Featured Post

قرآن مضامین انڈیکس

"مضامین قرآن" انڈکس   Front Page أصول المعرفة الإسلامية Fundaments of Islamic Knowledge انڈکس#1 :  اسلام ،ایمانیات ، بنی...

Showing posts with label WORLDLY LIFE حیات. Show all posts
Showing posts with label WORLDLY LIFE حیات. Show all posts

قرآن ربا اور فیاٹ (کاغذی ) کرنسی


 قرآنی احکام کونامکمل پیش کرنا انتہائی گمراہ کن ہے، جان بوجھ کر معلومات کو چھوڑنا جھوٹ بولنے کے مترادف ہے، بہت بڑا گناہ ہے۔ ایک مشہور قول ہے کہ؛ آدھا سچ اکثر مکمل جھوٹ ہوتا ہے- "صدی کے  بڑے(Scam of the Century  Unveiled) گھپلہ کو بے نقاب کیا گیا ہے"۔ ربا (سود)  کی حرمت پر اکثر پیش کی جانے والی دو آیات میں فرمانبردار بندوں پر اس کے مثبت اثرات کے وعدہ کے بارے میں بھی پوری حقیقت بیان کی گئی ہے۔ دونوں پہلو یکساں طور پر اہم ہیں اور دونوں احکام کومکمل طور پر ان کی روح (سپرٹ) کے مطابق نافذ کیا جانا لازم و ملزوم ہے، یہی اس تحقیق و مقالہ کا موضوع ہے۔
☆ https://bit.ly/QuranAurRibaUrdu-pdf [قرآن اور ربا ]


~~~~~~~~~
🌹🌹🌹
🔰 Quran Subjects  🔰 قرآن مضامین 🔰
"اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا" [ الفرقان 25  آیت: 30]
The messenger said, "My Lord, my people have deserted this Quran." (Quran 25:30)
~~~~~~~~~

خواہش نفس ، شیطان، مذہبی پیشواؤں, کے غلام ، شرک Selfish Desires


 إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّـهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا ﴿١١٦﴾

اللہ کے ہاں بس شرک ہی کی بخشش نہیں ہے، اس کے سوا اور سب کچھ معاف ہوسکتا ہے جسے وہ معاف کرنا چاہے جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیرایا وہ تو گمراہی میں بہت دور نکل گیا (4:116)

Indeed, Allah does not forgive association with Him, but He forgives what is less than that for whom He wills. And he who associates others with Allah has certainly gone far astray. (4:116)

Have you seen the one who takes as his god his own desire? Then would you be responsible for him? Or do you think that most of them hear or reason? They are not except like livestock. Rather, they are [even] more astray in [their] way.  (25:43,44)

ا س آیت سے درج ذیل باتیں معلوم ہوئیں : 
١۔ شرک ناقابل معافی جرم ہے جسے اللہ کسی صورت میں بھی معاف نہیں کرے گا۔ 
٢۔ کیسے گناہوں کی معافی کی توقع ہوسکتی ہے :۔ دوسرے گناہوں کے متعلق یقینی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ وہ معاف ہوجائیں گے۔ اللہ جس کو چاہے اور جونسا گناہ چاہے معاف کردینے کا اختیار رکھتا ہے اور چاہے تو ان پر مواخذہ بھی کرسکتا ہے۔ گناہ بھی دو قسم کے ہوتے ہیں یا ایک ہی گناہ میں دو قسم کے حقوق ہوتے ہیں۔ ایک اللہ کا حق، دوسرے بندوں کا حق، اللہ جسے چاہے اپنا حق معاف کر دے اور جسے چاہے نہ کرے مگر بندوں کے حقوق کی ادائیگی لازمی ہے تب ہی اللہ اپنا حق بھی معاف کرے گا۔ بندوں کا حق خواہ اس دنیا میں ادا کردیا جائے یا ان سے معاف کرا لیا جائے یا اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے حقدار کو بدلہ اپنی طرف سے ادا کر دے۔ بہرحال بندوں کے حقوق کی معافی کے بعد اللہ کے حق کی معافی کی توقع ہوسکتی ہے۔ 
٣۔ اور تیسری بات یہ کہ شرک ہی سب سے بڑی گمراہی ہے۔ شرک کو ہی ایک دوسرے مقام پر ظلم عظیم کہا گیا ہے

الله کے علاوہ معبود بنانا 

إِن يَدْعُونَ مِن دُونِهِ إِلَّا إِنَاثًا وَإِن يَدْعُونَ إِلَّا شَيْطَانًا مَّرِيدًا ﴿١١٧﴾ لَّعَنَهُ اللَّـهُ ۘ وَقَالَ لَأَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا ﴿١١٨﴾ وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ آذَانَ الْأَنْعَامِ وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّـهِ ۚ وَمَن يَتَّخِذِ الشَّيْطَانَ وَلِيًّا مِّن دُونِ اللَّـهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِينًا ﴿١١٩﴾ يَعِدُهُمْ وَيُمَنِّيهِمْ ۖ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلَّا غُرُورًا ﴿١٢٠﴾ أُولَـٰئِكَ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَلَا يَجِدُونَ عَنْهَا مَحِيصًا ﴿سورة النساء ٤:١٢١﴾

وہ اللہ کو چھوڑ کر دیویوں کو معبود بناتے ہیں وہ اُس باغی شیطان کو معبود بناتے ہیں (117) جس کو اللہ نے لعنت زدہ کیا ہے (وہ اُس شیطان کی اطاعت کر رہے ہیں) جس نے اللہ سے کہا تھا کہ "میں تیرے بندوں سے ایک مقرر حصہ لے کر رہوں گا (118) میں انہیں بہکاؤں گا، میں انہیں آرزوؤں میں الجھاؤں گا، میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے جانوروں کے کان پھاڑیں گے اور میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے خدائی ساخت میں رد و بدل کریں گے" اس شیطان کوجس نے اللہ کے بجائے اپنا ولی و سرپرست بنا لیا وہ صریح نقصان میں پڑ گیا (119) وہ اِن لوگوں سے وعدہ کرتا ہے اور انہیں امیدیں دلاتا ہے، مگر شیطان کے سارے وعدے بجز فریب کے اور کچھ نہیں ہیں (120) اِن لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے جس سے خلاصی کی کوئی صورت یہ نہ پائیں گے (4:121)

شیطان کو اس معنی میں تو کوئی بھی معبود نہیں بناتا کہ اس کے آگے مراسم پرستش ادا کرتا ہو اس کو الوہیت کا درجہ دیتا ہو ، البتہ اسے معبود بنانے کی صورت یہ ہے کہ آدمی اپنے نفس کی باگیں شیطان کے ہاتھ میں دے دیتا ہے ۔ اور جدھر جدھر وہ چلاتا ہے ادھر ادھر چلتا ہے گویا کہ یہ اس کا بندہ ہے اور وہ اس کا خدا ، اس سے معلوم ہوا کہ کسی کے احکام کی بے چون وچرا اطاعت اور اندھی پیروی کرنے کا نام بھی عبادت ہے اور جو شخص اس طرح کی اطاعت کرتا ہے وہ دراصل اس کی عبادت بجا لاتا ہے-
مشرکوں میں شرک کی جملہ اقسام پائی جاتی ہیں :۔ شرک کی موٹی موٹی تین اقسام ہیں اور وہ تینوں ہی اس جملہ میں آگئی ہیں مثلاً
(١) شرک فی الذات۔ اس لحاظ سے مشرکین اپنی دیویوں کو اللہ کی بیویاں اور بیٹیاں سمجھتے تھے اور ان دیویوں کے ناموں سے ہی یہ بات ظاہر ہوجاتی ہے جیسے الٰہ سے لات اور عزیز سے عزی وغیرہ 
(٢) شرک فی الصفات۔ اللہ کی یہ صفت ہے کہ جہاں سے بھی اسے کوئی شخص پکارے وہ اس کی فریاد سنتا ہے اور مشرکین کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ دیویاں ان کی فریاد سنتی ہیں 
(٣) شرک فی العبادت۔ قرآن کی تصریح کے مطابق کسی کو اس عقیدہ سے پکارنا کہ وہ اس کی فریاد سن کر اس کی مشکل دور کرسکتا ہے یا اسے کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہے اس کی عین عبادت ہے اور مشرکین بھی ایسا ہی عقیدہ رکھ کر دیویوں کو پکارتے تھے اور یہ صریح شرک ہے۔ نیز وہ اپنی دیویوں کے سامنے عبادت کے وہ سب مراسم بجا لاتے تھے جو صرف اللہ کے لیے سزا وار ہیں۔
 ابلیس کا انسانوں کو گمراہ کرنے کا دعویٰ :۔
شیطان کو پکارنا اس لحاظ سے ہے کہ انسان کو شرک کی جتنی راہیں سجھائی ہیں سب شیطان ہی نے سجھائی ہیں۔ گویا ایسا عقیدہ رکھ کر خواہ کسی کو بھی پکارا جائے وہ پکار بھی شیطانی ہے اور شیطان ہی کو پکارنے کے مترادف ہے اگرچہ سب لوگ شیطان کو اللہ کا باغی اور سرکش سمجھ کر ظاہری طور پر گالیاں ہی دیتے ہیں-

دراصل اس جگہ جس ردوبدل کو شیطانی فعل قرار دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ انسان کسی چیز سے وہ کام لے جس کے لئے خدا نے اسے پیدا نہیں کیا ہے اور کسی چیز سے وہ کام نہ لے جس کے لئے خدا نے اسے پیدا کیا ہے ۔ بالفاظ دیگر وہ تمام افعال جو انسان اپنی اور اشیاء کی فطرت کے خلاف کرتا ہے اور وہ تمام صورتیں جو وہ منشائے فطرت سے گریز کے لئے اختیار کرتا ہے اس آیت کی رو سے شیطان کی گمراہ کن تحریکات کا نتیجہ ہیں مثلا عمل قوم لوط ، ضبط ولادت ، رہبانیت ، برہمچرج ، مردوں اور عورتوں کو بانجھ بنانا ، مردوں کو خواجہ سرا بنانا ، عورتوں کو ان خدمات سے منحرف کرنا جو فطرت نے ان کے سپرد کی ہیں اور انہیں تمدن کے ان شعبوں میں گھسیٹ لانا جن کے لئے مرد پیدا کیا گیا ہے یہ اور اس طرح کے دوسرے بے شمار افعال جو شیطان کے شاگرد دنیا میں کررہے ہیں دراصل یہ معنی رکھتے ہیں کہ یہ لوگ خالق کائنات کے ٹھیرائے ہوئے قوانین کو غلط سمجھتے ہیں اور ان میں اصلاح فرمانا چاہتے ہیں ۔

 علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا

اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّـهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَـٰهًا وَاحِدًا ۖ لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ (9:31)

انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا ہے اور اسی طرح مسیح ابن مریم کو بھی حالانکہ ان کو ایک معبود کے سوا کسی کی بندگی کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا، وہ جس کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں، پاک ہے وہ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں (9:31)

اہل کتاب کا اپنے علماء ومشائخ کو رب بنانا :۔ ان اہل کتاب کا دوسرا شرک یہ تھا کہ حلت و حرمت کے اختیارات انہوں نے اپنی علماء و مشائخ کو سونپ رکھے تھے۔ حالانکہ یہ اختیار صرف اللہ کو ہے۔ وہ کتاب اللہ کو دیکھتے تک نہ تھے بس جو کچھ ان کے علماء و مشائخ کہہ دیتے اسے اللہ کا حکم سمجھ لیتے تھے جبکہ ان کے علماء و مشائخ کا یہ حال تھا کہ تھوڑی سی رقم لے کر بھی فتوے ان کی مرضی کے مطابق دے دیا کرتے تھے۔ اس طرح انہوں نے اپنے علماء و مشائخ کو رب کا درجہ دے رکھا تھا جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے :۔ سیدنا عدی بن حاتم کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ کے پاس آیا میری گردن میں سونے کی صلیب تھی۔ آپ نے فرمایا عدی ! اس بت کو پرے پھینک دو ۔ اور میں نے آپ کو سورة برأت کی یہ آیت پڑھتے سنا 
اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَالْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ ۚ وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِيَعْبُدُوْٓا اِلٰــهًا وَّاحِدًا ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۭسُبْحٰنَهٗ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ 31؀) 9 ۔ التوبہ :31)
 پھر آپ نے فرمایا وہ لوگ ان مولویوں اور درویشوں کی عبادت نہیں کرتے تھے لیکن جب یہ مولوی اور درویش کسی چیز کو حلال کہہ دیتے تو وہ حلال جان لیتے اور جب حرام کہہ دیتے تو حرام سمجھ لیتے تھے (ترمذی۔ ابو اب التفسیر) یہ دونوں آیات دراصل ان سے پہلی آیت کی تشریح کے طور پر آئی ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ اہل کتاب اللہ پر ایمان نہیں لاتے۔ یعنی ایسے طرح طرح کے شرک کی موجودگی میں اللہ پر ایمان لانے کا دعویٰ کوئی معنی نہیں رکھتا۔

وَ يَوْمَ يَقُوْلُ نَادُوْا شُرَكَآءِيَ الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَهُمْ وَ جَعَلْنَا بَيْنَهُمْ مَّوْبِقًا 
پھر کیا کریں گے یہ لوگ اُس روز جبکہ اِن کا ربّ اِن سے کہے گا کہ پکارو اب اُن ہستیوں کو جنھیں تم میرا شریک سمجھ بیٹھے تھے۔  یہ اُن کو پکاریں گے ، مگر وہ اِن کی مدد کو نہ آئیں گے اور ہم ان کے درمیان ایک ہی ہلاکت کا گڑھا مشترک کر دیں گے (18:52)

اللہ کے احکام اور اس کی ہدایات کو چھوڑ کر کسی دوسرے کے احکام اور رہنمائی کا اتباع کرنا در اصل اس کو خدائی میں اللہ کا شریک ٹھیرانا ہے ، خواہ آدمی اس دوسرے کو زبان سے خدا کا شریک قرار دیتا ہو یا نہ قرار دیتا ہو۔ بلیہ اگر آدمی ان دوسری ہستیوں پر لعنت بھیجتے ہوئے بھی امر الہٰی کے مقابلے میں ان کے اوامر کا اتباع کر رہا ہو تب بھی وہ شرک کا مجرم ہے۔ چنانچہ یہاں شیاطین کے معاملے میں آپ علانیہ دیکھ رہے ہیں کہ دنیا میں ہر ایک ان پر لعنت کرتا ہے ، مگر اس لعنت کے باوجود جو لوگ ان کی پیروی کرتے ہیں ، قرآن ان سب کی یہ الزام دے رہا ہے کہ تم شیاطین کو خدا کا شریک بنائے ہوئے ہو۔ یہ شرک اعتقادی نہیں بلکہ شرک عملی ہے اور قرآن اس کو بھی شرک ہی کہتا ہے-

اب ملاحضہ فرمائیں مسلمانوں میں یہ شرک کیسے داخل ہو چکا ہے :

رسول   صلی الله علیہ وسلم  نے الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ کی سنت پر عمل کا حکم دیا:
” فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ بعدی فَسَيَرَى اخْتِلافًا كَثِيرًا ، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ ، فَتَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الأُمُورِ ، فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلالَةٌ ۔”  (سنن ابی داود ، کتاب السنة ، باب لزوم السنة)
” تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت سے اختلاف دیکھے گا۔  پس میری سنت اور خلفاء راشدین مہدیین کی سنت کو لازم پکڑو ۔ اس سے تمسک کرو اور اسے دانتوں سے مضبوط پکڑ لو۔ خبردار ( دین میں )  نئی باتوں سے بچنا کیونکہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت ضلالت ہے۔” (سنن ابی داود ، کتاب السنة ، باب لزوم السنة)

رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم  نے حضرت ابوبکر کے بعد حضرت عمر( رضی الله) کی جانب رجوع کرنے کا حکم دیا۔ نام لے کر صرف یہ دو صحابی ہی ہیں جن کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے-(صحیح ابن ماجہ#٩٧،و انظر الحدیث ٤٠٦٩ ، صحیح ااصحیحہ ١٢٣٣، و تراجیع البانی ٣٧٧، صحیح الضعیف سنن ترمزی #٣٨٠٥)
 سیدنا صدیق اکبر کے بعد امت کی راہنمائی کا فریضہ سیدنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے انجام دیا۔ 
قرآن کی کتابت کے باوجود حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر رضی الله نے احادیث کی کتابت کا بندوبست نہیں کیا کیونکہ وہ فوائد سے زیادہ نقصان کو سمجھتے تھے- حضرت ابو بکر صدیق نے اپنے  500 احادیث کے ذخیرہ کو تلف کر دیا-
حضرت عمر بن الخطاب (رضی الله) نے اپنی خلافت کے دوران ایک مرتبہ احادیث کو تحریر کرنے کے مسئلے سے نمٹنے کی کوشش کی. انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحابہ اکرام سے مشورہ کیا، انہوں نے ایسا کرنے سے اتفاق کیا لیکن حضرت عمر بن الخطاب (رضی الله) ہچکچاہٹ میں رہے اور پورا ایک مہینہ الله سے رہنمائی اور روشنی کی دعا کرتے رہے بلآخر انہوں نے فیصلہ کیا کہ یہ کام نہیں کیا جایے گا اور فرمایا کہ: “سابق لوگوں نے اللہ کی کتابوں کو نظر انداز کیا اور صرف نبیوں کی سنت پرپر توجہ مرکوز کی، میں اللہ کے قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے درمیان الجھن کا امکان قائم نہیں کرنا چاہتا- اس کے بعد انہوں نے تمام صوبوں کے مسلمانوں کو ہدایت کی: “جس کسی کے پاس بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روایت سے متعلق تحریری دستاویز ہے وہ اسے تتلف کردے”.
عبداللہ بن یسار کہتے ہیں ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ انہوں نے فرمایا یا جس کے پاس قرآن کے علاوہ کوئی تحریر ہو اسے میں قسم دیتا ہوں ہو کہ وہ گھر لوٹ کر جائے آئے تو اسے مٹا ڈالے لے لے کیونکہ پچھلی قومیں میں اس وقت ہلاک ہوئی جب وہ اپنے رب کی کتاب کو چھوڑ کر اپنے علماء کی قیل و قال میں پھنس گئیں [ حدیث کی تاریخ نخبۃالفکر، ابن حجر عسقلانی]
حضرت (عمر رضی الله ) کا فیصلہ خلفاء راشدین کی سنت بن گیا - سنت رسول ﷺ، عملی طور پر تواتر سے مسلمانوں سے اجتماعی طور پر نسل در نسل متقل ہوتی رہی ہیر یں کیونکہ یہ کسی ایک فرد یا چند افراد نہیں مسلمانوں نے اجتماعی طور پررسول  صلی الله علیہ وسلم  سے براہ راست حاصل کی جس میں کسی ابہام یا شک کی گنجائش نہیں - اسی لیے سنت  رسول  صلی الله علیہ وسلم  کا درجہ قطعی ہے، صحیح، حسن یا ضعیف نہیں ، سنت  متواتر کا درجہ قرآن کے قریب ترین ہے اس کا انکار کفر ہے- 
تیسری صدی حجرہ میں حضرت عمر کے حکم اورخلفاء راشدین کی سنت،  جس کوسختی سے پکڑنے کا حکم رسول  صلی الله علیہ وسلم  نے دیا تھا اس کے برخلاف احادیث کی مشہور کتب مدون ہوئیں جو قرآن کے ساتھ اہمیت اختیار کر گیئں، جیسا کہ پہلی امتوں نے کیا-
یہ بات  بہت اہم ہے کیونکہ یہ اقدام قرآن ، رسول الله  صلی الله علیہ وسلم   اور سنت خلفاء رشدین کے برعکس ہوا- اس کی شرعی حثیت کیا ہے ؟  مزید پڑہیں ....[......] 

اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنانے والے :

   أَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَـٰهَهُ هَوَاهُ أَفَأَنتَ تَكُونُ عَلَيْهِ وَكِيلًا ﴿٤٣﴾أَمْ تَحْسَبُ أَنَّ أَكْثَرَهُمْ يَسْمَعُونَ أَوْ يَعْقِلُونَ ۚ إِنْ هُمْ إِلَّا كَالْأَنْعَامِ ۖ بَلْ هُمْ أَضَلُّ سَبِيلًا ﴿٤٤﴾
کبھی تم نے اُس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا ہو؟ کیا تم ایسے شخص کو راہِ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں؟ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں، بلکہ اُن سے بھی گئے گزرے (25:43,44)

یعنی جو شخص اللہ کے بجائے اپنی خواہش نفس کا بندہ یا غلام بن جائے اور اللہ کے احکام کے بجائے اپنی خواہش نفس کی بات ماننے کو ترجیح دے تو ایسے شخص کے راہ راست پر آنے کے امکانات ختم ہوجاتے ہیں، نہ ہی آپ ایسے ہوا پرستوں کو راہ راست پر لانے کی ذمہ داری اٹھا سکتے ہیں۔ قرآن کے اندر بیان ہے جو بات فوراً ذہن میں آتی ہے وہ یہ ہے خواہش نفس کی اتباع بھی شرک کی اقسام میں سے ایک قسم ہے۔ 

خواہش نفس کی اتباع ایک ایسا عام مرض ہے جس میں کافر و مشرک تو درکنار، مومن و مسلم اور عوام و خواص سب ہی تقریباً متبلا ہوتے ہیں۔ مثلاً عام لوگوں کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ شریعت کے احکام میں سے آسان اور ان کے من پسند ہوں ان پر تو عمل کرلیتے ہیں اور جو مشکل ہوں تو طبیعت کو گراں معلوم ہوتے ہوں انھیں چھوڑ دیتے ہیں۔ ایسے لوگ حقیقتاً شریعت کے متبع نہیں ہوتے بلکہ اپنی خواہشات کے متبع ہوتے ہیں اور خواص یا علماء کی اتباع ہوائے نفس یہ ہے کہ وہ اللہ کی آیات کی تاویل کرلیتے جو ان کی۔۔ طبع ہو اور انھیں پسند ہو، بعض غلط استنباط کرکے اور غلط فتوے دے کر دنیا کا مال بٹورتے ہیں۔ پھر جو اور زیادہ ذہین طبع ہوتے ہیں وہ عوام میں کوئی بدعی عقیدہ رائج کرکے عوام کی توجہ کا مرکز بننا چاہتے ہیں اور نئے فرقہ کی بنیاد رکھ دیتے ہیں جس کی تہہ میں حب مال و باہ میں سے کوئی نہ کوئی جذبہ کار فرما ہوتا ہے اور کافر جو انبیاء کی مخالفت پر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ قرآن کا بھی مفہوم یہ ہوتا ہے کہ انھیں جو مقام معاشرہ میں حاصل ہے وہ ان سے چھن نہ جائے۔ اور مشرکوں کی اتباع خواہش کا تو پوچھنا ہی کیا۔ آج ایک پتھر اچھا معلوم بنا تو اسے پوجنے لگے کل دوسرا اس سے خوبصورت پتھر مل گیا تو پہلے کو چھوڑ کر اس کے آگے سر جھکا دیا۔ یا کسی شخص نے کسی ولی کے مزاد سے متلعق کوئی کرامت یا حاجت روائی کا قصہ بیان کردیا تو اس کے مزاد پر نذریں نیازیں دینا شروع کردیں۔ پھر کسی اس سے بڑے بزرگ کے مزار کے حالات سے متاثر ہوئے تو اپنی ساری نیاز مندیاں ادھر منتقل کردیں۔ غرضیکہ جس طرح انسانوں کی بیشمار اقسام ہیں۔ اسی طرح وہ ان کی خواہش نفس اور اتباع کی بھی بیشمار اقسام ہیں اور رسول بھلا ان ہر طرح کے لوگوں کو راہ راست پر لانے کی ذمہ داری کیسے اٹھا سکتے ہیں ؟ 
 أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلهَهُ هَواهُ [ الجاثية/ 23] بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے
 ولا تَتَّبِعِ الْهَوى[ ص/ 26] خواہش کی پیروی نہ کرنا ۔
وَاتَّبَعَ هَواهُ [ الأعراف/ 176] وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے ۔
وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْواءَهُمْ [ البقرة/ 120]  اگر تم ان کی خواہشوں پر چلو گے ۔ میں اھواء جمع لاکر بات پت تنبیہ کی ہے کہ ان میں سے ہر ایک کی خواہش دوسرے سے مختلف اور جدا ہے اور ایہ ایک کی خواہش غیر متنا ہی ہونے میں اھواء کا حکم رکھتی ہے لہذا ایسی خواہشات کی پیروی کرنا سراسر ضلالت اور اپنے آپ کو درطہ حیرت میں ڈالنے کے مترادف ہے ۔
وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ [ الجاثية/ 18] اور نادانوں کی خواہش کے پیچھے نہ چلنا ۔ 
وَلا تَتَّبِعُوا أَهْواءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوا [ المائدة/ 77] اور اس قوم کی خواہشوں پر مت چلو ( جو تم سے پہلے ) گمراہ ہوچکے ہیں ۔ 
قُلْ لا أَتَّبِعُ أَهْواءَكُمْ قَدْ ضَلَلْتُ [ الأنعام/ 56] ( ان لوگوں سے ) کہدو کہ میں تمہاری خواہشوں پر نہیں چلتا ۔ ایسا کروں میں گمراہ ہوچکا ہوں گا ۔ 
وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَهُمْ وَقُلْ آمَنْتُ بِما أَنْزَلَ اللَّهُ [ الشوری/ 15] اور ان ( یہود ونصاریٰ کی کو اہشوں پر مت چلو اور ان سے صاف کہدو کہ میرا تو اس پر ایمان ہے ۔ جو خدا نے اتارا ۔ 
وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50]
اور اس سے زیادہ وہ کون گمراہ ہوگا جو خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے ۔
The triliteral root hā wāw yā (ه و ي) occurs 38 times in the Quran, in five derived forms:
  1. eight times as the form I verb hawā (هَوَىٰ)
  2. once as the form X verb is'tahwat (ٱسْتَهْوَتْ)
  3. 17 times as the noun ahwā (أَهْوَآء)
  4. 11 times as the noun hawā (هَوَآء)
  5. once as the active participle hāwiyat (هَاوِيَة)
خواہش نفس کا خدا بنا لینے سے مراد اس کی بندگی کرنا ہے ، اور یہ بھی حقیقت کے اعتبار سے ویسا ہی شرک ہے جیسا بت کو پوجنا یا کسی مخلوق کو معبود بنانا ۔ حضرت ابو امامہ کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ماتحت ظل السمآء من الٰہ یعبد من دون اللہ تعالیٰ اعظم عند اللہ عزوجل من ھوی یتبع ، اس آسمان کے نیچے اللہ تعالیٰ کے سوا جتنے معبود بھی پوجے جا رہے ہیں ان میں اللہ کے نزدیک بد ترین معبود وہ خواہش نفس ہے جس کی پیروی کی جا رہی ہو ۔ ( طبرانی ) ۔ مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو الکہف ، حاشیہ 50 ۔ 
جو شخص اپنی خواہش کو عقل کے تابع رکھتا ہو اور عقل سے کام لے کر فیصلہ کرتا ہو کہ اس کے لیے صحیح راہ کون سی ہے اور غلط کونسی ، وہ اگر کسی قسم کے شرک یا کفر میں مبتلا بھی ہو تو اس کو سمجھا کر سیدھی راہ پر لایا جا سکتا ہے ، اور یہ اعتماد بھی کیا جا سکتا ہے کہ جب وہ راہ راست اختیار کرنے کا فیصلہ کر لے گا تو اس پر ثابت قدم رہے گا ۔ لیکن نفس کا بندہ اور خواہشات کا غلام ایک شتر بے مہار ہے ۔ اسے تو اس کی خواہشات جدھر جدھر لے جائیں گی وہ ان کے ساتھ ساتھ بھٹکتا پھرے گا ۔ اس کو سرے سے یہ فکر ہی نہیں ہے کہ صحیح و غلط اور حق و باطل میں تمیز کرے اور ایک کو چھوڑ کر دوسرے کو اختیار کرے ۔ پھر بھلا کون اسے سمجھا کر راستی کا قائل کر سکتا ہے ۔ اور بالفرض اگر وہ بات مان بھی لے تو اسے کسی ضابطہ اخلاق کا پابند بنا دینا تو کسی انسان کے بس میں نہیں ہے [تفہیم القرآن ]
......................

الله کی کتاب پر ایمان اور نفس 

.اس لئے تم خواہش نفس کے پیچھے پڑ کر انصاف نہ چھوڑ دینا اور اگر تم نے کج بیانی یا پہلو تہی کی تو جان لو کہ جو کچھ تم کرو گے اللہ تعالٰی اس سے پوری طرح باخبر ہے  (4:135)

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ الۡکِتٰبِ الَّذِیۡ نَزَّلَ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ وَ الۡکِتٰبِ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ مِنۡ قَبۡلُ ؕ وَ مَنۡ یَّکۡفُرۡ بِاللّٰہِ وَ مَلٰٓئِکَتِہٖ وَ کُتُبِہٖ وَ رُسُلِہٖ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ فَقَدۡ ضَلَّ  ضَلٰلًۢا  بَعِیۡدًا ﴿۱۳۶﴾
 اے ایمان والو! اللہ تعالٰی پر اس کے رسول (  صلی اللہ علیہ وسلم  ) پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول  (  صلی اللہ علیہ وسلم  ) پر اتاری ہے اور ان کتابوں پر جو اس سے پہلے نازل فرمائی گئی ہیں ،  ایمان لاؤ!  جو شخص اللہ تعالٰی سے اور اس کے فرشتوں سے اور اس کی کتابوں سے اور اس کے رسولوں سے اور قیامت کے دن سے کفر کرے وہ تو بہت بڑی دور کی گمراہی میں جا پڑا ۔  (4:136)
 O you who have believed, believe in Allah and His Messenger and the Book that He sent down upon His Messenger and the Scripture which He sent down before. And whoever disbelieves in Allah , His angels, His books, His messengers, and the Last Day has certainly gone far astray.  [ Surat un Nissa: 4 Verse: 136]
.فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ( المرسلات 77:50)
اب اس قرآن کے بعد کس حدیث  پر ایمان لائیں گے؟ ( المرسلات 77:50)

کفر کرنے کے بھی  دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ  آدمی صاف صاف انکار کر دے۔ دوسرے یہ کہ زبان سے تو مانے مگر دل سے نہ مانے ، یا اپنے رویّے سے ثابت کر دے کہ وہ جس چیز کو ماننے کا دعویٰ کر رہا ہے فی الواقع اسے نہیں مانتا۔ یہاں کفر سے یہ دونوں معنی مراد ہیں اور آیت کا مقصُود لوگوں کو اس بات پر متنبّہ کرنا ہے کہ اسلام کے اِن اساسی عقیدوں کے ساتھ کفر کی اِن دونوں اقسام میں سے جس قسم کا برتاؤ بھی آدمی اختیار کرے گا ، اس  کا نتیجہ حق سے دوری اور باطل کی روہوں میں سر گشتگی و نا مرادی کے سوا کچھ نہ ہوگا۔

 ایمان لانے والوں سے کہنا کہ ایمان لاؤ بظاہر عجیب معلوم ہوتا ہے ۔ لیکن دراصل یہاں لفظ ایمان دو الگ معنوں میں استعمال ہوا ہے ۔ ایمان لانے کا ایک مطلب یہ ہے کہ آدمی انکار کے بجائے اقرار کی راہ اختیار کرے ، نہ ماننے والوں سے الگ ہو کر ماننے والوں میں شامل ہو جائے ۔
 اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ آدمی جس چیز کو مانے اسے سچے دل سے مانے ۔ پوری سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ مانے ۔
اپنی فکر کو ، اپنے مذاق کو ، اپنی پسند کو ، اپنے رویے اور چلن کو ، اپنی دوستی اور دشمنی کو ، اپنی سعی و جہد کے مصرف کو بالکل اس عقیدے کے مطابق بنالے جس پر وہ ایمان لایا ہے ۔
 خطاب ان تمام مسلمانوں سے ہے جو پہلے معنی کے لحاظ سے ”ماننے والوں“ میں شمار ہوتے ہیں ۔ اور ان سے مطالبہ یہ کیا گیا ہے کہ دوسرے معنی کے لحاظ سے سچے مومن بنیں-
References/ links

بسم اللہ 

مصیبت اپنے کسب و عمل کی بدولت


جو بھلائی بھی حاصل ہوتی ہے اللہ کی عنایت سے ہوتی ہے، اور جو مصیبت تجھ پر آتی ہے وہ تیرے اپنے کسب و عمل کی بدولت
أَيْنَمَا تَكُونُوا يُدْرِككُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنتُمْ فِي بُرُوجٍ مُّشَيَّدَةٍ ۗ وَإِن تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا هَـٰذِهِ مِنْ عِندِ اللَّـهِ ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَقُولُوا هَـٰذِهِ مِنْ عِندِكَ ۚ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِندِ اللَّـهِ ۖ فَمَالِ هَـٰؤُلَاءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثًا ﴿٧٨﴾
رہی موت، تو جہاں بھی تم ہو وہ بہرحال تمہیں آکر رہے گی خواہ تم کیسی ہی مضبوط عمارتوں میں ہو اگر انہیں کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے، اور اگر کوئی نقصان پہنچتا ہے تو کہتے ہیں یہ تمہاری بدولت ہے کہو، سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے آخر ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی (4:78) 

مَّا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللَّـهِ ۖ وَمَا أَصَابَكَ مِن سَيِّئَةٍ فَمِن نَّفْسِكَ ۚ وَأَرْسَلْنَاكَ لِلنَّاسِ رَسُولًا ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ شَهِيدًا ﴿٧٩﴾
اے انسان! تجھے جو بھلائی بھی حاصل ہوتی ہے اللہ کی عنایت سے ہوتی ہے، اور جو مصیبت تجھ پر آتی ہے وہ تیرے اپنے کسب و عمل کی بدولت ہے اے محمدؐ! ہم نے تم کو لوگوں کے لیے رسول بنا کر بھیجا ہے اوراس پر خدا کی گواہی کافی ہے (4:79 سورة النساء)
 ” حسنہ “ اور ” سیۂ “ دونوں کو ” من عند اللہ “ ( اللہ کی طرف سے) قرار دیا ہے کہ دونوں چیزیں اسی نے پیدا کی ہیں، لیکن سبب اور کسب کی مناسبت سے برائی کی نسبت انسان کی طرف کردی ہے-
 اس کائنات میں جو کچھ ہوتا ہے اﷲ تعالیٰ کی مشیت اور اس کے حکم سے ہوتا ہے۔ کسی کو کوئی فائدہ پہنچے تو وہ بھی اللہ کے حکم سے پہنچتا ہے، اور نقصان پہنچے تو وہ بھی اسی کے حکم سے ہوتا ہے۔ دوسری حقیقت یہ بیان کی گئی ہے کہ کسی کو فائدہ یا نقصان پہنچانے کا حکم اﷲ تعالیٰ کب اور کس بنا پر دیتے ہیں۔ اس کے بارے میں یہ بتایا ہے کہ جہاں تک کسی کو فائدہ پہنچنے کا تعلق ہے اس کا حقیقی سبب صرف اﷲ تعالیٰ کا فضل ہوتا ہے، کیونکہ کسی بھی مخلوق کا اﷲ تعالیٰ پر کوئی اجارہ نہیں آتا کہ وہ اسے ضرور فائدہ پہنچائے، اور اگر اس فائدے کا کوئی ظاہری سبب اس شخص کا کوئی عمل نظر آتا بھی ہو تو اس عمل کی توفیق اﷲ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتی ہے، اس لئے وہ اﷲ تعالیٰ کا فضل ہی فضل ہے، اور اس شخص کا کوئی ذاتی استحقاق نہیں ہے۔ دوسری طرف اگر اِنسان کو کوئی نقصان پہنچے تواگرچہ وہ بھی اﷲ تعالیٰ کے حکم ہی سے ہوتا ہے، لیکن اﷲ تعالیٰ یہ حکم اسی وقت فرماتے ہیں جب اس شخص نے اپنے اختیاری عمل سے کوئی غلطی کی ہو۔
بہتر ہے کہ نفلی عبادت کو کسی مسلمان کی صوابدید چھوڑ دیں ، اگر کوئی سمجھتا ہے کہ مصیبت اس کے گناہوں کی وجہ سے ہے تو اسے توبہ کرنے کا حق دیں -- رسول اللهﷺ تو معصوم تھے ہم تو گناہ گار ہیں - اس وقت پوری دنیا کہ رہی ہے کہ یہ مصیبت ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہے لیکن اگر کسی کو اپنے نیک  پارسا ہونے کا بہت یقین ہے تو ووہ توبہ نہ کرے صرف دعا قنوت پرہے  ,. بہتر ہے کہ سب دعا قنوت بھی پرہیں اور توبہ بھی کریں  , جو ہم ہر وقت کرتے ہیں -

  نوافل تو بہت کثیر ہیں۔ اوقات ممنوعہ کے سوا آدمی جتنے چاہے پڑھے مگر ان میں سے بعض جو حضور سیدا لمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم اور امئہ دین رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے مروی ہیں ، تحیۃ المسجد، تحیۃ الوضو، نماز اشراق، نماز چاشت، نماز سفر، نماز واپسی سفر، نماز تہجد، صلوٰۃ التسبیح، نماز حاجت، صلوٰۃ الاوابین، نماز غوثیہ، نماز توبہ، نماز حفظ الایمان وغیرہ ہاجوبڑی کتابوں میں مذکور ہیں۔
کسی بھی نفلی عمل یا نفلی عبادت کی ادائیگی  میں ایک عمل کرتے ہوئے متعدد نیتیں کی جا سکتی ہیں، جیسے: غسل ایک عمل ہے، اس میں (اگر حاجت ہوتو) جنابت دور کرنے کی نیت بھی کی جا سکتی ہے، اور (اگر عید کا دن بھی ہو تو) عید کے غسل کی بھی نیت کی جاسکتی ہے، اور (اگر وہی دن جمعہ کا بھی ہو تو) جمعہ کے غسل کی نیت بھی کی جا سکتی ہے، اس طرح ایک ہی غسل میں نیت کی وجہ سے ان تمام امور کا ثواب ملے گا ۔ اسی طرح دو رکعت نفل میں تحیۃ المسجد، تحیۃ الوضوء،  توبہ، چاشت وغیرہ  کئی نیتیں کی جا سکتی ہیں اور متعدد نیتیں کرنے پر انہی دو رکعتوں میں ان تمام نوافل کا ثواب ملے گا۔
لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ صرف دو رکعت نفل میں ساری نوافل کی نیت کر کے باقی نوافل کو مستقل طور پر چھوڑ دیا جائے، بلکہ حسبِ موقع جتنی توفیق ہو زیادہ سے زیادہ  نوافل پڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔  تاہم تعداد کم زیادہ کی کوئی قید نہیں۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ جس عمل کی نیت کر رہا ہو اس کا وقت اور موقع بھی ہو، تب اس کا اجر ملےگا، اور اگر کسی ایسے عمل کی یا کسی ایسی نفل کی نیت کی جس کا وہ وقت ہی نہیں تھا  پھر وہ اجر کا مستحق نہیں ہوگا، جیسےرات میں نفل پڑھتے وقت چاشت کی نیت لغو اور بےفائدہ ہے۔
کسی پریشانی ، مشکل ، بلاء یا وباء کے آن پڑنے کی صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم  کی سنت کے مُطابق نمازوں میں دعاء قنوت (قنوت نازلہ) کی جانی چاہیے- لیکناگرکوئی شخص  یہ سمجھتا ہے کہ  مصیبت اس کے گناہوں کیوجہ سے ہے  تو کسی کوکیاحق ہے کہ اس پر پابندی لگاے؟  [واللہ اعلم ] 
  1. دعائیں اللہ تعالی قبول کیوں نہیں فرماتا؟ 
  2. توبہ اور قبولیت کی شرائط - قرآن ، سورہ السناء 4:17،18
 درج ذیل دُعائیں  کثرت کی جانی چاہیں: 
(1) ﴿ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ ::: اللہ کے عِلاوہ کوئی بھی سچا اور حقیقی معبود نہیں وہ سب سے بڑھ کر عظیم اور حِلم والا ہے، اللہ کے سِوا کوئی بھی عِبادت کا مستحق نہیں وہ عظیم عرش کا رب ہے، اللہ کے عِلاوہ کوئی بھی سچا اور حقیقی معبود نہیں وہ آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور اور بزرگی والے عرش کا رب ہے   ﴾  صحیح بخاری / کتاب الدعوات /   باب 26   الدعاء عند الکرب ، صحیح مُسلم / کتاب الذِکر و الدعاء والتوبۃ / باب دعاء الکرب۔
(2) ﴿ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّى كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ::: (اے اللہ) تیرے سِوا کوئی بھی عبادت کا حق دار نہیں تیری ہی پاکیزگی ہے بے شک میں ہی ظلم کرنے والوں میں سے ہوں﴾ سُنن الترمذی / کتاب الدعوات /   باب 85   مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ، الجامع الصغیر و زیادتہُ / حدیث 4370، إمام الالبانی رحمہُ اللہ نے ’’’صحیح‘‘‘ قرار دِیا، السلسۃ الاحادیث الصحیحۃ / حدیث 1744 ۔
(3) ﴿ اللَّهُ اللَّهُ رَبِّي لاَ أُشْرِكُ بِهِ شَيْئاً  ::: اللہ ، اللہ (وہ ہی فقط) میرا رب ہے میں اُس کے ساتھ کِسی کو بھی(شخص یا چیز کو) شریک نہیں کرتا ﴾ سُنن الترمذی / کتاب الوِتر /   باب 26 باب فِى الاِسْتِغْفَارِ، سُنن ابن ماجہ / کتاب الدُعاء / باب 17 باب الدُّعَاءِ عِنْدَ الْكَرْبِ ، إمام الالبانی رحمہُ اللہ نے ’’’صحیح‘‘‘ قرار دِیا ۔
(4)﴿ اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو فَلاَ تَكِلْنِى إِلَى نَفْسِى طَرْفَةَ عَيْنٍ وَأَصْلِحْ لِى شَأْنِى كُلَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ ::: اے اللہ میں تیری رحمت کا اُمید وار ہوں ، لہذا تُو مجھے پلک جھپکنے کے برابر بھی میرے نفس کے حوالے مت کر اور میرے تمام تر معاملات کی إصلاح فرما دے تیرا سِوا کوئی بھی سچا اور حقیقی معبود نہیں ﴾ سُنن ابو داؤد / کتاب الأدب /   باب 110   مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ، إمام الالبانی رحمہُ اللہ نے ’’’حَسن‘‘‘ قرار دِیا ۔

(5) ﴿ يَا حَىُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ::: اے ہمیشہ زندہ رہنے والے ، اے ہمیشہ قائم رہنے والے ، میں تیری رحمت کے ذریعے تجھ سے مدد طلب کرتا ہوں﴾ إمام الالبانی رحمہُ اللہ نے ’’’حَسن‘‘‘ قرار دِیا، صحیح الجامع الصغیر / حدیث 4777۔  (https://bit.ly/2WxDvHy )

ضرور پڑھیں :[ اسلام میں سہولتیں اور آسانیاں ]
    1.  کرونا وائرس خطرہ ، سرد موسم ، بارش میں گھر پر نماز یا مسجد میں دو نمازوں کو ملا کر پڑھنے کی سہولت … [Continue Reading…]
    2. قرآن ہدایت و شفاء , طب نبوی ، کرونا وائرس ….  [Continue Reading…]
    3. دعائیں اللہ تعالی قبول کیوں نہیں فرماتا؟  … [Continue Reading…]
    4. توبہ اور قبولیت کی شرائط - قرآن ، سورہ السناء 4:17،18
    5. نماز کی اہمیت ، مسائل ، طریقه اور جمع بین الصلاتین … [Continue Reading…]
    6. اسلام آسان دین -Islam is Easy >>>>  
    7. مجبوری میں کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا >>>>>>
    8. الازہر کے فتوے پر دھیان دینا چاہئے
References/ Links
~~~~~~~~~
اسلام دین کامل کو واپسی ....
"اللہ چاہتا ہے کہ تم پر ان طریقوں  کو واضح کرے اور انہی طریقوں پر تمہیں چلائے جن کی پیروی تم سے پہلے گزرے ہوئے صلحاء کرتے تھے- وہ اپنی رحمت کے ساتھ تمہاری طرف متوجّہ ہونے کا ارادہ رکھتا ہے ، اور وہ علیم بھی ہے اور دانا بھی- ہاں، اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ خود اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور نکل جاؤ. اللہ تم پر سے پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے." (قرآن  4:26,27,28]
اسلام کی پہلی صدی، دین کامل کا عروج کا زمانہ تھا ، خلفاء راشدین اور اصحابہ اکرام، الله کی رسی قرآن کو مضبوطی سے پکڑ کر اس پر کاربند تھے ... پہلی صدی حجرہ کے بعد جب صحابہ اکرام بھی دنیا سے چلے گیے تو ایک دوسرے دور کا آغاز ہوا ... الله کی رسی قرآن کو بتدریج پس پشت ڈال کر تلاوت تک محدود کر دیا ...اور مشرکوں کی طرح فرقہ واریت اختیار کرکہ دین کامل کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے-  ہمارے مسائل کا حل پہلی صدی کے اسلام دین کامل کو واپسی میں ہے  .. مگر کیسے >>>>>>

دُنیا کی زندگی اور ایک تماشا


دُنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور ایک تماشا ہے، حقیقت میں آخرت ہی کا مقام اُن لوگوں کے لیے بہتر ہے جو زیاں کاری سے بچنا چاہتے ہیں، پھر کیا تم لوگ عقل سے کام نہ لوگے؟

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم0 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَ مَا الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّلَهۡوٌ‌ ؕ وَلَـلدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّـلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ‌ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ۞ (سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 32)
And the worldly life is not but amusement and diversion; but the home of the Hereafter is best for those who fear Allah , so will you not reason? (Quran 6:32) ....[......]

اس کا یہ مطلب نہیں کہ دنیا کی زندگی میں کوئی سنجیدگی نہیں ہے اور یہ محض کھیل اور تماشے کے طور پر بنائی گئی ہے۔

دراصل اس کا مطلب یہ ہے کہ آخرت کی حقیقی اور پائیدار زندگی کی مقابلہ میں یہ زندگی ایسی ہے جیسے کوئی شخص کچھ دیر کھیل اور تفریح میں دل بہلائے اور پھر اصل سنجیدہ کاروبار کی طرف واپس ہوجائے۔

 نیز اسے کھیل اور تماشے سے تشبیہ اس لیے بھی دی گئی ہے کہ یہاں حقیقت کے مخفی ہونے کی وجہ سے بےبصیرت اور ظاہر پرست انسانوں کے لیے غلط فہمیوں میں مبتلا ہونے کے بہت سے اسباب موجود ہیں اور ان غلط فہمیوں میں پھنس کر لوگ حقیقت نفس الامری کے خلاف ایسے ایسے عجیب طرز عمل اختیار کرتے ہیں جن کی بدولت ان کی زندگی محض ایک کھیل اور تماشا بن کر رہ جاتی ہے۔ 
مثلاً جو شخص یہاں بادشاہ بن کر بیٹھتا ہے اس کی حیثیت حقیقت میں تھیئٹر کے اس مصنوعی بادشاہ سے مختلف نہیں ہوتی جو تاج پہن کر جلوہ افروز ہوتا ہے اور اس طرح حکم چلاتا ہے گویا کہ وہ واقعی بادشا ہے۔ حالانکہ حقیقی بادشاہی کی اس کو ہوا تک نہیں لگی ہوتی۔ ڈائرکٹر کے ایک اشارے پر وہ معزول ہوجاتا ہے، قید کیا جاتا ہے اور اس کے قتل تک کا فیصلہ صادر ہوجاتا ہے۔
 ایسے ہی تماشے اس دنیا میں ہر طرف ہو رہے ہیں۔

کہیں کسی ولی یا دیوی کے دربار سے حاجت روائیاں ہو رہی ہیں، حالانکہ وہاں حاجت روائی کی طاقت کا نام و نشان تک موجود نہیں۔ کہیں کوئی غیب دانی کے کمالات کا مظاہرہ کر رہا ہے، حالانکہ غیب کے علم کا وہاں شائبہ تک نہیں۔ کہیں کوئی لوگوں کا رزاق بنا ہوا ہے، حالانکہ بیچارہ خود اپنے رزق کے لیے کسی اور کا محتاج ہے۔

کہیں کوئی اپنے آپ کو عزت اور ذلت دینے والا، نفع اور نقصان پہنچانے والا سمجھے بیٹھا ہے اور یوں اپنی کبریائی کے ڈنکے بجا رہا ہے گویا کہ وہی گردو پیش کی ساری مخلوق کا خدا ہے، حالانکہ بندگی کی ذلت کا داغ اس کی پیشانی پر لگا ہوا ہے اور قسمت کا ایک ذرا سا جھٹکا اسے کبریائی کے مقام سے گرا کر انہی لوگوں کے قدموں میں پامال کرا سکتا ہے جن پر وہ کل تک خدائی کر رہا تھا۔

یہ سب کھیل جو دینا کی چند روزہ زندگی میں کھیلے جارہے ہیں، موت کی ساعت آتے ہی یکلخت ختم ہوجائیں گے
 اور اس سرحد سے پار ہوتے ہی انسان اس عالم میں پہنچ جائے گا جہاں سب کچھ عین مطابق حقیقت ہوگا اور جہاں دنیوی زندگی کی ساری غلط فہمیوں کے چھلکے اتار کر ہر انسان کو دکھا دیا جائے گا کہ وہ صداقت کا کتنا جوہر اپنے ساتھ لایا ہے جو میزان حق میں کسی وزن اور کسی قدر و قیمت کا حامل ہوسکتا ہو۔ (تفہیم القرآن )
~~~~~~~~~
🌹🌹🌹
🔰 Quran Subjects  🔰 قرآن مضامین 🔰

"اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا" [ الفرقان 25  آیت: 30]
The messenger said, "My Lord, my people have deserted this Quran." (Quran 25:30)

~~~~~~~~~
اسلام دین کامل کو واپسی ....
"اللہ چاہتا ہے کہ تم پر ان طریقوں  کو واضح کرے اور انہی طریقوں پر تمہیں چلائے جن کی پیروی تم سے پہلے گزرے ہوئے صلحاء کرتے تھے- وہ اپنی رحمت کے ساتھ تمہاری طرف متوجّہ ہونے کا ارادہ رکھتا ہے ، اور وہ علیم بھی ہے اور دانا بھی- ہاں، اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ خود اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور نکل جاؤ. اللہ تم پر سے پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے." (قرآن  4:26,27,28]
اسلام کی پہلی صدی، دین کامل کا عروج کا زمانہ تھا ، خلفاء راشدین اور اصحابہ اکرام، الله کی رسی قرآن کو مضبوطی سے پکڑ کر اس پر کاربند تھے ... پہلی صدی حجرہ کے بعد جب صحابہ اکرام بھی دنیا سے چلے گیے تو ایک دوسرے دور کا آغاز ہوا ... الله کی رسی قرآن کو بتدریج پس پشت ڈال کر تلاوت تک محدود کر دیا ...اور مشرکوں کی طرح فرقہ واریت اختیار کرکہ دین کامل کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے-  ہمارے مسائل کا حل پہلی صدی کے اسلام دین کامل کو واپسی میں ہے  .. مگر کیسے >>>>>>

کائنات کا نظام - سزا اور جزا اور آفات



کائنات کا نظام کچھ اندھی بہری طاقتیں نہیں چلا رہی ہیں، نہ یہ دنیا کسی چَوپَٹ راجا کی اندھیر نگری ہے ، بلکہ ایک فرمانروائے حکیم و دانا اس پر حکمرانی کر رہا ہے جس کی حکمت اور عدل کا یہ تقاضا خود اس دنیا میں انسانی تاریخ کے اندر مسلسل نظر آتا ہے۔ کہ  عقل اور اخلاقی حِس دے کر  جس مخلوق کو اس نے یہاں تصرَّف  کے اختیارات دیے ہیں اس کا محاسبہ کرے اور اسے جزا اور سزا دے۔ آفات ، بیماریاں ، وبائیں الله کی طرف سے نافرمانوں  کو سزا اور مومنین کا امتحان ہے ... ہم کو اپنا محاسبہ کرنا ہو گا تاکہ الله کے محاسبہ سے بچ سکیں -
  سورة الفجر ١١ -٣٠ :٨٩ میں الله واضح کرتا ہے :
سورة الفجر
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
وَالْفَجْرِ ﴿١﴾ وَلَيَالٍ عَشْرٍ ﴿٢﴾ وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ ﴿٣﴾ وَاللَّيْلِ إِذَا يَسْرِ ﴿٤﴾ هَلْ فِي ذَٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِي حِجْرٍ ﴿٥﴾ أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ ﴿٦﴾ إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ﴿٧﴾ الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ ﴿٨﴾ وَثَمُودَ الَّذِينَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ ﴿٩﴾ وَفِرْعَوْنَ ذِي الْأَوْتَادِ ﴿١٠﴾ الَّذِينَ طَغَوْا فِي الْبِلَادِ ﴿١١﴾ فَأَكْثَرُوا فِيهَا الْفَسَادَ ﴿١٢﴾ فَصَبَّ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍ ﴿١٣﴾ إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ ﴿١٤﴾ فَأَمَّا الْإِنسَانُ إِذَا مَا ابْتَلَاهُ رَبُّهُ فَأَكْرَمَهُ وَنَعَّمَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَكْرَمَنِ ﴿١٥﴾ وَأَمَّا إِذَا مَا ابْتَلَاهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَهَانَنِ ﴿١٦﴾ كَلَّا ۖ بَل لَّا تُكْرِمُونَ الْيَتِيمَ ﴿١٧﴾ وَلَا تَحَاضُّونَ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ ﴿١٨﴾ وَتَأْكُلُونَ التُّرَاثَ أَكْلًا لَّمًّا ﴿١٩﴾ وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا ﴿٢٠﴾ كَلَّا إِذَا دُكَّتِ الْأَرْضُ دَكًّا دَكًّا ﴿٢١﴾ وَجَاءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا ﴿٢٢﴾ وَجِيءَ يَوْمَئِذٍ بِجَهَنَّمَ ۚ يَوْمَئِذٍ يَتَذَكَّرُ الْإِنسَانُ وَأَنَّىٰ لَهُ الذِّكْرَىٰ ﴿٢٣﴾يَقُولُ يَا لَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِي ﴿٢٤﴾ فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهُ أَحَدٌ ﴿٢٥﴾ وَلَا يُوثِقُ وَثَاقَهُ أَحَدٌ ﴿٢٦﴾ يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ﴿٢٧﴾ ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً ﴿٢٨﴾ فَادْخُلِي فِي عِبَادِي ﴿٢٩﴾ وَادْخُلِي جَنَّتِي ﴿٣٠﴾ (سورة الفجر ٨٩ )

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے عاد کے ساتھ کیا کیا - (جو) ارم (کہلاتے تھے اتنے) دراز قد, کہ تمام ملک میں ایسے پیدا نہیں ہوئے تھے - اور ثمود کے ساتھ (کیا کیا) جو وادئِ (قریٰ) میں پتھر تراشتے تھے (اور گھر بناتے) تھے  اور فرعون کے ساتھ (کیا کیا) جو خیمے اور میخیں رکھتا تھا -
 یہ لوگ ملکوں میں سرکش ہو رہے تھے  اور ان میں بہت سی خرابیاں کرتے تھے  تو تمہارے پروردگار نے ان پر عذاب کا کوڑا نازل کیا  بے شک تمہارا پروردگار تاک میں ہے -
 مگر انسان (عجیب مخلوق ہے کہ) جب اس کا پروردگار اس کو آزماتا ہے تو اسے عزت دیتا اور نعمت بخشتا ہے۔ تو کہتا ہے کہ (آہا) میرے پروردگار نے مجھے عزت بخشی اور جب (دوسری طرح) آزماتا ہے کہ اس پر روزی تنگ کر دیتا ہے تو کہتا ہے کہ (ہائے) میرے پروردگار نے مجھے ذلیل کیا-
  •  نہیں بلکہ تم لوگ یتیم کی خاطر نہیں کرتے اور 
  • نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتے ہو  اور 
  • میراث کے مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو  اور 
  • مال کو بہت ہی عزیز رکھتے ہو
تو جب زمین کی بلندی کوٹ کوٹ کو پست کر دی جائے گی  اور تمہارا پروردگار (جلوہ فرما ہو گا) اور فرشتے قطار باندھ باندھ کر آ موجود ہوں گے  اور دوزخ اس دن حاضر کی جائے گی تو 
  • انسان اس دن متنبہ ہو گا مگر تنبہ (سے) اسے (فائدہ) کہاں (مل سکے گا) 
  •  کہے گا کاش میں نے اپنی زندگی (جاودانی کے لیے) کچھ آگے بھیجا ہوتا 
  •  تو اس دن نہ کوئی خدا کے عذاب کی طرح کا (کسی کو) عذاب دے گا  اور نہ کوئی ویسا جکڑنا جکڑے گا
  •  اے اطمینان پانے والی روح! اپنے پروردگار کی طرف لوٹ چل۔ 
تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی ( تو میرے (ممتاز) بندوں میں شامل ہو جا  اور میری بہشت میں داخل ہو جا 

 لوگوں کا مادّہ پرستانہ نطقۂ نظر جس کی بنا  پر وہ اخلاقی بھلائی اور برائی کو نظر انداز کر کے محض دنیا کی دولت اور جاہ و منزلت کے حصول  یا فقدان کو  عزّت و ذلّت کا معیار قرار دیے بیٹھے تھے اور اس  بات کو بھول گئے تھے کہ نہ دولت مندی کوئی انعام ہے ،  نہ رزق کی تنگی کوئی سزا،  بلکہ اللہ تعالیٰ ان دونوں حالتوں میں انسان کا امتحان لے رہا ہے کہ  دولت پا کر وہ کیا رویّہ اختیار کرتا ہے اور تنگد ستی میں مبتلا ہو کر کس روش پر  چل پڑتا ہے۔

 لوگوں کا یہ طرزِ عمل کہ یتیم بچہ  باپ کے مرتے ہی ان کے ہاں کس مپرسی  میں مبتلا ہو جاتا ہے، غریبوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا، جس کا بس چلتا ہے مُردے کی ساری میراث سمیٹ کر بیٹھ جاتا ہے اور کمزور حقداروں کو دَھتا بتا دیتا ہے، اور مال کی حِرص لوگوں کو ایک ایسی  نہ بُجھنے والی پیاس  کی طرح لگی ہوئی ہے   کہ خواہ کتنا ہی مال مل جائے ان کا دل سیر نہیں ہوتا۔ اس تنقید سے مقصود لوگوں کو  اس بات کا قائل کرنا ہے کہ دنیا کی زندگی میں جن انسانوں کا یہ طرزِ عمل ہے ان کا محاسبہ آخر کیوں کہ ہو۔

کلام کو اس بات پر ختم کیا گیا ہے کہ محاسبہ ہو گا اور ضرور ہو گا اور وہ اس روز ہو گا جب اللہ تعالیٰ کی عدالت قائم ہو گی۔ اس وقت جزا و سزا کا انکار کرنے والوں کی سمجھ وہ بات آجائے گی جسے آج وہ سمجھانے سے نہیں مان رہے ہیں، مگر اُس وقت سمجھنے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ منکر انسان ہاتھ مَلتا رہ جائے گا کہ کاش میں نے دنیا میں اِس دن کے لیے کوئی سامان کیا ہوتا۔ مگر یہ ندامت اُسے خدا کی سزا  سے نہ بچا سکے گی۔ البتہ جن انسانوں نے دنیا میں پورے اطمینانِ قلب کے ساتھ اُس حق کو قبول کر لیا ہو گا جسے آسمانی  صحیفے اور خدا کے انبیاء پیش کر رہے تھے، خدا اُن سے راضی ہوگا اور وہ خدا کے عطا کر دہ اجر سے راضی ہوں گے،  انہیں دعوت دی جائے گی کہ وہ اپنے ربّ کے پسندیدہ بندوں میں شامل ہوں اور جنّت میں داخل ہو جائیں۔ [تفهيم القرآن ماخوذ ]



http://tanzil.net/#89:1
~~~~~~~~~
اسلام دین کامل کو واپسی ....
"اللہ چاہتا ہے کہ تم پر ان طریقوں  کو واضح کرے اور انہی طریقوں پر تمہیں چلائے جن کی پیروی تم سے پہلے گزرے ہوئے صلحاء کرتے تھے- وہ اپنی رحمت کے ساتھ تمہاری طرف متوجّہ ہونے کا ارادہ رکھتا ہے ، اور وہ علیم بھی ہے اور دانا بھی- ہاں، اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ خود اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور نکل جاؤ. اللہ تم پر سے پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے." (قرآن  4:26,27,28]
اسلام کی پہلی صدی، دین کامل کا عروج کا زمانہ تھا ، خلفاء راشدین اور اصحابہ اکرام الله کی رسی قرآن کو مضبوطی سے پکڑ کر اس پر کاربند تھے ... پہلی صدی حجرہ کے بعد جب صحابہ اکرام دنیا سے چلے گیے تو ایک دوسرے دور کا آغاز ہوا ... الله کی رسی قرآن  کو بتدریج پس پشت ڈال کر تلاوت تک محدود کر دیا ... ہمارے مسائل کا حل پہلی صدی کے اسلام دین کامل کو واپسی میں ہے  .. مگر کیسے >>>>>>



قرآن کا قانون اور حدود جرائم


«وَأَنزَلْنَآ إِلَيْكَ ٱلْكِتَٰبَ بِٱلْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ ٱلْكِتَٰبِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِۖ فَٱحْكُم بَيْنَهُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُۖ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَآءَهُمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ ٱلْحَقِّۚ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا»ۚ
"اےمحمدؐ! ہم نےتمہاری طرف یہ کتاب بھیجی جوحق لےکرآئی ہےاورالکتاب میں سےجوکچھ اسکےآگےموجودہےاُسکی تصدیق کرنےوالی اوراس پر حاوی ہے لہٰذا تم اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور جو حق تمہارے پاس آیا ہے اُس سے منہ موڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور ایک راہ عمل مقرر کر دی ہے" (سورةالمائدة 48)

قرآن میں الله کی طرف سے  قانون اور احکامات موجود ہیں ، الله کا فرمان ہے :
جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں (قرآن 5:44) 
جو لوگ اللہ کے نازل ک ردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی ظالم ہیں (قرآن 5:46)
جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی فاسق ہیں (قرآن 5:47) 
قرآن مجید میں تقریباً چھ سو(600)  آیات موجود ہیں جن سےاسلامی قانون کے احکام کی نشاندہی  ہوتی ہے-
ان میں سے تقریباً پانچ سو(۵۰۰) آیات عبادات کے متعلق ہیں اور دیگرآیات سے جرائم،پرسنل لا(انفرادی یا ذاتی قانون)اور دیگرمعاملات کا استدلال حاصل ہوتا ہے-
  1. بالخصوص ستر (۷۰) آیات سے عائلی قوانین، 
  2. اسی(۸۰)سےتجارت اور مالیاتی(دیوانی نوعیت کے)،
  3. تیرہ(۱۳)سے شہادت و قسم
  4. تیس (۳۰)سے جرم وسزا(فوجداری نوعیت کے)،
  5. دس (۱۰)سے آئینی اور انتظامی معاملات (نظامِ حکومت)
  6. پچیس(۲۵) سےبین الاقوامی قانون اور جنگی قیدیوں(صلح وجنگ اور دوسری ریاستوں کے ساتھ  معاہدہ کرنے کے رہنما اُصول  پر مبنی ) کے متعلق احکامات  حاصل ہوتے ہیں،
  7. جبکہ باقی آیات   عبادات سے متعلق ہیں‘‘-
قرآن مجیدنےکچھ موضوعات کاحکمِ خاص فرمانے کے علاوہ عمومی اُصول (General Principles)متعارف کروائے ہیں جن کی روشنی میں باقی قوانین تشکیل دئیےجاسکتےہیں۔
دوسرےالفاظ میں قرآن نے کچھ قانون تو بلاواسطہ عطا کئے ہیں  اس کے ساتھ ہی کچھ اصول دیئے ہیں کہ جن کی روشنی میں نئے مسائل کو حل کیا جا سکتاہے-
اصول سے مراد:اصول کے لغوی معنی ہیں قاعدہ،طورطریقہ،بنیادیں یا جڑیں وغیرہ اور یہ جمع ہے اصل کی‘‘-
وہ اُصول اپنی حیثیت میں ایسے  آفاقی نوعیت کے ہیں کہ ان اُصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے وقت کےتقاضوں کے  مطابق نئے قانون انہیں اصولوں کی روشنی میں ترتیب دئیے جا سکتےہیں اور یہی اُصول  ہی اسلام میں وہ  خوبصورتی پیدا  کرتے ہیں کہ یہ مختلف تہذہبوں کو اپنے اندر جذب کرنےکی صلاحیت رکھتاہے اور ہر معاشرےکو اپنے سے دامن گیر کر لیتا ہے اور یکسر معاشرتی تبدیلیوں کو اپنے اندر سمونےکی قوت و طاقت رکھتے ہیں-
قرآن  نے اپنے دئیے ہوئے  اصولوں سے وہ نئےقانون تشکیل دینے کے لئے حدود و قیود واضح کر دی ہیں کہ جن سے تجاوز کر کےکوئی اسلامی مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ)قانون وضع نہیں کر سکتی.

’’قرآنِ مجید ثانوی سطح پرقانونی اور سماجی مسائل سے نمٹتا ہے اورصرف ضروری حد تک  اعلیٰ اصولوں،مقاصد اور وحی الہی کی مصلحت و حکمت کو حاصل کرنے کےلئے راہنما اُصول دیتا ہے جو کہ مقاصدِ شریعہ کہلاتےہیں جیسے کہ حیاتِ انسانی،عقلِ انسانی،خاندانی نظام،حقِ جائیداد اور آزادی اظہار کا تحفظ‘‘-

قرآنِ مجید  بنیادی طور پر اپنی اندرونی ساخت میں اُن آفاقی و ابدی اصولوں پر عبارت ہیں جو ہر وقت و ہر لحظہ غیر مبدل و غیر متغیر  ہیں جس کا اندازہ اس کی فصیح و بلیغ زبان،اس کےاجمالی اندازِ بیان اوراس میں  پائے جانے والے آفاقی و عالمگیر نوعیت  کے اُصولوں  سے  واضح ہیں- مگر اپنے بنیادی اُصولوں کے بعد ثانوی معاملات کوطے کرنے کےلئے  مسلمانوں کے دائرہ اختیار میں دیا ہے کہ جو غیرمستقل،مسلسل تغیر پذیری کےمراتب و مراحل سے ہم کنار ہوتے ہیں اپنےبنیادی،مستقل اور آفاقی اصولوں کو متعارف کروانے کے بعد  اُن اُصولوں کی روشنی میں قانون خود بنانے کی طرف راہنمائی کرتا ہے جن کووہ اپنی بصیرت کے ذریعے حل کر سکتے ہیں-
لہٰذا فطری طور پہ بانیٔ اسلام حضرت محمد(ﷺ) کا مذہبی پیغام اس مقصد کے لیے کافی ہے جو کہ مسلم معاشرے کے رویوں کے بنیادی معیار کو قائم کرتا ہے-نتیجتاً ان  کے سیاسی مجتہدکے طور پر کردار کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے،اسی طرح  قرآن مجید سے موسوم قانونی معاملات وسیع معانی پر مشتمل ہیں کہ  مسلم معاشرے کے مقاصد  اور امنگیں کیا ہونے چاہیں‘‘-

تمام  فقہا و ماہرینِ اصول اس بات پر متفق ہیں کہ قرآن اسلامی قانون کا پہلا بنیادی مأخذ ہے تاہم یہ اسلامی قانونی نظام کی بنیادی قانون سازی  کےلئے اصول اور ڈھانچہ فراہم کرتا ہے-اس کی بطورِ مأخذ مستند ہونے کی حقیقت یہ ہے کہ یہ بلاواسطہ کلامِ الٰہی ہےاور دیگرذرائع مأخذ اسلامی قانون کو سند اور ’’validity‘‘قرآن سے ہی ملتی ہے-قرآن کو سمجھنے کے  لئےقرآن کے’’recognize‘‘ کردہ دیگر مأخذ  سے رجوع و معاونت ضروری ہوجاتی ہےکہ الہامی کلام،قرآن مجیدکو سمجھنے کے لئے  سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،  اورعقلِ انسانی جو وحی کے تابع ہو الہامی کلام کی تعبیر و تشریح کرنے اور فہم کے لئےمددکرتی ہیں-

Popular Books