محسوس ہوئی۔ آپ نے پوچھا اے غلہ والے ! یہ کیا ؟ وہ کہنے لگا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! بارش ہوگئی تھی۔ آپ نے فرمایا تو تو نے (اس نمدار غلے کو) ڈھیر کے اوپر کیوں نہ کیا تاکہ لوگ اسے دیکھ سکتے۔ پھر فرمایا جس نے دھوکا دیا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ (مسلم، کتاب الایمان، باب قول النبی من غشنا فلیس منا )
١٨۔ آپ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اونٹنی یا بکری خریدے جس کا دودھ بڑھایا گیا ہو تو دودھ دوہنے کے بعد خریدنے والے کو دو باتوں میں سے کسی ایک کا اختیار ہے۔ چاہے تو اسے رکھ لے اور چاہے تو واپس کر دے اور ایک صاع کھجور بھی اس کے ساتھ دے۔ (مسلم، کتاب البیوع۔ باب حکم بیع المصراۃ) 
١٩۔ ایک دوسری روایت کے مطابق یہ اختیار تین دن تک ہے۔ (حوالہ ایضاً )
 ٢٠۔ سیدنا جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ آپ نے محاقلہ (کھیتی پکنے سے پہلے سود اچکا لینے) سے اور مزابنۃ (کھجور، انگور پکنے سے پہلے خشک کھجور یا انگور کا سودا چکا لینے) سے اور مخابرہ (زمین کو بٹائی پر دینا۔ جس کی بعد میں اجازت دے دی گئی) سے اور معاومہ (بیع سنین یعنی چند سالوں کی فصل کا پیشگی سودا چکا لینے) سے اور ثنیا (سودا چکاتے وقت چند درختوں یا کھیتی کا کچھ حصہ مستثنیٰ کرلینے) سے منع فرمایا اور بیع عرایا (چھوٹے پیمانے پر بیع مزابنۃ جس میں غریبوں کی ضرورت کا لحاظ رکھا گیا ہے، کی اجازت دی۔ (بخاری، کتاب المساقات، باب الرجل یکون لہ ممرٌّ او شرب فی الحائط، مسلم، کتاب البیوع۔ باب النہی عن المحاقلۃ) اور عرایا میں جو رخصت ہے وہ پانچ وسق (اندازاً بیس من) تک ہے۔ (مسلم، کتاب البیوع، باب تحریم الرطب بالتمر الا فی العرایا) 
٢١۔ سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ دور جاہلیت میں لوگ حبل الحبلہ تک اونٹ کے گوشت کی سودا بازی کرتے اور حبل الحبلہ یہ ہے کہ اونٹنی جنے پھر اس کا بچہ حاملہ ہو اور وہ جنے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس قسم کی بیع سے منع فرما دیا۔ (مسلم، کتاب البیوع، باب تحریم بیع الحبل الحبلۃ۔۔ بخاری کتاب البیوع، عنوان باب) ٢٢۔ سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ آپ نے ادھار کی ادھار سے (یعنی دونون طرف ادھار) بیع کرنے سے منع فرمایا (دار قطنی بحوالہ مشکوۃ۔ کتاب البیوع۔ باب المنہی عنہا من البیوع۔ فصل ثانی )
٢٣۔ سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ آپ نے بیع الحصاۃ (کنکریاں پھینکنے کی بیع) اور دھوکے کی بیع سے منع فرمایا (بخاری، کتاب البیوع، باب بیع الغرر۔۔ مسلم، کتاب البیوع، باب بطلان بیع الحصاۃ والبیع الذی فیہ غرر)
٢٤۔ سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہمیں دو قسم کی بیع سے منع کیا گیا ایک ملامسہ اور دوسری منابذہ اور ملامسہ یہ ہے کہ دونوں میں سے ہر ایک بلا سوچے سمجھے دوسرے کا کپڑا چھوئے اور منابذہ یہ ہے کہ ہر ایک اپنا کپڑا دوسرے کی طرف پھینک دے۔ اور کوئی دوسرے کا کپڑا نہ دیکھے (اور اس طرح یہ بیع لازم ہوجائے) (بخاری، کتاب البیوع، باب الملامسۃ والمنابذۃ۔۔ مسلم۔ کتاب البیوع۔ باب ابطال بیع الملامستہ والمنابذۃ) 
٢٥۔ سیدنا ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ آپ فرماتے ہیں کہ آپ نے بیع نجش (بائع کی طرف سے مقررہ لوگ جو خریدار کو زیادہ قیمت ادا کرنے پر راغب کرسکیں۔ نیز چڑھی کی بولی) سے منع فرمایا۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب النجش)
٢٦۔ سیدنا علی (رض) فرماتے ہیں کہ آپ نے لاچار آدمی کی سودا بازی سے فائدہ اٹھانے سے اور دھوکہ کی بیع سے اور پھلوں کے پکنے سے پہلے ان کی سودا بازی سے منع فرمایا۔ (ابو داؤد، کتاب البیوع، باب ماجاء فی بیع المضطر)
٢٧۔ سیدنا عمرو بن شعیبص اپنے باپ سے اپنے دادے سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ہمیں بیع عربان (بیعانہ کی ضبطی والے سودے) سے منع فرمایا۔ (مؤطا، کتاب البیوع، باب بیع العربان) 
٢٨۔ سیدنا ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جب آپ مدینہ تشریف لائے تو لوگ پھلوں کے ایک یا دو یا تین سال کے لیے پیشگی سودے کرلیا کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا جو کوئی کسی چیز کا پیشگی سودا کرے تو اسے چاہیے کہ مقررہ ناپ میں، مقررہ وزن میں اور مقررہ مدت تک سودا کرے (بخاری، کتاب السلم، باب السلم فی کیل معلوم۔۔ مسلم، کتاب المساقات، باب السلم)
٢٩۔ آپ نے فرمایا جو شخص بیع سلم کرے تو مال پر قبضہ کرنے سے پہلے کسی دوسرے کی طرف یہ سودا منتقل نہ کرے۔ (ابو داؤد۔ کتاب الاجارۃ، باب السلف لایحول)
اب ہم مختلف عنوانات کے تحت احادیث درج کرتے ہیں :
 (١) شرح منافع : محمد بن سیرین (تابعی فرماتے ہیں کہ دس کا مال گیارہ میں بیچنے میں کوئی قباحت نہیں اور جو خرچہ اس پر پڑا ہے اس پر بھی یہی منافع لے سکتا ہے (بخاری، کتاب البیوع، باب من اجری امرالامصار علی مایتعارفون)
(٢) واحد کلام : سیدنا قیلہ (رض) ام انمار کہتی ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں خریدو فروخت کیا کرتی ہوں اور جو چیز مجھے خریدنا ہوتی ہے اس کے کم دام لگاتی ہوں۔ پھر دام بڑھاتے بڑھاتے اس قیمت پر آجاتی ہوں جو میرا مقصود ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی چیز بیچنا ہو تو زیادہ دام کہتی ہوں اور پھر کم کرتے کرتے اپنے مقصود پر آجاتی ہوں۔ آپ نے فرمایا قیلہص ! یہ کام اچھا نہیں۔ جو چیز جتنے کو بیچنا چاہتی ہو اتنے ہی دام کہہ دو ۔ لینے والا چاہے گا تو لے لے گا ورنہ نہیں اور جو چیز خریدو اس کی بھی ایک ہی قیمت کہہ دو ، دینے والا چاہے تو لے لے ورنہ نہ لے۔ (ابن ماجہ، ابو اب التجارات، باب السوم)
(٣) السابق فالسابق : سیدنا سمرہ بن جندب (رض) اور عقبہ صبن عامر دونوں کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جب دو صاحب اختیار ایک ہی چیز خریدیں تو وہ چیز اس کی ہوگی جس نے پہلے خریدی (ابن ماجہ۔ کتاب البیوع۔ باب السابق فالسابق)
(٤) قیمت بتانا : آپ نے فرمایا : مال کی قیمت صاحب مال ہی لگانے کا زیادہ حقدار ہے (بخاری۔ کتاب البیوع۔ باب صاحب السلعۃ احق بالسوم) 
(٥) غائب چیز کا سودا : آپ نے فرمایا جس نے کوئی ایسی چیز خریدی جسے اس نے دیکھا نہ ہو تو دیکھنے کے بعد اسے اختیار ہے کہ وہ سودا بحال رکھے یا فسخ کر دے۔ (دار قطنی بیہقی بحوالہ فقہ السنہ ج ٢ ص ١٣٦) 
(٦) قیمت میں اختلاف : آپ نے فرمایا جب بائع اور مشتری میں اختلاف ہوجائے اور ان میں کوئی شہادت یا ثبوت موجود نہ ہو تو اس شخص کی بات معتبر ہوگی جو مال کا مالک ہے یا پھر وہ سودا چھوڑ دیں (ترمذی ابو اب البیوع، باب اذا اختلف البیعان)
(٧) ناپ تول کی مزدوری بائع پر ہے : سیدنا عثمان (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جب تو بیچے تو ناپ کر دے اور خریدے تو ناپ کرلے۔ (بخاری، کتاب البیوع۔ باب الکیل علی البائع والمعطی) 
(٨) خرید کردہ مال کا تاوان : سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ بیع کے وقت جو مال موجود تھا (اگر مشتری اسے بائع کے پاس چھوڑ جائے) اور وہ تلف ہوجائے تو تاوان خریدار پر پڑے گا۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب من اشتری متاعا اودابۃ فوضعہ عندالبائع) 
(٩) کج بحث جھگڑالو : سیدہ عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ آپ نے فرمایا اللہ کے ہاں سب سے ناپسندیدہ شخص کج بحث جھگڑالو ہے (جو خواہ مخواہ جھگڑے کا پہلو پیدا کرلیتا ہے۔ ) (بخاری، کتاب المظالم۔ باب قول اللہ و ھوالد الخصام)
(١٠) ہبہ کردہ چیز کو خریدنا : سیدنا عمر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے ایک گھوڑا مجاہد کو دیا۔ اس نے وہ گھوڑا کمزور کردیا اور بازار میں فروخت کرنے کے لیے لے آیا۔ میں نے چاہا کہ اب یہ سستے داموں مل رہا ہے تو خرید لوں۔ میں نے آپ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا۔ اسے مت خریدنا خواہ وہ تجھے ایک درہم میں دے دے کیونکہ اپنے صدقہ کو واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے پھر اسے چاٹ جاتا ہے۔ (بخاری، کتاب الہبہ، باب لایحل لاحدان یرجع فی ھبتہ و صدقتہ) 
(١١) غیر موجود چیز کا سودا : حکیم بن حزام (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے مجھے ایسی چیز بیچنے سے منع فرما دیا، جو میرے پاس موجود نہ ہو۔ (ترمذی، ابو اب البیوع، باب ماجاء فی الکراھیۃ مالیس عندہ ) 
(١٢) راہ میں سودا نہ کیا جائے : سیدنا ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا غلہ وغیرہ کے قافلوں کو آگے جا کر مت ملو۔ جو کوئی آگے جا کر مال خریدے اور بعد میں مال کا مالک منڈی میں آئے تو اسے سودا فسخ کرنے کا اختیار ہے۔ (مسلم، کتاب البیوع، باب تحریم تلقی الجلب) 
(١٣) ناپ تول کے بغیر سودا نہ کیا جائے : سیدنا جابر (رض) کہتے ہیں کہ : آپ نے کھجور (یا کسی دوسرے غلہ) کے ڈھیر کی سودا بازی سے منع فرمایا جس کا اس کے معروف پیمانہ سے ناپ معلوم نہ ہو (مسلم۔ کتاب البیوع باب تحریم صبرالتمر) 
(١٤) قبضہ سے پہلے آگے سودا نہ کیا جائے : سیدنا ابن عمر (رض) کہتے ہیں کہ لوگ بازار کے بالائی حصہ میں سودا کرتے پھر وہیں بیچ دیتے۔ چناچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی مقام پر بیچنے سے منع فرمایا۔ یہاں تک کہ اس غلہ کو منتقل نہ کیا جائے (یعنی اپنے قبضہ میں نہ کرلیا جائے) بخاری کتاب البیوع، باب ما ذکر فی الاسواق۔۔ مسلم، کتاب البیوع، باب بطلان بیع المبیع قبل القبض) سیدنا عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں جو لوگ بن ماپے تولے اناج کے ڈھیر خریدتے انہیں مار پڑتی تھی۔ اس لیے کہ جب تک وہ اپنے گھر نہ لے جائیں مال نہ بیچیں (بخاری کتاب البیوع، باب مایذکر فی بیع الطعام والحکرۃ) آپ نے فرمایا کہ جو شخص غلہ خریدے تو جب تک اس کے پورا ہونے کی تسلی نہ کرلے اسے فروخت نہ کرے۔ اور ابن عباس (رض) کی روایت میں ہے کہ جب تک اسے ناپ نہ لے (بخاری، کتاب البیوع، باب الکیل علی البائع والمعطی) 
(١٥) بائع اور مشتری کے درمیان تیسرا آدمی سودا نہ کرے : سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے اور نہ اپنے بھائی کی منگنی کی بات کے درمیان منگنی کی بات کرے۔ ہاں اس کی اجازت سے ایسا کرسکتا ہے۔ (مسلم، کتاب البیوع، باب تحریم بیع الرجل علیٰ بیع اخیہ) 
(١٦) سودا خراب کرنا : سیدنا ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : کوئی مسلمان اپنے بھائی کے چکائے ہوئے سودے پر سودا نہ چکائے (یعنی زیادہ رقم کا لالچ دے کر سودا خراب نہ کرے۔ (مسلم، کتاب البیوع، باب تحریم بیع الرجل علی بیع اخیہ و سومہ)
(١٧) قیمت کم کر کے دوسروں کو نقصان پہنچانا : سیدنا سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ سیدنا عمر (رض) بازار میں حاطب (رض) بن ابی بلتعہ کے پاس سے گزرے جو بازاری قیمت سے کم قیمت پر منقیٰ بیچ رہے تھے۔ آپ (رض) نے انہیں فرمایا یا تو نرخ زیادہ کرو یا ہمارے بازار سے اٹھ جاؤ۔ (موطا، کتاب البیوع، باب الحکرۃ والتربص) تاہم بعض علماء کہتے ہیں کہ چیز کے مالک کو اپنی چیز کم داموں پر بیچنے کا اختیار ہے۔ (حوالہ ایضاً ) بشرطیکہ اس سے دوسروں کو نقصان پہنچانا مقصود نہ ہو۔ 
(١٨) کسی کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا ظلم ہے : ابو حرہ رقاشی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا خبردار ! ظلم نہ کرو، خبردار ! کسی کا مال دوسرے کے لیے اس کی رضامندی کے بغیر حلال نہیں۔ (بیہقی، دارقطنی بحوالہ مشکوۃ، کتاب البیوع، باب الغصب والعاریۃ۔ فصل ثانی) 
(١٩) قرض دینے کے بعد مقروض سے سودا بازی نہ کی جائے : 
(٢٠) جس مال پر قبضہ نہیں ہوا اس کا نفع جائز نہیں : سیدنا عمرو (رض) بن شعیب اپنے باپ سے، اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا (١) پیشگی دیا ہوا قرض اور بیع جائز نہیں (٢) ایک بیع میں دو صورتیں جائز نہیں (نقد قیمت کم ادھار زیادہ) (٣) جس مال پر قبضہ نہ ہوا ہو (نہ رقم ادا کی اس کا منافع مشتری کو) حلال نہیں (٤) اور جو چیز تمہارے پاس نہ ہو اس کا سودا نہ کرو۔ (ابو داؤد، کتاب البیوع، باب فی الرجل یبیع مالیس عندہ) 
(٢١) ملاوٹ والی چیز کو الگ کر کے بیچا جائے : فضالہ (رض) بن عبید کہتے ہیں کہ خیبر کے دن میں نے ایک ہار بارہ دینار میں خریدا۔ جس میں سونا اور نگینے تھے۔ میں نے انہیں الگ الگ کیا تو سونا ہی بارہ دینار سے زیادہ مالیت کا پایا۔ میں نے اس کا ذکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا تو آپ نے فرمایا کوئی چیز جب تک الگ الگ نہ کرلی جائے اس کی خریدو فروخت نہ کی جائے۔ (مسلم، کتاب المساقاۃ والمزارعۃ باب الربا) 
(٢٢) چوری کے مال کی بیع : (١) آپ نے فرمایا۔ جس شخص نے اپنا مال بعینہ کسی کے پاس پا لیا وہ اس کا زیادہ حقدار ہے اور مسروقہ مال خریدنے والا اس شخص کو ڈھونڈے جس نے اس کے پاس مال بیچا تھا۔ (نسائی، ابو داؤد، کتاب الاجارۃ، باب فی الرجل یجد عین مالہ عندر جل) (٢) نیز آپ نے فرمایا جس نے چوری کا مال خریدا اور وہ جانتا تھا کہ وہ چوری کا مال ہے تو وہ چوری کے گناہ اور اس کی سزا میں برابر کا شریک ہے۔ (بیہقی بحوالہ فقہ السنۃ ج ٣ ص ١٤٦)
(٢٣) سودا واپس موڑ لینا : عمرو بن شعیب اپنے باپ سے، اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے سنا کہ بائع اور مشتری جب تک جدا نہ ہوں، مختار ہیں۔ الا یہ کہ خیار کی شرط کرلی جائے اور دونوں میں سے کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس خوف سے جلد جدا ہونے کی کوشش کرے کہ کہیں سودا واپس نہ ہوجائے۔ (ترمذی، ابو اب البیوع، باب البیعان بالخیار) سیدنا ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جو شخص سودا واپس موڑ لے (قیامت کے دن) اللہ اس کی لغزشیں واپس لے لے گا۔ (ابو داؤد، کتاب الاجارۃ فی فضل الاقالۃ) 
(٢٤) مسجد میں خریدو فروخت کرنا : آپ نے فرمایا جب تم مسجد میں کسی کو کوئی چیز بیچتا یا خریدتا دیکھو تو اسے کہو۔ اللہ تمہاری تجارت میں نفع نہ دے۔ اور جب کسی کو مسجد میں کوئی گمشدہ چیز ڈھونڈتے دیکھو تو اسے کہو۔ اللہ کرے تمہیں وہ نہ ملے۔ (ترمذی، ابو اب البیوع، باب النہی عن البیع فی المسجد) 
(٢٥) نمازوں کی اوقات میں خریدو فروخت : جمعہ کی اذان کے بعد لین دین یا دوسرے مشاغل حرام ہیں ( سورة جمعہ : ٩) یہی صورت عام نمازوں کے لیے بھی ہے۔ 
(٢٦) نیلام : سیدنا انس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک ٹاٹ اور ایک پیالہ بیچنا چاہا آپ نے پوچھا : کون یہ ٹاٹ اور پیالہ خریدتا ہے ؟ ایک شخص نے کہا : میں یہ دونوں چیزیں ایک درہم میں لیتا ہوں۔ آپ نے پوچھا : کوئی ایک درہم سے زیادہ دیتا ہے ؟ پھر ایک شخص نے ان چیزوں کے آپ کو دو درہم دیئے تو آپ نے یہ بیچ دیں۔ (ترمذی، ابو اب البیوع، باب ماجاء فی من یزید)
(٢٧) شراکت : سیدنا ابوہریرہ (رض) سے مرفوعاً روایت ہے کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے۔ دو شریکوں کا تیسرا میں ہوتا ہوں جب تک کوئی ان میں سے خیانت نہ کرے۔ پھر جب ان میں سے کوئی خیانت کرتا ہے تو میں درمیان سے نکل جاتا ہوں۔ (ابو داؤد، کتاب البیوع، باب فی الشرکہ) ۔۔ اور رزین نے یہ اضافہ کیا اور (اللہ کی جگہ) شیطان آجاتا ہے (مشکوٰۃ، کتاب البیوع، باب الشرکۃ والوکالۃ فصل ثالث)
بظاہر سود، جوا اور رشوت، ان تینوں میں باہمی رضامندی پائی جاتی ہے۔ لیکن یہ رضامندی اضطراری ہوتی ہے مثلاً قرض لینے والے کو اگر قرض حسنہ مل سکتا ہو تو وہ کبھی سود پر قرضہ لینے پر آمادہ نہ ہوگا۔ جواری اس لیے رضامند ہوتا ہے کہ ہر ایک کو اپنے جیتنے کی امید ہوتی ہے۔ ورنہ اگر کسی کو ہارنے کا خطرہ ہو تو وہ کبھی جوا نہ کھیلے گا۔ اسی طرح اگر رشوت دینے والے کو معلوم ہو کہ اسے رشوت دیئے بغیر بھی حق مل سکتا ہے تو وہ کبھی رشوت نہ دے۔ علاوہ ازیں سودے بازی میں اگر ایک فریق کی پوری رضامندی نہ ہو اور اسے اس پر مجبور کردیا جائے تو وہ بھی اسی ضمن میں آتا ہے۔ شرعی اصطلاح میں اسے بیع خیار کہتے ہیں۔
 خود کشی کی حرمت :۔
اس جملہ کے تین مطلب ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ اسے سابقہ مضمون سے متعلق سمجھا جائے۔ اس صورت میں اس کا معنی یہ ہوگا کہ باطل طریقوں سے دوسروں کا مال ہضم کر کے اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو۔ اور اگر اسے الگ جملہ سمجھا جائے تو پھر اس کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ ایک دوسرے کو قتل نہ کرو یعنی قتل ناحق، جو حقوق العباد میں سب سے بڑا گناہ ہے۔ اور قیامت کو حقوق العباد میں سب سے پہلے قتل ناحق کے مقدمات کا ہی فیصلہ ہوگا۔ اور دوسرا مطلب یہ کہ خودکشی نہ کرو۔ کیونکہ انسان کی اپنی جان پر بھی اس کا اپنا تصرف ممنوع اور ودکشی گناہ کبیرہ ہے۔ چناچہ حسن بصری فرماتے ہیں کہ تم سے پہلے لوگوں میں سے کسی کو ایک پھوڑا نکلا۔ جب اسے تکلیف زیادہ ہوئی تو اس نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکالا اور پھوڑے کو چیر دیا۔ پھر اس سے خون بند نہ ہوا یہاں تک کہ وہ مرگیا۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے اس پر جنت کو حرام کردیا۔ (یہ حدیث بیان کرنے کے بعد) حسن نے اپنا ہاتھ مسجد کی طرف بڑھایا اور کہا اللہ کی قسم مجھ سے یہ حدیث جندب (بن عبداللہ بجلی) نے بیان کی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس مسجد میں۔ (مسلم۔ کتاب الایمان۔ باب غلظ تحریم قتل الانسان نفسہ)[عبدالرحمان کیلانی]
.

اسلام نہ صرف روحانیت ہے اور نہ صرف مادیت؛ بلکہ دونوں کا حسین سنگم ہے۔ اسلام نے مادہ سے احتراز کی تاکید نہیں کہ ہے کہ انسان جوگ اور رہبانیت اختیار کرلے جیسا کہ ہندوازم ، بدھ ازم اور عیسائیت وغیرہ میں ہوا ، اور نہ انسانی معاشرہ کو مکمل طور پر مادیت کے حوالہ کیا گیا کہ انسان اپنی مادی خواہشات کے سامنے اپنی روحانی تقاضوں سے غافل ہو کر اپنی دنیا اور آخرت دونوں خراب کر لے، جیسا کہ آج کل مغرب کے ساتھ ہورہا ہے۔ اسلام نے انسان کی دنیوی زندگی فلاح و ترقی میں  مادیت کے کردار کو نہ صرف تسلیم کیا ہے؛بلکہ اسلامی نظام میں مادیت کو نہایت اعتدال و توازن کے ساتھ جگہ بھی دی ہے۔ اسلام نے کسبِ حلال کو اہم ترین فریضہ قرار دیا ہے اور تجارت، زراعت، صنعت اور ملازمت وغیرہ کے ذریعہ اپنی روزی خودکمانے کی تاکید کی ہے 

اسلامی معاشی پالیسی کا یہ بنیادی اصول بیان کیا گیا ہے کہ دولت کی گردش پورے معاشرے میں عام ہونی چاہیے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ مال صرف مال داروں میں ہی گھومتا رہے، مال دار کا مال دن بدن بڑھتا رہے اور غریب روز بروز کنگال ہوتا جائے۔معاش کے سلسلے میں جو چیز سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے وہ سرمایہ کی گردش ہے۔ سرمایہ کی گردش اگر اس طرح ہو کہ وہ ہر طبقہ کے لوگوں تک پہنچتا رہے تو سب لوگ خوش حال ہوں گے اور اگر وہ صرف چند لوگوں کے درمیان گھومے تو خوش حالی بھی چند لوگوں کے حصے میں آئے گی اور بقیہ لوگ بدحالی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گے۔ سرمایہ کی گردش معاشرہ کے جتنے زیادہ افراد کے درمیان ہوگا...>>>>>>

ECONOMICS/ TRADE/ BUSINESS

  • be fair in dealings, 6:15217:35 
  • Contract Law
    • contract must be in writing, 2:282
    • during journey a person’s “word” is acceptable, 2:283
    • when things go wrong don’t punish scribe or witness, 2:282
    • witnesses told to be truthful, 2:2835:825:72
    • witnessing (two men, or one man and two women), 2:282
  • Corruption, 5:328:7330:41

ناپ ‏تول ‏اور ‏تجارت ‏


ہر دور کے مفسدین کا یہی خیال رہا ہے کہ تجارت اور سیاست اور دوسرے دنیوی معاملات جھوٹ اور بےایمانی اور بد اخلاقی کے بغیر نہیں چل سکتے۔ لیکن الله کا حکم ہے کہ : وزن اور پیمانے پُورے کرو، لوگوں کو اُن کی چیزوں میں گھاٹا نہ دو، اور زمین میں فساد برپا نہ کرو

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم 0 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَاِلٰى مَدۡيَنَ اَخَاهُمۡ شُعَيۡبًا‌ ؕ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَـكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ‌ ؕ قَدۡ جَآءَتۡكُمۡ بَيِّنَةٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ‌ فَاَوۡفُوا الۡكَيۡلَ وَالۡمِيۡزَانَ وَلَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡيَآءَهُمۡ وَلَا تُفۡسِدُوۡا فِى الۡاَرۡضِ بَعۡدَ اِصۡلَاحِهَا‌ ؕ ذٰ لِكُمۡ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ‌ ۞ 
(القرآن - سورۃ نمبر 7 الأعراف , آیت نمبر 85)
ترجمہ:
اور مَدیَن والوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب ؑ کو بھیجا۔ اس نے کہا ”اے برادرانِ قوم، اللہ کی بندگی، اُس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے۔ تمہارے پاس تمہارے ربّ کی صاف رہنمائی آگئی ہے، لہٰذا وزن اور پیمانے پُورے کرو، لوگوں کو اُن کی چیزوں میں گھاٹا نہ دو، اور زمین میں فساد برپا نہ کرو جب کہ اس کی اصلاح ہو چکی ہے، اسی میں تمہاری بھلائی ہے اگر تم واقعی مومن ہو-

قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ لَـنُخۡرِجَنَّكَ يٰشُعَيۡبُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَكَ مِنۡ قَرۡيَتِنَاۤ اَوۡ لَـتَعُوۡدُنَّ فِىۡ مِلَّتِنَا‌ ؕ قَالَ اَوَلَوۡ كُنَّا كٰرِهِيْنَ ۞ (7:88)
ترجمہ:
اس کی قوم کے سرداروں نے، جو اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا تھے، ا س سے کہا کہ "اے شعیبؑ، ہم تجھے اور اُن لوگوں کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے ورنہ تم لوگوں کو ہماری ملت میں واپس آنا ہوگا" شعیبؑ نے جواب دیا "کیا زبردستی ہمیں پھیرا جائے گا خواہ ہم راضی نہ ہوں؟

وَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ لَئِنِ اتَّبَعۡتُمۡ شُعَيۡبًا اِنَّكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ ۞ (7:90)
ترجمہ:
اس کی قوم کے سرداروں نے ، جو اس کی بات ماننےسے انکار کر چکے تھے، آپس میں کہا ”اگر تم نے شعیب ؑ کی پیروی قبول کرلی تو برباد ہو جاوٴ گے۔“

اس چھو ٹے سے فقرے پر سے سرسری طور پر نہ گزر جائیے۔ یہ ٹھہر کر بہت سوچنے کا مقام ہے۔ مَدیَنَ کے سردار اور لیڈر دراصل یہ کہہ رہے تھے اور اسی بات کا اپنی قوم کو بھی یقین دلا رہے تھے کہ
 شعیب جس ایمان داری اور راست بازی کی دعوت دے رہا ہے اور اخلاق و دیانت کے جن مستقل اصولوں کی پابندی کرانا چاہتا ہے، اگر ان کو مان لیا جائے تو ہم تباہ ہوجائیں گے۔ ہماری تجارت کیسے چل سکتی ہے اگر ہم بالکل ہی سچائی کے پابند ہوجائیں اور کھرے کھرے سودے کرنے لگیں۔
 اور ہم جو دنیا کی دو سب سے بڑی تجارتی شاہ راہوں کے چورا ہے پر بستے ہیں، اور مصر اور عراق کی عظیم الشان متمدّن سلطنتوں کی سرحد پر آباد ہیں، اگر ہم قافلوں کو چھیڑنا بند کردیں اور بےضرر اور پُر امن لوگ ہی بن کر رہ جائیں تو جو معاشی اور سیاسی فوائد ہمیں اپنی موجودہ جغرافی پوزیشن سے حاصل ہو رہے ہیں وہ سب ختم ہوجائیں گے اور آس پاس کی قوموں پر ہماری جو دھونس قائم ہے وہ باقی نہ رہے گی۔۔۔۔ 
یہ بات صرف قوم شعیب کے سرداروں ہی تک محدود نہیں ہے۔ ہر زمانے میں بگڑے ہوئے لوگوں نے حق اور راستی اور دیانت کی روش میں ایسے ہی خطرات محسوس کیے ہیں۔ 
ہر دور کے مفسدین کا یہی خیال رہا ہے کہ تجارت اور سیاست اور دوسرے دنیوی معاملات جھوٹ اور بےایمانی اور بد اخلاقی کے بغیر نہیں چل سکتے۔
ہر جگہ دعوت حق کے مقابلہ میں جو زبردست عذرات پیش کیے گئے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی رہا ہے کہ اگر دنیا کی چلتی ہوئی راہوں سے ہٹ کر اس دعوت کی پیروی کی جائے گی تو قوم تباہ ہوجائے گی۔ (تفہیم القران )
~~~~~~~~~
*Don't Discard Quran  قرآن کو نظر انداز مت کریں*

*قرآن ہدایت کی واحد، آخری ، مکمل ، محفوظ کتاب اللہ ہے ، بلاشک و شبہ* جبکہ باقی تمام کتابیں انسانی تحریریں، جو مکمل ہونے، غلطی، شک و شبہ سے مبرا ہونے کا دعوی نہیں کر سکتیں. مگر پھر بھی مسلمان قرآن کو نظر انداز کرتے ہیں: 
*"اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا" ( الفرقان 25  آیت: 30)*

*Quran is the Only Last, Complete, Protected Divine Book of Guidance, without any doubt*, all other books are human efforts, cannot claim to be complete, free from error and doubt, yet Muslims have discarded Quran: 
*"The Messenger will say, Lord, my people did indeed discard the Quran" (Quran 25:30)*
Explore ....
https://Quran1book.blogspot.com
https://Quransubjects.blogspot.com

ربا ، سود حرام



اَلَّذِیۡنَ یَاۡکُلُوۡنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوۡمُوۡنَ اِلَّا کَمَا یَقُوۡمُ الَّذِیۡ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیۡطٰنُ مِنَ الۡمَسِّ ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ قَالُوۡۤا اِنَّمَا الۡبَیۡعُ مِثۡلُ الرِّبٰوا ۘ وَ اَحَلَّ اللّٰہُ الۡبَیۡعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا ؕ فَمَنۡ جَآءَہٗ مَوۡعِظَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ فَانۡتَہٰی فَلَہٗ مَا سَلَفَ ؕ وَ اَمۡرُہٗۤ اِلَی اللّٰہِ ؕ وَ مَنۡ عَادَ فَاُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۷۵﴾

 سود خور  لوگ نہ کھڑے ہونگے مگر اسی طرح جس طرح وہ کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان چھو کر خبطی بنا دے   ، یہ اس لئے کہ یہ کہا کرتے تھے کہ تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے  حالانکہ اللہ تعالٰی نے تجارت کو حلال کیا اور سود کو حرام ،  جو شخص اپنے پاس آئی ہوئی اللہ تعالٰی کی نصیحت سُن کر رُک گیا اس کے لئے وہ ہے جو گزرا  اور اس کا معاملہ اللہ تعالٰی کی طرف ہے  اور جو پھر دوبارہ  ( حرام کی طرف )  لوٹا وہ جہنمی ہے ،  ایسے لوگ ہمیشہ ہی اس میں رہیں گے ۔   [سورة البقرة 2  آیت: 275]


 Those who consume interest cannot stand [on the Day of Resurrection] except as one stands who is being beaten by Satan into insanity. That is because they say, "Trade is [just] like interest." But Allah has permitted trade and has forbidden interest. So whoever has received an admonition from his Lord and desists may have what is past, and his affair rests with Allah . But whoever returns to [dealing in interest or usury] - those are the companions of the Fire; they will abide eternally therein. [ Surat ul Baqara: 2 Verse: 275]


یہ دراصل سود خور یہودیوں کا قول ہے اور آج کل بہت سے مسلمان بھی اسی نظریہ کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ سودی قرضے دراصل دو طرح کے ہوتے ہیں ذاتی قرضے یا مہاجنی قرضے یعنی وہ قرضے جو کوئی شخص اپنی ذاتی ضرورت کے لئے کسی مہاجن یا بنک سے لیتا ہے اور دوسرے تجارتی قرضے جو تاجر یا صنعت کار اپنی کاروباری اغراض کے لئے بنکوں سے سود پر لیتے ہیں۔ اب جو مسلمان سود کے جواز کی نمائندگی کرتے ہیں۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ جس سود کو قرآن نے حرام کیا ہے وہ ذاتی یا مہاجنی قرضے ہیں جن کی شرح سود بڑی ظالمانہ ہوتی ہے اور جو تجارتی سود ہے وہ حرام نہیں۔ کیونکہ اس دور میں ایسے تجارتی سودی قرضوں کا رواج ہی نہ تھا۔ نیز ایسے قرضے چونکہ رضا مندی سے لئے دیئے جاتے ہیں اور ان کی شرح سود بھی گوارا اور مناسب ہوتی ہے اور فریقین میں سے کسی پر ظلم بھی نہیں ہوتا، لہذا یہ تجارتی سود اس سود سے مستثنیٰ ہے جنہیں قرآن نے حرام قرار دیا ہے۔ یہاں ہم مجوزین تجارتی سود کے تمام دلائل بیان کرنے اور ان کے جوابات دینے سے قاصر ہیں۔ (جس کو تفصیلات درکار ہوں وہ میری تصنیف تجارت اور لین دین کے مسائل و احکام میں سود سے متعلق دو ابو اب ملاحظہ کرسکتا ہے) لہذا چند مختصر دلائل پر ہی اکتفا کریں گے :
١۔ دور نبوی میں تجارتی سود موجود تھے اور سود کی حرمت سے پیشتر صحابہ (رض) میں سے حضرت عباس اور خالد بن ولید ایسے ہی تجارتی سود کا کاروبار کرتے تھے۔ اس دور میں عرب اور بالخصوص مکہ اور مدینہ میں لاکھوں کی تجارت ہوا کرتی تھی۔ علاوہ ازیں ہمسایہ ممالک میں تجارتی سود کا رواج عام تھا۔ 
٢۔ قرآن میں ربوا کا لفظ علی الاطلاق استعمال ہوا ہے جو ذاتی اور تجارتی دونوں قسم کے قرضوں کو حاوی ہے۔ لہذا تجارتی سود کو اس علی الاطلاق حرمت سے خارج نہیں کیا جاسکتا۔ 
٣۔ قرآن نے تجارتی قرضوں کے مقابل یہ آیت پیش کی ہے۔ (وَاَحَلَّ اللّٰهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا ٢٧٥۔ ) 2 ۔ البقرة :275) اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام جبکہ ذاتی قرضوں کے مقابل یوں فرمایا ( يَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَيُرْبِي الصَّدَقٰتِ ٢٧٦۔ ) 2 ۔ البقرة :276) اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کی پرورش کرتا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے سود کے خاتمہ کے لئے ذاتی قرضوں کا حل صدقات تجویز فرمایا ہے اور تجارتی قرضوں کے لئے شراکت اور مضاربت کی راہ دکھلائی ہے جو حلال اور جائز ہے۔ 
٤۔ جہاں تک کم یا مناسب شرح سود کا تعلق ہے تو یہ بات آج تک طے نہیں ہوسکی کہ مناسب شرح سود کیا ہے ؟ کبھی تو ٢ فیصد بھی نامناسب شرح سمجھی جاتی ہے۔ جیسا کہ دوسری جنگ عظیم کے لگ بھگ زمانے میں ریزوبنک آف انڈیا ڈسکاؤنٹ ریٹ مقرر ہوا اور کبھی ٢٩ فیصد شرح سود بھی مناسب اور معقول سمجھی جاتی ہے (دیکھئے : اشتہار انوسٹمنٹ بنک مشتہرہ نوائے وقت مورخہ ١٩٧٧ ئ۔ ٨-١١) 
شرح سود کی مناسب تعیین نہ ہوسکنے کی غالباً وجہ یہ ہے کہ اس کی بنیاد ہی متزلزل اور کمزور ہے۔ مناسب اور معقول شرح سود کی تعیین تو صرف اس صورت میں ہوسکتی ہے جب یہ معلوم ہوسکے کہ قرض لینے والا اس سے کتنا یقینی فائدہ حاصل کرے گا اور اس میں سے قرض دینے والے کا معقول حصہ کتنا ہونا چاہئے۔ مگر ہمارے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں جس سے یہ معلوم ہوسکے کہ قرض لینے والے کو اس مقرر مدت میں کتنا فائدہ ہوگا، یا کچھ فائدہ ہوگا بھی یا نہیں۔ بلکہ الٹا نقصان بھی ہوسکتا ہے۔
 ثانیاً ایک ہی ملک اور ایک ہی وقت میں مختلف بنکوں کی شرح سود میں انتہائی تفاوت پایا جاتا ہے اور اگر سب کچھ مناسب ہے تو پھر نامناسب کیا بات ہے ؟ 
ثالثاً اگر شرح سود انتہائی کم بھی ہو تو بھی یہ سود کو حلال نہیں بنا سکتی۔ کیونکہ شریعت کا یہ اصول ہے کہ حرام چیز کی قلیل مقدار بھی حرام ہی ہوتی ہے۔ شراب تھوڑی بھی ایسے ہی حرام ہے جیسے زیادہ مقدار میں (ترمذی، ابو اب الاشربہ، باب ما سکر کثیرۃ فقلیلہ حرام) 
٥۔ جہاں تک باہمی رضا مندی کا تعلق ہے تو یہ شرط صرف حلال معاملات میں ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حلال اور جائز معاملات میں بھی اگر فریقین میں سے کوئی ایک راضی نہ ہو تو وہ معاملہ حرام اور ناجائز ہوگا۔ جیسے تجارت میں مال بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کی رضا مندی ضروری ہے ورنہ بیع فاسد اور ناجائز ہوگی۔ 
اسی طرح نکاح میں بھی فریقین کی رضا مندی ضروری ہے۔ لیکن یہ رضا مندی حرام کاموں کو حلال نہیں بناسکتی۔ اگر ایک مرد اور ایک عورت باہمی رضا مندی سے زنا کریں تو وہ جائز نہیں ہوسکتا اور نہ ہی باہمی رضا مندی سے جوا جائز ہوسکتا ہے۔ اسی طرح سود بھی باہمی رضا مندی سے حلال اور جائز نہیں بن سکتا۔ 
علاوہ ازیں سود لینے والا کبھی سود دینے پر رضا مند نہیں ہوتا۔ خواہ شرح سود کتنی ہی کم کیوں نہ ہو۔ بلکہ یہ اس کی مجبوری ہوتی ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر اسے کہیں سے قرض حسنہ مل جائے تو وہ کبھی سود پر رقم لینے کو تیار نہ تھا۔ 
٦۔ رہی یہ بات کہ تجارتی سود میں کسی فریق پر ظلم نہیں ہوتا۔ گویا یہ حضرات سود کی حرمت کی علت یا بنیادی سبب ظلم قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ تصور ہی غلط ہے۔ آیت کے سیاق وسباق سے واضح ہے کہ یہ الفاظ سودی معاملات اور معاہدات کو ختم کرنے کی ایک احسن صورت پیش کرتے ہیں یعنی نہ تو مقروض قرض خواہ کی اصل رقم بھی دبا کر اس پر ظلم کرے اور نہ قرض خواہ مقروض پر اصل کے علاوہ سود کا بوجھ بھی لاد دے۔ ان الفاظ کا اطلاق ہمارے ہاں اس وقت ہوگا جب ہم اپنے معاشرہ کو سود سے کلیتاً پاک کرنا چاہیں گے، یا نجی طور پر قرضہ کے فریقین سود کی لعنت سے اپنے آپ کو بچانے پر آمادہ ہوں گے۔ 
سود کی حرمت کا بنیادی سبب ظلم نہیں بلکہ بیٹھے بٹھائے اپنے مال میں اضافہ کی وہ ہوس ہے جس سے ایک سرمایہ دار اپنی فاضل دولت میں طے شدہ منافع کی ضمانت سے یقینی اضافہ چاہتا ہے اور جس سے زر پرستی، سنگ دلی اور بخل جیسے اخلاق رذیلہ جنم لیتے ہیں۔ 
اب ایک مسلمان کا کام تو یہی ہونا چاہئے کہ جب اللہ نے سود کو حرام کردیا تو اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دے۔ خواہ اسے سود اور تجارت کا فرق اور ان کی حکمت سمجھ آئے یا نہ آئے تاہم جو لوگ یہ نظریہ پیش کرتے ہیں کہ تجارت بھی سود ہی کی طرح ہے۔ اللہ نے انہیں انتہائی بدھو اور مخبوط الحواس قرار دیا ہے۔ جنہیں کسی جن نے آسیب زدہ بنادیا ہو اور وہ اپنی خود غرضی اور زر پرستی کی ہوس میں خبطی ہوگئے ہوں کہ انہیں تجارت اور سود کا فرق نظر ہی نہیں آرہا، چونکہ وہ اس زندگی میں باؤلے ہو رہے ہیں۔ لہذا وہ قیامت کے دن بھی اسی حالت میں اپنی قبروں سے اٹھیں گے۔ اب ہم ایسے لوگوں کو سمجھانے کے لئے سود اور تجارت کا فرق بتلاتے ہیں : 
١۔ سود ایک طے شدہ شرح کے مطابق یقینی منافع ہوتا ہے۔ جبکہ تجارت میں منافع کے ساتھ نقصان کا احتمال بھی موجود ہوتا ہے۔ خواہ کوئی شخص اپنے ذاتی سرمایہ سے تجارت کرے یا یہ مضاربت یا شراکت کی شکل ہو۔
٢۔ مضاربت کی شکل میں فریقین کو ایک دوسرے سے ہمدردی، مروت اور مل جل کر کاروبار چلانے کی فضا پیدا ہوتی ہے۔ کیونکہ ان کا مفاد مشترک ہوتا ہے اور اس کا قومی پیداوار پر خوشگوار اثر پڑتا ہے۔ جبکہ تجارتی سود کی صورت میں سود خوار کو محض اپنے مفاد سے غرض ہوتی ہے۔ بعض دفعہ وہ ایسے نازک وقت میں سرمایہ کی واپسی کا تقاضا کرتا اور مزید فراہمی سے ہاتھ کھینچ لیتا ہے جبکہ کاروبار کو سرمایہ کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔ اس طرح سود خوار تو اپنا سرمایہ بمعہ سود نکال دیتا ہے مگر مقروض کو سخت نقصان پہنچتا ہے اور قومی معیشت بھی سخت متاثر ہوتی ہے۔ 
٣۔ مضاربت اور سود میں تیسرا فرق یہ ہے کہ مضاربت سے اخلاق حسنہ پرورش پاتے ہیں۔ جس سے معاشرہ میں اخوت اور خیر و برکت پیدا ہوتی ہے اور طبقاتی تقسیم مٹتی ہے۔ جبکہ سود سے اخلاق رذیلہ مثلاً خود غرضی، مفاد پرستی، بخل اور سنگدلی پیدا ہوتے ہیں۔ سود کی حرمت کی علت یہی اخلاق رذیلہ اور ہوس زر پرستی ہے۔ سودی نظام معیشت نے صرف ایک ہی شائی لاک (ایک سنگ دل یہودی کا مثالی کردار جس نے بروقت ادائیگی نہ ہونے کی بنا پر اپنے مقروض کی ران سے بےدریغ گوشت کا ٹکڑا کاٹ لیا تھا) پیدا نہیں کیا بلکہ ہر دور میں ہزاروں شائی لاک پیدا ہوتے رہے ہیں اور آئندہ بھی ہوتے رہیں گے۔ 
اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ جو سود کھاچکا وہ معاف ہے بلکہ یوں فرمایا کہ اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، چاہے تو بخش دے، چاہے تو سزا دے۔ لہذا محتاط صورت یہی ہے کہ وہ سود کی حرام کمائی خود استعمال نہ کرے بلکہ جس سے سود لیا تھا اسے ہی واپس کردے تو یہ سب سے بہتر بات ہے ورنہ محتاجوں کو دے دے یا رفاہ عامہ کے کاموں میں خرچ کر دے۔ اس طرح وہ سود کے گناہ سے تو شاید بچ جائے مگر ثواب نہیں ہوگا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ حرام مال کا صدقہ قبول نہیں کرتا۔  [ عبدل رحمان کیلانی ]

ربا ، سود پرعلماء کی  مختلف آراء 

اسلام میں حرمتِ سود کے تدریجی احکام

آپ صلی الله علیہ وسلم جس زمانے میں مبعوث ہوئے اس میں اہل عرب سودی معاملات میں پوری طرح دھنسے ہوئے تھے ،سود خور سرمایہ داروں نے سودی لین دین کو خرید وفروخت کی طرح کا لین دین قرار دے کر اسے رائج کر رکھا تھا، الله تعالیٰ نے شراب کی طرح سود کے بارے میں بھی اپنی حکمت سے تدریجی احکام نازل فرماکر بالآخر مطلق حرام قرار دیا۔

پہلا حکم:
سود کے متعلق نفرت اجاگر کرنے کے لیے پہلے بتایا گیا کہ یہ یہودیوں کی عادت ہے، جو لوگوں کا مال ناحق طریقے سے کھاتے ہیں: ﴿وَأَخْذِہِمُ الرِّبَا وَقَدْ نُہُواْ عَنْہُ وَأَکْلِہِمْ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِل﴾․ (النسا:161) ”اور اس وجہ سے سود لیتے تھے اور ان کو اس کی ممانعت ہو چکی تھی او راس وجہ سے کہ لوگوں کا مال کھاتے تھے ناحق۔“

دوسرا حکم:
سود کی شرح نہایت بلند ہوتی تھی، مثلاً100روپے کا سالانہ سود بھی 100 لیا جاتا ، یعنی ایک سال میں سود راس المال کے برابر ہو جاتا ، مقروض دینے پر قادر نہ ہوتا تو تیسرے سال مزید 100 روپے شرح سود میں بڑھا دیے جاتے، اب سود اصل رقم سے دو گنا ہو جاتا، اسی طرح وقت گزرنے کے ساتھ وہ دوگنا پر دوگنا ہوتا چلا جاتا۔ چناں چہ مسلمانوں کو اس قدر گراں شرح سود سے روکا گیا :﴿ یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تَأْکُلُواْ الرِّبَا أَضْعَافاً مُّضَاعَفَةً وَاتَّقُواْ اللّہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُون﴾․(اٰل عمران:130)”اے ایمان والو! مت کھاؤ سود دونے پردونا اور ڈرو الله سے، تاکہ تمہارا بھلا ہو ۔“

اس آیت کے بعد بھی مسلمانوں میں سودی کاروبار کچھ نہ کچھ باقی رہا تھا کیوں کہ سود در سود سے روکا گیا تھا، نفس سود معمولی شرح کے ساتھ ممنوع نہ تھا، چناں چہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے طائف کے باشندوں سے جو معاہدہ طے فرمایا تھا اس سے بھی یہی معلوم ہو تا ہے کہ سودی کاروبار کی محدوداجازت تھی۔ (کتاب الأمْوال لأبی عبید القاسم بن سلام: ص:206)

تیسرا حکم:
پھر سورہٴ بقرة کی مذکورہ آیت سے ہر طرح کے سود کو حرام قرار دیا گیا، پھر نبوت کے آخری سال اگلی والی آیت اتری، جس میں سودی لین دین کرنے والوں کو الله اور رسول کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا گیا، چناں چہ ابن عباس رضي الله عنه فرماتے ہیں آخر ی آیت جو رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم پر نازل ہوئی وہ آیت ربواتھی ۔ (جامع البیان، سورة البقرہ تحت آیة رقم:278)

یعنی جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ قیامت کے دن ایسے اٹھائے جائیں گے جیسے انہیں شیطان نے لپٹ کر بدحواس کر دیا ہو، ان کی دیگر سزاؤں کے ساتھ ساتھ سود خوری کی نحوست سے یہ خاص سزا انہیں اس لیے دی جائے گی کہ انہوں نے الله کے حکم حرمت سود پر”سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا“ کہہ کر قبول کرنے کے بجائے عقلی انداز میں کہا کہ خرید وفروخت بھی تو سود ہی کی طرح ہے، لہٰذا جس طرح خرید وفروخت جائز ہے، اسی طرح سود بھی جائز ہونا چاہیے، اس عقلی دلیل کی وجہ سے آخرت میں سزا بھی مخبوط الحواسی کی صورت میں ملے گی، نیز سود اور خرید وفروخت کا فرق سب جانتے ہیں او رجب آیت نازل ہوئی عرب ان دونوں کی حقیقت سے واقف تھے، لیکن شیطان نے سود خور سرمایہ داروں کو تسلی دی کہ خرید وفروخت بھی سود ہی کی طرح ہوتی ہے۔ دونوں میں مقصود نفع کمانا ہوتا ہے، حالاں کہ خریدوفروخت میں نفع او رنقصان دونوں کا احتمال ہوتا ہے ۔ تاجر نفع کے حصول اور نقصان سے بچاؤ کے لیے صبح وشام کی بھاگ دوڑ اور ذہنی تدابیر اختیار کرتا ہے، اس کے مقابلے میں سود خور سود پر رقم دے کر مطمئن ہو جاتا ہے ۔ لینے والے کا فائدہ ہویا نقصان، سود خور کو اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی، اس کا نفع ہر لمحہ بغیر کسی نقصان کے اندیشے کے بڑھتا ہی رہتا ہے، کیوں کہ شریعت میں سود کہتے ہیں اصل قرضہ پر بلامعاوضہ زیادتی کو ۔ (روح المعانی، البقرة، تحت آیة رقم:275)
-------------------------

سود کو عربی زبان میں ربا کہتے ہیں۔ ربا سے مراد معینہ مدت کے قرض پہ وہ اضافہ ہے جس کا مطالبہ قرض خواہ مقروض سے کرتا ہے اور یہ شرح پہلے سے طے شدہ ہوتی ہے۔ ذیل میں اس کی وضاحت دی گئی ہے:

لغت میں ربا کا معنی زیادتی‘ بڑھوتری اور بلندی ہے۔ ابو القاسم الحسین بن محمد اصفہانی کہتے ہیں:

الربا الزیادة علی رأس المال لکن خصّ في الشرع بالزیادة علی وجه دُون وجه۔

اصل مال پر زیادتی کو ربا کہتے ہیں لیکن شریعت میں ہر زیادتی کو ربا نہیں کہتے بلکہ وہ زیادتی جو مشروط ہو، سود ہے، شرط کے بغیر اگر مقروض ، دائن کو خوشی سے کچھ زائد مال دے تو جائز ہے سود نہیں۔

أصفهاني، المفردات في غریب القرآن، 1: 187، دار المعرفة لبنان

ابو منصور محمد بن احمد الازہری، محمد بن مکرم بن منظور الافریقی اور محمد مرتضیٰ الحسینی الزبیدی فرماتے ہیں:

الرِّبا رَبَوان فالحرام کُلّ قَرْض یُؤْخذ به أکثر منه أو تجرُّ به مَنْفعة فحرام والذي لیس بحرام أن یَهبه الانسان یَسْتَدعي به ما هو أکثر أو یُهدي الهدِیَّة لِیُهدَی له ما هو أکثر منها۔

زیادتی دو قسم پر ہے، حرام وہ قرض ہے جو زیادتی کے ساتھ وصول کیا جائے یا اس سے فائدہ (بطور شرط) حاصل کیا جائے، وہ حرام ہے اور جو حرام نہیں وہ یہ ہے کہ مقروض مدت مقررہ پر اصل رقم پر بطور ہبہ کچھ اضافی مال قرض خواہ کو غیر مشروط دیدے۔

الأزہري، تہذیب اللغة، 15: 196، دار احیاء التراث العربي بیروتابن منظور، لسان العرب، 14: 304، دار صادر بیروتالزبیدي، تاج العروس، 38: 118، دار الہدایة

ابو السعادات المبارک بن محمد الجزری لکھتے ہیں:

هو في الشرع الزیادة علی أصل المال من غیر عقد تبایع۔

شریعت میں رباء کا مطلب تجارتی سودے کے بغیر اصل مال پر اضافی منافع وصول کرنا۔

ابن الأثیر الجزري، النهایة، 2: 192، المکتبة العلمیة بیروت

احمد بن علی الرازی الجصاص ابو بکر فرماتے ہیں:

هو القرض المشروط فیه الأجل و زیادة مال علی المستقرض۔

جس قرض میں مدت متعین کے ساتھ قرض لینے والے کو اضافی رقم دینا مشروط ہو۔

جصاص، أحکام القرآن، 2: 189، دار احیاء التراث العربي بیروت

لہٰذا قرض میں دئے ہوئے اصل مال پر جو اضافی رقم مدت کے مقابلہ میں شرط اور تعیین کے ساتھ لی جائے وہ سود ہے۔

آپ نے اپنے سوال میں بتایا ہے کہ کوئی کمپنی آپ کو اصل رقم پر تین (3) فیصد سالانہ اضافے کی بنیاد پر قرض دے رہی ہے، تو یہ سود ہے۔ اسلامی قوانینِ معیشت کے مطابق ایسا قرض لینے اور دینے کی قطعاً اجازت نہیں ہے۔ جس قرض کے ساتھ بھی قرض خواہ متعین مدت کے ساتھ معین رقم کا مطالبہ کرے گا، وہ سوائے سود کے اور کچھ نہیں۔ کیونکہ یہ ضرورت مند کے ساتھ ظلم اور اس کا استحصال ہے، اور اسلام ایسے ظلم اور استحصال کے خاتمے کے لیے آیا ہے۔

اس کے مقابلے میں اسلام کا طرزِ معیشت خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار ہے، جس میں قرضِ حسنہ کو فروغ دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نفع و نقصان کی شراکت کی بنیاد پر مضاربہ کی صورت میں سرمایہ کاری کو جائز قرار دیا گیا ہے۔ مضاربہ کے بارے میں تفصیلی مطالعہ کے لیے ملاحظہ کیجیے:
بیع مضاربہ کیا ہے؟
واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔ مفتی: عبدالقیوم ہزاروی
-------------------
 ’’قرض ادا کرتے وقت کسی پیشگی شرط کے بغیر اصل رقم سے زائد دینا قابلِ ستائش اور سنتِ رسولﷺ کے مطابق ہے۔ حضرت جابرؓ  کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ ان کے مقروض تھے۔ آپﷺ نے مجھے ادائیگی کی اور اصل سے زیادہ رقم دی (مسلم، ۱۹۸۱، ۱۰م ص ۲۱۹، نسائی ص ۲۸۳، ۲۸۴، ابن قدامہ، ص ۳۲۰،۳۲۱)۔

 اسی طرح رسول اللہﷺ نے ادھار میں لیے گئے ایک اونٹ کی ادائیگی کے لیے ایک بہتر اونٹ دینے کا حکم دیا کیونکہ ادائیگی کے وقت مطلوبہ عمر کا اونٹ دستیاب نہ تھا۔ ‘‘  (اسلامی مالیات، ص۔۲۱۸)۔
چونکہ تجارت میں فائدے کے لیے عربی میں ’ربا‘ (مادّہ رب و) کا لفظ موجود ہی نہیں اس لیے اس پر الف لام (ال) لگاکر قرض پر حاصل ہونے والی زیادتی کا خاص مفہوم پیدا کرنے کا تصوّر ہی بے معنی ہے۔ ’ربا‘ کے لفظ میں ہی قرض پر بڑھوتری و زیادتی تصوّر موجود تھا اور اہلِ عرب اس لفظ کو اسی معنوں میں استعمال کرتے تھے۔ الف لام لگا کر البتہ قرآن نے اس قرض کو خاص کر دیا جس پر اضافہ کو حرام قرار دینا مقصود تھا۔ حضرت مفتی محمد شفیعؒ بہت حوالوں کے بعد لکھتے ہیں: ’’مذکورہ الصدر حوالوں سے یہ واضح طور پر ثابت ہو گیا کہ لفظ ’ربا‘ ایک مخصوص معاملہ کے لیے عربی زبان میں نزولِ قرآن سے پہلے سے متعارف چلا آتا تھا، اور پورے عرب میں اس معاملہ کا رواج تھا وہ یہ کہ قرض دے کر اس پر کوئی نفع لیا جائے اور عرب صرف اسی کو ربا کہتے اور سمجھتے تھے۔‘‘ (مسئلہِ سود؛ ص۔۲۳)۔
ربا اور سود میں فرق ۔۔۔۔ محمد انور عباسی
اگر عرب لفظ ’ربا‘ کو ایک مخصوص معاملہ یعنی قرض پر بڑھوتری کے لیے استعمال کرتے تھے تو یہ کہنا کس طور درست ہو سکتا ہے کہ معاملات خریدوفروخت اور تجارت پر ہونے والے فائدے کے لیے ’ربا‘ کا اطلاق ہو سکتا ہے؟
خلاصہِ کلام:  بینک انٹرسٹ کو ذہن میں رکھ کر ’ربا‘ کی تمام تعریفیں نہ صرف متضاد ہیں بلکہ بسا اوقات ایک ہی مفکر کی تعریفیں آپس میں ٹکراتی ہیں۔  لُغوی لحاظ سے ’الربوٰ‘ کا اطلاق بینک انٹرسٹ پر درست نہیں۔  علمائے کرام کے بیان کردہ مفاسد کا اطلاق بینک انٹرسٹ پر نہیں ہوتا، بلکہ اہلِ حاجت یعنی غریب افرادکو قرض دے کر فائدہ اٹھانے پر ہوتا ہے۔  سیاق و سباق کا لحاظ رکھا جائے تو قرآن مجید میں ’الربوٰ‘ کا اطلاق اس بڑھوتری پر ہوتا ہے جو اہلِ حاجت کو قرض دے کر حاصل کیاجائے۔ بعض لوگ کرنسی، سونا چاندی، گندم، جو اور کھجور وغیرہ کو خلط مبحث کر کے بیچ میں لے آتے ہیں۔ اگر ضرورت پڑی تو اس پر بھی روشنی ڈالی جائے گی۔ ہم نے لوگوں کے تبصروں سے صرفِ نظر کر کے اپنا نقطہِ نظر پیش کر دیا ہے۔ اہلِ علم سے درخواست ہے کہ ان دلائل پر نقد کیا جائے۔ >>>> http://daanish.pk/21640


یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمۡوَالَکُمۡ بَیۡنَکُمۡ بِالۡبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنۡ تَکُوۡنَ تِجَارَۃً عَنۡ تَرَاضٍ مِّنۡکُمۡ ۟ وَ لَا تَقۡتُلُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُمۡ رَحِیۡمًا ﴿سورة النساء 4  آیت: 29

 اے ایمان والو! اپنے آپس کے مال ناجائز طریقہ سے مت کھاؤ ، مگر یہ کہ تمہاری آپس کی رضامندی سے ہو خرید وفروخت   ، اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو  یقیناً اللہ تعالٰی تم پر نہایت مہربان ہے ۔  (4:29)

 O you who have believed, do not consume one another's wealth unjustly but only [in lawful] business by mutual consent. And do not kill yourselves [or one another]. Indeed, Allah is to you ever Merciful. [ Surat un Nissa: 4 Verse: 29]

افراط زر اور جدید بنکنگ سسٹم :

 افراط زر بہت ہی اصل مسئلہ ہے ، جس کی وجہ سے کسی کے  transaction ٹرانزیکشن میں نقصان ہوئے بغیر کچھ عرصے کے لئے دوسرے کے پاس رقم بھیجنا مشکل ہوجاتا ہے۔ 
 یہ نہ صرف کسی دوسرے شخص کو دیئے گئے قرض پر ، بلکہ کرنٹ اکاؤنٹ میں رکھے ہوئے پیسوں پر بھی لاگو ہوتا ہے ، جو سود نہیں دیتا ہے۔  کسی بھی قسم کی بچت جو ریٹرن نہیں دیتی ہے ، مہنگائی کی وجہ سے کھو جانے والی قیمت ہے۔  وہاں کوئی ناانصافی ، ظلم یا تکلیف نہیں ہونی چاہئے۔  یہ خدائی حکم ہے جو قرآن میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔

 "آپ کو ناانصافی نہیں کی جانی چاہئے اور کسی کو تکلیف نہیں پہنچنا چاہئے۔"

اور مدین والوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیبؑ کو بھیجا اُس نے کہا "اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے اور ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو آج میں تم کو اچھے حال میں دیکھ رہا ہوں، مگر مجھے ڈر ہے کہ کل تم پر ایسا دن آئے گا جس کا عذاب سب کو گھیر لے گا (84) اور اے برادران قوم، ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ پورا ناپو اور تولو اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں گھاٹا نہ دیا کرو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو (11:85قران )

 اس سب کے لئے پوری طرح مطالعہ کی ضرورت ہے تاکہ اسکالرز موجودہ دور کے مسائل کے جوابات سامنے لائیں ، بجائے اس کے کہ بعد کے مسائل پر پہلے کے اسکالروں کے احکامات کا اطلاق کریں۔
 مولانا ، محترم۔  ۔۔  یہ حرام کیسے ہے؟
 افراط زر کی وجہ سے رقم کی قدر میں کمی کو دور کرنے کے لئے  زیادہ کا استعمال کچھ خاصی خوبی ہے۔  یہاں مقصد یہ ہے کہ انسان کے پاس جو ہے اس کی اصل قیمت کو برقرار رکھنا۔

 سوال یہ ہے کہ کیا یہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ 

 یہ ایک بہت ہی مشکل سوال نہیں  ہے اور علماء اس نکتے پر قطعی فیصلہ نہیں لائے ہیں۔  یہ مسئلہ تب تک برقرار رہے گا جب تک کہ کسی قابل استحصال جواب کی تلاش نہیں کی جاسکتی ہے تاکہ بغیر کسی استحصال کے سرمایہ کاروں ، قرض دینے والوں اور قرض لینے والوں کے ساتھ انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔  ؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمنٹس 
بات سیدھی ہے ہمارے علماء ذمہ داری لینے سے گھبراتے ہیں علم کی کمی یا اعتماد کی ۔۔۔ مکھی پر مکھی مارنا آسان ہے ۔۔۔
قرآن کی آیت 11:85  واضح ہے ۔۔۔ ناپ تول میں کمی نہ کرو ۔۔۔
اب انفلیشن کا ریٹ چیک کریں ۔۔۔ جو منافع اسلامی بنک دے رہا ہے اسے انفلیشن سے منفی کریں ۔۔۔ وہ آپ کا جائیز مال ہے سود نہیں ۔۔۔ جو زیادہ ہو تو خیرات کر دو۔۔ 
مثال #1
۔۔۔ انفلیشن 12% ۔۔۔۔ منافع 13% ۔۔۔ 
13-12=1%۔۔۔۔۔۔ 1% ایکسٹرا 

1% خیرات کردو

مثال #2
منافع 12% ۔۔ انفلیشن 14% 
14-12= 2% نقصان 
جوب ظاہر ہے ۔۔
اسے کوئی غلط ثابت کرے ۔۔؟ قرآن سے دلیل کے ساتھ ۔۔۔من گھڑت تاویلون سے نہیں ۔۔ جزاک اللہ
-----------------

افراط زر 

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ کاغذی کرنسی کی قدر (Value)افراط زر کے باعث کم ہو جاتی ہے۔ جب قرض دینے والے کو ایک خاص مدت کے بعد اس کی رقم لوٹائی جاتی ہے تو اس وقت اس افراط زر کے باعث اسے نقصان سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ اس صورت میں قرض دینے والا اس نقصان کی تلافی کے لیے قرض لینے والے سے کچھ زائد رقم کا تقاضا کرے تو کیا یہ تقاضا بھی ''ربا''ہی شمار ہو گا ؟

اگر افراطِ زر کی صحیح شرح کے مطابققرض کی اصل رقم سے کچھ زائد رقم کا تقاضا کیا جائے تو وہ ''ربا''شمار نہیں ہو گا۔ اس صورت میں نہ قرض دینے والا قرض کے استعمال پر پہلے سے متعین شدہ زائد رقم کا تقاضا کرسکتا ہے اور نہ اس زائد رقم کو حقیقی طور پر نفع کہا جا سکتا ہے۔

افراطِ زر یا روپے کی حقیقی قدر میں کمی بیشی کے لحاظ سے قرضوں کی ایڈجسٹمنٹ کے لیے عدل و قسط پر مبنی کوئی طریقہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر:

۱۔ یہ معاملہ حکومت پاکستان کی طرف سے اعلان کی گئی افراطِ زر کی شرح کے مطابق کیا جائے۔

۲۔ یہ معاملہ ملک میں سب سے زیادہ صرف ہونے والی چند چیزوں کی اوسط قیمت کے مطابق کیا جائے۔

۳۔ یہ معاملہ ملک میں سونے کی قیمت میں جو اتار چڑھاؤ آتا ہے، اس کے مطابق کیا جائے۔ مثال کے طور پر قرض کے لین دین کے موقع پر دونوں فریقین اس وقت مارکیٹ میں سونے کی قیمت کے لحاظ سے معاہدے میں یہ شرط رکھ لیتے ہیں کہ قرض کی واپسی کے وقت مارکیٹ میں سونے کی جو قیمت ہو گی، اس کے مطابق ادائیگی کی جائے گی ۔ فرض کریں ، اسلم خاور کو ۱۰۰ روپے قرض دیتا ہے اور اس وقت مارکیٹ میں سونے کی قیمت ۱۰۰ روپے فی گرام ہے تو اس وقت یہ طے پائے گا کہ خاور نے اسلم سے ۰۰ ۱گرام سونا قرض لیا ہے۔ پھر جب خاور قرض اتارتا ہے اور اس وقت سونے کی قیمت ۱۵۰روپے فی گرام ہے تو اسے ۱۵۰ روپے واپس کرنا ہوں گے۔ اسی طرح اگرقرض لوٹاتے وقت سونے کی قیمت ۹۰ روپے فی گرام ہو تو خاور اسلم کو ۹۰ روپے واپس کرے گا۔

یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ ہمارے نزدیک قرض کے لین دین میں افراط زر کے مطابق ایڈجسٹمنٹ نہ صرف جائز، بلکہ مطلوب ہے، جس طرح ایک قرض دینے والا ''ربا''وصول کر کے قرض لینے والے پر ظلم کرتا ہے، اسی طرح قرض لینے والا قرض اتارتے وقت افراطِ زر کی حقیقت نظر انداز کر کے قرض دینے والے پر ظلم کرتا ہے۔ [لنک ]

..................

جمہور علماۓاسلام اور علماۓ الازہر کے نزدیک تعبیرات "الربا" سود


پچھلے  دنوں    "مولانا مودودی -ر ح- پر  صداۓ مسلم فورم پر ایک گفتگو ہوئی جس میں مولانا کے متعلق بات ہوتی رہی اور فیس بک کے دوستوں نے اس بات چیت میں حصہ لیا اور اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ، اس گفتگو میں شامل اسلامی معیشت کا موضوع بھی تھا ، اسی گفتگو سے ہم نےمندرجہ بالا  مباحث لیے ہیں اور معمولی حک و اضافہ سے قارئیں کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں تاکہ اگر کوئی صاحب چاہے تو استفادہ کر سکتا ہے۔

سیونگ سرٹیفکیٹ اور سود ۔۔ الازہر کا فتوی؟

ڈاکٹر سید طنطا و ی ( سابق مفتی مصر) صاحب نے اپنی کتاب پر اٹھنے والے اعتراضات کے جواب میں ایک انٹرویو میں کہا. " یہ کہنا کہ مفتی مصر سود کی حلا ل سمجھتا ہے، بالکل غلط ہے. ایسی بات تو کوئی بھی صاحب دین و عقل کہہ نہیں سکتا. بلکہ میں تو یہ کہتا ہوں کہ جو شخص سودی لیں دین کو جائز کرے،وہ مرتد اور اسلام سے خارج ہے، کیونکہ اس نے اس چیز کو حلال کیا جو واضح طور پر حرام ہے. 

اب رہی یہ بات کہ میں نے بنکوں کے معاملات جیسے سیو نگ سر ٹیفکیٹ اور اس سے ملتے جلتے معاملات کو جائز قرار دیا ہے تو یہ الگ بات ہے، اور درست ہے.

 میں نے یہ یو نہی نہیں کہ دیا. بلکہ بڑے گہرے علمی مطا لعے ، بنکوں کے بارے میں اقتصادی اور شرعی ماہرین سے باہمی مشاورت کے بعد میں نے اسے جائز قرار دیا ہے جس کی تفصیل میری کتاب میں موجود ہے. 

ایسا کہنے میں اکیلا نہیں ہوں کہ سیو نگ سرٹیفکیٹ اور ایسے دیگر معاملات اور ان کا نفع حلال ہے، بلکہ مجھ سے پہلے جلیل ا القدر علماء کی بھی یہی را ئے ہے. جیسے عبدل الجلیل عیسی، یاسین سویلم ، عبدا للہ المشد ، محمد سلام مدکور، زکریا البری اور عبدل العظیم برکہ وغیرہ کتاب - الحلال و ا لحرام فی معاملات النبوک ، مصر :مارچ ١٩٩٢،س، ٤٢ ، بذریعہ تاج الدین ازہری [ نوٹ : اس پر تنقید بھی ہوئی ہے ..]
  1. http://halaleco.blogspot.com/2012/08/blog-post_13.html
  2. http://daanish.pk/21640
  3. ’’ربا‘‘ سے متعلق سپریم کورٹ کے سوالات : http://www.al-mawrid.org/index.php/articles_urdu/view/riba-say-mutaliq-supreme-court-kay-sawalaat
  4. http://salaamone.blogspot.com/2015/04/riba-usury.html
  5. Al Azhar University fatwa allows for fixed returns on Bank deposits: https://www.sukuk.com/education/al-azhar-university-fatwa-interest-bank-deposits-271/
  6. Criticism of Fatwa: https://gulfnews.com/uae/islamic-finance-al-azhars-fatwa-on-fixed-rate-of-return-1.351298
  7. https://www.independent.co.uk/news/obituaries/sheikh-mohamed-sayyid-tantawi-controversial-imam-who-preached-tolerance-1923670.html



..
بسم اللہ 

Popular Books