Skip to main content

خلاصہ قرآن و منتخب آیات - پارہ # 3

.
تیسرا پارہ سورہ بقرہ آیت 253 سے سورة آل عمران آیت 92 تک مشتمل ہے ۔تیسرے پارے کے شروع میں اللہ نے اس بات کا ذکر کیا کہ اللہ کے بعض رسولوں کو دوسرے رسولوں پر فضیلت حاصل ہے‘ ان میں سے بعض نے اللہ کے ساتھ کلام کیا اور بعض کے درجات کو اللہ نے بلند فرمادیا اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ تمام رسولوں میں سے سب سے زیادہ بلند مقام ہمارے نبی ﷺ کا ہے ۔ 
اس پارے میں آیت الکر سی ہے‘ جو کہ قرآن مجید کی سب سے افضل آیت ہے ۔آیت الکرسی کی تلاوت کرنے والے کو اللہ تعالیٰ‘ شیاطین کے حملوں سے محفوظ فرما لیتے ہیں ۔
تیسرے پارے میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے بہت سے اہم واقعات بھی بیان کیے ہیں۔ پہلا واقعہ جناب ابراہیم کا دربار نمرود میں اُس کے ساتھ اللہ کی ذات کے بارے میں مناظرانہ مکالمے کا ہے۔ جس وقت ابراہیم ںدربارنمرودمیں جاکراللہ کی توحید کی تبلیغ کرتے ہیں ‘تو ابراہیم اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں کہتے ہیں: میرا پروردگا ر زندہ بھی کرتا ہے اور مارتا بھی ہے۔ جواب میں نمرود کہتا ہے کہ میں بھی مارتا ہو ں اور زندہ کرتا ہوں ۔اس ظالم نے ایک مجرم کو آزاد کر دیا اور ایک بے گناہ کو موت کے گھاٹ اتاردیا ۔ ابراہیم اس کے مکر کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ بے شک اللہ تعالیٰ سورج کو مشرق سے لے کر آتا ہے‘ پس تُو اس کو مغرب سے لے کر آ۔یہ بات سن کر نمرود کے لبوں پر چپ کی مہر لگ گئی‘ اس لیے کہ وہ جانتا تھاکہ اس مطالبے کو پورا کرنا نا ممکن ہے۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے (حضرت عزیر) کے اس واقعے کا بھی ذکر کیا ہے کہ وہ ایک اجڑی ہو ئی بستی کے پاس سے گزرے اور کہا کہ یہ بستی کیوں کر دوبارہ زندہ ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے عزیرکو سو برس کے لیے سلا دیااور پھر ان کو دوبارہ زندہ کردیا ۔
حضرت عزیراور جناب ابراہیم کا واقعہ یہ بات سمجھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے قیامت کے دن مردوں کو زندہ کرنا چنداں مشکل نہیں ہے اور جب اللہ تعالیٰ انسانوں کو زندہ ہونے کا حکم دیں گے‘ تو مردہ انسان بالکل صحیح حالت میں اٹھ کر کھڑے ہوں گے ۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے انفاق فی سبیل اللہ کی فضیلت کا بھی ذکر کیا ہے اور بتلایا کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کیے گئے مال کو اللہ تعالیٰ سات سو گنا کر کے پلٹائیں گے اور کئی لو گوں کو اس سے بھی زیادہ بدلہ ملے گا ۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے سود کی بھی مذمت کی اور کہا کہ جو لوگ سود کھانے سے باز نہیں آتے ‘ان کا اللہ او ر اس کے رسول کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔
سورہ بقرہ کے بعد سو رہ آلِ عمران ہے۔ سورہ آلِ عمران کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن ِمجید کو حق کے ساتھ نازل فرمایا ‘جو کہ سابقہ کتابوں کی تصدیق کرتا ہے اور اس سے قبل اس نے تورات اور انجیل کو نازل فرمایا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورہ میں اس امر کا بھی ذکر کیا کہ وہ رحم مادر میں انسانوں کو جس طرح چاہتا ہے ‘صورت عطا فرما دیتا ہے‘ وہ بغیر رنگ‘ روشنی اورکینوس کے دھڑکتے ہوئے دل والا انسان بنا دیتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میںیہ بھی بتلایا کہ قرآن مجید میں دو طرح کی آیات ہیں‘ ایک محکم اور دوسری متشابہ۔ فرمایا کہ محکم آیات کتاب کی اصل ہیں اور متشابہا ت کی تاویل کا علم صرف اللہ کے پاس ہے۔ جن لوگوں کے دلوں میں مرض ہوتا ہے وہ متشابہات کی تاویل کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں اور اہل ایمان کہتے ہیں جو کچھ بھی ہمارے رب نے اتارا ہمارا اس پر کامل ایمان ہے۔ اس سورت میںاللہ تعالیٰ نے بتلایا کہ اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے اس لیے جو آخرت کی فلاح و بہبود کا خواہشمند ہے اس کو اسلام کا راستہ اختیار کرنا ہو گا ۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا کہ اللہ نے آدم ‘ نوح ‘آل ابراہیم اور آلِ عمران کو دنیا پر فضیلت عطا فرمائی تھی۔ سورہ آلِ عمران میں اللہ تعالیٰ نے جنابِ عمران کی اہلیہ کی کا ذکر کیا ہے کہ انہوں نے منت مانی کہ وہ اپنے نوزائیدہ بچے کو اللہ تعالیٰ کے لیے وقف کر دیں گی۔ آپ کے یہاں پر بچے کی بجائے بچی کی ولادت ہوئی۔ جناب عمران کی اہلیہ نے اپنی منت کو بچی ہونے کے باوجود پورا کیا اور آپ کا نام مریم رکھ کر آپ کو جناب زکریا کی کفالت میں دے دیا ۔اللہ تعالیٰ نے جناب مریم کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما لیااور آپ کے بچپن سے لے کر جوانی تک کے تمام ایام اللہ کی بندگی میں صرف ہوتے رہے‘ یہاں تک کہ بارگاہ الٰہی سے آپ کے لیے یہ کرامت بھی ظاہر ہوئی کہ آپ کے پاس بے موسم کے پھل آنے لگے ۔حضرت زکریا ںجو مریم کے خالوبھی تھے‘ ایک دن اس محراب میں داخل ہوئے ‘جہاں سیدہ مریم عبادت میں مشغول رہتی تھیں۔ انہوں نے سیدہ مریم سے پوچھاکہ آپ کے پاس یہ بے موسم کے پھل کہاں سے آتے ہیں۔ کہا: اللہ کی طرف سے آتے ہیں ‘وہ جس کو چاہتا ہے‘ بلا حساب رزق دیتا ہے۔حضرت زکریا ں بے اولاد تھے اور آپ کی بیوی بانجھ تھیں۔ سیدہ مریم کے پاس بے موسم کے پھل دیکھ کر جناب زکریا بھی رحمت ِالہٰی سے پُرامید ہوگئے اور آپ نے دعا مانگی :اے میرے پروردگار! مجھے بھی اپنی طرف سے پاک اولاد عطا فرما ۔حضرت زکریاں محراب میں نماز ادا فرما رہے تھے کہ فرشتے نے آپ کو پکارکر کہا: ''اے زکریا!آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یحییٰ نامی پارسا اورسردار بیٹے کی بشارت ہو‘‘۔ حضرت زکریا اس کے بعد تین دن تک خلوت نشین ہوکر اللہ کے ذکر اور تسبیح میں مشغول رہے۔ 
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جناب مریم کے ہاں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی معجزاتی ولادت کا ذکر کیا ہے۔ سیدہ مریم کادل اس بات کو قبول نہیں کررہا تھا‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کوبن شوہر کے ایک بیٹا عطا کیا ‘جو اللہ کے حکم سے کوڑھ اور برص کے مریضوں پر ہاتھ پھیرتے تو وہ شفایاب ہوجاتے۔ حضرت عیسیٰں بنی اسرائیل کے لوگوں کو اللہ کے حکم سے گھر میں کھائے جانے اور باقی رہ جانے والے کھانے کی بھی خبر دیتے تھے ۔حضرت عیسیٰں کی معجزاتی پیدائش کی وجہ سے عیسائی ان کو اللہ کا بیٹا قرار د ینے لگے ۔اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بے شک عیسیٰ علیہ السلام کی مثال اللہ کے نزدیک آدم جیسی ہے‘ جن کو اللہ نے بن باپ اور بن ماں کے مٹی سے پیدا کیااور کہا ہوجا تو وہ ہوگئے۔ (قرآن میں حضرت آدم اور عیسیٰ علیہ السلام کا نام بھی برابر ٢٥ مرتبہ ہے) اس سورہ میں اللہ نے یہ بھی بتلایا کہ کفا رحضرت عیسیٰں کی جان کے درپے تھے ۔اللہ نے حضرت عیسیٰں کو بشارت دی کہ میں آپ کو اٹھا لوں گا اور کفار آپ کا بال بھی بیکا نہیں کرسکیں گے ۔
اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے عالم ارواح میں رسول کریمﷺ کے مقام کا بھی ذکرکیا ہے کہ عالم ارواح میں اللہ نے انبیا ء کی روحوں سے اس بات کا عہد لیا تھا کہ اگر ان کی زندگی میں رسول اللہ ﷺ آجائیں تو پھر ان پر ایمان لانا اور ان کی حمایت کرنا گروہ انبیاء پرلازم ہوگا ۔اس پارے کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ کفر پر مرنے والے؛ اگر زمین کی مقدار کے برابر سونا بھی لے کر آئیں‘ تو اللہ تعالیٰ اس سونے کے بدلے میں انہیں معاف نہیں کریں گے اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا ۔ [ علامہ ابتسام الہی ظہیر ]

منتخب آیات ، ترجمہ 

 اے ایمان والو! جو ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہو اس سے پہلے کہ وه دن آئے جس میں نہ تجارت ہے نہ دوستی اور شفاعت اور کافر ہی ﻇالم ہیں (2:254)
آیت الکرسی :
اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو زنده اور سب کا تھامنے واﻻ ہے، جسے نہ اونگھ آئے نہ نیند، اس کی ملکیت میں زمین اور آسمانوں کی تمام چیزیں ہیں۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے، وه جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وه اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جتنا وه چاہے، اس کی کرسی کی وسعت نے زمین و آسمان کو گھیر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کی حفاﻇت سے نہ تھکتا اور نہ اکتاتا ہے، وه تو بہت بلند اور بہت بڑا ہے (2:255)
 دین کے بارے میں کوئی زبردستی نہیں، ہدایت ضلالت سے روشن ہوچکی ہے، اس لئے جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے معبودوں کا انکار کرکے اللہ تعالیٰ پر ایمان ﻻئے اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا، جو کبھی نہ ٹوٹے گا اور اللہ تعالیٰ سننے واﻻ، جاننے واﻻ ہے (2:256)
 اے ایمان والو! اپنی خیرات کو احسان جتا کر اور ایذا پہنچا کر برباد نہ کرو! جس طرح وه شخص جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرے اور نہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھے نہ قیامت پر، اس کی مثال اس صاف پتھر کی طرح ہے جس پر تھوڑی سی مٹی ہو پھر اس پر زوردار مینہ برسے اور وه اسے بالکل صاف اور سخت چھوڑ دے، ان ریاکاروں کو اپنی کمائی میں سے کوئی چیز ہاتھ نہیں لگتی اور اللہ تعالیٰ کافروں کی قوم کو (سیدھی) راه نہیں دکھاتا (2:264)
سود خور لوگ نہ کھڑے ہوں گے مگر اسی طرح جس طرح وہ کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان چھو کر خبطی بنا دے یہ اس لئے کہ یہ کہا کرتے تھے کہ تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال کیا اور سود کو حرام، جو شخص اپنے پاس آئی ہوئی اللہ تعالیٰ کی نصیحت سن کر رک گیا اس کے لئے وہ ہے جو گزرا اور اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہے، اور جو پھر دوبارہ ﴿حرام کی طرف﴾ لوٹا، وہ جہنمی ہے، ایسے لوگ ہمیشہ ہی اس میں رہیں گے (275) اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقہ کو بڑھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی ناشکرے اور گنہگار سے محبت نہیں کرتا (2:276) 
اے ایمان والو! جب تم آپس میں ایک دوسرے سے میعاد مقرر پر قرض کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو (2:282)
جو نیکی وه کرے وه اس کے لئے اور جو برائی وه کرے وه اس پر ہے( 2:286)
جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کرتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے اور اللہ تعالیٰ غالب ہے، بدلہ لینے واﻻ ہے (3:4)
وہی اللہ تعالیٰ ہے جس نے تجھ پر کتاب اتاری جس میں واضح مضبوط آیتیں ہیں جو اصل کتاب ہیں اوربعض متشابہ آیتیں ہیں۔ پس جن کے دلوں میں کجی ہے وه تواس کی متشابہ آیتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں، فتنے کی طلب اور ان کی مراد کی جستجو کے لئے، حاﻻنکہ ان کے حقیقی مراد کو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا اور پختہ ومضبوط علم والے یہی کہتے ہیں کہ ہم تو ان پر ایمان ﻻچکے، یہ ہمارے رب کی طرف سے ہیں اور نصیحت تو صرف عقلمند حاصل کرتے ہیں۔ (3:7) 
 بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے (3:19)
 مومنوں کو چاہئے کہ ایمان والوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں اور جوایسا کرے گا وه اللہ تعالیٰ کی کسی حمایت میں نہیں مگر یہ کہ ان کے شر سے کسی طرح بچاؤ مقصود ہو، اور اللہ تعالیٰ خود تمہیں اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹ جانا ہے (3:28) ،(5:51) 
اللہ تمہیں اس بات سے منع نہیں کرتا کہ جن لوگون نے دین کے معاملہ میں تم سے جنگ نہیں کی اور نہ ہی تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا ہے کہ تم ان کے ساتھ نیکی کرو اور ان کے ساتھ انصاف کرو بےشک اللہ انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔  اللہ تو صرف تمہیں ان لوگوں سے دوستی کرنے سے منع کرتا ہے جنہوں نے دین کے بارے میں تم سے جنگ کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکا لنے میں ایک دوسرے کی مدد کی اور جو ان سے دوستی کرے گا وہی ظالم ہیں۔ [سورة الممتحنة 60:8,9]

~~~~~~~~~
🌹🌹🌹
🔰 Quran Subjects  🔰 قرآن مضامین 🔰
"اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا" [ الفرقان 25  آیت: 30]
The messenger said, "My Lord, my people have deserted this Quran." (Quran 25:30)
~~~~~~~~~
اسلام دین کامل کو واپسی ....
"اللہ چاہتا ہے کہ تم پر ان طریقوں  کو واضح کرے اور انہی طریقوں پر تمہیں چلائے جن کی پیروی تم سے پہلے گزرے ہوئے صلحاء کرتے تھے- وہ اپنی رحمت کے ساتھ تمہاری طرف متوجّہ ہونے کا ارادہ رکھتا ہے ، اور وہ علیم بھی ہے اور دانا بھی- ہاں، اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ خود اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور نکل جاؤ. اللہ تم پر سے پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے." (قرآن  4:26,27,28]
اسلام کی پہلی صدی، دین کامل کا عروج کا زمانہ تھا ، خلفاء راشدین اور اصحابہ اکرام، الله کی رسی قرآن کو مضبوطی سے پکڑ کر اس پر کاربند تھے ... پہلی صدی حجرہ کے بعد جب صحابہ اکرام بھی دنیا سے چلے گیے تو ایک دوسرے دور کا آغاز ہوا ... الله کی رسی قرآن کو بتدریج پس پشت ڈال کر تلاوت تک محدود کر دیا ...اور مشرکوں کی طرح فرقہ واریت اختیار کرکہ دین کامل کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے-  ہمارے مسائل کا حل پہلی صدی کے اسلام دین کامل کو واپسی میں ہے  .. مگر کیسے >>>>>>

Popular posts from this blog