Featured Post

قرآن مضامین انڈیکس

"مضامین قرآن" انڈکس   Front Page أصول المعرفة الإسلامية Fundaments of Islamic Knowledge انڈکس#1 :  اسلام ،ایمانیات ، بنی...

اے انسان! قرآن ‏میں ‏تمہارا ‏زکر ‏



’’ہم نے تمہاری طرف ایک ایسی کتاب نازل کی ہے، جس میں تمہارا تذکرہ ہے کیا تم سمجھتے نہیں‘‘۔
قرآن کریم میں ارشاد الٰہی ہے کہ: 
لَقَدۡ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكُمۡ كِتٰبًا فِيۡهِ ذِكۡرُكُمۡ‌ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ۞(سورۃ نمبر 21 الأنبياء, آیت نمبر 10)
ترجمہ : ’’ہم نے تمہاری طرف ایک ایسی کتاب نازل کی ہے، جس میں تمہارا تذکرہ ہے کیا تم سمجھتے نہیں‘‘۔
تمہارا تذکرہ؟
اس سے ایک عجیب سا احساس دل میں منڈلانے لگا، بالآخر سوچا کہ میں دیکھوں تو قرآن مجید میں میرا تذکرہ کس انداز میں ہے؟
 میں کون ہوں؟
اور کن لوگوں میں سے ہوں؟
قرآن پاک میں غور کریں …
ایک قوم کا تذکرہ ان الفاظ میں ہے :
ترجمہ: ’’وہ لوگ رات کو کم سوتے ہیں اور سحری کے اوقات میں استغفار کرتے ہیں اور ان کے مالوں میں سائل اور غیر سائل سب محتاجوں کا حق ہے‘‘۔ (سورۃ الذاریات: 17 تا 19)
کچھ اور لوگوں کا تذکرہ ان الفاظ میں موجود ہے…
ترجمہ: ’’ان کے پہلو خواب گاہوں سے جدا رہتے ہیں، وہ اپنے رب کو خوف اور امید سے پکارتے ہیں اور جو ہم نے ان کو رزق دیا ہے، اس میں سے خرچ کرتے ہیں‘‘۔ (سورۃ السجدہ: 16)
پھر کچھ پڑھو  تو… ان لوگوں کا تذکرہ سامنے آتا ہےجو…
ترجمہ: ’’لوگ اپنے پروردگار کے سامنے سربسجود اور کھڑے ہوکر اپنی راتیں گزار دیتے ہیں‘‘۔ (سورۃ الفرقان: 64)
کچھ اور اوراق پلٹو تو یوں نظر آتا ہے…
ترجمہ: ’’وہ خوشحالی اور تنگی دونوں حالتوں میں خرچ کرتے ہیں اور غصہ پی جانے والے اور لوگوں کو معاف کردینے والے ہیں اور خدا تعالیٰ نیکو کاروں کو محبوب رکھتے ہیں‘‘۔ (سورۃ آل عمران: 134)
ایسے ہی چند لوگوں کا اور  تذکرہ ہے… >>>>>>
*اے میرے رب! یہ تو کاملین کا تذکرہ ہے اور اونچی صفات والے اہل ایمان کا پر رونق بیان ہے، میں تو ایسوں میں سے نہیں ہوں۔*
پھر ایک اور انداز سے اوراق قرآنی پر نظر پڑی تو لگا تو ایک قوم کا تذکرہ یوں سامنے آیا…
ترجمہ: ’’جب ان سے کہا جاتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے (تم اسی کی عبادت کرو) تو وہ تکبر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک شاعر دیوانے کی وجہ سے چھوڑ دیں‘‘۔ (سورۃ الصافات: 35، 36)
دوسری قوم کا تذکرہ کچھ اس طرح ہے…
ترجمہ: ’’جب ان کے سامنے خدائے وحدہٗ لاشریک کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل تنگ ہو جاتے ہیں، جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور جب خدا کے سوا دوسرے معبودوں کا تذکرہ کیا جاتا ہے تو وہ اس وقت بہت خوش ہونے لگتے ہیں‘‘۔ (سورۃ الزمر: 45)
پھر کچھ لوگوں کا بہت برا حال بیان ہے… ان سے پوچھا جارہا تھا…
ترجمہ: ’’کس چیز نے تم لوگوں کو جہنم میں لا ڈالا؟ وہ بولے ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہیں تھے اور مساکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے اور تکذیب کے مشغلہ والوں کے ساتھ ہم بھی دین کا مذاق اڑاتے اور روز قیامت کو جھٹلاتے رہے، یہاں تک کہ موت ہمارے پاس آگئی‘‘۔ (سورۃ المدثر: 42 تا 47)

اب  رک جائیے! 

اے میرے رب! میں ان برے لوگوں سے بیزار ہوں اور تیری پناہ چاہتا ہوں۔
پھر کچھ اور تلاوت جاری رکھو ، غور و فکر کرتے رہو، اپنے خیال و جستجو کو قرآنی افکار کے تابع کرکے تدبر کرتے رہو، یہاں تک کہ اس آیت پر پہنچ جاو۔۔۔
ترجمہ: 
*’’دوسرے وہ لوگ ہیں، جنہوں نے نیک عمل اور برے عمل دونوں کو ملا جلا رکھا ہے قریب ہے کہ خدا تعالیٰ ان پر توجہ فرمائے اور ان کی توبہ قبول فرما لے، بے شک وہ خدا بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے‘‘۔ (سورۃ التوبہ: 102)*
مطالعۂ قرآنی میں یہاں آکر لگتا ہے کہ بس میں ان لوگوں میں ہوں:
 *میرے پاس بھی کچھ نیک اعمال ہیں اور خطاؤں کے ڈھیر بھی بہت ہوگئے ہیں، بس مجھے اس ذات کی جانب متوجہ ہوکر توبہ کرنی چاہئے، پس وہ رحیم و کریم رب مجھے معاف کر ہی دے گا۔*
آئیے ہم بھی کتاب الٰہی میں اپنے مقام کے متعلق غور فکر کریں ، دیکھیں  کہ ہم کون سے طبقہ میں شامل ہیں اور اس بات سے ڈریں کہ ہم ان لوگوں میں سے نہ ہو جائے جن کے لئے رب کی رحمت سے دوری ہمیشہ کے لئے لکھ دی گئی ہے یا جو لوگ عذاب الیم کا شکار ہونے والے ہیں۔ (ماخوز، احنف بن قیس)
آیئں  قرآن کے مضامین سمجھنے کی کوشش کریں >>>> 
~~~~~~~~
لَقَدۡ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكُمۡ كِتٰبًا فِيۡهِ ذِكۡرُكُمۡ‌ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ۞(سورۃ نمبر 21 الأنبياء, آیت نمبر 10)
ترجمہ : ’’ہم نے تمہاری طرف ایک ایسی کتاب نازل کی ہے، جس میں تمہارا تذکرہ ہے کیا تم سمجھتے نہیں‘‘۔
تفسیر:بیان القرآن, مفسر: ڈاکٹر اسرار احمد
"لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکُمْ کِتٰبًا فِیْہِ ذِکْرُکُمْط اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ”
یہاں ”ذِکْرُکُمْ“ کے دو ترجمے ہوسکتے ہیں ‘ ایک تو یہ کہ اس میں تمہارے حصے کی نصیحت اور تعلیم ہے یعنی ذکرٌ لکم اور دوسرا یہ کہ ”اس میں تمہارا اپنا ذکر بھی موجود ہے“۔ اس دوسرے مفہوم کی وضاحت ایک حدیث سے ملتی ہے ‘ جس کے راوی حضرت علی رض ہیں۔ آپ رض فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : 
أَلَا اِنَّھَا سَتَکُوْنُ فِتْنَۃٌ ”
آگاہ ہوجاؤ ! عنقریب ایک بہت بڑا فتنہ رونما ہوگا“
 فَقُلْتُ : مَا الْمَخْرَجُ مِنْھَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ؟
 ”تو میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ﷺ اس سے نکلنے کا راستہ کون سا ہوگا ؟
“ یعنی اس فتنے سے بچنے کی سبیل کیا ہوگی ؟“
 آپ ﷺ نے فرمایا :
 کِتَاب اللّٰہِ ،
 فِیْہِ نَبَأُ مَا کَانَ قَبْلَکُمْ وَخَبَرُ مَا بَعْدَکُمْ وَحُکْمُ مَا بَیْنَکُمْ 
 ”للہ کی کتاب ! اس میں تم سے پہلے لوگوں کی خبریں بھی ہیں ‘ تمہارے بعد آنے والوں کے احوال بھی ہیں اور تمہارے باہمی مسائل و اختلافات کا حل بھی ہے“۔ ان معانی میں یہاں ذِکْرُکُمْ سے مراد یہی ہے کہ تمہارے ہر دور کے تمام مسائل کا حل اس کتاب کے اندر موجود ہے۔

تفہیم القرآن, مفسر: مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی 
یہ اکٹھا جواب ہے کفار مکہ کے ان مضطرب اقوال کا جو وہ قرآن اور محمد ﷺ کے متعلق کہتے تھے کہ یہ شاعری ہے، یہ ساحری ہے یہ پراگندہ خواب ہیں، یہ من گھڑت افسانے ہیں، وغیرہ۔ اس پر فرمایا جا رہا ہے کہ اس کتاب میں آخر وہ کونسی نرالی بات ہے جو تمہاری سمجھ میں نہ آتی ہو، جس کی وجہ سے اس کے متعلق تم اتنی متضاد راہیں قائم کر رہے ہو۔
 اس (قران ) میں تو تمہارا اپنا ہی حال بیان کیا گیا ہے۔
  1.  تمہارے ہی نفسیات اور تمہارے ہی معاملات زندگی زیر بحث ہیں۔
  2. تمہاری ہی فطرت اور ساخت اور آغاز و انجام پر گفتگو ہے۔
  3.  تمہارے ہی ماحول سے وہ نشانیاں چن چن کر پیش کی گئی ہیں جو حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔
  4.  اور تمہارے ہی اخلاقی اوصاف میں سے فضائل اور قبائح کا فرق نمایاں کر کے دکھایا جا رہا ہے جس کے صحیح ہونے پر تمہارے اپنے ضمیر گواہی دیتے ہیں۔
 ان سب باتوں میں کیا چیز ایسی گنجلک اور پیچیدہ ہے کہ اس کو سمجھنے سے تمہاری عقل عاجز ہو ؟
آیئں  قرآن کے مضامین سمجھنے کی کوشش کریں >>>> 

قرآن راہ ہدائیت

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ حَمْزَةَ الزَّيَّاتَ، عَنْ أَبِي الْمُخْتَارِ الطَّائِيِّ، عَنِ ابْنِ أَخِي الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ، عَنِ الْحَارِثِ، قَالَ:‏‏‏‏ مَرَرْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَإِذَا النَّاسُ يَخُوضُونَ فِي الْأَحَادِيثِ، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلْتُ عَلَى عَلِيٍّ، فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا تَرَى أَنَّ النَّاسَ قَدْ خَاضُوا فِي الْأَحَادِيثِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَقَدْ فَعَلُوهَا ؟، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَمَا إِنِّي قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏  أَلَا إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ مَا الْمَخْرَجُ مِنْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ كِتَابُ اللَّهِ فِيهِ نَبَأُ مَا كَانَ قَبْلَكُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَخَبَرُ مَا بَعْدَكُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَحُكْمُ مَا بَيْنَكُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ الْفَصْلُ لَيْسَ بِالْهَزْلِ، ‏‏‏‏‏‏مَنْ تَرَكَهُ مِنْ جَبَّارٍ قَصَمَهُ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنِ ابْتَغَى الْهُدَى فِي غَيْرِهِ أَضَلَّهُ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ حَبْلُ اللَّهِ الْمَتِينُ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ الذِّكْرُ الْحَكِيمُ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ الصِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ، ‏‏‏‏‏‏هُوَ الَّذِي لَا تَزِيغُ بِهِ الْأَهْوَاءُ وَلَا تَلْتَبِسُ بِهِ الْأَلْسِنَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَشْبَعُ مِنْهُ الْعُلَمَاءُ وَلَا يَخْلَقُ عَلَى كَثْرَةِ الرَّدِّ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَنْقَضِي عَجَائِبُهُ، ‏‏‏‏‏‏هُوَ الَّذِي لَمْ تَنْتَهِ الْجِنُّ إِذْ سَمِعَتْهُ حَتَّى قَالُوا:‏‏‏‏ إِنَّا سَمِعْنَا قُرْءَانًا عَجَبًا - ‏‏‏‏ 1 ‏‏‏‏ يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ سورة الجن آية 1 ـ 2، ‏‏‏‏‏‏مَنْ قَالَ بِهِ صَدَقَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ عَمِلَ بِهِ أُجِرَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ حَكَمَ بِهِ عَدَلَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ دَعَا إِلَيْهِ هَدَى إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ  خُذْهَا إِلَيْكَ يَا أَعْوَرُ، ( ترمذی , الرقم 2906، مشکوٰۃ المصابیح؛ 2147)
 ‏‏‏‏‏‏ترجمہ:
حارث اعور کہتے ہیں کہ  مسجد میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ لوگ گپ شپ اور قصہ کہانیوں میں مشغول ہیں، میں علی ؓ کے پاس پہنچا۔ میں نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ دیکھ نہیں رہے ہیں کہ لوگ لایعنی باتوں میں پڑے ہوئے ہیں؟۔ انہوں نے کہا: کیا واقعی وہ ایسا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: مگر میں نے تو رسول اللہ  ﷺ  کو فرماتے ہوئے سنا ہے:  عنقریب کوئی فتنہ برپا ہوگا ، میں نے کہا: اس فتنہ سے بچنے کی صورت کیا ہوگی؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا:  کتاب اللہ، اس میں تم سے پہلے کے لوگوں اور قوموں کی خبریں ہیں اور بعد کے لوگوں کی بھی خبریں ہیں، اور تمہارے درمیان کے امور و معاملات کا حکم و فیصلہ بھی اس میں موجود ہے، اور وہ دو ٹوک فیصلہ کرنے والا ہے، ہنسی مذاق کی چیز نہیں ہے۔ جس نے اسے سرکشی سے چھوڑ دیا اللہ اسے توڑ دے گا اور جو اسے چھوڑ کر کہیں اور ہدایت تلاش کرے گا اللہ اسے گمراہ کر دے گا۔ وہ  (قرآن)  اللہ کی مضبوط رسی ہے یہ وہ حکمت بھرا ذکر ہے، وہ سیدھا راستہ ہے، وہ ہے جس کی وجہ سے خواہشیں ادھر ادھر نہیں بھٹک پاتی ہیں، جس کی وجہ سے زبانیں نہیں لڑکھڑاتیں، اور علماء کو  (خواہ کتنا ہی اسے پڑھیں)  آسودگی نہیں ہوتی، اس کے باربار پڑھنے اور تکرار سے بھی وہ پرانا  (اور بےمزہ)  نہیں ہوتا۔ اور اس کی انوکھی  (و قیمتی)  باتیں ختم نہیں ہوتیں، اور وہ قرآن وہ ہے جسے سن کر جن خاموش نہ رہ سکے بلکہ پکار اٹھے: ہم نے ایک عجیب  (انوکھا)  قرآن سنا ہے جو بھلائی کا راستہ دکھاتا ہے، تو ہم اس پر ایمان لے آئے، جو اس کے مطابق بولے گا اس کے مطابق عمل کرے گا اسے اجر و ثواب دیا جائے گا۔ اور جس نے اس کے مطابق فیصلہ کیا اس نے انصاف کیا اور جس نے اس کی طرف بلایا اس نے اس نے سیدھے راستے کی ہدایت دی۔ اعور! ان اچھی باتوں کا خیال رکھو ۔   
( ترمذی  حديث نمبر 2906، مشکوٰۃ المصابیح؛ 2147)
آیئں  قرآن کے مضامین سمجھنے کی کوشش کریں >>>> 

Translation:
Harith al-A’war (RA) narrated: I passed by the mosque and found the people plunged in to chatter. I went to Ali (RA) and said to him, “O Commander of the Believers! Have you not observed that people are engaged in chatter”? He asked me if that was so and I said, “Yes.” He said, “Indeed,. I had heard Allah’s Messenger ﷺ say that there would soon come a fitnah (trial) and I asked him how we could come out of it. He said that it was the Book of Allah which contains an account of those before us and news of those who will follow us and commands on what we encounter. It is an unmistakable judgement, not a jest. If any of the despotic abandons it then Allah will diride him ibto pieces. And, if anyone seeks guidance in something other than it, then Allah will leave him astray. It is Allah’s (firm) strong rope. It is the wise reminder. It is the straight path. It is whereby desires cannot divert and tongues cannot be confused. The scholars can never be satiated with it. It does not become stale by much repetition and its wonders are never exhausted. It is the Book about which the jinn were not shy to say on hearing it:   “We have really heard a wonderful Recital! It gives guidance to the Right, and we have believed therein” (Al-Quran 72:1-2)   He who confirms it,. speaks the truth, and he who abides by it (in action), is rewarded, and he who judges by it, is just, and he who invites to it, is guided on the straight path. Take it to yourself, O A’war!”  (Tirmidhi, 2906, Mshkat Masabeeh: 2147) 
~~~~~~~

جامع اور ہمہ گیر دعاء

عَنِ الْحَارِثِ قَالَ: قَالَ لِىْ عَلِيٌّ أَلَا أُعَلِّمُكَ دُعَاءً عَلَّمَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُلْتُ: بَلَى. قَالَ: قُلْ: «اللَّهُمَّ افْتَحْ مَسَامِعَ قَلْبِي لِذِكْرِكَ، وَارْزُقْنِي طَاعَتَكَ وَطَاعَةَ رَسُولِكَ، وَعَمَلًا بِكِتَابِكَ» (رواه الطبرانى فى الاوسط)
ترجمہ:
حارث اعور سے روایت ہے کہ حضرت علی ؓ نے مجھ سے فرمایا کہ: "میں تم کو ایک دعا بتاؤں جو مجھے رسول ﷺ نے بتائی تھی! مین نے عرض کیا: ضرور بتائیے! آپ نے فرمایا: یوں عرض کیا کرو
 "اللَّهُمَّ افْتَحْ مَسَامِعَ قَلْبِي تا وَعَمَلًا بِكِتَابِكَ" 
*اے اللہ! تو اپنے ذکر کے لئے (یعنی اپنی ہدایت و نصیحت قرآن پاک کے لئے) میرے دل کے کان کھول دے، اور مجھے اپنی اور اپنے رسولِ پاک ﷺ کی تابعداری کی اور اپنی کتابِ پاک قرآن مجید پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما*
۔ (معجم اوسط للطبرانی)
{معارف الحدیث, کتاب: کتاب الاذکار والدعوات, باب: جامع اور ہمہ گیر دعائیں, حدیث نمبر: 1291}
آیئں  قرآن کے مضامین سمجھنے کی کوشش کریں >>>> 

~~~~~~~~~~

🌹🌹🌹
🔰 *Quran Subjects*  🔰 *قرآن مضامین* 🔰

*"اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا" [ الفرقان 25  آیت: 30]*
*کیا یہ لوگ قرآن پر تدبر ّنہیں کرتے یا ان کے دلوں پر قفل پڑچکے ہیں[47:24]*
*قرآن کے پیغام کوپھیلانا "جہاد کبیرہ" ہے(25:52)*
*رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’جو شخص غیر قرآن میں ہدایت کا متلاشی ہوگا اللہ اس کو گمراہ کردے گا، وہ (قرآن) اللہ تعالیٰ کی ایک مضبوط رسی ہے اور وہ ایک محکم اور مضبوط ذکر ہے اور وہ ایک سیدھا راستہ ہے …‘‘*(رواہ حضرت علیؓ ، ترمذی 2906)

Popular Books