Skip to main content

خلاصہ قرآن و منتخب آیات - پارہ # 19


انیسویں پارے کا آغاز سورۃ الفرقان آیت 21 سے ہو تا ہے، سورۃ الشعراء مکمل اوراختتام سورة النمل آیت 55 پرہوتا ہے۔ انیسویں پارے کے آغاز میں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جن لوگوں کو میری ملاقات کا یقین نہیں وہ بڑے تکبر سے کہتے ہیں کہ ہمارے اوپر فرشتے کا نزول ہونا چاہیے یا ہم پروردگار کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جب وہ قیامت کے روز اپنی آنکھوں سے فرشتوں کو دیکھیں گے تو اس دن مجرموں کو کوئی خوش خبری نہیں ملے گی۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن ظالم اپنے ہاتھ کو کاٹے گا اور کہے گا کاش میں نے رسول اللہ ﷺ کے راستے کو اختیار کیا ہوتا اور کاش میں نے فلاں کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس نے تو مجھے نصیحت آجانے کے بعد اس سے غافل کر دیا ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے لوگ بری صحبت کو اختیار کرنے کی وجہ سے گمراہ ہوں گے۔

سورہ فرقان کے بعد سورۃ الشعراء ہے  اللہ تعالیٰ نے قوم نوح، قوم ہود، قوم ثمود اور قوم لوط پر آنے والے عذاب کا تذکرہ کیا کہ کس طرح ان تمام اقوام نے اپنے نبیوں کی نافرمانی کی اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کا نشانہ بنے ۔اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ ان تمام اقوام نے تمام نبیوں کی تکذیب کی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے کسی ایک نبی کی تکذیب کرتا ہے وہ کسی ایک کی تکذیب نہیں کرتا بلکہ تمام انبیاء علیہ السلام کی تکذیب کرتا ہے ۔

 سورۃ الشعراء میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا بھی تذکرہ کیا ہے کہ سابقہ انبیاء نے اپنی قوموں کے لوگوں سے اپنی دعوت کے بدلے کسی اجر کو طلب نہیں کیا بلکہ وہ سب اس دعوت کے بدلے جہانوں کے پروردگار سے اجر کے طلبگار تھے ۔لیکن یہ ان کی قوم کے لوگوں کی ناعاقبت اندیشی تھی کہ انہوں نے خلوص کے ساتھ دی جانے والی دعوت کو نظر انداز کردیا اور ان کی مخالفت پر تلے رہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کی تائید اور نصرت فرمائی اور ان نافرمانوں کو نشانِ عبرت بنا دیا۔اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے جناب ابراہیم علیہ السلام کا بھی ذکر کیا کہ انہوں نے اپنی قوم سے بت پرستی کی وجہ دریافت کی کہ کیا تم جب ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمہاری پکاروں کو سنتے ہیں اور کیا وہ تمہیں نفع یا نقصان پہنچاتے ہیں تو جواب میں قوم کے لوگوں نے کہاکہ نہیں بلکہ ہم نے اپنے آبائواجداد کو انہیں پوجتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس پر جناب ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ میں تمہارا اور تمہارے آبائواجداد کے معبودوں کا مخالف ہوں۔ میری وفا اور محبت رب العالمین کے لیے ہے جس نے مجھے بنایا اور سیدھا راستہ دکھلایا، جو مجھے کھلاتا بھی ہے اور پلاتا بھی ہے۔ جو مجھے امراض سے شفا عطا فرماتا ہے‘ جو مجھے موت بھی دے گا اور پھر دوبارہ زندہ بھی کرے گا اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ وہ مجھے قیامت کے دن معاف بھی کرے گا۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے اپنی طرف سے نازل ہونے کا بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو عربی جیسی خوبصورت اور واضح زبان میں اتارا اور اس کو جبرائیل امین رسول اللہ ﷺ کے سینہ مبارک پر لے کر آئے تاکہ وہ لوگوں کو ڈرا سکیں اور کہا کہ اس کی ایک بڑی نشانی یہ بھی ہے کہ بنی اسرائیل یعنی یہود و نصاریٰ کے علماء بھی اس کو پہچانتے ہیں ۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ شیطان ہر جھوٹ بولنے والے بڑے گناہ گار پر نازل ہوتا ہے اور بھٹکے ہوئے شاعروں پر بھی شیطان اترتا ہے ۔وہ شعرا جو ہر وقت وہم کی وادیوں میں ٹھوکریں کھاتے رہتے ہیں اورصرف باتیں بنانے میں معروف رہتے ہیں۔مگر وہ لوگ جو ایمان لے کر آئے اور ایمان کے بعد انہوں نے عمل صالح کا راستہ اختیار کیا‘ اللہ تعالیٰ ان سے شیاطین کو دور فرمائیں گے۔
سورۃالشعراء کے بعد سورة النمل ہے۔ سورۃ النمل میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی نشانیوں کا ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کوبے مثال معجزات عطا فرمائے تھے ۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دائود اور سلیمان علیہ السلام کو علم کی نعمت سے مالا مال فرمایا اور ان کو اپنے بہت سے بندوں پر فضیلت عطا فرمائی تھی ۔اللہ تعالیٰ نے جناب سلیمان علیہ السلام کو علم اور حکومت کے اعتبار سے جناب دائود علیہ السلام کا وارث بنایا اور ان کو پرندوں اور جانوروں کی باتیں سمجھنے کی قوت بھی عطا فرمائی اور اس کے ساتھ ساتھ جنات ،انسانوں اور ہوائوں پر حکومت دی تھی ۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے جناب سلیمان علیہ السلام کے دربار کی ایک کیفیت کا بھی ذکر کیا کہ جناب سلیمان علیہ السلام اپنے دربار میں جلوہ افروز تھے کہ آپ نے ہدہد کو غائب پایا۔ جناب سلیمان علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر ہدہد نے اپنی غیر حاضری کی کوئی معقول وجہ بیان نہ کی تو میں اس کو شدید عذاب دوں گا یا اس کو ذبح کر دوں گا۔ کچھ دیر کے بعد ہدہد آیا تو اس نے کہا کہ جناب سلیمان علیہ السلام! آج دربار کی طرف آتے ہوئے میرا گزر ایک ایسی بستی سے ہوا جہاں کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی بہت سی نعمتیں حاصل ہیں اور ان پر ایک عورت حکمران ہے اور قوم کی بدنصیبی یہ ہے کہ وہ سورج کی پوجا کر رہی ہے جبکہ انہیں اللہ کی پوجا کرنی چاہیے۔ جناب سلیمانؑ اس ملکہ کے نام خط لکھتے ہیں۔ ملکہ خط کو پاتی ہے تو جناب سلیمان علیہ السلام کو تحفے تحائف بھجوا دیتی ہے۔ جناب سلیمان علیہ السلام تحفوں کو دیکھ کر کہتے ہیں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا ہے وہ ان تحفوں سے بہت بہتر ہے۔ آپ اپنے دربایوں کو مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ تم میں سے کون ہے جو ملکہ کو تخت کے سمیت میرے دربار میں لے کر آئے‘ اس پر ایک بہت بڑے جن نے کہا کہ میں دربار کے برخاست ہونے سے پہلے ملکہ کو تخت کے سمیت یہاں لا سکتا ہوں ۔اس پر ایک ایسا شخص کھڑا ہوا جس کے پاس کتاب کا علم تھا او ر وہ اللہ کے اسمائے اعظم کا علم رکھنے والا تھا۔ اس نے کہا میں ملکہ کے تخت کو آپ کے پہلو بدلنے سے پہلے حاضر کردوںگا۔ آناً فاناً تخت وہاں آگیا ۔ جناب سلیمان علیہ السلام نے ملکہ کے تخت میں تبدیلی کر کے ملکہ سے پوچھا کیا یہ تمہارا ہی تخت ہے تو جواب میں ملکہ نے کہا ہاں یہ میرا ہی تخت ہے۔ اس کے بعد جناب سلیمانؑ نے ملکہ کو اپنے محل کے ایک خاص حصے میں آنے کی دعوت دی۔ اس حصے کا فرش شیشے کا بنا ہوا تھا لیکن دیکھنے والی آنکھ کو پانی محسوس ہوتا تھا۔ جناب سلیمان علیہ السلا م نے جب ملکہ کو شیشے کے فرش سے گزرنے کے لیے کہا تو ملکہ نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑے کو اٹھا لیا تاکہ کہیں اس کی ٹانگیں گیلی نہ ہو جائیں۔ جناب سلیمان علیہ السلام نے کہا: ملکہ یہ فرش شیشے کابنا ہوا ہے۔ انہوں نے ملکہ کو جتلایا کہ تم پانی اور شیشے میں فرق نہیں کر سکتی۔ جناب سلیمان علیہ السلام اصل میں ملکہ کو بتلا رہے تھے کہ اسی طرح تم سورج کی روشنی اور اللہ تعالیٰ کے نور میں بھی فرق نہیں کر سکی۔ ملکہ نے فوراً اعلان کیا کہ اے میرے پروردگار ‘میں نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ ملکہ نے اسلام قبول کرلیا۔ یہ واقعہ ہمیں بتلاتا ہے کہ ہمیشہ دین کی دعوت حکمت اور دانائی سے دینی چاہیے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن مجید پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔آمین! [ علامہ ابتسام الہی ظہیر ]

منتخب آیات ، ترجمہ 

جو لوگ ہمارے حضور پیش ہونے کا اندیشہ نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں "کیوں نہ فرشتے ہمارے پاس بھیجے جائیں؟ یا پھر ہم اپنے رب کو دیکھیں" بڑا گھمنڈ لے بیٹھے یہ اپنے نفس میں اور حد سے گزر گئے یہ اپنی سرکشی میں (سورة الفرقان21 آیت   )  
امت  مسلمہ کی قرآن سے لاپرواہی نبی کا  الله تعالی سےشکوہ
اور رسول کہے گا کہ "اے میرے رب، میری قوم کے لوگوں نے اس قرآن کو نشانہ تضحیک بنا لیا تھا" (30)
کبھی تم نے اُس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا ہو؟ کیا تم ایسے شخص کو راہِ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو؟ (43)
کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں؟ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں، بلکہ اُن سے بھی گئے گزرے (44)
پس اے نبیؐ، کافروں کی بات ہرگز نہ مانو اور اس قرآن کو لے کر ان کے ساتھ جہاد کبیر کرو (52
منکرین کہتے ہیں "اِس شخص پر سارا قرآن ایک ہی وقت میں کیوں نہ اتار دیا گیا؟" ہاں، ایسا اس لیے کیا گیا ہے کہ اس کو اچھی طرح ہم تمہارے ذہن نشین کرتے رہیں اور (اسی غرض کے لیے) ہم نے اس کو ایک خاص ترتیب کے ساتھ الگ الگ اجزاء کی شکل دی ہے (32)
یہ  (قرآن ) رب العالمین کی نازل کردہ چیز ہے (سورة الشعراء:26:192 ) اسے لے کر تیرے دل پر امانت دار روح اتری ہے (193) تاکہ تو اُن لوگوں میں شامل ہو جو (خدا کی طرف سے خلق خدا کو) متنبّہ کرنے والے ہیں (194) صاف صاف عربی زبان میں (195) اور اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی یہ موجود ہے (196) کیا اِن (اہلِ مکہ) کے لیے یہ کوئی نشانی نہیں ہے کہ اِسے علماء بنی اسرائیل جانتے ہیں؟ (197) (لیکن اِن کی ہٹ دھرمی کا حال یہ ہے کہ) اگر اہم اسے کسی عجمی پر بھی نازل کر دیتے (198) اور یہ (فصیح عربی کلام) وہ ان کو پڑھ کر سناتا تب بھی یہ مان کر نہ دیتے (199) اِسی طرح ہم نے اس (ذکر) کو مجرموں کے دلوں میں گزارا ہے (200) وہ اس پر ایمان نہیں لاتے جب تک عذاب الیم نہ دیکھ لیں سورة الشعراء:201
اِس (کتاب مبین) کو شیاطین لے کر نہیں اترے ہیں( سورة الشعراء:210) نہ یہ کام ان کو سجتا ہے، اور نہ وہ ایسا کر ہی سکتے ہیں (211) وہ تو اس کی سماعت تک سے دُور رکھے گئے ہیں سورة الشعراء:212)
لوگو، کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کس پر اُترا کرتے ہیں؟ ( سورة الشعراء:221) وہ ہر جعل ساز بدکار پر اُترا کرتے ہیں (222) سُنی سُنائی باتیں کانوں میں پھونکتے ہیں، اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں (223)
نافرمان اقوام کی تباہی
ہم نے موسیٰؑ کو کتاب دی اور اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارونؑ کو مددگار کے طور پر لگایا (35) اور اُن سے کہا کہ جاؤ اُس قوم کی طرف جس نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا ہے آخر کار اُن لوگوں کو ہم نے تباہ کر کے رکھ دیا (36) یہی حال قوم نوحؑ کا ہوا جب انہوں نے رسولوں کی تکذیب کی ہم نے اُن کو غرق کر دیا اور دنیا بھر کے لوگوں کے لیے ایک نشان عبرت بنا دیا اور ان ظالموں کے لیے ایک دردناک عذاب ہم نے مہیا کر رکھا ہے (37) اِسی طرح عاد اور ثمود اور اصحاب الرس اور بیچ کی صدیوں کے بہت سے لوگ تباہ کیے گئے (38) اور ان میں سے ہر ایک کو ہم نے (پہلے تباہ ہونے والوں کی) مثالیں دے دے کر سمجھایا اور آخرکار ہر ایک کو غارت کر دیا (39)
رحمان کے اصلی بندے
رحمان کے (اصلی) بندے وہ ہیں جو زمین پر نرم چال چلتے ہیں اور جاہل ان کے منہ کو آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام (63)
 جو اپنے رب کے حضور سجدے اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں (64)
جو دعائیں کرتے ہیں کہ "اے ہمارے رب، جہنم کے عذاب سے ہم کو بچا لے، اُس کا عذاب تو جان کا لاگو ہے (65) وہ بڑا ہی برا مستقر اور مقام ہے" (66)
جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں نہ بخل، بلکہ ان کا خرچ دونوں انتہاؤں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتا ہے (67)
جو اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے، اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق ہلاک نہیں کرتے، اور نہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں یہ کام جو کوئی کرے وہ اپنے گناہ کا بدلہ پائے گا (68) قیامت کے روز اس کو مکرّر عذاب دیا جائے گا اور اسی میں وہ ہمیشہ ذلت کے ساتھ پڑا رہے گا (69) اِلّا یہ کہ کوئی (ان گناہوں کے بعد) توبہ کر چکا ہو اور ایمان لا کر عمل صالح کرنے لگا ہو ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا اور وہ بڑا غفور رحیم ہے (70) جو شخص توبہ کر کے نیک عملی اختیار کرتا ہے وہ تو اللہ کی طرف پلٹ آتا ہے جیسا کہ پلٹنے کا حق ہے (71
(اور رحمٰن کے بندے وہ ہیں) جو جھوٹ کے گواہ نہیں بنتے اور کسی لغو چیز پر ان کا گزر ہو جائے تو شریف آدمیوں کی طرح گزر جاتے ہیں (72
جنہیں اگر اُن کے رب کی آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ اس پر اندھے اور بہرے بن کر نہیں رہ جاتے (73)
جو دعائیں مانگا کرتے ہیں کہ "اے ہمارے رب، ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے اور ہم کو پرہیز گاروں کا امام بنا" (74)
 یہ ہیں وہ لوگ جو اپنے صبر کا پھل منزل بلند کی شکل میں پائیں گے آداب و تسلیمات سے اُن کا استقبال ہو گا (75) وہ ہمیشہ ہمیشہ وہاں رہیں گے کیا ہی اچھا ہے وہ مستقر اور وہ مقام (76
 یہ کتاب مبین (قرآن ) کی آیات ہیں (2)
 اے محمدؐ، شاید تم اس غم میں اپنی جان کھو دو گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے (3)
 اِن لوگوں کے پاس رحمان کی طرف سے جو نئی نصیحت بھی آتی ہے یہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں (5) اب کہ یہ جھٹلا چکے ہیں، عنقریب اِن کو اس چیز کی حقیقت (مختلف طریقوں سے) معلوم ہو جائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے رہے ہیں (6
فرعون کا انجام 
اِنہیں اس وقت کا قصہ سناؤ جب کہ تمہارے رب نے موسیٰؑ کو پکارا "ظالم قوم (فرعون ) کے پاس جا (10)
فرعون اپنے گرد و پیش کے سرداروں سے بولا "یہ شخص یقیناً ایک ماہر جادوگر ہے (34
 پھر موسیٰؑ نے اپنا عصا پھینکا تو یکایک وہ ان کے جھوٹے کرشموں کو ہڑپ کرتا چلا جا رہا تھا (45) اس پر سارے جادوگر بے اختیار سجدے میں گر پڑے (46) اور بول اٹھے کہ "مان گئے ہم رب العالمین کو (47) موسیٰؑ اور ہارونؑ کے رب کو" (48)
 ہم نے موسیٰؑ کو وحی بھیجی کہ "راتوں رات میرے بندوں کو لے کر نکل جاؤ، تمہارا پیچھا کیا جائے گا" (52)  ہم نے موسیٰؑ کو وحی کے ذریعہ سے حکم دیا کہ "مار اپنا عصا سمندر پر" یکایک سمندر پھَٹ گیا اور اس کا ہر ٹکڑا ایک عظیم الشان پہاڑ کی طرح ہو گیا (63) اُسی جگہ ہم دوسرے گروہ کو بھی قریب لے آئے (64) موسیٰؑ اور اُن سب لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، ہم نے بچا لیا (65) اور دوسروں کو غرق کر دیا (66) اس واقعہ میں ایک نشانی ہے، مگر اِن لوگوں میں سے اکثر ماننے والے نہیں ہیں (67)
حضرت  ابراہیمؑ علیہ السلام کا واقعہ اور دعا 
اس پر ابراہیمؑ نے کہا "کبھی تم نے (آنکھیں کھول کر) اُن چیزوں کو دیکھا بھی جن کی بندگی تم (75) اور تمہارے پچھلے باپ دادا بجا لاتے رہے؟ (76) میرے تو یہ سب دشمن ہیں، بجز ایک رب العالمین کے (77) جس نے مجھے پیدا کیا، پھر وہی میری رہنمائی فرماتا ہے (78) جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے (79) اور جب میں بیمار ہو جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے (80) جو مجھے موت دے گا اور پھر دوبارہ مجھ کو زندگی بخشے گا (81) اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روزِ جزا میں وہ میری خطا معاف فرما دے گا" (82) (اِس کے بعد ابراہیمؑ نے دعا کی) "اے میرے رب، مجھے حکم عطا کر اور مجھ کو صالحوں کے ساتھ ملا (83) اور بعد کے آنے والوں میں مجھ کو سچی ناموری عطا کر (84) اور مجھے جنتِ نعیم کے وارثوں میں شامل فرما (85) اور میرے باپ کو معاف کر دے کہ بے شک وہ گمراہ لوگوں میں سے ہے (86) اور مجھے اس دن رسوا نہ کر جبکہ سب لوگ زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے (87) جبکہ نہ مال کوئی فائدہ دے گا نہ اولاد (88) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لیے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو" (89
قوم نوحؑ نے رسولوں کو جھٹلایا (105)
 نوحؑ نے دعا کی "“اے میرے رب، میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا (117) اب میرے اور ان کے درمیان دو ٹوک فیصلہ کر دے اور مجھے اور جو مومن میرے ساتھ ہیں ان کو نجات دے" (118) آخرکار ہم نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو ایک بھری ہوئی کشتی میں بچا لیا (119) اور اس کے بعد باقی لوگوں کو غرق کر دیا (120) یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں (121
 عاد (قوم ) نے رسولوں کو جھٹلایا (123)
 آخرکار انہوں نے اُسے جھٹلا دیا اور ہم نے ان کو ہلاک کر دیا یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں ہیں (139)
 ثمود (قوم ) نے رسولوں کو جھٹلایا (141)
اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو (150) اُن بے لگام لوگوں کی اطاعت نہ کرو (151) جو زمین میں فساد برپا کرتے ہیں اور کوئی اصلاح نہیں کرتے" (152) انہوں نے جواب دیا "تو محض ایک سحر زدہ آدمی ہے (153) صالحؑ نے کہا "یہ اونٹنی ہے ایک دن اس کے پینے کا ہے اور ایک دن تم سب کے پانی لینے کا (155) اس کو ہرگز نہ چھیڑنا ورنہ ایک بڑے دن کا عذاب تم کو آ لے گا" (156) مگر انہوں نے اس کی کوچیں کاٹ دیں اور آخرکار پچھتاتے رہ گئے (157) عذاب نے انہیں آ لیا یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں (158) اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی (159)
لوطؑ کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا (160
آخرکار ہم نے اسے (لوطؑ) اور اس کے سب اہل و عیال کو بچا لیا (170) بجز ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی (171) پھر باقی ماندہ لوگوں کو ہم نے تباہ کر دیا (172
اصحاب الاَیکہ نے رسولوں کو جھٹلایا (176)
(پیغمبر شعیب نے قوم سے کہا ) پیمانے ٹھیک بھرو اور کسی کو گھاٹا نہ دو (181) صحیح ترازو سے تولو (182) اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو (183)  انہوں نے اسے جھٹلا دیا، آخرکار چھتری والے دن کا عذاب ان پر آ گیا، اور وہ بڑے ہی خوفناک دن کا عذاب تھا (189)
 پس اے محمدؐ، اللہ کے ساتھ کسی دُوسرے معبُود کو نہ پکارو، ورنہ تم بھی سزا پانے والوں میں شامل ہو جاؤ گے (213) اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو ڈراؤ (214) اور ایمان لانے والوں میں سے جو لوگ تمہاری پیروی اختیار کریں ان کے ساتھ تواضع سے پیش آؤ (215) لیکن اگر وہ تمہاری نافرمانی کریں تو ان سے کہو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے میں بری الذ مہ ہوں (216) اور اُس زبردست اور رحیم پر توکل کرو (217
رہے شعراء، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلا کرتے ہیں (224) کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے ہیں (225) اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں (226) بجز اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا اور جب ان پر ظلم کیا گیا تو صرف بدلہ لے لیا، اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس انجام سے دوچار ہوتے ہیں (227)
یہ آیات ہیں قرآن اور کتاب مبین کی (1) ہدایت اور بشارت اُن ایمان لانے والوں کے لیے (2) جو نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں، اور پھر وہ ایسے لوگ ہیں جو آخرت پر پورا یقین رکھتے ہیں (3) حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے ان کے لیے ہم نے اُن کے کرتوتوں کو خوشنما بنا دیا ہے، اس لیے وہ بھٹکتے پھر رہے ہیں (4) یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے بُری سزا ہے اور آخرت میں یہی سب سے زیادہ خسارے میں رہنے والے ہیں (5) اور (اے محمدؐ) بلاشبہ تم یہ قرآن ایک حکیم و علیم ہستی کی طرف سے پا رہے ہو (6)
(موسی کو کہا ) اور ذرا اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں تو ڈالو چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے یہ (دو نشانیاں) نو نشانیوں میں سے ہیں فرعون اور اس کی قوم کی طرف (لے جانے کے لیے)، وہ بڑے بد کردار لوگ ہیں" (12) مگر جب ہماری کھلی کھلی نشانیاں اُن لوگوں کے سامنے آئیں تو انہوں نے کہا یہ تو کھلا جادو ہے (13)
ہم نے داؤدؑ و سلیمانؑ کو علم عطا کیا اور انہوں نے کہا کہ شکر ہے اُس خدا کا جس نے ہم کو اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطا کی (15) اور داؤدؑ کا وارث سلیمانؑ ہوا اور اس نے کہا "“لوگو، ہمیں پرندوں کی بولیاں سکھائی گئی ہیں اور ہمیں ہر طرح کی چیزیں دی گئی ہیں، بیشک یہ (اللہ کا) نمایاں فضل ہے" (16) سلیمانؑ کے لیے جن اور انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے تھے اور وہ پورے ضبط میں رکھے جاتے تھے (17)
ملکہ بولی "اے اہلِ دربار، میری طرف ایک بڑا اہم خط پھینکا گیا ہے (29) وہ سلیمانؑ کی جانب سے ہے اور اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے شروع کیا گیا ہے (30) مضمون یہ ہے کہ “میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو اور مسلم ہو کر میرے پاس حاضر ہو جاؤ" (31)
اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہو اس نے جو دیکھا تو سمجھی کہ پانی کا حوض ہے اور اترنے کے لیے اس نے اپنے پائنچے اٹھا لیے سلیمانؑ نے کہا یہ شیشے کا چکنا فرش ہے اس پر وہ پکار اٹھی "اے میرے رب، (آج تک) میں اپنے نفس پر بڑا ظلم کرتی رہی، اور اب میں نے سلیمانؑ کے ساتھ اللہ رب العالمین کی اطاعت قبول کر لی" (44)
اور ثمود کی طرف ہم نے اُن کے بھائی صالح کو (یہ پیغام دے کر) بھیجا کہ اللہ کی بندگی کرو، تو یکایک وہ دو متخاصم فریق بن گئے (45
یہ چال تو وہ چلے اور پھر ایک چال ہم نے چلی جس کی انہیں خبر نہ تھی (50) اب دیکھ لو کہ ان کی چال کا انجام کیا ہوا ہم نے تباہ کر کے رکھ دیا اُن کو اور ان کی پوری قوم کو (51)
اور لوطؑ کو ہم نے بھیجا یاد کرو وہ وقت جب اس نے اپنی قوم سے کہا "کیا تم آنکھوں دیکھتے بدکاری کرتے ہو؟ (54

~~~~~~~~~
🌹🌹🌹
🔰 Quran Subjects  🔰 قرآن مضامین 🔰
"اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا" [ الفرقان 25  آیت: 30]
The messenger said, "My Lord, my people have deserted this Quran." (Quran 25:30)
~~~~~~~~~
اسلام دین کامل کو واپسی ....
"اللہ چاہتا ہے کہ تم پر ان طریقوں  کو واضح کرے اور انہی طریقوں پر تمہیں چلائے جن کی پیروی تم سے پہلے گزرے ہوئے صلحاء کرتے تھے- وہ اپنی رحمت کے ساتھ تمہاری طرف متوجّہ ہونے کا ارادہ رکھتا ہے ، اور وہ علیم بھی ہے اور دانا بھی- ہاں، اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ خود اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور نکل جاؤ. اللہ تم پر سے پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے." (قرآن  4:26,27,28]
اسلام کی پہلی صدی، دین کامل کا عروج کا زمانہ تھا ، خلفاء راشدین اور اصحابہ اکرام، الله کی رسی قرآن کو مضبوطی سے پکڑ کر اس پر کاربند تھے ... پہلی صدی حجرہ کے بعد جب صحابہ اکرام بھی دنیا سے چلے گیے تو ایک دوسرے دور کا آغاز ہوا ... الله کی رسی قرآن کو بتدریج پس پشت ڈال کر تلاوت تک محدود کر دیا ...اور مشرکوں کی طرح فرقہ واریت اختیار کرکہ دین کامل کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے-  ہمارے مسائل کا حل پہلی صدی کے اسلام دین کامل کو واپسی میں ہے  .. مگر کیسے >>>>>>

Popular posts from this blog