Featured Post

قرآن مضامین انڈیکس

"مضامین قرآن" انڈکس   Front Page أصول المعرفة الإسلامية Fundaments of Islamic Knowledge انڈکس#1 :  اسلام ،ایمانیات ، بنی...

Showing posts with label معاشرہ Society. Show all posts
Showing posts with label معاشرہ Society. Show all posts

قرآن ربا اور فیاٹ (کاغذی ) کرنسی


 قرآنی احکام کونامکمل پیش کرنا انتہائی گمراہ کن ہے، جان بوجھ کر معلومات کو چھوڑنا جھوٹ بولنے کے مترادف ہے، بہت بڑا گناہ ہے۔ ایک مشہور قول ہے کہ؛ آدھا سچ اکثر مکمل جھوٹ ہوتا ہے- "صدی کے  بڑے(Scam of the Century  Unveiled) گھپلہ کو بے نقاب کیا گیا ہے"۔ ربا (سود)  کی حرمت پر اکثر پیش کی جانے والی دو آیات میں فرمانبردار بندوں پر اس کے مثبت اثرات کے وعدہ کے بارے میں بھی پوری حقیقت بیان کی گئی ہے۔ دونوں پہلو یکساں طور پر اہم ہیں اور دونوں احکام کومکمل طور پر ان کی روح (سپرٹ) کے مطابق نافذ کیا جانا لازم و ملزوم ہے، یہی اس تحقیق و مقالہ کا موضوع ہے۔
☆ https://bit.ly/QuranAurRibaUrdu-pdf [قرآن اور ربا ]


~~~~~~~~~
🌹🌹🌹
🔰 Quran Subjects  🔰 قرآن مضامین 🔰
"اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا" [ الفرقان 25  آیت: 30]
The messenger said, "My Lord, my people have deserted this Quran." (Quran 25:30)
~~~~~~~~~

حقوق العباد - الله تعالی کی رحمت، انصاف آور بخشش Haqooq ul Ibad



 چار اہم باتیں اور ان کا آپس میں تعلق سمجھنا بہت اہم ہے : 
١)   مقصد حیات ، آزمايش آورآخرت میں حساب کتاب، نیک اور بد اعمال کا بدلہ ، سزا و جزا 
٢) نیک اور بد برابر نہیں
٣) اللہ کا عدل و انصاف 
٤) اللہ ان بندوں جنہوں نے اپنے نفس پر زیادتی کی (گناہ کیے) ان کی طرف سے توبہ کرنے پریہ سب گناہ معاف فرما دیتا ہے - 
اس میں چوتھا نقطۂ بہت اہم ہے جس کو درست طور پر نہ سمجھنے سے پہلے تین نقاط بے معنی ہو جاتے ہیں- اور قرآن میں بظاہر تضاد معلوم ہوتا ہے- مگر قرآن میں اگر اختلاف ہو تو پھر یہ الله تعالی کا کلام کیسے ہو سکتا ہے؟ (4:83)  
کیا اپنے نفس پر زیادتی ( (اَسۡرَفُوۡا عَلٰٓى اَنۡفُسِهِمۡ) انفرادی گناہ ہے جس کا تعلق کس فرد یا افراد کی اپنی ذات اپنے نفسس سے ہے؟ (جیسے شرک ، کفر، انفرادی عبادات ،نماز ، روزہ، حج وغیرہ، حقوق اللہ میں کمی یا سستی) یا اس معافی میں  سا رے گناہ (حقوق اللہ اور حقوق العباد )   شامل ہیں؟   
اس اہم  معامله پر تحقیق و تجزیہ، تمام غلط فہمیاں دور کر دیتا ہے >>>>






.
~~~~~~~~~
🌹🌹🌹
🔰 Quran Subjects  🔰 قرآن مضامین 🔰
"اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا" [ الفرقان 25  آیت: 30]
The messenger said, "My Lord, my people have deserted this Quran." (Quran 25:30)
~~~~~~~~~

علماء حق اور علماء سوء، عالموں کو رب بنانا

قُلۡ ہَلۡ یَسۡتَوِی الَّذِیۡنَ یَعۡلَمُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ؕ اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ (39:9﴾

کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں کبھی یکساں ہو سکتے ہیں؟ نصیحت تو عقل رکھنے والے ہی قبول کرتے ہیں (39:9)

سچا علم دراصل معرفت الہی کا نام ہے۔ سچائی تک پہنچنے کا نام ہے۔ اور ایساعلم انسانی بصیرت کو کھول دیتا ہے۔ اور یوں ایک عالم ان حقائق تک رسائی حاصل کرلیتا ہے جو اس وجود میں ہوتی ہے۔ علم ان معلومات کا نام نہیں ہے جو ذہین میں جمع ہوجائیں اور جن سے کوئی سچا اصول اور کوئی سچی حقیقت ذہین نشین نہ ہو۔ اور نہ محسوسات کے علاوہ کوئی حقیقت ذہن میں بیٹھی ہو۔ یہ ہے صحیح راستہ علم حقیقی اور اس حقیقت کا جو دل و دماغ کو منور کردیتی ہے۔ یہی ہے اللہ کا مطیع فرمان ہونا۔ دل کا حساس ہونا اور آخرت اور اللہ کئ فضل وکرم کی امیدواری اور یہ ہے اللہ کا خوف اور اللہ کے سامنے ڈرے اور سہمے رہنا۔ علم اور حقیقی علم یہی ہے اور اس طرح عقلیت پیدا ہوتی ہے وہ دیکھنے والی اور سننے والی اور جس چیز کو وہ پاتی ہے اس سے فائدہ اٹھانے والی ہوتی ہے اور یوں اس قسم کا علم ان مشاہدات کے پیچھے حقیقت عظمیٰ تک پہنچ جاتا ہے۔ لیکن جو لوگ انفرادی تجربات کو علم کہتے ہیں اور صرف ان چیزوں کو معلومات کہتے ہیں جو نظر آتی ہیں۔

انما یتذکر اولوا الالباب (39: 9) ” نصیحت تو عقل رکھنے والے ہی قبول کرتے ہیں “۔ >>>

علماء حق اور علماء سوء، عالموں کو رب بنانا

اے انسان! قرآن ‏میں ‏تمہارا ‏زکر ‏



’’ہم نے تمہاری طرف ایک ایسی کتاب نازل کی ہے، جس میں تمہارا تذکرہ ہے کیا تم سمجھتے نہیں‘‘۔
قرآن کریم میں ارشاد الٰہی ہے کہ: 
لَقَدۡ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكُمۡ كِتٰبًا فِيۡهِ ذِكۡرُكُمۡ‌ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ۞(سورۃ نمبر 21 الأنبياء, آیت نمبر 10)
ترجمہ : ’’ہم نے تمہاری طرف ایک ایسی کتاب نازل کی ہے، جس میں تمہارا تذکرہ ہے کیا تم سمجھتے نہیں‘‘۔
تمہارا تذکرہ؟
اس سے ایک عجیب سا احساس دل میں منڈلانے لگا، بالآخر سوچا کہ میں دیکھوں تو قرآن مجید میں میرا تذکرہ کس انداز میں ہے؟
 میں کون ہوں؟
اور کن لوگوں میں سے ہوں؟
قرآن پاک میں غور کریں …
ایک قوم کا تذکرہ ان الفاظ میں ہے :
ترجمہ: ’’وہ لوگ رات کو کم سوتے ہیں اور سحری کے اوقات میں استغفار کرتے ہیں اور ان کے مالوں میں سائل اور غیر سائل سب محتاجوں کا حق ہے‘‘۔ (سورۃ الذاریات: 17 تا 19)
کچھ اور لوگوں کا تذکرہ ان الفاظ میں موجود ہے…
ترجمہ: ’’ان کے پہلو خواب گاہوں سے جدا رہتے ہیں، وہ اپنے رب کو خوف اور امید سے پکارتے ہیں اور جو ہم نے ان کو رزق دیا ہے، اس میں سے خرچ کرتے ہیں‘‘۔ (سورۃ السجدہ: 16)
پھر کچھ پڑھو  تو… ان لوگوں کا تذکرہ سامنے آتا ہےجو…
ترجمہ: ’’لوگ اپنے پروردگار کے سامنے سربسجود اور کھڑے ہوکر اپنی راتیں گزار دیتے ہیں‘‘۔ (سورۃ الفرقان: 64)
کچھ اور اوراق پلٹو تو یوں نظر آتا ہے…
ترجمہ: ’’وہ خوشحالی اور تنگی دونوں حالتوں میں خرچ کرتے ہیں اور غصہ پی جانے والے اور لوگوں کو معاف کردینے والے ہیں اور خدا تعالیٰ نیکو کاروں کو محبوب رکھتے ہیں‘‘۔ (سورۃ آل عمران: 134)
ایسے ہی چند لوگوں کا اور  تذکرہ ہے… >>>>>>

دعا کی قبولیت کا بہترین وسیلہ


اس بندے نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے وسیلہ سے دعا کی ہے جب اس کے وسیلہ سے اس سے مانگا جائے تو وہ دیتا ہے، اور جب اس کے وسیلہ سے دعا کی جائے تو وہ قبول کرتا ہے (فرمان  رسول اللہ ﷺ ) (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد)(معارف الحدیث، کتاب: کتاب الاذکار والدعوات، باب: اسم اعظم، حدیث نمبر: 1080)
اللہ کے اسماء الحسنی (اسم اعظم) کے وسیلہ سے دعا کی قبولیت
عَنْ بُرَيْدَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ، الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ، الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى، وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ» (رواه الترمذى وابوداؤد)
ترجمہ:
حضرت بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو اس طرح دُعا کرتے ہوئے سنا، وہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں عرض کر رہا تھا: "اے اللہ! میں اپنی حاجت تجھ سے مانگتا ہوں بوسیلہ اس کے کہ بس تو اللہ ہے، تیرے سوا کوئی مالک و معبود نہیں، ایک اور یکتا ہے، بالکل بےنیاز ہے، اور سب تیرے محتاج ہیں، نہ کوئی تیری اولاد، نہ تو کسی کی اولاد اور نہ تیرا کوئی ہمسر"
رسول اللہ ﷺ نے (جب اس بندے کو یہ دُعا کرتے سنا تو) فرمایا  جو پہلے بیان کر دیا گیا ہے-
تشریح
اللہ تعالیٰ کے اسماءِ حسنیٰ میں سے بعض وہ ہیں جن کو اس لحاظ سے خاص عظمت و امتیاز حاصل ہے کہ جب ان کے ذریعہ دعا کی جائے تو قبولیت کی زیادہ امید کی جا سکتی ہے۔ان اسماء کو "اسم اعظم" کہا گیا ہے لیکن صفائی اور صراحت کے ساتھ ان کو متعین نہیں کیا گیا ہے، بلکہ کسی درجہ میں ان کو مبہم رکھا گیا ہے، اور یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ لیلۃ القدر کو اور جمعہ کے دن قبولیت دعا کے خاص وقت کو مبہم رکھا گیا ہے۔ 
اللہ تعالیٰ کا کوئی ایک ہی اسمِ پاک "اسمِ اعظم" نہیں ہے جیسا کہ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں، بلکہ متعدد اسماءِ حسنیٰ کو "اسمِ اعظم" کہا گیا ہے-  عوام میں اسمِ اعظم کا جو تصور ہے اور اس کے بارے میں جو باتیں مشہور ہین وہ بالکل بےاصل ہیں، اصل حقیقت وہی ہے جو اوپر عرض کی گئی ہے۔ 
ایک مثال 
اگر اولاد سے محروم ہیں تونیک، خوبصورت ، صحت  مند اولاد کے حصول کی دعا کرتے ہوے 
الخالق : پیدا فرمانے والا
البارئ : ٹھیک بنانے والا
المصور: صورت گری کرنے والا
کے وسیلہ سے دعا کرسکتے ہیں

☆ ◇ ☆ ◇ ☆ ◇ ☆ ◇ ☆ 
اسماء الحسنی بمع ترجمہ
1الرحمن:  بڑی رحمت والا
2الرحيم:  نہائت مہربان
3الملك: حقیقی بادشاہ
4القدوس:  نہائت مقدس اور پاک
5السلام:  جس کی ذاتی صفت سلامتی ہے
6المؤمن:  امن و امان عطا کرنے والا
7المهيمن:  پوری نگہبانی کرنے والا
8العزيز ؛ غلبہ اور عزت والا، جو سب پر غالب ہے
9الجبار : صاحب جبروت، ساری مخلوق اس کے زیرِ تصرف ہے
10المتكبر ؛ کبریائی اور بڑائی اس کا حق ہے
11الخالق : پیدا فرمانے والا
12البارئ : ٹھیک بنانے والا
13المصور: صورت گری کرنے والا
14الغفار : گناہوں کا بہت زیادہ بخشنے والا
15القهار: سب پر پوری طرح غالب، جس کے سامنے سب مغلوب اور عاجز ہیں
16الوهاب : بغیر کسی منفعت کے خوب عطا کرنے والا
17الرزاق : سب کو روزی دینے والا
18الفتاح : سب کے لیے رحمت و رزق کے دروازے کھولنے والا
19العليم : سب کچھ جاننے والا
20القابض : تنگی کرنے والا
21الباسط : فراخی کرنے والا
22الخافض : پست کرنے والا
23الرافع : بلند کرنے والا
24المعز : عزت دینے والا
25المذل : ذلت دینے والا
26السميع : سب کچھ سننے والا
27البصير : سب کچھ دیکھنے والا
28الحكم : حاکمِ حقیقی
29العدل : سراپا عدل و انصاف
30اللطيف : لطافت اور لطف و کرم جس کی ذاتی صفت ہے
31الخبيرہر : بات سے با خبر
32الحليم : نہائت بردبار
33العظيم : بڑی عظمت والا، سب سے بزرگ و برتر
34الغفور : بہت بخشنے والا
35الشكور : حسنِ عمل کی قدر کرنے والا، بہتر سے بہتر جزا دینے والا
36العلي : سب سے بالا
37الكبير : سب سے بڑا
38الحفيظ : سب کا نگہبان
39المقيت : سب کو سامانِ حیات فراہم کرنے والا
40الحسيب : سب کے لیے کفایت کرنے والا
41الجليل : عظیم القدر
42الكريم : صاحبِ کرم
43الرقيب :  نگہدار اور محافظ
44المجيب ؛ قبول کرنے والا
45الواسع : وسعت رکھنے والا
46الحكيم : سب کام حکمت سے کرنے والا
47الودود : اپنے بندوں کو چاہنے والا
48المجيد : بزرگی والا
49الباعث : اٹھانے والا، موت کے بعد مردوں کو زندہ کرنے والا
50الشهيد : حاضر، جو سب کچھ دیکھتا اور جانتا ہے
51الحق : جس کی ذات و وجود اصلاً حق ہے
52الوكيل : کارسازِ حقیقی
53القوی : صاحبِ قوت
54المتين : بہت مضبوط
55الولى : سرپرست و مددگار
56الحميد : مستحقِ حمد و ستائش
57المحصى : سب مخلوقات کے بارے میں پوری معلومات رکھنے والا
58المبدئ : پہلا وجود بخشنے والا
59المعيد : دوبارہ زندگی دینے والا
60المحيى : زندگی بخشنے والا
61المميت : موت دینے والا
62الحي : زندہ و جاوید، زندگی جس کی ذاتی صفت ہے
63القيوم : خود قائم رہنے والا، سب مخلوق کو اپنی مشیئت کے مطابق قائم رکھنے والا
64الواجد : سب کچھ اپنے پاس رکھنے والا
65الماجد : بزرگی اور عظمت والا
66الواحد : ایک اپنی ذات میں
67الاحد: اپنی صفات میں یکتا
68الصمد : سب سے بے نیاز اور سب اس کے محتاج
69القادر : قدرت والا
70المقتدر : سب پر کامل اقتدار رکھنے والا
71المقدم : جسے چاہے آگے کر دینے والا
72المؤخر : جسے چاہے پیچھے کر دینے والا
73الأول : سب سے پہلے وجود رکھنے والا
74الأخر : سب کے بعد وجود رکھنے والا
75الظاهر: بالکل آشکار
76الباطن : بالکل مخفی
77الوالي : مالک و کارساز
78المتعالي : بہت بلند و بالا
79البر : بڑا محسن
80التواب : توبہ کی توفیق دینے والا، توبہ قبول کرنے والا
81المنتقم : مجرمین کو کیفرِ کردار کو پہنچانے والا
82العفو : بہت معافی دینے والا
83الرؤوف :  بہت مہربان
84مالك الملك : سارے جہاں کا مالک
85ذو الجلال و الإكرام : صاحبِ جلال اور بہت کرم فرمانے والا جس کے جلال سے بندے ہمیشہ خائف ہوں اور جس کے کرم کی بندے ہمیشہ امید رکھیں
86المقسط : حقدار کو حق عطا کرنے والا، عادل و منصف
87الجامع : ساری مخلوقات کو قیامت کے دن یکجا کرنے والا 
88الغنى : خود بے نیاز جس کو کسی سے کوئی حاجت نہیں
 89المغنى : اپنی عطا کے ذریعے بندوں کو بے نیاز کرنے والا
90المانع : روک دینے والا
91الضار : اپنی حکمت اور مشیئت کے تحت ضرر پہنچانے والا
92النافع : نفع پہنچانے والا
93النور : سراپا نور
94الهادي : ہدائت دینے والا
95البديع بغیر مثالِ سابق کے مخلوق کا پیدا کرنے والا
96الباقي : ہمیشہ رہنے والا، جسے کبھی فنا نہیں
97الوارث : سب کے فنا ہونے کے بعد باقی رہنے والا
98الرشيد : صاحبِ رشد و حکمت جس کا ہر فعل درست ہے
99الصبور ؛ بڑا صابر کہ بندوں کی بڑی سے بڑی نافرمانیاں دیکھتا ہے اور فوراً عذاب بھیج کر تہس نہس نہیں کرتا
دعا
اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ اپنے رب سے مغفرت طلب کرو بے شک وہ بڑا بخشنے والا ہے جو تم پر آسمان کو بارش برسانے والا بنا کر بھیجتا ہے اور اموال و اولاد کے ذریعہ تمہاری امداد کرتا ہے اور تمہارے لئے باغات اور نہریں بناتا ہے، اور جو لوگ کہ بے حیائی کا کام کرتے ہیں یا اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں، پھر اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اپنے گناہوں کی مغفرت چاہتے ہیں، اور کون ہے جو اللہ کے سوا گناہوں کو بخشے اور اس چیز پر جو وہ کرتے ہیں، جان بوجھ کر اصرار نہیں کرتے۔

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ الْعَدَوِيُّ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي شَدَّادُ بْنُ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ سَيِّدُ الِاسْتِغْفَارِ أَنْ تَقُولَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي، ‏‏‏‏‏‏لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، ‏‏‏‏‏‏خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، ‏‏‏‏‏‏أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، ‏‏‏‏‏‏أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَمَنْ قَالَهَا مِنَ النَّهَارِ مُوقِنًا بِهَا فَمَاتَ مِنْ يَوْمِهِ قَبْلَ أَنْ يُمْسِيَ، ‏‏‏‏‏‏فَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ قَالَهَا مِنَ اللَّيْلِ وَهُوَ مُوقِنٌ بِهَا فَمَاتَ قَبْلَ أَنْ يُصْبِحَ، ‏‏‏‏‏‏فَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ.
ترجمہ:
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے حسین بن ذکوان معلم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن بریدہ نے بیان کیا ان سے بشیر بن کعب عدوی نے کہا کہ مجھ سے شداد بن اوس ؓ نے بیان کیا  اور ان سے رسول اللہ  ﷺ  نے کہ سیدالاستغفار  (مغفرت مانگنے کے سب کلمات کا سردار)  یہ ہے یوں کہے اللهم أنت ربي،‏‏‏‏ لا إله إلا أنت،‏‏‏‏ خلقتني وأنا عبدک،‏‏‏‏ وأنا على عهدک ووعدک ما استطعت،‏‏‏‏ أعوذ بک من شر ما صنعت،‏‏‏‏ أبوء لک بنعمتک على وأبوء بذنبي،‏‏‏‏ اغفر لي،‏‏‏‏ فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت‏‏‏.‏ ‏  اے اللہ! تو میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو نے ہی مجھے پیدا کیا اور میں تیرا ہی بندہ ہوں میں اپنی طاقت کے مطابق تجھ سے کئے ہوئے عہد اور وعدہ پر قائم ہوں۔ ان بری حرکتوں کے عذاب سے جو میں نے کی ہیں تیری پناہ مانگتا ہوں مجھ پر نعمتیں تیری ہیں اس کا اقرار کرتا ہوں۔ میری مغفرت کر دے کہ تیرے سوا اور کوئی بھی گناہ نہیں معاف کرتا۔   نبی کریم  ﷺ  نے فرمایا کہ جس نے اس دعا کے الفاظ پر یقین رکھتے ہوئے دل سے ان کو کہہ لیا اور اسی دن اس کا انتقال ہوگیا شام ہونے سے پہلے، تو وہ جنتی ہے اور جس نے اس دعا کے الفاظ پر یقین رکھتے ہوئے رات میں ان کو پڑھ لیا اور پھر اس کا صبح ہونے سے پہلے انتقال ہوگیا تو وہ جنتی ہے۔
البخاری,حدیث نمبر: 6306  ،  کتاب: دعاؤں کا بیان, باب: سب سے بہتر استغفار کا بیان 
Translation:
Narrated Shaddad bin Aus (RA) : 
The Prophet ﷺ said "The most superior way of asking for forgiveness from Allah is: Allahumma anta Rabbi la ilaha illa anta, Anta Khalaqtani wa ana abduka, wa ana ala ahdika wa wadika mastatatu, Audhu bika min Sharri ma sanatu, abuu Laka binimatika alaiya, wa Abu Laka bidhanbi faghfirli innahu la yaghfiru adhdhunuba illa anta." The Prophet ﷺ added. "If somebody recites it during the day with firm faith in it, and dies on the same day before the evening, he will be from the people of Paradise; and if somebody recites it at night with firm faith in it, and dies before the morning, he will be from the people of Paradise."
https://bit.ly/Islamic-Revival-Mag
دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں؟
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ0بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
يٰۤـاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوۡا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعۡمَلُوْا صَالِحًـا‌ ؕ اِنِّىۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ عَلِيۡمٌ ۞ 
ترجمہ:
اے پیغمبرو،  کھاوٴ پاک چیزیں اور عمل کرو صالح،  تم جو کچھ بھی کرتے ہو، میں اس کو خُوب جانتا ہوں
( اقرآن سورہ المؤمنون,23 آیت نمبر 51)
*پاک چیزوں سے مراد ایسی چیزیں ہیں جو بجائے خود بھی پاکیزہ ہوں، اور پھر حلال طریقے سے بھی حاصل ہوں۔*
 طیبات کھانے کی ہدایت کر کے رہبانیت اور دنیا پرستی کے درمیان اسلام کی راہ اعتدال کی طرف اشارہ کردیا گیا۔ مسلمان نہ تو راہب کی طرح اپنے آپ کو پاکیزہ رزق سے محروم کرتا ہے، اور نہ دنیا پرست کی طرح حرام و حلال کی تمیز کے بغیر ہر چیز پر منہ مار دیتا ہے۔ 

عمل صالح سے پہلے طیبات کھانے کی ہدایت سے صاف اشارہ اس طرف نکلتا ہے کہ حرام خوری کے ساتھ عمل صالح کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ صلاح کے لیے شرط اول یہ ہے کہ آدمی رزق حلال کھائے۔
نبی ﷺ نے فرمایا کہ "
لوگو، اللہ خود پاک ہے اس لیے پاک ہی چیز کو پسند کرتا ہے " پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی اور اس کے بعد فرمایا (ترجمہ)
ایک شخص لمبا سفر کر کے غبار آلود و پراگندہ حال آتا ہے اور آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر دعائیں مانگتا ہے، یا رب یا رب، مگر حال یہ ہوتا ہے کہ روٹی اس کی حرام، کپڑے اس کے حرام، اور جسم اس کا حرام کی روٹیوں سے پلا ہوا۔ اب کس طرح ایسے شخص کی دعا قبول ہو "* (مسلم، ترمذی، احمد من حدیث ابی ہریرہ ؓ)
اللہ کا فرمان ہے،
وَتَریٰ کَثِیْراً مِّنْھُمْ یُسَارِعُوْنَ فِی الْاِثمِ و۔العُدْوَانِ وَاَکْلِھِمُ السُّحْتََ لَبِئسَ مَاکَانُوایَعْمَلُوْنَ لَوْلَا یَنْھَا ھُمُ والرَّبّانِیُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ عَنْ قُوْلِھِمُ الْاِثْمَ وَاَکْلِھِمُ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَاکَانُوا یَصْنََعُوْنَ۔ (سورئہ مائدہ۵ : آیت ۶۲ ، ۶۳)

یعنی (اے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) تم ان (یہودیوں میں سے بہتروں کو دیکھوگے کہ گناہ وسرکشی اور حرام خودی کی طرف دوڑ پڑتے ہیں ، جو کام لوگ کرتے تھے وہ یقینا بہت ہی بُرا ہے۔ ان کو الله والے اور علماء جھوٹ بولنے اور حرام خوری سے کیوں نہیں روکتے؟جو (درگزر) یہ لوگ کرتے رہے یقینا بہت ہی بُرا ہے۔ "

اسلام انسان کو اس کی اپنی مرضی کے مطابق ضروریات زندگی حاصل کرنے کا حق دیتا ہے۔ وہ اپنی روزی حاصل کرنے اور کسبِ معاش میں آزاد ہے اپنی زندگی گزارنے کے لئے ضرورت کے چیزوں کے انتخاب میں بھی آزاد ہے۔ لیکن اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ وسائل زندگی حاصل کرنے کیلئے ایسا راستہ اختیا ر کرے جس سے اخلاق خراب ہوں اور وہ تباہ وبرباد ہوجائے، یا معاشرے اور انسانی ثقافت کو نقصان پہنچے ۔ اسلامی قانون کی روسے نہ صرف کہ شراب، نشہ آور چیزیں اور فحاشی وبے ہودگی حرام ہیں بلکہ وہ تمام کام جس کے نتیجے میں یہ چیزیں وجود میں آتی ہیں حرام ہیں مثلاً شراب کے لئے یا کسی نشہ آور چیز کے لئے کاشت کرنا ، اس کا بنانا، اسے لے جانا، اس کی خریدوفروخت ، اسے اٹھا کر دینا اور استعمال کرنا یہ سب بھی حرام ہیں اسلام ہرگز زنا اورفحاشی کو انسانی فعل نہیں سمجھتا،
 *اسلام ہر وہ کام جس میں کسی کاایک کا فائدہ ہولیکن اس سے دوسرے کو خواہ مخواہ نقصان اٹھانا پرے یا اس سے معاشرہ تباہ ہوجائے ایسے کام کو جرم اور گناہ قرار دیتا ہے*
 اس قسم کے جرم کی دنیا میں سخت سزا کا اور آخرت کے سخت عذاب کا اعلان کرتا ہے جیسے رشوت، چوری جوا سود ہر ایسا معاملہ جس میں ملاوٹ اور دھوکہ کیا گیا ہو،کھانے پینے کی اور عام ضرورت کی چیزوں کی ذخیرہ اندوزی اس خیال سے کرنا کہ ان کی قیمت بڑھ جائے اگرچہ اس سے غریبوں کی زندگی گزارنا مشکل ہوجائے اسی طرح ہروہ کام کہ جس کے نتیجے میں جنگ وجدل کا بازار گرم ہوجائے اور ایساکام کہ جس میں کسی طرح کی کوشش اور جدّوجہدنہ کرنی پڑے اور قسمت سے دولت مل جائے(جیسے انعامی ٹکٹ)یہ سب حرام ہیں۔"
ISLAMIC REVIVAL تجديد الإسلام

خواتین Women



 اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک  ( ہی )  مرد و عورت سے پیدا کیا ہے  اور اس لئے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو کنبے قبیلے بنا دیئے  ہیں ،  اللہ کے نزدیک تم سب میں سے با عزت وہ ہے جو سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے  یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے  [سورة الحجرات 49  آیت: 13]
 تو ہم نے کہا اے آدم! یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے  ( خیال رکھنا )  ایسا نہ ہو کہ وہ تم دونوں کو جنت سے نکلوا دے کہ تو مصیبت میں پڑ جائے ۔  [سورة طه 20  آیت: 117]
 اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں  تاکہ تم  ان سے آرام پاؤ  اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کر دی  یقیناً غورو فکر کرنے والوں کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ۔  [سورة الروم 30  آیت: 21]
 جو ایمان والا ہو مرد ہو یا عورت اور وہ نیک اعمال کرے    ، یقیناً ایسے لوگ جنت میں جائیں گے اور کھجور کی گٹھلی کے شگاف کے برابر بھی ان کا حق نہ مارا جائے گا ۔  [سورة النساء 4  آیت: 124]
 جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت ،  لیکن با ایمان ہو تو ہم  اُسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے  اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے ۔ [سورة النحل 16  آیت: 97]
... تم میں سے کسی کام کرنے والے کے کام کو خواہ وہ مرد ہو یا عورت میں ہرگز ضائع نہیں کرتا   ، تم آپس میں ایک دوسرے کے ہم جنس ہو   [سورة آل عمران 3  آیت: 195]
 مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں  اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت رکھیں یہی ان کے لئے پاکیزگی ہے ،  لوگ جو کچھ کریں اللہ تعالٰی سب سے خبردار ہے ۔  [سورة النور 24  آیت: 30]
 اے نبی! اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا  کریں ۔   اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر نہ ستائی جائیں گی  اور اللہ تعالٰی بخشنے والا مہربان ہے ۔  [سورة الأحزاب 33  آیت: 59]
 اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جاؤ جب تک کہ اجازت نہ لے لو اور وہاں کے رہنے والوں کو سلام نہ کرلو ،   یہی تمہارے لئے سراسر بہتر ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو ۔ [سورة النور 24  آیت: 27]
 اور اللہ تعالٰی نے ایمان والوں کے لئے فرعون کی بیوی کی مثال بیان فرمائی  جبکہ اس نے دعا کی اے میرے رب! میرے لئے اپنے پاس جنت میں مکان بنا اور مجھے فرعون سے اور اس کے عمل سے بچا اور مجھے ظالم لوگوں سے خلاصی دے ۔  [سورة التحريم 66  آیت: 11]
 اور وہ پاک دامن بی بی جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی ہم نے اس کے اندر اپنی روح پھونک دی اور خود انہیں اور ان کے لڑکے کو تمام جہان کے لئے نشانی بنا دیا ۔  [سورة الأنبياء 21  آیت: 91
مرد عورتوں کا محافظ ہیں ، کیوں کہ خدا نے ان میں سے بعض کو دوسروں پر فضیلت بخشی ہے اور اس لئے کہ وہ اپنا مال ان پر خرچ کرتے ہیں۔ تو نیک عورتیں شوہروں کی غیر موجودگی میں فرمانبردار اور نگہبان ہیں جو خدا ان کا نگہبان رکھے گا۔ اور جن عورتوں کی نافرمانی اور بددماغی کا تمہیں خوف ہو انہیں نصیحت کرو  پھر ان کے بستر بانٹنے سے انکار کردیں ، اور آخر کار انہیں [ہلکے سے] ماریں۔ پھر اگر وہ آپ کی بات مانیں تو ان کے خلاف مزید کارروائی نہ کریں۔ اور خدا بڑا ہے۔ [قرآن 4:34]
قرآن ، 20: 117 ،   قرآن ، 66:10 ،   قرآن ، 11:79 ،   قرآن ، 15:71 ،   قرآن ، 11: 71_72 ،   قرآن ، 12: 23 ،   قرآن ، 12:51 ،   قرآن ، 28: 7 ، قرآن ، 28: 10 ، قرآن ، 28: 12-1   قرآن ، 28: 26–27 ،   قرآن ، 28: 23 ،   قرآن ، 28: 9 ،   قرآن ، 66:11 ،   قرآن ، 27: 23 ،   قرآن ، 27: 24 ،   قرآن ، 27: 33 ،   قرآن ، 27:35 ،   قرآن ، 27: 2 ،   قرآن ، 27:44 ،   قرآن ، 3: 35۔36 ،   قرآن ، 19: 20 ،   قرآن ، 66:12 ،   قرآن ، 3:42 ،   قرآن ، 19: 21 ،   قرآن ، 19: 21 ،   قرآن ، 19: 21 ،   قرآن ، 33: 6 ، قرآن ، 33:53 ،   قرآن ، 33:59 ،   قرآن ، 58: 1 ،   قرآن ، 111: 4–5
اور یہ لالچ نہ کرو جس کے ذریعہ اللہ نے تم میں سے بعض کو دوسروں پر فضیلت بخشی ہے۔ مردوں کو ان کی کمائی کا فائدہ ہوگا اور خواتین کو ان کی کمائی کا فائدہ ہوگا ۔ اور اللہ سے اس کے فضل سے پوچھو۔ یقینا اللہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ [قرآن 4 4: 176]
عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اسلام میں خواتین کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا ہے ، ان کی حیثیت مردوں سے کم ہے اور وہ مساوی حقوق سے لطف اندوز نہیں ہوتے ہیں۔ نظریاتی محاذ میں ناکام ہونے کے بعد ، اسلام کے جاہل اور دشمنوں نے اس طرح کے منفی خیالات پیدا کیے ہیں ، تاہم کچھ مسلم معاشروں میں خواتین کے ساتھ پیش آنے والے ثقافتی سلوک نے اس طرح کے تاثرات کو بنیاد فراہم کی ہے۔اسلام کی آمد سے قبل ابتدائی تہذیبوں میں خواتین کی حیثیت اس حد تک بہت کم تھی کہ انہیں بنیادی انسانی وقار سے انکار کیا گیا تھا۔ اس پر ایک سرسری نظر ڈالنا عورتوں کو اسلام کے ذریعہ عطا کردہ قابل احترام مقام کو اجاگر کرے گا۔ 
بابل کے قانون کے تحت خواتین کو کم ترین مخلوق سمجھا گیا اور انہیں تمام حقوق سے انکار کردیا گیا۔اگر کسی مرد نے کسی عورت کو قتل کیا تو سزا دینے کی بجائے اس کی بیوی کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ 
یونانی تہذیب میں ، خواتین کو تمام حقوق سے محروم رکھا گیا تھا ۔ یونانی داستان میں ، ایک "خیالی عورت" ، جسے "پنڈورا" کہا جاتا ہے ، انسانوں کی بد قسمتی کی اصل وجہ ہے۔ یونانی عورتوں کو اس حد تک ذی شعور سمجھتے تھے کہ ان کو ناپاک سمجھا جاتا تھا ، اور انہیں بازاروں میں خریدو فروخت کیا جاتا تھا۔ایک عورت اپنے سرپرست کے ذریعہ منتخب کردہ شوہر سے انکار نہیں کر سکتی  اور وہ بہرحال اپنے شوہر کی نافرمانی نہیں کر سکتی ہے۔ بعد میں ، انہوں نے تھوڑی بہتر حیثیت حاصل کرلی ، لیکن وہ مردوں سے کمتر رہیں ۔ اگرچہ خواتین کی عفت قیمتی تھی ، اور خواتین کو عزت و وقار سے رکھا جاتا تھا ، لیکن بعد میں یونانیوں کو انا اور جنسی بدکاری نے مغلوب کردیا۔ یونانی معاشرے کے تمام طبقوں میں جسم فروشی ایک باقاعدہ رواج بن گئی۔جب رومن تہذیب اپنی ’’ عظمت ‘‘ کے عروج پر تھی ، تو ایک شخص کو اپنی بیوی کی جان لینے کا بھی حق حاصل تھا۔ رومیوں میں بدکاری اور عریانی ایک عام بات تھی۔ رومن سلطنت کے تحت خواتین کو کسی بھی چیز کی ملکیت رکھنے کا حق نہیں تھا۔ اگر کسی عورت کے پاس اپنی کوئی جائیداد تھی تو وہ خودبخود کنبہ کے سربراہ کی ملکیت میں منتقل کردی گئی تھی۔ بعد میں ، جسٹنین (483-565 C.E) کے دور حکومت میں ، خواتین کو یہ حق دیا گیا کہ وہ اپنے کام کے ذریعہ اپنی کمائی برقرار رکھیں ، لیکن دوسرے ذرائع (تحفہ وغیرہ) سے حاصل کردہ رقم خاندان کے سربراہ کے پاس ہی رہی۔
مسیحی یورپ ان خیالات سے متاثر ہوا تھا جو جہالت بت پرستی  کے دور میں عورتوں کی حیثیت کے بارے میں غالب تھے۔ حوا (Eve ) کو  "آدم" کے  زوال کے لئے ذمہ دار سمجھا جاتا ہے اور لفظ (Evil) یعنی "برائی" اسی سے بنا ہے-
زیادہ عرصہ نہیں  گزرا،  1805 میں ، انگریزی قانون نے کسی بھی  شخص کو اپنی بیوی کو فروخت کرنے کی اجازت دی۔ 
 سن 586 عیسوی میں (جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نوجوان تھے) ، فرانسیسی ایلیجس نے ایک کنونشن کا اہتمام کیا جس میں انھوں نے اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ کیا عورتیں انسان ہیں یا نہیں؟ 
انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ایک عورت صرف انسانوں کی خدمت کے لئے پیدا کی گئی ہے۔ فرانسیسی انقلاب کے بعد بھی ، اٹھارہویں صدی کے آخر میں ، فرانسیسی قانون تھا کہ،  شادی شدہ عورت اپنے سرپرست کی رضامندی کے بغیر کسی بھی معاہدے میں داخل ہونے کے لئے مکمل طور پر نااہل تھی۔اس وقت کے فرانسیسی قانون میں یہ قرار دیا گیا تھا کہ  " نابالغ لڑکے،  بیوقوف اور خواتین" کوئی قانونی حیثیت نہیں رکھتے- 
قدیم مصری لوگ  خواتین کو برائی اور شیطان کی علامت سمجھتے تھے۔ اسلام کی آمد سے پہلے عربوں نے عورتوں کو کمتر سمجھا جاتا تھا اور اکثر و بیشتر جب کوئی بچی  پیدا ہوتی تو اسے زندہ دفن کردیا جاتا تھا۔

 اسلام نے خواتین کی حیثیت کو بلند کیا اور 1400 سال پہلے ان کو ان کے حقوق سے نوازا۔ اگر موجودہ اسلامی معاشروں میں عورت کے کچھ حقوق نظرانداز ، ان پر پابندی عائد ، یا انکار کیا - قرآن میں کچھ خواتین کا ذکر ہے:
حضرت مریم  وہ واحد خاتون ہیں جن کا ذکر قرآن مجید میں نام کے ساتھ ہوا ۔ قرآن مجید میں خواتین کی خواتین شخصیات ، اسلام میں پڑھائی جانے والی کہانیوں اور اخلاق میں بحث کے اہم کردار اور موضوعات ہیں۔ قرآن مجید میں کچھ خواتین کو مثبت روشنی میں پیش کیا گیا ہے ، جبکہ دوسروں کو ان کے اعمال کی وجہ سے مذمت کی گئی ہے۔ قرآن مجید میں زیادہ تر خواتین  کا تذکرہ بعض رہنماؤں اور نبیوں کی ماؤں یا بیویوں کے طور پرہوا۔ قرآن مجید میں کچھ خواتین نے مردوں سے کچھ معاملات میں خودمختاری پہل  برقرار رکھی، مثال کے طور پر ، قرآن میں ان خواتین کے بارے میں بیان کیا گیا ہے جنہوں نے اپنے شوہروں سے قبل اسلام قبول کیا ، یا ایسی خواتین جنہوں نے پیغمبر اکرم (ص) سے آزادانہ بیعت لی تھی۔


اس مقالہ کا مقصد مندرجہ ذیل عنوانات کے تحت ، غلط فہمیوں کو دور کرنے کے اسلام میں خواتین کے وقار کے بارے میں معلومات سے آگاہ کرنا ہے:
خواتین کے بارے میں اہم عنوانات
  1. اسلام میں خواتین کی باوقار حیثیت
  2. اسلام میں خواتین کی پاکیزگی اور تقویٰ
  3. شادی: انتخاب ، طلاق اور حق مہر کا حق
  4. خواتین کا وراثت میں حصہ 
  5.  کثیر ازدواجی زندگی 
  6. عورت کو طلاق کا حق ، خلہ 
  7. ماں ، بچوں اور کنبہ کے حقوق 
  8. اسلام میں خواتین کو کاروبارکا حق
  9. خواتین کے ذریعہ شہادت 
  10. عورتیں اور جنت
  11. غلامی
  12. مغربی ثقافت میں خواتین کا تضحیک آمیز کردار 
  13. ممتاز مسلم خواتین
  14. حجاب - چہرے کا احاطہ کرتا ضروری نہیں 
  15. خواتین اور تاریخ
  16. ای بک ویمن E Book on Women

WOMEN IN ISLAM

Subjugated or Emancipated?
Read online or download: PDF

QURAN SUBJECTS INDEX- WOMEN

WOMEN 

witnessing (two men, or one man and two women), 2:282
men provide for women, 4:34
Materialism, 9:24, 9:34, 9:55, 9:85, 28:76, 57:20, 63:9, 64:15, 68:14, 71:12, 71:22, 89:20, 92:11, 100:8, 102:1, 104:2-3, 111:2
Slaves, 4:3, 4:24, 4:25, 4:36, 16:71, 23:6, 24:31, 24:58, 30:28, 33:50, 33:52, 33:55, 70:30
  • aquisition only though war, 8:67
  • don’t force female slaves into prostitution, 24:33
  • freeing
    • after war is over, 47:4
    • as penance for a broken oath, 5:89
    • as penance for death of believer fighting against you, 4:92
    • charity is for freeing (among other things), 9:60
    • is the act of a truly pious person, 2:177
    • those who ask you to who have any good in them, 24:33
  • men (toward women), 24:30
    wives of the Prophet, 33:28-34
  • women (toward men), 24:31
  • verify reports and rumors, 49:6, 49:12
  • Mockeryleave company of those in the act of mocking Allah’s law, 4:140, 6:68
  • “the veil” or women’s clothing in non-household situations, 24:31
  • women’s outer garments prevent harassment by hypocrites, 33:59-60
Divorce, 4:130, 65:1
  • after waiting period, dissolve or reconcile, 2:231, 65:2
    • two witnesses, 65:2
  • alimony, 2:233, 2:241
    • extends to ex-husband’s heir, 2:233
  • can be revoked twice, 2:229
  • dowry status, 2:229, 2:236-237
  • find wet-nurse if necessary, 65:6
  • witnessing (two men, or one man and two women), 2:282
  • Marriage with Jewish, Christian women permitted 5:5 

Popular Books