Featured Post

قرآن مضامین انڈیکس

"مضامین قرآن" انڈکس   Front Page أصول المعرفة الإسلامية Fundaments of Islamic Knowledge انڈکس#1 :  اسلام ،ایمانیات ، بنی...

قرآن ابدی معجزہ

قرآن کا ایک چیلنج چودہ سو سال سے موجود ہے ، اس کے جواب کی تمام کوششیں بے کار ثابت ہو چکی ہیں، یہی قرآن کا زندہ ابدی معجزہ ہے م جو  محمد ﷺ رسول الله  پر نازل ہوا-
قرآن چیلنج کرتا ہے:
فَلۡيَاۡتُوۡا بِحَدِيۡثٍ مِّثۡلِهٖۤ اِنۡ كَانُوۡا صٰدِقِيۡنَؕ‏ ۞ (سورۃ  52 الطور، آیت  34)
اگر یہ اپنے اس قول میں سچے ہیں تو اسی شان کا ایک کلام بنا لائیں
یعنی بات صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ یہ محمد ﷺ کا کلام نہیں ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سرے سے انسانی کلام ہی نہیں ہے اور یہ بات انسان کی قدرت سے باہر ہے کہ ایسا کلام تصنیف کرسکے۔ اگر تم اسے انسانی کلام کہتے ہو تو اس پائے کا کوئی کلام لا کر دکھاؤ جسے کسی انسان نے تصنیف کیا ہو۔ یہ چیلنج نہ صرف قریش کو، بلکہ تمام دنیا کے منکرین کو سب سے پہلے اس آیت میں دیا گیا تھا۔ اس کے بعد تین مرتبہ مکہ معظمہ میں اور پھر آخری بار مدینہ منورہ میں اسے دہرایا گیا (ملاحظہ ہو یونس، آیت 38۔ ہود، 13، بنی اسرائیل، 88۔ البقرہ، 23)۔ مگر کوئی اس کا جواب دینے کی نہ اس وقت ہمت کرسکا نہ اس کے بعد آج تک کسی کی یہ جرأت ہوئی کہ قرآن کے مقابلہ میں کسی انسانی تصنیف کو لے آئے۔ بعض لوگ اس چیلنج کی حقیقی نوعیت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے یہ کہتے ہیں --- Read more »

قرآن ربا اور فیاٹ (کاغذی ) کرنسی


 قرآنی احکام کونامکمل پیش کرنا انتہائی گمراہ کن ہے، جان بوجھ کر معلومات کو چھوڑنا جھوٹ بولنے کے مترادف ہے، بہت بڑا گناہ ہے۔ ایک مشہور قول ہے کہ؛ آدھا سچ اکثر مکمل جھوٹ ہوتا ہے- "صدی کے  بڑے(Scam of the Century  Unveiled) گھپلہ کو بے نقاب کیا گیا ہے"۔ ربا (سود)  کی حرمت پر اکثر پیش کی جانے والی دو آیات میں فرمانبردار بندوں پر اس کے مثبت اثرات کے وعدہ کے بارے میں بھی پوری حقیقت بیان کی گئی ہے۔ دونوں پہلو یکساں طور پر اہم ہیں اور دونوں احکام کومکمل طور پر ان کی روح (سپرٹ) کے مطابق نافذ کیا جانا لازم و ملزوم ہے، یہی اس تحقیق و مقالہ کا موضوع ہے۔
☆ https://bit.ly/QuranAurRibaUrdu-pdf [قرآن اور ربا ]


~~~~~~~~~
🌹🌹🌹
🔰 Quran Subjects  🔰 قرآن مضامین 🔰
"اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا" [ الفرقان 25  آیت: 30]
The messenger said, "My Lord, my people have deserted this Quran." (Quran 25:30)
~~~~~~~~~

حقوق العباد - الله تعالی کی رحمت، انصاف آور بخشش Haqooq ul Ibad



 چار اہم باتیں اور ان کا آپس میں تعلق سمجھنا بہت اہم ہے : 
١)   مقصد حیات ، آزمايش آورآخرت میں حساب کتاب، نیک اور بد اعمال کا بدلہ ، سزا و جزا 
٢) نیک اور بد برابر نہیں
٣) اللہ کا عدل و انصاف 
٤) اللہ ان بندوں جنہوں نے اپنے نفس پر زیادتی کی (گناہ کیے) ان کی طرف سے توبہ کرنے پریہ سب گناہ معاف فرما دیتا ہے - 
اس میں چوتھا نقطۂ بہت اہم ہے جس کو درست طور پر نہ سمجھنے سے پہلے تین نقاط بے معنی ہو جاتے ہیں- اور قرآن میں بظاہر تضاد معلوم ہوتا ہے- مگر قرآن میں اگر اختلاف ہو تو پھر یہ الله تعالی کا کلام کیسے ہو سکتا ہے؟ (4:83)  
کیا اپنے نفس پر زیادتی ( (اَسۡرَفُوۡا عَلٰٓى اَنۡفُسِهِمۡ) انفرادی گناہ ہے جس کا تعلق کس فرد یا افراد کی اپنی ذات اپنے نفسس سے ہے؟ (جیسے شرک ، کفر، انفرادی عبادات ،نماز ، روزہ، حج وغیرہ، حقوق اللہ میں کمی یا سستی) یا اس معافی میں  سا رے گناہ (حقوق اللہ اور حقوق العباد )   شامل ہیں؟   
اس اہم  معامله پر تحقیق و تجزیہ، تمام غلط فہمیاں دور کر دیتا ہے >>>>






.
~~~~~~~~~
🌹🌹🌹
🔰 Quran Subjects  🔰 قرآن مضامین 🔰
"اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا" [ الفرقان 25  آیت: 30]
The messenger said, "My Lord, my people have deserted this Quran." (Quran 25:30)
~~~~~~~~~

احکام القرآن


جو میری ہدایت پر عمل کرے گا وہ نہ گمراہ، نہ بدبخت ہوگا (اقرآن20:123)

Whosoever will follow My guidance will neither go astray nor get into trouble” [Quran 20:123]

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

اللہ کی کتاب میں ہدایت اور نور ہے، جو اسے پکڑے گا وہ ہدایت پر رہے گا اور جو اسے چھوڑ دے گا وہ گمراہ ہوجائے گا۔"(صحیح مسلم : 6227)  حقوق قرآن:

ایمان، تلاوت، تفکر، عمل اور تبلیغ ز مَن بر صُوفی و مُلاّ سلامے: کہ پیغامِ خُدا گُفتَند ما را ولے تاویلِ شاں در حیرت اَنداخت: خُدا و جبرئیلؑ و مصطفیؐ را میری جانب سے صُوفی ومُلاّ کو سلام پہنچے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے احکامات ہم تک پہنچائے، لیکن انہوں نے اُن احکامات کی جو تاویلیں کیں،اُس نے اللہ تعالیٰ، جبرائیل ؑاور محمد مصطفیﷺ کو بھی حیران کر دیا۔ (علامہ محمد اقبال) قران کے سادہ، آسان، عام فہم، پیغام کو مسخ کردیا

 میں نے تم کو ایک ایسے صاف اور روشن راستہ پر چھوڑا ہے جس کی رات بھی دن کی طرح روشن ہے، اس راستہ سے میرے بعد صرف ہلاک ہونے والا ہی انحراف کرے گا (ماجہ 43)

قرآن ایک معجزہ : https://bit.ly/QuranMojza

Quran Sites / Links

English: 

Quran Subjectshttps://QuranSubjects.wordpress.com

Message For Islamic Revival (رساله تجديد الاسلام) : https://Quran1book.wordpress.com

Urdu اردو :

قرآن مضامین : https://QuranSubjects.blogspot.com

رساله تجديد الاسلام  : https://Quran1book.blogspot.com

English & Urdu اردو  Mixed: https://SalaamOne.com

Facebook: 

https://www.facebook.com/QuranSubject

https://www.facebook.com/IslamiRevival

Twitter: Ahkam Al Quran احکام القرآن : https://twitter.com/QoranGuides

Digital Book (Over 520 Pages A-5) OR https://bit.ly/AhkamAlQuran-pdf

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قرآن سیکھو اور پھر اسے پڑھو اور یہ یاد رکھو کہ اس شخص کی مثال جو قرآن سیکھتا ہے پھر اسے ہمیشہ پڑھتا رہتا ہے اس پر عمل کرتا ہے اور اس میں مشغولیت یعنی تلاوت وغیرہ کے شب بیداری کرتا ہے اس تھیلی کی سی ہے جو مشک سے بھری ہو جس کی خوشبو تمام مکان میں پھیلتی ہے اور اس شخص کی مثال جس نے قرآن سیکھا اور سو رہا یعنی وہ قرآن کی تلاوت قرأت شب بیدار سے غافل رہا یا اس پر عمل نہ کیا اس تھیلی کی سی ہے جسے مشک پر باندھ دیا گیا ہو۔ (ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)   (مشکوٰۃ المصابیح: حدیث نمبر: 2152) 

حضرت علی مرتضی ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے ایک دن فرمایا:

 "آگاہ ہو جاؤ ایک بڑا فتنہ آنے والا ہے۔" 

میں نے عرض کیا:

"یا رسول اللہ! اس فتنہ کے سر سے بچنے اور نجات پانے کا ذریعہ کیا ہے؟

" آپ ﷺ نے فرمایا:

1۔ "کتاب اللہ، اس میں تم سے پہلے امتوں کے (سبق آموز) واقعات ہیں

اور تمہارے بعد کی اس میں اطلاعات ہیں، (یعنی اعمال و اخلاق کے جو دنیوی و اخروی نتائج و ثمرات مستقبل میں سامنے آنے والے ہیں، قرآن مجید میں ان سب سے بھی آگاہی دے دی گئی ہے) 

*2۔ اور تمہارے درمیان جو مسائل پیدا ہوں قرآن میں ان کا حکم اور فیصلہ موجود ہے (حق و باطل اور صحیح و غلط کے بارے میں)*

3۔ وہ قول فیصل ہے، وہ فضول بات اوریا وہ گوئی نہیں ہے۔ 

4۔جو کوئی جابر و سرکش اس کو چھوڑے گا (یعنی غرور و سرکشی کی راہ سے قرآن سے منہ موڑے گا) اللہ تعالیٰ اس کو توڑ کے رکھ دے گا

*5۔ اور جو کوئی ہدایت کو قرآن کے بغیر تلاش کرے گا اس کے حصہ میں اللہ کی طرف سے صرف گمراہی آئے گی* (یعنی وہ ہدایتِ حق سے محروم رہے گا) 

6۔قرآن ہی حبل اللہ المتین یعنی اللہ سے تعلق کا مضبوط وسیلہ ہے، اور محکم نصیحت نامہ ہے، اور وہی صراطِ مستقیم ہے۔

7۔ وہی وہ حق مبین ہے جس کے اتباع سے خیالات کجی سے محفوظ رہتے ہیں اور زبانیں اس کو گڑ بڑ نہیں کر سکتیں (یعنی جس طرح اگلی کتابوں میں زبانوں کی راہ سے تحریف داخل ہو گئی اور محرفین نے کچھ کا کچھ پڑھ کے اس کو محرف کر دیا اس طرح قرآن مین کوئی تحریف نہیں ہو سکے گی، اللہ تعالیی نے تا قیامت اس کے محفوظ رہنے کا انتظام فرما دیا ہے)

 8۔ اور علم والے بھی اس کے علم سے سیر نہیں ہوں گے (یعنی قرآن میں تدبر کا عمل اور اس کے حقائق و معارف کی تلاش کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا اور کبھی ایسا وقت نہیں آئے گا کہ قرآن کا علم حاصل کرنے والے محسوس کریں کہ ہم نے علم قرآن پر پورا عبور حاصل کر لیا اور اب ہمارے حاصل کرنے کے لئے کچھ باقی نہیں رہا، بلکہ قرآن کے طالبین علم کا حال ہمیشہ یہ رہے گا کہ وہ علم قرآن میں جتنے آگے بڑھتے رہین گے اتنی ہی ان کی طلب ترقی کرتی رہے گی اور ان کا احساس یہ ہو گا کہ جو کچھ ہم نے حاصل کیا ہے وہ اس کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں ہے جو ابھی ہم کو حاصل نہیں ہوا ہے)

9۔ اور وہ قرآن کثرت مزاولت سے کبھی پرانا نہیں ہو گا (یعنی جس طرح دنیا کی دوسری کتابوں کا حال ہے کہ بار بار پڑھنے کے بعد ان کے پڑھنے میں آدمی کو لطف نہیں آتا، قرآن مجید کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے وہ جتنا پڑھا جائے گا اور جتنا اس میں تفکر و تدبر کیا جائے گا اتنا ہی اس کے لطف و لذت میں اضافہ ہو گا)

10۔ اور اس کے عجائب (یعنی اس کے دقیق و لطیف حقائق و معارف) کبھی ختم نہیں ہوں گے۔ 

11۔قرآن کی یہ شان ہے کہ جب جنوں نے اس کو سنا تو بےاختیار بول اٹھے۔

إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ (الجن، 1،2:72)

ہم نے قرآن سنا جو عجیب ہے، رہنمائی کرتا ہے بھلائی کی، پس ہم اس پر ایمان لے آئے۔

*12، جس نے قرآن کے موافق بات کہی اس نے سچی بات کہی،*

*13۔ اور جس نے قرآن پر عمل کیا وہ مستحقِ اجر و ثواب ہوا*

*14۔ اور جس نے قرآن کے موافق فیصلہ کیا اس نے عدل و انصاف کیا*

*15۔اور جس نے قرآن کی طرف دعوت دی اس کو صراطِ مستقیم کی ہدایت نصیب ہو گئی۔*

(جامع ترمذی، سنن دارمی) (معارف الحدیث، حدیث نمبر: 1084)

قرآن تعارف Quran Introduction & Guide

اَعوذ باللّٰہ من الشیطٰن الرّجیم

بسم الله الرحمن الرحيم

لآ اِلَهَ اِلّا اللّهُ مُحَمَّدٌ رَسُوُل اللّهِ

شروع اللہ کے نام سے، ہم اللہ کی حمد کرتے ہیں اس کی مدد چاہتے ہیں اوراللہ سے مغفرت کی درخواست کر تے ہیں. جس کواللہ ھدایت دے اس کو کوئی  گمراہ نہیں کرسکتا اورجس کو وہ اس کی ہٹ دھرمی پر گمراہی پر چھوڑ دے اس کو کوئی ھدایت نہیں دے سکتا-  ہم شہادت دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، محمد ﷺ اس کے بندے اورخاتم النبین ہیں اور انﷺ کے بعد کوئی نبی یا رسول نہیں ہے. درود و سلام ہوحضرت محمّد ﷺ  پر اہل بیت، خلفاء راشدین واصحاب (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اجمعین  پر- .دین میں ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی (ضَلَالَۃٌ) ہے- جو نیکی وه کرے وه اس کے لئے اور جو برائی وه کرے وه اس پر ہے، اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا
It is an effort to acquaint the reader with certain matters which he should grasp at the very outset so as to achieve a more than superficial understanding of the Holy Book. Secondly aim is to clarify those disturbing questions that commonly arise in the mind of the reader during the study of the Qur'an. Keep reading ..[..........]

بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ 0 الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ 0 الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ 0  مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ0 إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ 0 اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ 0 صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ (سورة الفاتحة 1:1,7)
"اللہ کے نام سےشروع جو نہایت مہربان ہمیشہ رحم فرمانےوالا ہے- سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو  عالمین( تمام جہانوں) کی پرورش فرمانے والا ہے - نہایت مہربان بہت رحم فرمانے والا ہے- روزِ جزا کا مالک ہے - (اے اللہ!) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور ہم تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں - ہمیں سیدھا راستہ دکھا - ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا ان لوگوں کا نہیں جن پر غضب کیا گیا ہے اور نہ (ہی) گمراہوں کا (سورة الفاتحة 1:1,7)

سورۃ فاتحہ نہ صرف قرآن مجید کی موجودہ ترتیب میں سب سے پہلی سورت ہے ؛ بلکہ یہ پہلی وہ سورت ہے جو مکمل طور پر نازل ہوئی، اس سے پہلے کوئی سورت پوری نہیں نازل ہوئی تھی ؛ بلکہ بعض سورتوں کی کچھ آیتیں آئی تھیں، اس سورت کو قرآن کریم کے شروع میں رکھنے کا منشأ بظاہر یہ ہے کہ جو شخص قرآن کریم سے ہدایت حاصل کرنا چاہتا ہو اسے سب سے پہلے اپنے خالق ومالک کی صفات کا اعتراف کرتے ہوئے اس کا شکر ادا کرنا چاہیے اور ایک حق کے طلب گار کی طرح اسی سے ہدایت مانگنی چاہیے ؛ چنانچہ اس میں بندوں کو وہ دعا سکھائی گئی ہے جو ایک طالب حق کو اللہ سے مانگنی چاہیے، یعنی سیدھے راستے کی دعا، اس طرح اس سورت میں صراط مستقیم یا سیدھے راستے کی جو دعا مانگی گئی ہے 
پورا قرآن اس کی تشریح ہے کہ وہ سیدھاراستہ کیا ہے؟ 
عربی کے قاعدے سے رحمن کے معنی ہیں وہ ذات جس کی رحمت بہت وسیع ( Extensive) ہو، یعنی اس رحمت کا فائدہ سب کو پہنچتا ہو اور رحیم کے معنی ہیں وہ ذات جس کی رحمت بہت زیادہ (Intensive) ہو، یعنی جس پر ہو مکمل طور پرہو، اللہ تعالیٰ کی رحمت دنیا میں سب کو پہنچتی ہے، جس سے مومن کافر سب فیضیاب ہو کر رِزق پاتے ہیں اور دنیا کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور آخرت میں اگرچہ کافروں پر رحمت نہیں ہوگی ؛ لیکن جس کسی پر (یعنی مومنوں پر) ہوگی، مکمل ہوگی کہ نعمتوں کے ساتھ کسی تکلیف کا کوئی شائبہ نہیں ہوگا۔ رحمن اور رحیم کے معنی میں جو یہ فرق ہے اس کو ظاہر کرنے کے لئے رحمن کا ترجمہ سب پر مہربان اور رحیم کا ترجمہ بہت مہربان کیا گیا ہے۔ [مفتی تقی عثمانی]  احادیث میں اس کا نام >>> 

Key 2 Quran کلید قرآن (3:7)

 قرآن راہ ھدایت اور راہ نجات ہے، جو شخص طالب حق ہو اور یہ جاننے کے لیے قرآن کی طرف رجوع کرنا چاہتا ہو کہ وہ کس راہ پر چلے اور کس راہ پر نہ چلے، اس کے لیے قرآن کی "آیات محکمات" ہی اصل مرجع ہیں اور فطرةً انہی پر اس کی توجہ مرکوز ہوگی اور وہ زیادہ تر انہی سے فائدہ اٹھانے میں مشغول رہے گا۔  محکم پکی اور پختہ چیز کو کہتے ہیں۔
“It is God who has revealed the Book to you in which some verses are clear statements (which accept no interpretation) and these are the fundamental ideas of the Book, while other verses may have several possibilities. Those whose hearts are perverse, follow the unclear statements in pursuit of their own mischievous goals by interpreting them in a way that will suit their own purpose. No one knows its true interpretations except God and those who have a firm grounding in knowledge say, "We believe in it. All its verses are from our Lord." No one can grasp this fact except the people of reason.” (Quran;3:7)
”آیات محکمات (clear ,decisive, ,precise) سے مراد وہ آیات ہیں، جن کی زبان بالکل صاف ہے، جن کا مفہوم متعین کرنے میں کسی اشتباہ کی گنجائش نہیں ہے، جن کے الفاظ معنی و مدعا پر صاف اور صریح دلالت کرتے ہیں، جنہیں تاویلات کا تختہ مشق بنانے کا موقع مشکل ہی سے کسی کو مل سکتا ہے۔ یہ آیات ”کتاب کی اصل بنیاد ہیں“ ، یعنی قرآن جس غرض کے لیے نازل ہوا ہے، اس غرض کو یہی آیتیں پورا کرتی ہیں۔ انہی میں اسلام کی طرف دنیا کی دعوت دی گئی ہے، انہی میں عبرت اور نصیحت کی باتیں فرمائی گئی ہیں، انہی میں گمراہیوں کی تردید اور راہ راست کی توضیح کی گئی ہے۔ انہی میں دین کے بنیادی اصول بیان کیے گئے ہیں۔ انہی میں عقائد، عبادات، اخلاق، فرائض اور امر و نہی کے احکام ارشاد ہوئے ہیں۔
قرآن میں دوسری قسم، "آیات متشابہات" (ambiguous, unspecificallegorical)، یعنی وہ آیات جن کے مفہوم میں اشتباہ کی گنجائش ہے >>>>>>

تخلیق آدم، ابلیس , میثاق الست وآزمائش

انسان کے ذہن میں اکثر یہ سوالات اٹھتے ہیں کہ : ہم اس دنیا میں کیوں ہیں؟ ہمارا مقصد حیات کیا ہے؟ کامیاب انسان کون ہے؟ الله تعالی ہم سے کیا چاہتا ہے؟ نجات اور بخشش کے لیے کیا اہم ترین ہے؟

 الله تعالی نے ان اہم ترین سوالات کا جواب قرآن میں مکمل تفصیل سے دیا اور مزید ہماری آسانی کے لیےان کا خلاصہ صرف تین آیات میں دے دیا کہ دنیا و آخرت میں کامیابی اور خسارہ (ناکامی) کی بنیاد, کون سے اہم ستونوں پر کھڑی ہے:

ترجمہ : انسان درحقیقت بڑے خسارے میں ہے، سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے، اور نیک اعمال کرتے رہے، اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے رآن,سورة العصر: 103)

[مزید تفصیل .....]

لیکن اسنان کی تخلیق اور آزمائش کی تفصیل کا علم ضروری ہے - الله نے فرمایا: (ترجمہ)

" ہم نے انسان کو سٹری ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے بنایا (15:26 تفسیر) اور اُس سے پہلے جنوں کو ہم آگ کی لپٹ سے پیدا کر چکے تھے [ترجمہ : سورہ الحجر آیت 26 سے 50 پھر یاد کرو اُس موقع کو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا کہ "میں سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے ایک بشر پیدا کر رہا ہوں جب میں اُسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی روح سے کچھ پھونک دوں تو تم سب اس کے آگے سجدے میں گر جانا" چنانچہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے کہ اُس نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا رب نے پوچھا "اے ابلیس، تجھے کیا ہوا کہ تو نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ نہ دیا؟ Read more »

علماء حق اور علماء سوء، عالموں کو رب بنانا

قُلۡ ہَلۡ یَسۡتَوِی الَّذِیۡنَ یَعۡلَمُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ؕ اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ (39:9﴾

کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں کبھی یکساں ہو سکتے ہیں؟ نصیحت تو عقل رکھنے والے ہی قبول کرتے ہیں (39:9)

سچا علم دراصل معرفت الہی کا نام ہے۔ سچائی تک پہنچنے کا نام ہے۔ اور ایساعلم انسانی بصیرت کو کھول دیتا ہے۔ اور یوں ایک عالم ان حقائق تک رسائی حاصل کرلیتا ہے جو اس وجود میں ہوتی ہے۔ علم ان معلومات کا نام نہیں ہے جو ذہین میں جمع ہوجائیں اور جن سے کوئی سچا اصول اور کوئی سچی حقیقت ذہین نشین نہ ہو۔ اور نہ محسوسات کے علاوہ کوئی حقیقت ذہن میں بیٹھی ہو۔ یہ ہے صحیح راستہ علم حقیقی اور اس حقیقت کا جو دل و دماغ کو منور کردیتی ہے۔ یہی ہے اللہ کا مطیع فرمان ہونا۔ دل کا حساس ہونا اور آخرت اور اللہ کئ فضل وکرم کی امیدواری اور یہ ہے اللہ کا خوف اور اللہ کے سامنے ڈرے اور سہمے رہنا۔ علم اور حقیقی علم یہی ہے اور اس طرح عقلیت پیدا ہوتی ہے وہ دیکھنے والی اور سننے والی اور جس چیز کو وہ پاتی ہے اس سے فائدہ اٹھانے والی ہوتی ہے اور یوں اس قسم کا علم ان مشاہدات کے پیچھے حقیقت عظمیٰ تک پہنچ جاتا ہے۔ لیکن جو لوگ انفرادی تجربات کو علم کہتے ہیں اور صرف ان چیزوں کو معلومات کہتے ہیں جو نظر آتی ہیں۔

انما یتذکر اولوا الالباب (39: 9) ” نصیحت تو عقل رکھنے والے ہی قبول کرتے ہیں “۔ >>>

مسلمان ، یہودی , نصاری و صابی، شرک اور جنت؟ (البقرة آیت نمبر 62 ، المائدة 69)


قرآن کی دو اہم آیات کی بنیاد پر کچھ جدت پسند، لبرلز (Modern Liberals) یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ نیک ، پرہیزگار مسلمان ، یہودی , نصاری و صابی جو عمل صالح کریں گے وہ کسی خوف کے بغیر جنت کے مستحق ہیں- (یعنی ایمان باالرسولﷺ ضروری نہیں). اس کے تجزیہ کی ضرورت ہے تاکہ کسی غلط فہمی کا تدارک کیا جا سکے-
اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَالَّذِيۡنَ هَادُوۡا وَالنَّصٰرٰى وَالصّٰبِئِـيۡنَ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًـا فَلَهُمۡ اَجۡرُهُمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡۚ وَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ ۞ 
"ہم مسلمان ہوں، یہودی ہوں, نصاری, ہوں یا صابی ہوں جو کوئی بھی اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے ان کے اجر ان کے پاس ہیں اور ان پر نہ تو کوئی خوف ہے اور نہ اداسی۔" (البقرة, آیت نمبر 62 ، المائدة 69)

إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالصَّابِئِينَ وَالنَّصَارَىٰ وَالْمَجُوسَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا إِنَّ اللَّهَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ ‎﴿١٧﴾‏ 
بےشک جو اہلِ ایمان ہیں، جو یہودی ہیں، جو صابی ہیں، جو عیسائی ہیں، جو مجوسی ہیں اور جو مشرک ہیں یقیناً قیامت کے دن اللہ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ بیشک اللہ ہر چیز پر گواہ ہے۔ (قرآن ؛ 22:17)  >>>>>

اے انسان! قرآن ‏میں ‏تمہارا ‏زکر ‏



’’ہم نے تمہاری طرف ایک ایسی کتاب نازل کی ہے، جس میں تمہارا تذکرہ ہے کیا تم سمجھتے نہیں‘‘۔
قرآن کریم میں ارشاد الٰہی ہے کہ: 
لَقَدۡ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكُمۡ كِتٰبًا فِيۡهِ ذِكۡرُكُمۡ‌ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ۞(سورۃ نمبر 21 الأنبياء, آیت نمبر 10)
ترجمہ : ’’ہم نے تمہاری طرف ایک ایسی کتاب نازل کی ہے، جس میں تمہارا تذکرہ ہے کیا تم سمجھتے نہیں‘‘۔
تمہارا تذکرہ؟
اس سے ایک عجیب سا احساس دل میں منڈلانے لگا، بالآخر سوچا کہ میں دیکھوں تو قرآن مجید میں میرا تذکرہ کس انداز میں ہے؟
 میں کون ہوں؟
اور کن لوگوں میں سے ہوں؟
قرآن پاک میں غور کریں …
ایک قوم کا تذکرہ ان الفاظ میں ہے :
ترجمہ: ’’وہ لوگ رات کو کم سوتے ہیں اور سحری کے اوقات میں استغفار کرتے ہیں اور ان کے مالوں میں سائل اور غیر سائل سب محتاجوں کا حق ہے‘‘۔ (سورۃ الذاریات: 17 تا 19)
کچھ اور لوگوں کا تذکرہ ان الفاظ میں موجود ہے…
ترجمہ: ’’ان کے پہلو خواب گاہوں سے جدا رہتے ہیں، وہ اپنے رب کو خوف اور امید سے پکارتے ہیں اور جو ہم نے ان کو رزق دیا ہے، اس میں سے خرچ کرتے ہیں‘‘۔ (سورۃ السجدہ: 16)
پھر کچھ پڑھو  تو… ان لوگوں کا تذکرہ سامنے آتا ہےجو…
ترجمہ: ’’لوگ اپنے پروردگار کے سامنے سربسجود اور کھڑے ہوکر اپنی راتیں گزار دیتے ہیں‘‘۔ (سورۃ الفرقان: 64)
کچھ اور اوراق پلٹو تو یوں نظر آتا ہے…
ترجمہ: ’’وہ خوشحالی اور تنگی دونوں حالتوں میں خرچ کرتے ہیں اور غصہ پی جانے والے اور لوگوں کو معاف کردینے والے ہیں اور خدا تعالیٰ نیکو کاروں کو محبوب رکھتے ہیں‘‘۔ (سورۃ آل عمران: 134)
ایسے ہی چند لوگوں کا اور  تذکرہ ہے… >>>>>>

Popular Books