Featured Post

قرآن مضامین انڈیکس

"مضامین قرآن" انڈکس   Front Page أصول المعرفة الإسلامية Fundaments of Islamic Knowledge انڈکس#1 :  اسلام ،ایمانیات ، بنی...

Showing posts with label Monotheism توحید. Show all posts
Showing posts with label Monotheism توحید. Show all posts

Monotheism توحید


وَ اِلٰـہُکُمۡ  اِلٰہٌ  وَّاحِدٌ ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الرَّحۡمٰنُ  الرَّحِیۡمُ ﴿۱۶۳﴾
" تم سب کا معبود ایک ہی معبود ہے ،  اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں  وہ بہت رحم کرنے والا اور بڑا مہربان ہے " [سورة البقرة 2  آیت: 163]۔  

وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّتَّخِذُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَنۡدَادًا یُّحِبُّوۡنَہُمۡ کَحُبِّ اللّٰہِ ؕ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَشَدُّ حُبًّا  لِّلّٰہِ ؕوَ لَوۡ  یَرَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اِذۡ یَرَوۡنَ الۡعَذَابَ  ۙ اَنَّ الۡقُوَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیۡعًا  ۙ وَّ اَنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعَذَابِ ﴿۱۶۵﴾ 
اِذۡ  تَبَرَّاَ الَّذِیۡنَ اتُّبِعُوۡا مِنَ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡا  وَ رَاَوُا  الۡعَذَابَ وَ تَقَطَّعَتۡ بِہِمُ الۡاَسۡبَابُ ﴿۱۶۶﴾

"بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے شریک اوروں کو ٹھہرا کر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں ،  جیسی محبت اللہ سے ہونی چاہیے  اور ایمان والے اللہ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں  کاش کہ مشرک لوگ جانتے جب کہ اللہ کے عذاب کو دیکھ کر  ( جان لیں گے )  کہ تمام طاقت اللہ ہی کو ہے اور اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا ہے  ( تو ہرگِز شرک نہ کرتے )- جس وقت پیشوا لوگ اپنے تابعداروں سے بیزار ہوجائیں گے اور عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور کل رشتے ناتے ٹوٹ جائیں گے ۔  [سورة البقرة 2  آیت: ،166,165] >>>>>

اے نفسِ مطمئن، اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر آجا




اے نفسِ مطمئن، اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر آجا

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم0 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤاَيَّتُهَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَئِنَّةُ ۞ ارۡجِعِىۡۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرۡضِيَّةً‌ ۞ فَادۡخُلِىۡ فِىۡ عِبٰدِىۙ ۞ وَادۡخُلِىۡ جَنَّتِى  ۞
ترجمہ:
اے نفسِ مطمئن، اپنے پروردگار کی طرف اس طرح لوٹ کر آجا کہ تو اس سے راضی ہو، اور وہ تجھ سے راضی۔ ۞ اور شامل ہوجا میرے (نیک) بندوں میں۔ ۞ اور داخل ہوجا میری جنت میں۔۞ 
( القرآن - سورۃ نمبر 89 الفجر , آیت نمبر 27-30)

"نفس مطمئن" سے مراد وہ انسان ہے جس نے کسی شک و شبہ کے بغیر پورے اطمینان اور ٹھنڈے دل کے ساتھ اللہ وحدہ لا شریک کو اپنا رب اور انبیاء کے لائے ہوئے دین حق کو اپنا دین قرار دیا،

 جو عقیدہ اور جو حکم بھی اللہ اور اس کے رسول سے ملا اسے سراسر حق مانا، جس چیز سے بھی اللہ کے دین نے منع کیا اس سے بادل ناخواستہ نہیں بلکہ اس یقین کے ساتھ رک گیا کہ فی الواقع وہ بری چیز ہے، 

جس قربانی کی بھی حق پرستی کی راہ میں ضرورت پیش آئی بےدریغ اسے پیش کردیا، 
جن مشکلات اور تکالیف اور مصائب سے بھی اس راہ میں سابقہ در پیش ہوا انہیں پورے سکون قلب کے ساتھ برداشت کیا،

 اور دوسرے راستوں پر چلنے والوں کو دنیا میں جو فوائد اور منافع اور لذائذ حاصل ہوتے نظر آ رہے تھے ان سے محروم رہ جانے پر اسے کوئی حسرت لاحق نہ ہوئی
 بلکہ وہ اس بات پر پوری طرح مطمئن رہا کہ دین حق کی پیروی نے اسے ان گندگیوں سے محفوظ رکھا ہے۔ اسی کیفیت کو دوسری جگہ قرآن میں شرح صدر سے تعبیر کیا گیا ہے (الانعام، آیت 125)۔
(تفہیم القرآن)

كُلُّ نَفۡسٍ ذَآئِقَةُ الۡمَوۡتِ‌ؕ وَاِنَّمَا تُوَفَّوۡنَ اُجُوۡرَكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ‌ؕ فَمَنۡ زُحۡزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدۡخِلَ الۡجَـنَّةَ فَقَدۡ فَازَ ‌ؕ وَمَا الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الۡغُرُوۡرِ‏ ۞  (قرآن 3:185)
ترجمہ:
ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے، اور تم سب کو (تمہارے اعمال کے) پورے پورے بدلے قیامت ہی کے دن ملیں گے۔ پھر جس کسی کو دوزخ سے دور ہٹالیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا وہ صحیح معنی میں کامیاب ہوگیا، اور یہ دنیوی زندگی تو (جنت کے مقابلے میں) دھوکے کے سامان کے سوا کچھ بھی نہیں۔ (قرآن 3:185)

حاضر ہوں یا اللہ! میں حاضر ہوں

لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ ، لاَ شَرِيكَ لَكَ

حاضر ہوں یا اللہ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، بیشک تعریف اور نعمتیں تیرے لیے ہی ہیں، اور تیری ہی بادشاہی ہے، تیرا کوئی شریک نہیں ہے.

وَاَيُّوۡبَ اِذۡ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّىۡ مَسَّنِىَ الضُّرُّ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِيۡنَ‌ ۞ فَاسۡتَجَبۡنَا لَهٗ فَكَشَفۡنَا مَا بِهٖ مِنۡ ضُرٍّ‌ وَّاٰتَيۡنٰهُ اَهۡلَهٗ و مِثۡلَهُمۡ مَّعَهُمۡ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا وَذِكۡرٰى لِلۡعٰبِدِيۡنَ ۞
ترجمہ:
اور یہی (ہوش مندی اور حکم و علم کی نعمت) ہم نے ایّوبؑ کو دی تھی یاد کرو، جبکہ اس نے اپنے رب کو پکارا کہ "مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تو ارحم الراحمین ہے" ۞ ہم نے اس کی دُعا قبول کی اور جو تکلیف اُسے تھی اس کو دُور کر دیا، اور صرف اس کے اہل و عیال ہی اس کو نہیں دیے بلکہ ان کے ساتھ اتنے ہی اور بھی دیے، اپنی خاص رحمت کے طور پر، اور اس لیے کہ یہ ایک سبق ہو عبادت گزاروں کے لیے ۞
..........

نفس انسانی کی تین حالتیں : 1۔ نفس مطمئنہ۔ ہر حال میں مطمئن یعنی نیکی پر قائم رہنے والا نفس۔ (الفجر : 27)

Ra bracket.png يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ Aya-27.png La bracket.png

نفس مطمئنہ : جو انسان کو اطاعت الہی اور اللہ کے ذکر فکر میں مطمئن رکھتا ہے اور خواہشات کی کشمش اور گناہوں کے خطراب سے دور رکھتا ہے

 2۔ نفس لوّامہ۔ گناہ پر ملامت کرنے والا نفس۔ (القیامہ : 2)

Ra bracket.png وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ Aya-2.png La bracket.png

نفس لوامہ : ۔۔۔۔۔۔ جو انسان کو گناہوں پر ملامت کرتا ہے کہ یہ کام بہت برا تھا تم نے کیوں کیا؟

 3۔ نفس امّارہ۔ گناہ پر ابھارنے والا نفس۔ (یوسف : 53)

Ra bracket.png وَمَا أُبَرِّىءُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلاَّ مَا رَحِمَ رَبِّيَ إِنَّ رَبِّي غَفُورٌ رَّحِيمٌ Aya-53.png La bracket.png

نفس امارہ : ۔۔۔۔۔۔ جو انسان کو گناہوں پر آمادہ کرتا ہے۔

-----------

يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ( O contented soul...89:27). Here the soul of the believer is referred to as nafs mutma innah the contented soul . The word mutma innah literally means calm . It refers to the soul that is peaceful and tranquil as a result of remembrance and obedience of Allah. When he abandons it, he feels restless. This is probably the same soul as is made pure, through spiritual exercises and discipline, from the evil traits and bad conduct. Obedience of Allah and His remembrance becomes his predisposition. Shari ah becomes his nature. 

ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ (come back to your Lord....89:28). 

The words come back indicate that his first place was with his Lord, and now he is commanded to go back to Him. This confirms the narration that the souls of the believers, together with their Book of Deeds, will be in ` illiyin. ` Illiyin is a place on the seventh heaven in the shade of the Throne of the Most-Merciful Lord. This is the original resting-place of all human souls, from where they are brought out and put into human body. After death, the souls are returned to that place. ...


Polytheism شرک

شرک گناہ عظیم:
اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغۡفِرُ اَنۡ یُّشۡرَکَ بِہٖ وَ یَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَ مَنۡ یُّشۡرِکۡ بِاللّٰہِ فَقَدِ افۡتَرٰۤی اِثۡمًا عَظِیۡمًا ﴿۴۸﴾
یقیناً اللہ تعالٰی اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سِوا جسے چاہے بخش دیتا ہے اور جو اللہ تعالٰی کے ساتھ شریک مُقّرر کرے اس نے بہت بڑا گناہ اور بُہتان باندھا ۔ [سورة النساء 4 آیت: 48] Indeed, Allah does not forgive association with Him, but He forgives what is less than that for whom He wills. And he who associates others with Allah has certainly fabricated a tremendous sin. [ Surat un Nissa: 4 Verse: 48]
یہود و نصاریٰ دونوں ہی مشرک تھے۔ اگرچہ دعویٰ توحید کا کرتے تھے اور شرک ہی سب گناہوں سے بڑا گناہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حتمی طور پر وعید سنا دی ہے کہ یہ ناقابل معافی جرم ہے۔ شک اللہ تعالیٰ اس بات کو (سزا دے کر بھی) نہ بخشیں گے کہ ان کے ساتھ کسی کو شریک قرار دیا جائے (بلکہ ہمیشہ دائمی سزا میں مبتلا رکھیں گے) اور اس کے سوا اور جتنے گناہ ہیں (خواہ صغیر ہوں یا کبیرہ) جس کے لئے منظور ہوگا (بلا سزا) وہ گناہ بخش دیں گے، (البتہ اگر وہ مشرک مسلمان ہوجائے تو پھر مشرک ہی نہ رہا اب وہ سزا دائمی بھی نہ رہے گی) اور (وجہ اس شرک کے نہ بخشنے کی یہ ہے کہ) جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ (کسی کو) شریک ٹھہراتا ہے وہ بڑے جرم کا مرتکب ہوا (جو اپنے عظیم ہونے کی وجہ سے قابل مغفرت نہیں۔ ) (اے مخاطب) کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا (یعنی تعجب کے قابل ہیں) جو اپنے کو مقدس بتلاتے ہیں (ان کے بتلانے سے کچھ نہیں ہوتا) بلکہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہیں مقدس بتلا دیں (یہ البتہ قابل اعتبار ہے اور اللہ تعالیٰ قرآن میں مومن کو مقدس بتلا چکے ہیں، جیسے سورة سبح اسم میں اشقی یعنی کافر کے مقابل ہمیں مومن کی نسبت فرمایا، قد افلح من تزکی پس وہی مقدس ہوگا نہ کہ کفر کرنے والے جیسے یہود ہیں) اور (ان یہود کو قیامت میں اس جھوٹے دعوے کا جس کا سبب کفر کو ایمان سمجھنا ہے، جو سزا ہوگی اس سزا میں) ان پر دھاگے کی برابر بھی ظلم نہ ہوگا (یعنی وہ سزا ان کے جرم سے زیادہ نہیں ہے، بلکہ ایسے جرم پر ایسی ہی سزا لائق ہے، ذرا) دیکھ لو (اس دعویٰ میں) یہ لوگ اللہ پر کیسی جھوٹی تہمت لگاتے ہیں (کیونکہ جب وہ باوجود کفر کے اللہ کے ہاں مقبول ہونے کے مدعی ہیں تو اس سے صاف لازم آتا ہے کہ کفر اللہ کے ہاں پسندیدہ ہے، حالانکہ یہ محض تہمت ہے، اس لئے کہ تمام شرائع میں اللہ تعالیٰ نے اس کی تصریح فرما دی ہے کہ کفر ہمارے نزدیک سخت ناپسند اور مردود ہے) اور یہی بات (کہ خدا پر تہمت لگائی جائے) صریح مجرم ہونے کے لئے کافی ہے (پھر کیا ایسی صریح بڑی بات پر ایسی سزا کچھ ظلم و زیادتی ہے۔ ) اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کے بارے میں جو عقائد ہیں اس طرح کا کوئی عقیدہ کسی مخلوق کے لئے رکھنا یہ شرک ہے-
اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغۡفِرُ اَنۡ یُّشۡرَکَ بِہٖ وَ یَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ مَنۡ یُّشۡرِکۡ بِاللّٰہِ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیۡدًا ﴿۱۱۶﴾ اسے اللہ تعالٰی قطعًا نہ بخشے گا کہ اس کے ساتھ شریک مقرر کیا جائے ، ہاں شرک کے علاوہ گناہ جس کے چاہے معاف فرما دیتا ہے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والا بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا ۔ [سورة النساء 4 آیت: 116]
Indeed, Allah does not forgive association with Him, but He forgives what is less than that for whom He wills. And he who associates others with Allah has certainly gone far astray. [Surat un Nissa: 4 Verse: 116]
شرک کی کی چند صورتیں : ١.علم میں شریک ٹھہرانا :۔ یعنی کسی بزرگ یا پیر کے ساتھ یہ اعتقاد رکھنا کہ ہمارے سب حال کی اس کو ہر وقت خبر ہے، نجومی، پنڈت سے غیب کی خبریں دریافت کرنا یا کسی بزرگ کے کلام میں فال دیکھ کر اس کو یقینی سمجھنا یا کسی کو دور سے پکارنا اور یہ سمجھنا کہ اس کہ خبر ہوگئی یا ٢.کسی کے نام کا روزہ رکھنا۔ ٣.اشراک فی التصرف :۔ یعنی کسی کو نفع یا نقصان کا مختار سمجھنا کسی سے مرادیں مانگنا، روزی اور اولاد مانگنا۔ ٤.عبادت میں شریک ٹھہرانا : کسی کو سجدہ کرنا، کسی کے نام کا جانور چھوڑنا، چڑھاوا چڑھانا، کسی کے نام کی منت ماننا، کسی کی قرب یا مکان کا طواف کرنا، ٥.الله کے حکم کے مقابلہ میں کسی دوسرے کے قول یا رسم کو ترجیح دینا کسی کے روبرو رکوع کی طرف جھکنا ٦.کسی کے نام پر جانور ذبح کرنا، ٧.دنیا کے کاروبار کو ستاروں کی تاثیر سے سمجھنا اور کسی مہینہ کو منحوس سمجھنا وغیرہ - [معارف القرآن]

صرف اللہ کو پکار ،صرف وہی واحد حاجت روا ہے

 أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم 0 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شرک گناہ عظیم:
اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغۡفِرُ اَنۡ یُّشۡرَکَ بِہٖ وَ یَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَ مَنۡ یُّشۡرِکۡ بِاللّٰہِ فَقَدِ افۡتَرٰۤی اِثۡمًا عَظِیۡمًا ﴿۴۸﴾ 
یقیناً اللہ تعالٰی اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سِوا جسے چاہے بخش دیتا ہے اور جو اللہ تعالٰی کے ساتھ شریک مُقّرر کرے اس نے بہت بڑا گناہ اور بُہتان باندھا ۔ [سورة النساء 4 آیت: 48]

وَالَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ لَا يَخۡلُقُوۡنَ شَيۡـئًا وَّهُمۡ يُخۡلَقُوۡنَؕ ۞ اَمۡوَاتٌ غَيۡرُ اَحۡيَآءٍ‌ ۚ وَمَا يَشۡعُرُوۡنَ اَيَّانَ يُبۡعَثُوۡنَ ۞
(القرآن - سورۃ نمبر 16 النحل, آیت نمبر 20-21)
ترجمہ:
اور وہ دوسری ہستیاں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر لوگ پکارتے ہیں، وہ کسی چیز کی بھی خالق نہیں ہیں بلکہ خود مخلوق ہیں ۞ مردہ ہیں نہ کہ زندہ اور ان کو کچھ معلوم نہیں ہے کہ انہیں کب (دوبارہ زندہ کر کے) اٹھایا جائے گا۞ 
یہ الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ یہاں خاص طور پر جن بناوٹی معبودوں کی تردید کی جا رہی ہے وہ فرشتے، یا جن، یا شیاطین، یا لکڑی پتھر کی مورتیاں نہیں ہیں، بلکہ اصحاب قبور ہیں۔

اس لیے کہ فرشتے اور شیاطین تو زندہ ہیں، ان پر اَمْواتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍ کے الفاظ کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ 

اور لکڑی پتھر کی مورتیوں کے معاملہ میں بعث بعد الموت علماؤں کا کوئی سوال نہیں ہے، اس لیے
مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ
 کے الفاظ انہیں بھی خارج از بحث کردیتے ہیں۔ 

اب لا محالہ اس آیت میں اَلَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ سے مراد وہ انبیاء، اولیاء، شہداء، صالحین اور دوسرے غیر معمولی انسان ہی ہیں جن کو غالی معتقدین 
 داتا، مشکل کشا، فریاد رس، غریب نواز، گنج بخش، اور نامعلوم کیا کیا قرار دے کر اپنی حاجت روائی کے لیے پکارنا شروع کردیتے ہیں۔ 

س کے جواب میں اگر کوئی یہ کہے کہ عرب میں اس نوعیت کے معبود نہیں پائے جاتے تھے تو ہم عرض کریں گے کہ یہ جاہلیت عرب کی تعریف سے اس کی ناواقفیت کا ثبوت ہے۔ 
کون پڑھا لکھا نہیں جانتا ہے کہ عرب کے متعدد قبائل، ربیعہ، کلب، تغلِب، قُضَاعَہ، کِنانہ، حَرث، کعب، کِندَہ وغیرہ میں کثرت سے عیسائی اور یہودی پائے جاتے تھے، اور یہ دونوں مذاہب بری طرح انبیاء اولیاء اور شہدا کی پرستش سے آلودہ تھے۔ 

پھر مشرکین عرب کے اکثر نہیں تو بہت سے معبود وہ گزرے ہوئے انسان ہی تھے جنہیں بعد کی نسلوں نے خدا بنا لیا تھا۔ بخاری میں ابن عباس ؓ کی روایت ہے کہ ودّ ، سُواع، یغوث، یعُوق، نسر، یہ سب صالحین کے نام ہیں جنہیں بعد کے لوگ بت بنا بیٹھے۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی روایت ہے کہ اساف اور نائلہ دونوں انسان تھے۔ اسی طرح کی روایات لات اور مناۃ اور عُزّیٰ کے بارے میں موجود ہیں۔ اور مشرکین کا یہ عقیدہ بھی روایات میں آیا ہے کہ لات اور عزّیٰ اللہ کے ایسے پیارے تھے کہ اللہ میاں جاڑا لات کے ہاں اور گرمی عزّیٰ کے ہاں بسر کرتے تھے۔ سُبْحٰنَہ وَ تَعَالیٰ عَمَّا یَصِفُوْن (تفہیم القرآن)

نوٹ: وہ بزرگ نیک ہستیاں سچے مسلمان اور موحد تھے ، شرک کی نہیں توحید کی تعلیم دیتے تھے۔ ان کی قبر پر ان کی بخشش اور درجات کی بلندی کی دعا کرنا چاہئیے اور اپنی حاجات کے لئیے صرف اللہ کو پکاریں ، اللہ سے مانگیں ۔
ایک روائیت ہے کہ: تم میں ہر کوئی اپنی حاجات اپنے رب سے مانگے یہاں تک کہ جب جوتی کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ بھی اس سے مانگے۔"
"یہ نہ کہے جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں لیکن یوں کہے جو اللہ چاہیں پھر آپ چاہیں۔"

ہر قسم کے نفع و نقصان کا مالک مشکل کشا اور حاجر روا صرف اللہ کی ذات ہے کائنات میں سے کوئی فرد بھی کسی سے نفع و نقصان کامالک نہیں.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو نصیحت کرتے ہوئے یہ بات سمجھا دی کہ آپ کی امت میں سے کوئی شخص بھی خواہ وہ نیک ہو یا بد، امیر ہو یا غریب، حکمران ہو یا رعایا، الغرض کوئی بھی کسی کی قسمت کا مالک نہیں۔ ہر قسم کا اختیار اللہ کے پاس ہے وہی مختار کل، مشکل کشا اور حاجت روا ہے۔

Disbelief کفر


”کفر“ کے اصل معنی چھُپانے کے ہیں ۔ اسی سے انکار کا مفہُوم پیدا ہوا اور یہ لفظ ایمان کے مقابلے میں بولا جانے لگا ۔ ایمان کے معنی ہیں ماننا ، قبول کرنا ، تسلیم کرلینا ۔ اس کے برعکس کفر کے معنی ہیں نہ ماننا ، رد کر دینا ، انکار کرنا- قرآن میں فرمان ہے :

اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ مَاتُوۡا وَ ہُمۡ کُفَّارٌ اُولٰٓئِکَ عَلَیۡہِمۡ لَعۡنَۃُ اللّٰہِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ وَ النَّاسِ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿۱۶۱﴾ۙ

 یقیْنًا جو کفار اپنے کفر میں ہی مر جائیں، ان پر اللہ تعالٰی کی ،  فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ۔  [سورة البقرة 2  آیت: 161]


“Indeed, those who disbelieve and die while they are disbelievers - upon them will be the curse of Allah and of the angels and the people, all together” [ Surat ul Baqara: 2 Verse: 161]

قرآن کی رُو سے کفر کے رویّہ کی مختلف صُورتیں ہیں:
١. ایک یہ کہ انسان سرے سے خدا ہی کو نہ مانے ، یا اس کے اقتدارِ اعلیٰ کو تسلیم نہ کرے اور اس کو اپنا اور ساری کائنات کا مالک اور معبُود ماننے سے انکار کر دے ، یا
٢.اسے واحد مالک اور معبُود نہ مانے ۔ دُوسرے یہ کہ اللہ کو تو مانے مگر اس کے احکام اور اس کی ہدایات کو واحد منبعِ علم و قانون تسلیم کرنے سے انکار کر دے ۔
٣.تیسرے یہ کہ اُصُولاً اس بات کو بھی تسلیم کر لے کہ اسے اللہ ہی کی ہدایت پر چلنا چاہیے ، مگر اللہ اپنی ہدایات اور اپنے احکام پہنچانے کے لیے جن پیغمبروں کو واسطہ بنا تا ہے ، انہیں تسلیم نہ کرے ۔
٤.چوتھے یہ کہ پیغمبروں کے درمیان تفریق کرے اور اپنی پسند یا اپنے تعصّبات کی بنا پر ان میں سے کسی کو مانے اور کسی کو نہ مانے ۔ 
٥.پانچویں یہ کہ پیغمبروں نے خدا کی طرف سے عقائد ، اخلاق اور قوانینِ حیات کے متعلق جو تعلیمات بیان کی ہیں ان کو ، یا ان میں سے کسی چیز کو قبول نہ کرے ۔ 
٦.چھٹے یہ کہ نظریّے کے طور پر تو ان سب چیزوں کو مان لے مگر عملاً احکامِ الہٰی کی دانستہ نافرمانی کرے اور اس نافرمانی پر اصرار کرتا رہے ، اور
٧.دُنیوی زندگی میں اپنے رویّے کی بنا اطاعت پر نہیں بلکہ نافرمانی ہی پر رکھے ۔ 
یہ سب مختلف طرزِ فکر و عمل اللہ کے مقابلے میں باغیانہ ہیں اور ان میں سے ہر ایک رویّے کو قرآن کفر سے تعبیر کرتا ہے ۔ اس کے علاوہ بعض مقامات پر قرآن میں کفر کا لفظ کفرانِ نعمت کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے اور شکر کے مقابلے میں بولا گیا ہے ۔ شکر کے معنی یہ ہیں کہ نعمت جس نے دی ہے انسان اس کا احسان مند ہو ، اس کے احسان کی قدر کرے ، اس کی دی ہوئی نعمت کو اسی کی رضا کے مطابق استعمال کرے ، اور اس کا دل اپنے مُحسن کے لیے وفاداری کے جذبے سے لبریز ہو ۔ اس کے مقابلے میں کفر یا کفرانِ نعمت یہ ہے کہ آدمی یا تو اپنے مُحسن کا احسان ہی نہ مانے اور اسے اپنی قابلیت یا کسی غیر کی عنایت یا سفارش کا نتیجہ سمجھے ، یا اس کی دی ہوئی نعمت کی ناقدری کرے اور اسے ضائع کر دے ، یا اس کی نعمت کو اس کی رضا کے خلاف استعمال کرے ، یا اس کے احسانات کے باوجود اس کے ساتھ غدر اور بے وفائی کرے ۔ اس نوع کے کفر کو ہماری زبان میں بالعمُوم احسان فراموشی ، نمک حرامی ، غدّاری اور ناشکرے پن کے الفاظ سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ . [تفہیم القرآن]

کفار سے دوستی ؟ (3:28)

لَا یَتَّخِذِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡکٰفِرِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ۚ وَ مَنۡ یَّفۡعَلۡ ذٰلِکَ فَلَیۡسَ مِنَ اللّٰہِ  فِیۡ شَیۡءٍ اِلَّاۤ  اَنۡ تَتَّقُوۡا مِنۡہُمۡ تُقٰىۃً ؕ وَ یُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفۡسَہٗ ؕ وَ اِلَی اللّٰہِ الۡمَصِیۡرُ ﴿۲۸﴾
 مومنوں کو چاہیے کہ ایمان والوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں  اور جو ایسا کرے گا وہ اللہ تعالٰی کی کسی حمایت میں نہیں مگر یہ کہ ان کے شر سے کسی طرح بچاؤ مقصود ہو  اور اللہ تعالٰی خود تمہیں اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے اور اللہ تعالٰی ہی کی طرف لوٹ جانا ہے ۔  [سورة آل عمران 3  آیت: 28]


 Let not believers take disbelievers as allies rather than believers. And whoever [of you] does that has nothing with Allah , except when taking precaution against them in prudence. And Allah warns you of Himself, and to Allah is the [final] destination. [ Surat Aal e Imran: 3 Verse: 28]

” یار و مددگارـ“ عربی لفظ ” ولی “ کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ ” ولی “ بنانے کو ” موالات “ بھی کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد ایسی دوستی اور قلبی محبت کا تعلق ہے جس کے نتیجے میں دو آدمیوں کا مقصد زندگی اور ان کا نفع و نقصان ایک ہوجائے۔ اس قسم کا تعلق مسلمان کا صرف مسلمان ہی سے ہوسکتا ہے اور کسی غیر مسلم سے ایسا تعلق رکھنا سخت گناہ ہے اور اس آیت میں اسے سختی سے منع کیا گیا ہے، یہی حکم سورة نساء (4: 139) سورة مائدہ (5: 51) سورة توبہ (9: 23) سورة مجادلہ (28: 22) اور سورة ممتحنہ (60: 1) میں بھی دیا گیا ہے-

البتہ جو غیر مسلم جنگ کی حالت میں نہ ہوں ان کے ساتھ حسن سلوک، رواداری اور خیر خواہی کا معاملہ نہ صرف جائز بلکہ مطلوب ہے، جیسا کے خود قرآن کریم نے سورة ممتحنہ (60: 8) میں واضح فرمادیا ہے:


لَا یَنۡہٰىکُمُ اللّٰہُ  عَنِ الَّذِیۡنَ لَمۡ یُقَاتِلُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ وَ لَمۡ  یُخۡرِجُوۡکُمۡ  مِّنۡ  دِیَارِکُمۡ  اَنۡ  تَبَرُّوۡہُمۡ وَ تُقۡسِطُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّ  اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُقۡسِطِیۡنَ ﴿۸﴾

 جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی نہیں لڑی  اور تمہیں جلا وطن نہیں کیا  ان کے ساتھ سلوک و احسان کرنے اور منصفانہ بھلے برتاؤ کرنے سے اللہ تعالٰی تمہیں نہیں روکتا  بلکہ اللہ تعالٰی تو انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے[
سورة الممتحنة 60  آیت: 8]  


 Allah does not forbid you from those who do not fight you because of religion and do not expel you from your homes - from being righteous toward them and acting justly toward them. Indeed, Allah loves those who act justly. [Surat ul Mumtahina: 60 Verse: 8]
 لڑنے کا حکم صرف ان کافروں سے ہے جو دکھ پہنچاتے اور معاندانہ سرگرمیوں میں مشغول ہوں۔ عام کافروں سے نہیں محض کفر لڑائی کا سبب نہیں بن سکتا :۔
اس آیت کی رو سے اللہ تعالیٰ نے کافروں کو دو گروہوں میں تقسیم فرمایا ہے:
١.ایک وہ جو معاند تھے۔ مسلمانوں کو ایذائیں پہنچاتے، اسلام کی راہ روکتے اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنے میں سرگرم تھے۔
٢. دوسرے مسالم جو کافر تو تھے مگر روادار تھے۔ غیر جانبدار بن کر رہے۔ مسلمانوں کو نہ کوئی دکھ پہنچایا نہ ان کے خلاف کسی کارروائی میں حصہ لیا۔
یہ دونوں قسم کے لوگ مکہ میں بھی رہتے تھے اور ارد گرد بھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے لیے الگ الگ احکام بیان فرمائے۔ پہلی قسم کے لوگوں سے سلوک کا بیان ابتدائے سورة سے چلا آرہا ہے۔ رہے دوسری قسم کے بےضرر قسم کے کافر تو ان کے ساتھ رواداری کا حکم فرمایا۔ یعنی ان سے تم کو بھی عداوت نہ رکھنی چاہئے۔ اور رشتہ داری کے حقوق کا بھی خیال رکھنا چاہئے اور ان سے بہتر سلوک کرنا چاہئے۔ کیونکہ انصاف کا یہی تقاضا ہے کہ ان دونوں سے سلوک میں فرق رکھا جائے۔ اس سے دو اہم باتوں کا پتہ چلتا ہے ایک یہ کہ مسلمانوں کی عداوت کی بنیاد محض کفر نہیں بلکہ اسلام کے خلاف معاندانہ سرگرمیاں ہیں۔ اسی وجہ سے اسلام نے دوران جنگ بچوں، بوڑھوں، عورتوں، عبادت گزار اور درویش قسم کے لوگوں اور جنگ میں شریک نہ ہونے والے کافروں کو قتل کرنے سے منع فرما دیا ہے۔ اور دوسری یہ کہ اسلام ایک حق پسند، انصاف پسند اور امن پسند دین ہے۔ جو صرف ان لوگوں سے تعرض کرتا ہے۔ جو اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں یا اس کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ [کیلانی ]

آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت پوری حیات طیبہ میں یہ رہی ہے کہ آپ نے ہمیشہ ایسے لوگوں کے ساتھ احسان کا معاملہ فرمایا، اسی طرح ان کے ساتھ سیاسی اوراقتصادی تعاون کے وہ معاہدہ اور تجارتی معاملات بھی کئے جاسکتے ہیں جن کو آج کل کی سیاسی اصطلاح میں دوستی کے معاہدے کہا جاتا ہے، بشرطیکہ یہ معاہدے یا معاملات اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت کے خلاف نہ ہوں اور ان میں کسی خلاف شرع عمل کا ارتکاب لازم نہ آئے، چنانچہ خود آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اور آپ کے بعد صحابہ کرام نے ایسے معاہدات اور معاملات کیے ہیں، غیر مسلموں کے ساتھ موالات کی ممانعت کرنے کے بعد قرآن کریم نے جو فرمایا ہے کہ : الا یہ کہ تم ان کے ظلم سے بچنے کے لئے بچاؤ کا کوئی طریقہ احتیار کرو، اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کفار کے ظلم وتشدد سے بچاؤ کے لئے کوئی ایسا طریقہ اختیار کرنا پڑے جس سے بظاہرموالات معلوم ہوتی ہو تو اس کی گنجائش ہے۔[مفتی تقی عثمانی]
Disbelievers

Apostasy ارتداد



اِنَّ  الَّذِیۡنَ ارۡتَدُّوۡا عَلٰۤی  اَدۡبَارِہِمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَیَّنَ  لَہُمُ  الۡہُدَی ۙ الشَّیۡطٰنُ سَوَّلَ  لَہُمۡ ؕ وَ اَمۡلٰی  لَہُمۡ ﴿۲۵﴾

 جو لوگ اپنی پیٹھ کے بل الٹے پھر گئے اس کے بعد کہ ان کے لئے ہدایت واضح  ہو چکی یقیناً شیطان نے ان کے لئے  ( ان کے فعل کو )  مزین کر دیا ہے اور انہیں ڈھیل دے رکھی ہے ۔  [سورة محمد 47  آیت  25]


Indeed, those who reverted back [to disbelief] after guidance had become clear to them - Satan enticed them and prolonged hope for them. [Surat،Muahammad:47،Verse:25]

 اعمال سے مراد وہ تمام اعمال ہیں جو مسلمان بن کر وہ انجام دیتے رہے۔ ان کی نمازیں، ان کے روزے، ان کی زکوٰۃ، غرض وہ تمام عبادتیں اور وہ ساری نیکیاں جو اپنی ظاہری شکل کے اعتبار سے اعمال خیر میں شمار ہوتے تھیں اس بنا پر ضائع ہو گئیں کہ انہوں نے مسلمان ہوتے ہوئے بھی اللہ اور اس کے دین اور ملت اسلامیہ کے ساتھ اخلاص و وفاداری کا رویہ اختیار نہ کی، بلکہ محض اپنے دنیوی مفاد کے لیے دشمنان دین کے ساتھ ساز باز کرتے رہے اور اللہ کی راہ میں جہاد کا موقع آتے ہیں اپنے آپ کو خطرات سے بچانے کی فکر میں لگ گئے۔ یہ آیات اس معاملہ میں بالکل ناطق ہیں کہ کفر و اسلام کی جنگ میں جس شخص کی ہمدردیاں اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ نہ ہوں، یا کفر اور کفار کے ساتھ ہوں، اس کا ایمان ہی سرے سے معتبر نہیں ہے کجا کہ اس کا کوئی عمل خدا کے ہاں مقبول ہو۔ [تفہیم القرآن]

یقینا وہ لوگ جو پھرگئے اپنی پیٹھوں کے َبل ‘ اس کے بعد کہ ان پر ہدایت واضح ہوچکی ‘ شیطان نے ان کے لیے (ارتداد کا یہ مرحلہ) آسان کردیا ہے اور انہیں لمبی لمبی امیدیں دلائی ہیں۔ “ ” طولِ امل “ کے اس شیطانی چکر میں پڑ کر انسان آخرت کو بالکل ہی فراموش کردیتا ہے۔ ظاہر ہے جس شخص نے لمبی لمبی امیدیں قائم کر کے اپنی زندگی میں بڑے بڑے منصوبے بنا رکھے ہوں ‘ اس کے دل میں شہادت کی تمنا کیسے پیدا ہوسکتی ہے ‘ اور ایسا شخص میدان جنگ میں جانا بھلا کیونکر پسند کرے گا ![ڈاکٹراحمد]


The legal historian Wael Hallaq writes that "nothing in the law governing apostates and apostasy derives from the letter" of the Quran. There is no mention of any specific corporal punishment for apostates to which they are to be subjected in this world, nor do Qur'anic verses refer, whether explicitly or implicitly, to the need to force an apostate to return to Islam or to kill him if he refuses to do so. [Wiki ] [However in the Sunnah, apostates were punished] 
 قانونی مورخ وائل حلق لکھتا  ہے  کہ "مرتدوں اور ارتداد پسندوں پر حکومت کرنے والے قانون میں کوئی بھی بات قرآن کے الفاظ سے نہیں نکلتی"۔ مرتدوں کے لئے کسی خاص جسمانی سزا کا کوئی ذکر نہیں ہے جس پر ان کو اس دنیا میں نشانہ بنایا جائے ، اور نہ ہی قرآنی آیات میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ وہ کسی مرتد کو اسلام کی طرف واپس آنے یا اسے قتل کرنے کی ضرورت پر بھی اشارہ نہیں کرتا , اگر وہ اسلام میں واپسی سے انکاربھی کرتا ہے-[سنت رسول الله میں مرتدین کو سزائیں دی گیئں اور ایک معافی بھی؟ ]
ایک اصول کہ جو سزا تورات میں تھی اور قرآن نے تبدیل نہیں کی تو وہ حکم قائم ہے ... جیسے زنا کی موت کی سزا قرآن میں نہیں مگر تورات کے مطابق جائز ہے [واللہ اعلم ]
بائبل مرتد کو سنگسار کرنے سے موت کی سزا  پر زور دیتی ہے: "تم اسے پتھروں سے مار دو گے ، کیونکہ اس نے تمہیں خداوند اپنے خدا سے دور کرنے کی کوشش کی تھی۔" (استثنا؛13:10)۔ 
دنیا کے تمام مذاہب اور سیاسی نظاموں میں ارتداد پسندی کو ہمیشہ ایک دارالحکومت جرم سمجھا جاتا ہے ، کیوں کہ یہ معاشرے کے قائم کردہ اصولوں کے خلاف ایک اعلی غداری کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ کافر رومیوں نے ابتدائی عیسائیوں کو اسی زمین پر بے دردی سے قتل کیا۔ اس کے نتیجے میں مسیحی  چرچ کی طرف سے مخالف مسیحیوں کے خلاف دہرائی گئی ، جنھیں ہلاک اور زندہ جلا دیا گیا۔ چوتھی اور پانچویں صدی کے چرچ کے بعض معتقدین نے ارتداد کو بدکاری اور قتل کی طرح سنگین سمجھا۔ بیسویں صدی میں ، کینن قانون کے رومن کیتھولک کوڈ نے اب بھی ان لوگوں کے لئے معافی کی ممانعت نافذ کردی ہے جن کے عقیدے کو مسترد کرنے سے ارتداد کی تکنیکی تعریف موزوں تھی۔ انگلستان میں ارتداد کے لئے سزائے موت طویل عرصے سے نافذ رہی۔ اسے معاشرتی اور ثقافتی پیشرفت کی وجہ سے ختم کردیا گیا۔
Apostasy:
The Bible prescribes death by stoning for apostasy: “You shall stone him to death with stones, because he sought to draw you away from the LORD your God..”(Deuteronomy;13:10). Apostasy has always been considered as a capital offence in all the religions and political systems of the world, because it is considered as a high treason against the established norms of society. The pagan Romans brutally killed the early Christians on same ground. Subsequently this practice was repeated by the Christian Church against opposing Christians, who were killed and burnt alive. Certain church theologians of the 4th and 5th centuries considered apostasy to be as serious as adultery and murder. In the 20th century, the Roman Catholic Code of Canon Law still imposed the sanction of excommunication for those whose rejection of the faith fitted the technical definition of apostasy. Death penalty for apostasy remained in force in England for long time. It was abolished due to social and cultural developments.

اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بَعۡدَ اِیۡمَانِہِمۡ ثُمَّ ازۡدَادُوۡا کُفۡرًا  لَّنۡ تُقۡبَلَ تَوۡبَتُہُمۡ ۚ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ  الضَّآلُّوۡنَ ﴿۹۰﴾

 بیشک جو لوگ  اپنے ایمان لانے کے بعد کُفر کریں پھر کُفر میں بڑھ جائیں  ، ان کی توبہ ہرگِز قبول نہ کی جائے گی   ، یہی گُمراہ لوگ ہیں ۔  [سورة آل عمران 3  آیت: 90]


 Indeed, those who reject the message after their belief and then increase in disbelief - never will their [claimed] repentance be accepted, and they are the ones astray. [ Surat Aal e Imran: 3 Verse: 90]

ااس کی ایک صورت تو یہ ہے کہ مثلاً یہود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے۔ پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا انکار کرکے کفر کا رویہ اختیار کیا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بھی انکار کردیا جو ان کے کفر میں مزید اضافہ کا سبب بن گیا۔ ایسے معاندین کے حق میں توبہ کبھی قبول نہ ہوگی۔ 
دوسری صورت یہ کہ ایک شخص ایمان لایا۔ پھر اس کے بعد مرتد ہوگیا۔ پھر اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اسلام دشمنی میں اپنی سرگرمیاں تیز تر کردیں، تو ایسے شخص کی بھی توبہ قبول نہ ہوگی۔
تیسری صورت یہ ہے کہ مرتد ہوجانے کے بعد کفر پر ڈٹا رہا اور جب موت کا وقت آپہنچا تو توبہ کی سوجھی۔ اس وقت بھی توبہ قبول نہ ہوگی۔ 
البتہ جو لوگ اپنی زندگی میں اسلام دشمنی میں سرگرم اور تقریر و تحریر کے ذریعہ لوگوں میں الحاد اور باطل عقائد پھیلانے میں سرگرم رہے ہوں ان کی توبہ قبول ہونے کی صورت اللہ تعالیٰ نے سورة بقرہ کی آیت نمبر ١٦٠ بایں الفاظ بیان فرمائی۔ ( اِلاَّ الَّذِیْنَ تَابُوْا وَاَصْلَحُوْا وَبَیَّنُوْا) یعنی ان کی توبہ کی قبولیت کے لیےیہ شرطیں لازم ہیں:
(١) سچی توبہ کریں
(٢) اپنے اعمال و افعال درست کرکے اپنی اصلاح کرلیں اور جو کچھ الحاد یا باطل عقائد وہ لوگوں میں پھیلا چکے ہیں۔ برملا اس کی تردید بھی کریں۔ اگر تقریر کے ذریعہ گمراہی پھیلائی ہے تو اسی طرح بھری محفل میں ایسے عقائد سے بیزاری کا اظہار اور اپنی غلطی کا اعتراف کریں اور اگر تحریری صورت میں گمراہی پھیلانے کے مرتکب ہوئے ہیں تو تحریری صورت میں اس کی تلافی اور اپنی غلطی کا اعتراف کریں تو ایسے لوگوں کی بھی توبہ قبول ہوسکتی ہے-

سَتَجِدُوۡنَ اٰخَرِیۡنَ یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّاۡمَنُوۡکُمۡ وَ یَاۡمَنُوۡا قَوۡمَہُمۡ ؕ کُلَّمَا رُدُّوۡۤا  اِلَی الۡفِتۡنَۃِ  اُرۡکِسُوۡا فِیۡہَا ۚ فَاِنۡ لَّمۡ یَعۡتَزِلُوۡکُمۡ وَ یُلۡقُوۡۤا اِلَیۡکُمُ السَّلَمَ وَ یَکُفُّوۡۤا اَیۡدِیَہُمۡ فَخُذُوۡہُمۡ وَ اقۡتُلُوۡہُمۡ حَیۡثُ ثَقِفۡتُمُوۡہُمۡ ؕ وَ اُولٰٓئِکُمۡ جَعَلۡنَا لَکُمۡ عَلَیۡہِمۡ سُلۡطٰنًا مُّبِیۡنًا 
 تم کچھ اور لوگوں کو ایسا بھی پاؤ گے جن کی  ( بظاہر )  چاہت ہے کہ تم سے بھی امن میں رہیں ۔  اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں   ( لیکن  ) جب کبھی فتنہ انگیزی  کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تو اوندھے منہ اس میں ڈال دیئے جاتے ہیں  ، پس اگر یہ لوگ تم سے کنارہ کشی نہ کریں اور تم سے صلح کا سلسلہ جنبانی نہ کریں اور اپنے ہاتھ نہ روک لیں  ، تو انہیں پکڑو اور مار ڈالو جہاں کہیں بھی پاؤ  ، یہی وہ ہیں جن پر ہم نے تمہیں ظاہر حُجت عنایت فرمائی ہے ۔  [سورة النساء 4  آیت: 91]


 You will find others who wish to obtain security from you and [to] obtain security from their people. Every time they are returned to [the influence of] disbelief, they fall back into it. So if they do not withdraw from you or offer you peace or restrain their hands, then seize them and kill them wherever you overtake them. And those - We have made for you against them a clear authorization. [ Surat un Nissa: 4 Verse: 91]
بدترین منافق :۔ ایسے منافق بدترین قسم کے منافق ہیں جو ڈھنڈورا تو اپنی امن پسندی کا پیٹیں اور جب داؤ لگ جائے تو اسلام دشمنی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں۔ ان کی امن پسندی کی تین ہی صورتیں ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ مسلمانوں سے صلح کرلیں۔ دوسرے یہ کہ لشکر کفار میں شامل نہ ہوں۔ اور تیسرے یہ کہ اگر انہیں مجبوراً شامل ہونا ہی پڑے تو پھر اپنے ہاتھ روکے رکھیں یعنی عملاً لڑائی میں شامل نہ ہوں۔ اور اگر یہ تینوں باتیں نہ پائی جائیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کی نیت میں فتور ہے اور وہ امن پسندی کی آڑ میں دھوکہ دے کر مسلمانوں سے انتقام لینا چاہتے ہیں لہذا ایسے منافقوں کا علاج یہ ہے کہ جب بھی موقع ملے سب سے پہلے انہیں قتل کر کے ختم کرو۔ [کیلانی]

لَا تَعۡتَذِرُوۡا قَدۡ کَفَرۡتُمۡ  بَعۡدَ  اِیۡمَانِکُمۡ ؕ اِنۡ نَّعۡفُ عَنۡ طَآئِفَۃٍ مِّنۡکُمۡ نُعَذِّبۡ طَآئِفَۃًۢ  بِاَنَّہُمۡ  کَانُوۡا  مُجۡرِمِیۡنَ
 تم بہانے نہ بناؤ یقیناً تم اپنے ایمان کے بعد بے ایمان ہوگئے  اگر ہم تم میں سے کچھ لوگوں سے درگزر بھی کرلیں  تو کچھ لوگوں کو ان کے جرم کی سنگین سزا بھی دیں گے ۔  [سورة التوبة 9  آیت: 66]


 Make no excuse; you have disbelieved after your belief. If We pardon one faction of you - We will punish another faction because they were criminals. [ Surat ut Tauba: 9 Verse: 66]

یعنی منافقوں میں سے جو لوگ نفاق سے توبہ کرلیں گے انہیں معاف کردیا جائے گا، اور جو توبہ نہیں کریں گے انہیں ضرور سزا ملے گی۔[مفتی تقی عثمانی]
..........................

اسلام میں ارتداد  عام طور پر کسی مسلمان کا  الفاظ یا عمل کے ذریعہ اسلام کو شعوری طور پر ترک کرنا ہے۔ اس میں کسی ایسے شخص کے ذریعہ ، جو کسی مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا تھا یا اس سے قبل اسلام قبول کر چکا ہو ، کسی دوسرے مذہب میں تبدیل ہونا یا عقیدے کو بے بنیاد سمجھنا ، شامل ہے۔ اسلام سے ارتداد کی تعریف ، اور کیا اس کو سزا دی جانی چاہئے ، یہ تنازعات کے معاملات ہیں اور اسلامی علماء ان سوالات پر اپنی رائے میں مختلف ہیں... دونوں نقطہ نظر پیش ہیں ...
١.مسلمان كو چاہيے كہ وہ اپنى عقل اور خواہش كى بنا پر كسى ايك قول كى طرف مائل نہ ہو اور دوسرے قول كى چھوڑ دے، بلكہ وہ حكم كو كتاب اللہ اور سنت رسول كى دليل كے ساتھ لے، اور نصوص شرعيہ اور شرعى احكام كو ہر چيز پر مقدم كرنا ضرورى ہے.
٢.بعض اوقات دل يا زبان، يا عمل كے ساتھ بھى دين اسلام سے خارج اور مرتد ہو جاتا ہے.
بعض اوقات دل كے ساتھ ارتداد ہوتا ہے، جس طرح كہ اللہ تعالى كى تكذيب كرنا، يا يہ اعتقاد ركھنا كہ اللہ عزوجل كے ساتھ كوئى اور بھى خالق ہے، يا اللہ تعالى يا اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كے بارہ ميں بغض ركھنا.

اور بعض اوقات زبان سے قول كے ساتھ ارتداد ہوتا ہے، جيسے كہ اللہ تعالى يا اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم پر ( نعوذ باللہ ) سب و شتم كرنا.
اور بعض اوقات ظاہرى اعظاء كے عمل كے ساتھ ارتداد ہوتا ہے، جيسا كہ بتوں كو سجدہ كرنا، يا قرآن مجيد كى توہين كرنا، يا نماز ترك كردينا.
مرتد انسان اصلى كافر سے زيادہ برا ہے.
شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالى اتحادى باطنى فرقہ كے رد ميں كہتے ہيں:
" يہ تو معلوم ہے كہ تتارى كفار ان مرتدوں سے بہتر اور اچھے ہيں، جو دين اسلام سے مرتد ہونے والوں ميں سے سب سے بدترين مرتد ہيں، اور مرتد اصلى كافر سے بھى كئى ايك وجوہات كى بنا پر زيادہ برا اور شرير ہے" اھ يكھيں: مجموع الفتاوى لابن تيميۃ ( 2 / 193 ).
٣. ر مسلمان جو كفريہ كام كرلے وہ كافر اور مرتد نہيں ہوتا، كچھ عذر ايسے ہيں جن كى بنا پر مسلمان معذور ہے، اور اس پر كافر كا حكم نہيں لگتا ان عذروں ميں سے كچھ درج ذيل ہيں:
جہالت، تاويل، جبر، خطاء
پہلا عذر:
جہالت: يہ كہ آدمى اسلامى ممالك سے دور رہنے كى بنا پر اللہ تعالى كے حكم سے جاہل ہو، مثلا وہ شخص جو گاؤں ميں پرورش پائے يا كفار كے ممالك ميں يا پھر جاہليت كے دور كے قريب ہو اور نيا مسلمان ہوا ہو، اس ميں كئى مسلمان بھى داخل ہو سكتے ہيں جو ايسے معاشروں ميں رہائش پذير ہيں جو جہالت ميں ڈوبے ہوئے ہيں، اور وہاں علم كى كمى ہے، اور وہى ہيں جن كے بارہ ميں سائل كو ان كےكفر اور قتل ميں اشكال پيدا ہوا ہے.
دوسرا عذر: تاويل
وہ يہ كہ كوئى شخص اللہ تعالى كے حكم كى تفسير غير شرعى مراد ميں كرے، مثلا وہ شخص جو بدعتى لوگوں كى ان مسائل ميں تقليد كرنا جن ميں انہوں نے تاويل كى ہے، مثلا مرجئہ اور معتزلہ، اور خوارج وغيرہ
تيسرا عذر: جبر كرنا:
جيسا كہ اگر كوئى ظالم شخص كسى مسلمان شخص پر مسلط ہو جائے اور اسے تكليف اور عذاب دے اور صريح كفريہ كلمہ كہے بغير نہ چھوڑے، تو وہ اس مصيبت سے جان چھڑانے كے ليے اپنى زبان سے كفريہ كلمہ تو كہہ رہا ہو ليكن اس كا دل ايمان پر مطمئن ہو.
چوتھا عذر: خطاء اور غطلى:
بغير كسى قصد اور ارادہ كے زبان سے سے كفريہ لفظ نكل جائے.
اور ہر وہ شخص جو وضوء كے طريقہ سے جاہل ہو، يا نماز كے طريقہ سے جاہل ہے يہ ممكن نہيں كہ وہ اس ميں معذور ہو، حالانكہ وہ مسلمانوں كو نماز ادا كرتے ہوئے ديكھتا ہے، پھر وہ نماز كى آيات پڑھتا اور سنتا بھى ہے، تو كونسا ايسا مانع ہے جو اسے نماز ادا كرنے سے منع كر رہا ہے يا پھر اس كى كيفيت اور شروط كے بارہ ميں سوال كرنے سے روك رہا ہے؟

چہارم: مرتد كو ارتداد كے فورا بعد قتل نہيں كيا جائےگا، اور خاص كر جب اسكے ارتداد كا باعث اسے پيش آنے والا كوئى شبہ اور اشكال ہو، بلكہ اسے ارتداد كے بعد توبہ كروائى جائے گى اور كہا جائے كہ توبہ كرلو، اور اسے اسلام كى طرف واپس پلٹنے كى پيشكش كى جائے گى، اور اس كا شبہ اور اشكال زائل اور دور كيا جائے گا، اور اگر وہ اس كے بعد پھر بھى كفر پر اصرار كرے تو اسے قتل كر ديا جائے گا. جو قاضی یا ججج عدلیہ کے زریعے ہو گا نہ کہ افراد یا گروہ -
ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالى اپنى كتاب " المغنى " ميں كہتے ہيں: مرتد كو اس وقت تك قتل نہيں كيا جائے گا جب تك كہ اس سے تين بار توبہ طلب نہ كى جائے، اكثر علماء كا قول يہى ہے، جن ميں عمر، على رضى اللہ تعالى عنہما اور عطاء، النخعى، امام مالك، الثورى، اوزاعى، اسحاق، اور اصحاب الرائے رحمہم اللہ شامل ہيں....
كيونكہ ارتداد كسى شبہہ اور اشكال كى بنا پر ہوگا، اور وہ شبہہ اسى وقت زائل نہيں ہو سكتا اس ليے اتنى مدت انتظار كرنا ضرورى ہے جس ميں وہ ممطئن ہو سكے، اور يہ مدت تين يوم ہے. [ المغنى لابن قدامۃ ( 9 / 18 ).]
سنت صحيحہ مرتد كے قتل پر دلالت كرتى ہے:
بخارى رحمہ اللہ تعالى نے ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما سے بيان كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" جو اپنا دين بدل لے اسے قتل كردو" صحيح بخارى حديث نمبر ( 6922 ).
عبد اللہ بن مسعود رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: " كسى بھى ايسے مسلمان كا خون حلال نہيں جو يہ گواہى ديتا ہو كہ اللہ تعالى كے علاوہ كوئى معبود نہيں اور ميں اللہ تعالى كا رسول ہوں، ليكن تين وجوہ ميں سے ايك كى بنا پر: قتل كے بدلے قتل، شادى شدہ زانى ، اور اپنے دين كو ترك كركے جماعت سے عليحدہ ہونے والا " صحيح بخارى حديث نمبر ( 6486 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1676 )
ان احاديث كا عموم مرتد كے قتل پر دلالت كرتا ہے، چاہے وہ محارب ہو يا غير محارب، يعنى دين كے خلاف جنگ كرے يا نہ كرے. 
اور يہ قول كہ: اس مرتد كو قتل كيا جائے گا جو دين كے خلاف لڑنے والا يعنى محارب ہو يہ احاديث كے خلاف ہے، نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے تو اس كے قتل كا سبب ارتداد بنايا ہے نہ كہ دين كے خلاف محاربہ.
اور اس ميں كوئى شك نہيں كہ ارتداد كى بعض اقسام اور انواع ايك دوسرے سے زيادہ قبيح اور شنيع ہوتى ہيں، محارب كا ارتداد دوسرے مرتد سے زيادہ قبيح ہے، اور اسى ليے علماء كرام نے ان كے مابين فرق كيا ہے، اور محارب مرتد كے ليے توبہ كى شرط نہيں ركھى اور نہ ہى اس كى توبہ قبول ہوتى ہے، بلكہ اگر وہ توبہ بھى كر لے تو اسے قتل كر ديا جائے گا.
ليكن اگر وہ مرتد محارب نہيں تو اس كى توبہ قبول ہو گى اور اسے قتل نہيں كيا جائے گا، شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالى نے اسے ہى اختيار كيا ہے.
شيخ الاسلام ابن رحمہ اللہ تعالى كا كہنا ہے: ارتداد كى دو قسميں ہيں:
صرف ارتداد، اور ارتداد مغلظ اس كى بنا پر شريعت نے قتل مشروع كيا ہے، اور ان دونوں كى بنا پر قتل كرنے كى دليل موجود ہے. اور توبہ كى بنا پر قتل ساقط ہونا ان دونوں قسموں كو عام نہيں، بلكہ پہلى قسم صرف ارتداد كو شامل ہے، جيسا كہ مرتد كى توبہ قبول كرنے كے دلائل پر تدبر اور غور وفكر كرنے والے كے ليے ظاہر ہوتا ہے. اور باقى رہى دوسرى قسم يعنى ارتداد مغلظ ـ اس مرتد كو قتل كرنے كے وجوب پر دليل پائى جاتى ہے، اور كوئى نص اور اجماع نہيں ملتا جو اس سے قتل كو ساقط كرتى ہو، اور ظاہر اور صاف فرق ہونے كى بنا پر اس ميں قياس كرنا ممكن نہيں، لہذا الحاق نہيں ہو سكتا.

اور اس طريقہ كو ثابت كرتا ہے وہ يہ كہ كتاب اللہ اور نہ ہى سنت نبويہ اور اجماع ميں يہ نہيں آيا كہ جو شخص بھى كسى قول يا كسى فعل كى بنا پر مرتد ہو جب وہ پكڑے جانے كے بعد توبہ كر لے تو اس سے قتل ساقط ہو جاتا ہے، بلكہ كتاب اللہ اور سنت نے تو مرتد كى دونوں قسموں ميں فرق كيا ہے.... [ديكھيں: الصارم المسلول على شاتم الرسول ( 3 / 696 ).]

اور حلاج مشہور زنديقوں ميں سے تھا جسے بغير كسى توبہ طلب كيے قتل كيا گيا تھا: قاضى عياض رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں: مقتدر جو مالكيہ ميں تھا كے دور ميں بغداد كے فقھاء كرام نے حلاج كے قتل اور سولى پر لٹكانے پر اتفاق كيا كيونكہ حلاج نے الوہيت كا دعوى كيا تھا، اور حلول كا قائل تھا، اور اس كا قول ہے: " انا الحق" ميں حق ہوں، حالانكہ وہ ظاہرى طور پر شريعت پر عمل كرتا تھا، اور انہوں نے اس كى توبہ قبول نہيں كى.[ الشفا بتعريف حقوق المصطفى ( 2 / 1091 ).]
اس بنا پر يہ متعين ہوا كہ سائل نے جو يہ كہا ہے كہ مرتد كو اس وقت قتل كيا جائے گا جب وہ دين كے خلاف جنگ كرے يعنى محارب دين ہو، اور شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالى سے جو فرق ہم نے بيان كيا ہے اميد ہے اس سے اشكال دور ہو جائےگا اور مراد كى وضاحت ہو گى. 
اور دين كے خلاف جنگ صرف اسلحہ كے ساتھ ہى محصور نہيں بلكہ زبانى جنگ بھى ہوتى ہے، مثلا: اسلام يا نبى صلى اللہ عليہ وسلم پر سب و شتم، يا قرآن مجيد ميں طعن، وغيرہ كرنا، بلكہ بعض اوقات تو زبانى جنگ اسلحہ كى جنگ سے بھى زيادہ شديد ہوتى ہے.
شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:محاربہ اور جنگ كرنے كى دو قسميں ہيں: ہاتھ كے ساتھ اور زبان كے ساتھ: دين كے بارہ ميں زبانى جنگ بعض اوقات ہاتھ كے ساتھ جنگ كرنے سے زيادہ سخت ہوتى ہے، جيسا كہ پہلے مسئلہ ميں اس كا بيان گزر چكا ہے، اور اسى ليے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم زبانى جنگ كرنے والے كو قتل كرتے تھے اور ہاتھ كے ساتھ جنگ كرنے والوں ميں سے بعض كو قتل نہيں كيا.  خاص كر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى موت كے بعد ان كے ساتھ تو صرف زبانى جنگ ممكن ہے، اور اسى طرح بعض اوقات ہاتھ كے ساتھ بھى فساد ہوتا ہے، اور بعض اوقات زبان كے ساتھ، اور مختلف اديان ميں جو فساد زبان كے ذريعہ ہوا ہے وہ ہاتھ كے فساد سے كئى گناہ زيادہ ہے، جيسا كہ اديان ميں جو اصلاح زبان كے ساتھ ہوئى ہے وہ ہاتھ كےساتھ اصلاح سے كئى گنا زيادہ ہے تو اس سے يہ ثابت ہوا كہ زبان كے ساتھ اللہ تعالى اور اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم سے جنگ كرنا زيادہ شديد ہے، اور زمين ميں زبان كے ساتھ فساد مچانے كى كوشش كرنا زيادہ يقينى ہے. ديكھيں: الصارم المسلول على شاتم الرسول ( 3 / 735 ). [https://islamqa.info/ur/answers/14231/]

مرتد اور ارتداد ارتداد کے لفظی معنی ہیں لوٹنا یا پهر جانا ، اور مرتد وه شخص ہے جو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف لوٹ جائے - عام طور پر یہ لفظ دینی ارتداد کے لیے بولا جاتا ہے - روایتی طور پر یہ سمجها جاتا ہے کہ جو شخص اسلام قبول کرے اور پهر وه اسلام کو چهوڑ کر دوسرے دین کی طرف چلا جائے تو اس کے بارے میں شریعت کا حکم یہ ہے کہ اس کو قتل کر دیا جائے - اس معاملہ میں سب سے پہلی بات یہ جاننا چاہئے کہ ارتداد ایک فوجداری جرم نہیں ہے بلکہ وه ایک فکری انحراف ہے ، اور فکری انحراف کرنے والا سب سے پہلے تبلیغ و نصیحت کا موضوع ہوتا ہے نہ کہ سزا کا موضوع - اگر کوئی شخص اعلان کے ساته مرتد ہو جائے تو مسلم معاشره کا پہلا فرض یہ ہے کہ وه اس کو سمجهانے بجهانے کی کوشش کرے - وه دلیل اور نصیحت کے ذریعہ مرتد کو آماده کرے کہ وه دوباره اسلام کی طرف واپس آ جائے - اگر قابل لحاظ مدت تک نصیحت پر عمل کرنے کے بعد بهی وه شخص دوباره اسلام قبول نہ کرے تو اس کے بعد بهی افراد معاشره کو یہ حق نہیں کہ وه اس کو ماریں یا بطور خود اس کو کوئی سزا دیں - اس کے بعد انہیں یہ کرنا چاہئے کہ اس شخص کے معاملہ کو اسلامی عدالت کے حوالہ کر دیں - اب یہ عدالت کا کام ہو گا کہ وه ضروری تحقیق کے بعد اس کے جرم کی نوعیت متعین کرے اور پهر اس کے بارے میں شرعی حکم کا فیصلہ دے - مرتد کی سزا کا مسئلہ موجوده زمانہ میں اسلام کی نسبت سے جو سوالات قائم کیے گئے ہیں ان میں سے ایک سوال وه ہے جس کا تعلق اسلام میں مرتد کی سزا سے ہے - روایتی فقہ کے مطابق ، مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص جو باقاعده طور پر مسلم سماج کا ایک ممبر ہو وه اگر اعلان کے ساته یہ کہے کہ میں نے اسلام کو اپنے مذہب کی حیثیت سے چهوڑ دیا ہے - میں اب عقیده کے اعتبار سے مسلم نہیں - اس روش کو شریعت میں ارتداد یعنی اسلام سے پهر جانا کہا جاتا ہے ، اور جو شخص اس روش کا ارتکاب کرے اس کے بارے میں اکثر فقہائے اسلام یہ کہتے ہیں کہ اس کو حد شرعی کے طور پر قتل کیا جائے گا (یقتل حدا) فقہ اسلامی کے اس روایتی مسلک کو لے کر موجوده زمانہ میں یہ کہا جانے لگا ہے کہ اسلام ایک جبری مذہب ہے - اسلام میں مذہبی آزادی کا تصور موجود نہیں - ضرورت ہے کہ اس مسئلہ کا خالص علمی اور تحقیقی اعتبار سے مطالعہ کیا جائے اور کسی صحیح مسلک تک پہنچنے کی کوشش کی جائے - زیر نظر مقالہ کا موضوع یہی ہے - اس مقالہ میں اول فقہ کا جائزه لیا جائے گا اور یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ کیا فقہ ، قرآن کی طرح ابدی ہے یا وه قرآن کی ابدی تعلیمات کی زمانی تعبیر ہے اور وه اس شرعی اصول کے ماتحت ہے کہ "تتغیر الاحکام بتغیر الزمان والمکان" یعنی زمان اور مکان کے بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں - فقہ کی حیثیت کچهہ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ قرآن اسلام کی دوامی تعبیر ہے اور سنت اسلام کہ زمانی تعبیر - یہ بات سنت رسول کے باره میں تو صحیح نہیں - البتہ فقہ کے باره میں ضرور وه صداقت کا ایک پہلو رکهتی ہے - موجوده مدون فقہ ان معنوں میں کوئی مطلق چیز نہیں جن معنوں میں قرآن یا ثابت شده سنت ایک مطلق چیز ہے - فقہ دراصل ایک مخصوص زمانہ میں اسلام کے عملی انطباق کی حیثیت سے وجود میں آئی - اس لیے اس کے اندر زمانی حالات کی چهاپ بالکل نا گزیر تهی - مثال کے طور پر فقہ کی مشہور کتاب فتاوی قاضی خاں میں ایک جزئیہ بیان ہوا ہے کہ اگر کوئی شخص قسم کها لے کہ وه ہوا میں اڑے گا تو ایسی قسم پر کفاره واجب نہیں - کیونکہ ہوا میں اڑنا ایک محال امر ہے - اس بنا پر وه ایک مہمل قسم (المائده 89) قرار پاتی ہے جس پر شریعت میں کوئی کفاره نہیں - آج کوئی بهی مفتی ایسی قسم پر اس طرح کا فتوی نہیں دے گا - کیونکہ آج حالات بدل چکے ہیں - آج ہوا میں اڑنا محال نہیں رہا - یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ موجوده مدون فقہ ، اپنے قیمتی دوامی اجزاء کے ساته ، اس قسم کے زمانی اجزا بهی اپنے اندر لیے ہوئے ہے - ایک مثال احکام میں زمانی رعایت کی ایک مثال مولفته القلوب (التوبہ 60) ہے - یہ امر متفق علیہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بہت سے لوگوں کو تالیف قلب کے لیے وظیفے اور عطیے دئے گئے - لیکن اس بات میں اختلاف ہے کہ آپ کے بعد صدقات کی یہ مد باقی ہے یا نہیں - اکثر فقہاء اس مد کو کسی نہ کسی طور پر باقی مانتے ہیں مگر فقہائے احناف کے نزدیک اب یہ مد ساقط ہو چکی ہے ، اب مولفتہ القلوب کو اس سلسلہ میں کچهہ دینا جائز نہیں - حنفیہ کا استدلال اس واقعہ سے ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد عیینہ بن حصن اور اقرع بن حابس حضرت ابو بکر کے پاس آئے اور انہوں نے ایک زمین آپ سے طلب کی - آپ نے ان کو عطیہ کا فرمان لکهہ دیا - انہوں نے چاہا کہ مزید پختگی کے لیے دوسرے صحابہ کی تصدیق بهی اس فرمان پر حاصل کر لیں - اس مقصد کے لیے یہ لوگ حضرت عمر فاروق کے پاس گئے - انہوں نے اس فرمان کو پڑه کر اسے ان کے آنکهوں کے سامنے چاک کر دیا اور ان سے کہا کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم لوگوں کو تالیف قلب کے لیے تمہیں دیا کرتے تهے مگر وه اسلام کی کمزوری کا زمانہ تها - اب اللہ نے اسلام کو تم جیسے لوگوں سے بے نیاز کر دیا ہے - اس پر وه لوگ خلیفہ ابوبکر صدیق کے پاس شکایت لے کر آئے اور کہا کہ خلیفہ آپ ہیں یا عمر - لیکن نہ تو ابوبکر صدیق نے اس پر کوئی نوٹس لیا اور نہ دوسرے صحابہ میں سے ہی کسی نے حضرت عمر کی اس رائے سے اختلاف کیا - اس سے حنفیہ یہ دلیل لاتے ہیں کہ جب مسلمان کثیر التعداد ہو گئے اور ان کو یہ طاقت حاصل ہو گئ کہ اپنے بل بوتے پر کهڑے ہو سکیں تو وه سبب باقی نہیں رہا جس کی وجہ سے ابتداء مولفتہ القلوب کا حصہ رکها گیا تها ، اس لیے با اجماع صحابہ یہ حصہ ہمیشہ کے لیے ساقط ہو گیا ہے - (قاضی محمد ثناءاللہ العثمانی ، التفسیر المظهری ، الرابع ، صفحہ 234-236) حنفیہ کا یہ مسلک واضح طور پر زمانی تاثر کا نتیجہ ہے - حنفی فقہ چونکہ ایسے زمانہ میں مرتب ہوئی جب اسلام غالب حالت پر تها - اس لئے بظاہر تالیف قلب کی ضرورت پائی نہیں جاتی تهی - اس وقتی صورت حال کی بنا پر انہوں نے اپنا مزکوره مسلک بنایا - مگر اب دوباره حالات بدل چکے ہیں - چنانچہ متعدد علماء نے صراحت کی ہے کہ قرآن کے دوسرے احکام کی طرح یہ حکم بهی دائمی ہے اور وه اب بهی مطلوب ہے - ارتداد کے سلسلے میں جو لوگ فقہ سے استدلال کرتے ہیں کہ اس کی سزا قتل ہے ، اس کی نوعیت بهی کچهہ اسی قسم کی ہے - موجوده فقہ اس وقت مدون ہوئی جب کہ اسلام ایک سیاسی نظام کی حیثیت سے بالفعل ایک با اقتدار طاقت بن چکا تها - اس وقت ارتداد کے معنی ساده طور پر صرف اسلامی عقیده بدلنے کے نہیں تهے بلکہ ارتداد کے بیش تر واقعات سیاسی وفاداری تبدیل کرنے کے ہم معنی بن گئے تهے - اس وقت کے حالات کے اعتبار سے ارتداد عموما بغاوت کے ہم معنی ہوا کرتا تها - یہ تها وه پس منظر جس میں وه فقہی احکام مرتب ہوئے جو آج ہمیں کتابوں کے اندر لکهے ہوئے ملتے ہیں - یہی وجہ ہے کہ اس معاملہ میں فقہاء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے - جن لوگوں نے ارتداد کو وقت کے عملی اور عمومی مسئلہ کی روشنی میں ریاست سے بغاوت کے معنی میں لیا ، انہوں نے اس کی سزا قتل قرار دی - کیونکہ ریاست سے بغاوت کی سزا بلاشبہ یہی ہے - اور جن لوگوں نے ارتداد کو مجرد تبدیلی مذہب کے عقیده کے معنی میں لیا ، انہوں نے طلب توبہ کے سوا کسی اور کارروائی کی ضرورت نہیں سمجهی - [حکمت اسلام، مولانا وحیدالدین خان]


Apostasy in Islam  is commonly defined as the conscious abandonment of Islam by a Muslim in word or through deed. It includes the act of converting to another religion or non-acceptance of faith to be irreligious, by a person who was born in a Muslim family or who had previously accepted Islam. The definition of apostasy from Islam, and whether and how it should be punished, are matters of controversy and Islamic scholars differ in their opinions on these questions....


The Bible prescribes death by stoning for apostasy:
“You shall stone him to death with stones, because he sought to draw you away from the LORD your God..”(Deuteronomy;13:10). Apostasy has always been considered as a capital offence in all the religions and political systems of the world, because it is considered as a high treason against the established norms of society. The pagan Romans brutally killed the early Christians on same ground. Subsequently this practice was repeated by the Christian Church against opposing Christians, who were killed and burnt alive. Certain church theologians of the 4th and 5th centuries considered apostasy to be as serious as adultery and murder. In the 20th century, the Roman Catholic Code of Canon Law still imposed the sanction of excommunication for those whose rejection of the faith fitted the technical definition of apostasy. Death penalty for apostasy remained in force in England for long time. It was abolished due to social and cultural developments.



Apostasy:
(Quran 3:90 , 4:91, 9:66, 16:106)

Religious Freedom: (2:256, 18:29, 10:99, 88:21–22, 11:28)

Popular Books