Skip to main content

Posts

صفحہ اول

قرآن حکیم ، انسانیت کی رہنمائی کے لئےمکمل طور پر محفوظ، آخری کتاب ہے- اس میں چھ ہزار سے زیادہ آیات، سینکڑوں موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں- کسی ایک مضمون  کو صحیح طور پر سمجھنے اور تفکر کے لیے قرآن کو تفصیل سے سمجھنا ضروری ہے....

Read in English at exclusive Website.. .[,,here  .]...
 قارئین کی سہولت کے لئے “قرآن مضامین- ویب نیٹ ورک" لانچ کیا ہے جو کہ، بلاگ سائٹ ، فیس بک پیج ، ٹویٹر اور فلپ بورڈ میگزین کی شکل میں ہے، اس کے علاوہ “وہاٹس ایپ” پر "براڈ کاسٹ" بھی وصول  کی جاسکتی ہے۔ خصوصیت یہ ہے کہ قاری مختلف موضوعات پر منتخب کردہ قرآنی آیات کو ترجمہ اور مختصر تفسیر کے ساتھ دیکھ سکتا ہے، علم، تدبر اور مزید تحقیق کے شوقین قارئین کوزیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے ویب لنکس سے تفسیروں سے گہرا مطالعہ کرنے کا آپشن مہیا ہے-

لنکس :
1.بلاگ سائٹ :https://QuranSubjects.blogspot.com
2.ٹویٹر :https://twitter.com/QSubjects
3. فیس بک پیج:https://www.facebook.com/QuranSubject
4.قرآن مضامین میگزین :https://flip.it/aJQcrm
5. “وہاٹس ایپ” پر براڈ کاسٹ پوسٹ وصول کرنے کے لیے اپنا نام ، موبائل نمبر، فیس بک میسنجر…
Recent posts

توبہ اور قبولیت کی شرائط - قرآن ، سورہ السناء 4:17،18

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم 0 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اِنَّمَا التَّوۡبَةُ عَلَى اللّٰهِ لِلَّذِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ السُّوۡٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ يَتُوۡبُوۡنَ مِنۡ قَرِيۡبٍ فَاُولٰٓئِكَ يَتُوۡبُ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ‌ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا ۞ ترجمہ: اللہ تعالیٰ صرف انہی لوگوں کی توبہ قبول فرماتا ہے جو بوجہ نادانی کوئی برائی کر گزریں پھر جلد اس سے باز آ جائیں اور توبہ کریں تو اللہ تعالیٰ بھی ان کی توبہ قبول کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بڑے علم واﻻ حکمت واﻻ ہے ۞  وَلَيۡسَتِ التَّوۡبَةُ لِلَّذِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ السَّيِّاٰتِ‌ ۚ حَتّٰۤى اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الۡمَوۡتُ قَالَ اِنِّىۡ تُبۡتُ الۡــئٰنَ وَلَا الَّذِيۡنَ يَمُوۡتُوۡنَ وَهُمۡ كُفَّارٌ ‌ؕ اُولٰٓئِكَ اَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ عَذَابًا اَ لِيۡمًا ۞ ان کی توبہ نہیں جو برائیاں کرتے چلے جائیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آجائے تو کہہ دے کہ میں نے اب توبہ کی، اور ان کی توبہ بھی قبول نہیں جو کفر پر ہی مر جائیں، یہی لوگ ہیں جن کے لئے ہم نے المناک عذاب تیار کر رکھا ہے ۞ (القرآن - سورۃ نمبر 4 النساء آیت…

مال کا بےجا اصراف

اسلامی معاشرہ میں ذاتی مال کا بےجا اصراف ممنوع ہے ، حکومت ان پر پابندی لگا سکتی ہے:
وَ لَا تُؤۡتُوا السُّفَہَآءَ اَمۡوَالَکُمُ الَّتِیۡ جَعَلَ اللّٰہُ لَکُمۡ قِیٰمًا وَّ ارۡزُقُوۡہُمۡ فِیۡہَا وَ اکۡسُوۡہُمۡ وَ قُوۡلُوۡا لَہُمۡ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا ﴿۵﴾
اور ناسمجھوں کواپنے وہ مال نہ دوجسے اﷲ تعالیٰ نے تمہارے لیے قائم رہنے کاذریعہ بنایاہے، اورتم انہیں کھلاؤاورپہناؤاوران سے بھلی بات کہو۔۔  [سورة النساء 4  آیت: 5]
 And do not give the weak-minded your property, which Allah has made a means of sustenance for you, but provide for them with it and clothe them and speak to them words of appropriate kindness. [  Surat un Nissa: 4 Verse: 5] http://trueorators.com/quran-translations/4/5
یہاں بےسمجھوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو مال کے انتظام کی صلاحیت نہ رکھتے ہوں۔  ابوموسیٰ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں ….. وہ آدمی جس نے کسی سفینہ (بےوقوف) کو اپنا مال دے دیا  اس کی دعا قبول نہیں ہوتی ، جب کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے تم بیوقوفوں کو اپنے مال مت دو ۔ (مفھوم ،  صحیح الجامع : ٣٠٧٥) اس آ…

قرآن کی طرف واپسی - تحقیقی مقالہ Comeback to Quran- A Research

سم الله الرحمن الرحيم
 لآ اِلَهَ اِلّا اللّهُ مُحَمَّدٌ رَسُوُل اللّهِ
شروع اللہ کے نام سے، ہم اللہ کی حمد کرتے ہیں اس کی مدد چاہتے ہیں اوراللہ سے مغفرت کی درخواست کر تے ہیں. جس کواللہ ھدایت دے اس کو کوئی  گمراہ نہیں کرسکتا اورجس کو وہ اس کی ہٹ دھرمی پر گمراہی پر چھوڑ دے اس کو کوئی ھدایت نہیں دے سکتا. ہم شہادت دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، محمد ﷺ اس کے بندے اورخاتم النبین ہیں اور انﷺ کے بعد کوئی نبی یا رسول نہیں ہے. درود و سلام ہوحضرت محمّد ﷺ  پر اہل بیت (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اور اصحاب (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اجمعین پر. جو نیکی وه کرے وه اس کے لئے اور جو برائی وه کرے وه اس پر ہے، اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا.
Read English Translation ....[......]
This is not an ordinary Thesis, it touches the most important topic of Islamic theology and history, a grave error (or deception?) ignored for twelve centuries, discussion is considered taboo.


.یہ کوئی عام مقالہ نہیں ہے ، یہ اسلامی دینیات اور تاریخ کے سب سے اہم موضوع کو چھوتا ہے ، ایک سنگین غلطی …