Skip to main content

خلاصہ قرآن و منتخب آیات - پارہ # 23


تئیسویں پارے کا آغاز سورہ یٰس آیت 28ٓ سے ہوتا ہے اور سورہ الزمر آیت 31 پر اختتام - بائیسویں پارے میں انبیا علیہم السلام کی تائید کرنے والے مومن کا ذکر تھا۔ اس پارے میں اس مرد مومن کی تبلیغ کا ذکر ہے کہ اس نے بستی کے لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ میں اللہ کی پوجا کیوں نہ کروں کہ اسی نے مجھے پیدا کیا اوراسی کی طرف مجھ کو پلٹ کر جانا ہے۔اللہ کو چھوڑ کر اگر میں کوئی اور معبود پکڑ لوں تو مجھے اس معبود کا کیا فائدہ کہ اللہ تعالیٰ اگر مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہیں تو وہ میرا کچھ بھی بھلا نہیں کر سکتے ۔بستی والوں نے اس کی دعوت قبول کرنے کی بجائے اس کو شہید کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو جنت میں داخل کر دیا اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں بستی والوں سے روٹھ گئیں۔ اللہ تعالیٰ نے کافروں کے اعتراضات کا ذکر کیا ہے کہ کافر کہتے ہیں کہ کون ہڈیوں کو زندہ کرے گا‘ جبکہ ہماری ہڈیاں چور چور ہو چکی ہوں گی۔ فرمایا کہ وہی ان ہڈیوں کو زندہ کرے گا‘ جس نے پہلی مرتبہ ان کو پیدا کیا تھا اور اس کو ہر قسم کی تخلیق کی پوری خبر ہے ۔ اس کے بعد سورۃ الصافات ہے‘ جس میں اللہ تعالیٰ نے ستاروں کی تخلیق کے مقاصد واضح کیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کے ذریعے آسمان کو زینت عطا کی اور ان میں سے بعض ستاروں کو اللہ تعالیٰ آسمان کی خبریں چوری کرنے والے شیاطین کو مارنے کیلئے استعمال کرتے ہیں‘ پھر جناب ابراہیم علیہ السلام کی عظیم قربانی کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو خواب میں دکھلایا کہ وہ اپنے بیٹے جناب اسماعیل علیہ السلام کے گلے پر چھری چلا رہے ہیں۔ جناب ابراہیم علیہ السلام نے جناب اسماعیل علیہ السلام سے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تمہارے گلے پر چھری چلا رہا ہوں‘ اب بتائو کہ تمہاری رائے کیا ہے۔ جناب اسماعیل ںنے جواب میں کہا: بابا آپ وہ کام کریں‘ جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے۔ جب ابراہیم ںنے اسماعیل علیہ السلام کو پیشانی کے بل لٹایا تو اللہ تعالیٰ نے جناب ابراہیم علیہ السلام کو پکاراکہ آپ نے اپنے خواب کو سچا کر دکھایا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے جناب ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کی قربانی قبول فرما کر جہاں اخروی جزا کو ان کا مقدر بنا دیا‘ وہیں پر رہتی دنیا تک کے لیے بھی آپ کی قربانی کو ایک مثال بنا دیا ۔اسی سورت میں جناب یونس علیہ السلام کا ذکر ہے کہ وہ رسولوں میں سے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کوایک لاکھ افراد کی طرف مبعوث فرمایا تھا۔ جناب یونسں جب مچھلی کے پیٹ میں چلے گئے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی کثرت سے تسبیح کی ‘جس کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت بڑی مصیبت سے نجات دے دی۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی اس بات کی بھی تردید کی کہ وہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بتلاتے تھے‘ جبکہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے ان عیبوں سے جو مشرک اس سے جوڑتے ہیں ‘ اللہ تعالیٰ کا سلام ہو رسولوں پر اوراللہ تعالیٰ کی تعریف ہے ‘جو پروردگار ہے جہانوں کا۔ اس کے بعد سورہ صٓ ہے‘ جس میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے جناب رسول کریمﷺ کی دعوت پر اعتراض کا ذکر کیا ہے کہ انہوں نے الہ واحد کی عبادت کا درس دیا اور باقی تمام معبودوں کی نفی کی اور یہ بات مشرکین کو کسی طور گوارا نہیں تھی‘ پھر جناب دائود علیہ السلام کی حکمت اور قوتِ بیان کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرزند جناب سلیمان علیہ السلام کی دعا کا بھی ذکر کیا کہ انہوں نے پروردگار عالم سے دعا مانگی کہ اے میرے پروردگار مجھ کو بخش دے اور مجھے ایسی حکومت دے جو میرے بعد کسی دوسرے کے نصیب میں نہ آئے‘ بیشک تو بخشنے والاہے۔اللہ تعالیٰ نے جناب سلیمان علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اور آپ کوایسی سلطنت عطا فرمائی کہ جنات اور ہوائوںکو آپ کے تابع فرمادیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ پر بہت زیادہ انعامات کیے‘ لیکن آ پ اس تمام انعام واکرام کے باوجود اللہ کی بندگی میں مشغول رہے اور اپنی توانا ئیوں کو اللہ کی توحید کی نشر واشاعت کیلئے لگاتے رہے اور جب بھی کبھی آپ کے علم میں یہ بات آئی کہ کہیں اللہ کی ذات کے ساتھ شرک ہورہا ہے تو آ پ اس مقام تک رسائی حاصل کرتے اور لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے۔ سبا کی ملکہ سے آپ کے تنازعے کا اصل سبب یہی تھا کہ سبا کے لوگ اللہ کو چھوڑ کر سورج کی پرستش کر رہے تھے۔ اسی وجہ سے آپ نے ملکہ سبا کو اپنے دربار میں حاضر کر کے توحید کی دعوت دی‘ جس کو اس نے قبول کرلیا۔ اللہ تعالیٰ نے جناب ایوب علیہ السلام کی بیماری اور شفا کابھی ذکر کیا۔ جناب ایوب علیہ السلام طویل عرصہ تک بیمار رہے اور اس بیماری نے آپ کو بے بس کر دیا۔جناب ایوب علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا مانگی کہ اے پروردگار‘ شیطان مجھے تکلیف دے رہا ہے‘ آپ مجھ پر رحم فرمائیں‘ بے شک آپ سب سے زیادہ رحم کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جناب ایوب علیہ السلام کی تمام تکلیفوں کو دور فرمادیا ۔ اس کے بعد سورہ الزمر ہے‘ جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب پاکؐ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر حق کے ساتھ کتاب نازل کی ہے۔ پس‘ آپ مخلص ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔ فرمایا کہ بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کے علاوہ مددگار تلاش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم ان کی پوجا اس لیے کررہے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے قریب کر دیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان اختلافات کا فیصلہ وہ خود فرمائیں گے اور بے شک وہ جھوٹ بولنے والے گمراہوں کو کچھ ہدایت نہیں دیتے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انہوں نے انسانوں کو تین اندھیروں میں سے پیدا فرمایا‘پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ حقیقی گھاٹا ان لوگوں کیلئے ہے‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے آخرت میں گھاٹا دیا اور یہ وہ لوگ ہیں جن کوآگ کا عذاب سہنا ہو گا اور ان کے مقابلے میں جنتیوں کو ایسے کمرے ملنے والے ہیں‘ جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کے خلاف نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ جس کے سینے کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کیلئے کھول دیا‘ وہ اپنے رب کی طرف سے روشنی پر ہے اور بدنصیب ہیں وہ لوگ جو کھلی گمراہی میں ہیں ۔اللہ فرماتے ہیں کہ اُس نے بہترین بات کو نازل کیا‘ جس کے مضامین میں ہم آہنگی اور تکرار بھی ہے۔ اس کو پڑھنے کے بعد جن کے دلوں میں اللہ کا خوف ہوتا ہے ‘ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں‘ پھر ان کے رونگٹے اور دل اللہ کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں اور جس کو اللہ گمراہ کرے کوئی اس کو ہدایت دینے والا نہیں ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن پڑھنے ‘ سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔(آمین) [ علامہ ابتسام الہی ظہیر ]

منتخب آیات ، ترجمہ 

 اس کے بعد اُس کی (نا فرمان ) قوم پر ہم نے آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا ہمیں لشکر بھیجنے کی کوئی حاجت نہ تھی (28) بس ایک دھماکہ ہوا اور یکایک وہ سب بجھ کر رہ گئے (سورہ یٰس 29
 افسوس بندوں کے حال پر، جو رسول بھی ان کے پاس آیا اُس کا وہ مذاق ہی اڑاتے رہے (30) کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں اور اس کے بعد وہ پھر کبھی ان کی طرف پلٹ کر نہ آئے؟ (31) ان سب کو ایک روز ہمارے سامنے حاضر کیا جانا ہے (سورہ یٰس 32)
اِن لوگوں سے جب کہا جاتا ہے کہ بچو اُس انجام سے جو تمہارے آگے آ رہا ہے اور تمہارے پیچھے گزر چکا ہے، شاید کہ تم پر رحم کیا جائے (تو یہ سنی اَن سنی کر جاتے ہیں) (45) اِن کے سامنے اِن کے رب کی آیات میں سے جو آیت بھی آتی ہے یہ اس کی طرف التفات نہیں کرتے (46) اور جب اِن سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو رزق تمہیں عطا کیا ہے اُس میں سے کچھ اللہ کی راہ میں بھی خرچ کرو تو یہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے ایمان لانے والوں کو جواب دیتے ہیں "کیا ہم اُن کو کھلائیں جنہیں اگر اللہ چاہتا تو خود کھلا دیتا؟ تم تو بالکل ہی بہک گئے ہو" (47
یہ لوگ کہتے ہیں کہ "یہ قیامت کی دھمکی آخر کب پوری ہو گی؟ بتاؤ اگر تم سچے ہو" (48) دراصل یہ جس چیز کی راہ تک رہے ہیں وہ بس ایک دھماکا ہے جو یکایک اِنہیں عین اُس حالت میں دھر لے گا جب یہ (اپنے دنیوی معاملات میں) جھگڑ رہے ہوں گے (49)
 پھر ایک صور پھونکا جائے گا اور یکایک یہ اپنے رب کے حضور پیش ہونے کے لیے اپنی قبروں سے نکل پڑیں گے (51) گھبرا کر کہیں گے: "ارے، یہ کس نے ہمیں ہماری خواب گاہ سے اُٹھا کھڑا کیا؟" "یہ وہی چیز ہے جس کا خدائے رحمان نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں کی بات سچی تھی" (52) ایک ہی زور کی آواز ہو گی اور سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کر دیے جائیں گے (53) آج کسی پر ذرہ برابر ظلم نہ کیا جائے گا اور تمہیں ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا جیسے عمل تم کرتے رہے تھے (54)
 آدمؑ کے بچو، کیا میں نے تم کو ہدایت نہ کی تھی کہ شیطان کی بندگی نہ کرو، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے (60) اور میری ہی بندگی کرو، یہ سیدھا راستہ ہے؟ (61) مگر اس کے باوجود اس نے تم میں سے ایک گروہ کثیر کو گمراہ کر دیا کیا تم عقل نہیں رکھتے تھے؟ (62) یہ وہی جہنم ہے جس سے تم کو ڈرایا جاتا رہا تھا (63) جو کفر تم دنیا میں کرتے رہے ہو اُس کی پاداش میں اب اِس کا ایندھن بنو (64) آج ہم اِن کے منہ بند کیے دیتے ہیں، اِن کے ہاتھ ہم سے بولیں گے اور ان کے پاؤں گواہی دیں گے کہ یہ دنیا میں کیا کمائی کرتے رہے ہیں (65)
) ہم نے اِس (نبی) کو شعر نہیں سکھایا ہے اور نہ شاعری اس کو زیب ہی دیتی ہے یہ تو ایک نصیحت ہے اور صاف پڑھی جانے والی کتاب (69) تاکہ وہ ہر اُس شخص کو خبردار کر دے جو زندہ ہو اور انکار کرنے والوں پر حجت قائم ہو جائے (70)

کیا وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اِس پر قادر نہیں ہے کہ اِن جیسوں کو پیدا کر سکے؟ کیوں نہیں، جبکہ وہ ماہر خلاق ہے (81) وہ تو جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا کام بس یہ ہے کہ اسے حکم دے کہ ہو جا اور وہ ہو جاتی ہے (82) پاک ہے وہ جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا مکمل اقتدار ہے، اور اسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے (83)
(29) ہمارا تم پر کوئی زور نہ تھا، تم خود ہی سرکش لوگ تھے( الصافات 30) آخرکار ہم اپنے رب کے اِس فرمان کے مستحق ہو گئے کہ ہم عذاب کا مزا چکھنے والے ہیں (31) سو ہم نے تم کو بہکا یا، ہم خود بہکے ہوئے تھے" (32) اِس طرح وہ سب اُس روز عذاب میں مشترک ہوں گے (33) ہم مجرموں کے ساتھ یہی کچھ کیا کرتے ہیں (34)
بولو، یہ ضیافت اچھی ہے یا زقوم کا درخت؟ (62) ہم نے اُس درخت کو ظالموں کے لیے فتنہ بنا دیا ہے (63) وہ ایک درخت ہے جو جہنم کی تہ سے نکلتا ہے (64) اُس کے شگوفے ایسے ہیں جیسے شیطانوں کے سر (65) جہنم کے لوگ اُسے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے (66) پھر اس پر پینے کے لیے کھولتا ہوا پانی ملے گا (67) اور اس کے بعد ان کی واپسی اُسی آتش دوزخ کی طرف ہو گی (68) یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے باپ دادا کو گمراہ پایا (69) اور انہی کے نقش قدم پر دوڑ چلے (70)
 سلام ہے نوحؑ پر تمام دنیا والوں میں (79) ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیا کرتے ہیں (80) در حقیقت وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا (81) پھر دوسرے گروہ کو ہم نے غرق کر دیا (82)
اور نوحؑ ہی کے طریقے پر چلنے والا ابراہیمؑ تھا (83) جب وہ اپنے رب کے حضور قلب سلیم لے کر آیا (84) جب اُس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا "یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کر رہے ہو؟ (85) کیا اللہ کو چھوڑ کر جھوٹ گھڑے ہوئے معبود چاہتے ہو؟ (86) انہوں نے آپس میں کہا "اس کے لیے ایک الاؤ تیار کرو اور اسے دہکتی ہوئی آگ کے ڈھیر میں پھینک دو" (97) انہوں نے اس کے خلاف ایک کاروائی کرنی چاہی تھی، مگر ہم نے انہی کو نیچا دکھا دیا (98) ابراہیمؑ نے کہا "میں اپنے رب کی طرف جاتا ہوں، وہی میری رہنمائی کرے گا (99
 وہ لڑکا جب اس کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے کی عمر کو پہنچ گیا تو (ایک روز) ابراہیمؑ نے اس سے کہا، "بیٹا، میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، اب تو بتا، تیرا کیا خیال ہے؟" اُس نے کہا، "ابا جان، جو کچھ آپ کو حکم دیا جا رہا ہے اسے کر ڈالیے، آپ انشاءاللہ مجھے صابروں میں سے پائیں گے" (102) یقیناً یہ ایک کھلی آزمائش تھی" (106) اور ہم نے ایک بڑی قربانی فدیے میں دے کر اس بچے کو چھڑا لیا (107)
سلام ہے ابراہیمؑ پر (109) ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں (110) یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا (111) اور ہم نے اسے اسحاقؑ کی بشارت دی، ایک نبی صالحین میں سے (112) اور اسے اور اسحاقؑ کو برکت دی اب ان دونوں کی ذریّت میں سے کوئی محسن ہے اور کوئی اپنے نفس پر صریح ظلم کرنے والا ہے (113) اور ہم نے موسیٰؑ و ہارونؑ پر احسان کیا (114
اور الیاسؑ بھی یقیناً مرسلین میں سے تھا (123)
اور لوطؑ بھی انہی لوگوں میں سے تھا جو رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں (133
اور یقیناً یونسؑ بھی رسولوں میں سے تھا (139)
اپنے بھیجے ہوئے بندوں سے ہم پہلے ہی وعدہ کر چکے ہیں (171) کہ یقیناً ان کی مدد کی جائے گی (172) اور ہمارا لشکر ہی غالب ہو کر رہے گا (173)
یہ ایک بڑی برکت والی کتاب ہے جو (اے محمدؐ) ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ یہ لوگ اس کی آیات پر غور کریں اور عقل و فکر رکھنے والے اس سے سبق لیں (29)
اِن سے پہلے نوحؑ کی قوم، اور عاد، اور میخوں والا فرعون (12) اور ثمود، اور قوم لوط، اور اَیکہ والے جھٹلا چکے ہیں جتھے وہ تھے (13) ان میں سے ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا اور میری عقوبت کا فیصلہ اس پر چسپاں ہو کر رہا (14) یہ لوگ بھی بس ایک دھماکے کے منتظر ہیں جس کے بعد کوئی دوسرا دھماکا نہ ہوگا (15)
 ہم نے اس (داوود ) کی سلطنت مضبوط کر دی تھے، اس کو حکمت عطا کی تھے اور فیصلہ کن بات کہنے کی صلاحیت بخشی تھی (20)
 (ہم نے اس سے کہا) "اے داؤدؑ، ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے، لہٰذا تو لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ حکومت کر اور خواہش نفس کی پیروی نہ کر کہ وہ تجھے اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹکتے ہیں یقیناً اُن کے لیے سخت سزا ہے کہ وہ یوم الحساب کو بھول گئے" (سورة ص 26)
کیا ہم اُن لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں اور نیک اعمال کرتے ہیں اور اُن کو جو زمین میں فساد کرنے والے ہیں یکساں کر دیں؟ کیا متقیوں کو ہم فاجروں جیسا کر دیں؟ (28)
 اور داؤدؑ کو ہم نے سلیمانؑ (جیسا بیٹا) عطا کیا، بہترین بندہ، کثرت سے اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا (30)
 اور ہمارے بندوں، ابراہیمؑ اور اسحاقؑ اور یعقوبؑ کا ذکر کرو بڑی قوت عمل رکھنے والے اور دیدہ ور لوگ تھے (45)
(اے نبیؐ) اِن سے کہو، "میں تو بس خبردار کر دینے والا ہوں کوئی حقیقی معبود نہیں مگر اللہ، جو یکتا ہے، سب پر غالب (65) آسمانوں اور زمین کا مالک اور اُن ساری چیزوں کا مالک جو ان کے درمیان ہیں، زبردست اور درگزر کرنے والا" (66)
مگر ابلیس نے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا اور وہ کافروں میں سے ہو گیا (74
---- اللہ یقیناً اُن کے درمیان اُن تمام باتوں کا فیصلہ کر دے گا جن میں وہ اختلاف کر رہے ہیں اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا اور منکر حق ہو( سورة الزمر 3
اُسی نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا، پھر وہی ہے جس نے اُس جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ,. (6
 اگر تم کفر کرو تو اللہ تم سے بے نیاز ہے، لیکن وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو پسند نہیں کرتا، اور اگر تم شکر کر و تو اسے وہ تمہارے لیے پسند کرتا ہے کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا آخرکار تم سب کو اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے، پھر وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو، وہ تو دلوں کا حال تک جانتا ہے (7
انسان پر جب کوئی آفت آتی ہے تو وہ اپنے رب کی طرف رجوع کر کے اُسے پکارتا ہے پھر جب اس کا رب اسے اپنی نعمت سے نواز دیتا ہے تو وہ اُس مصیبت کو بھول جاتا ہے جس پر وہ پہلے پکار رہا تھا اور دوسروں کو اللہ کا ہمسر ٹھیراتا ہے تاکہ اُس کی راہ سے گمراہ کرے (اے نبیؐ) اُس سے کہو کہ تھوڑے دن اپنے کفر سے لطف اٹھا لے، یقیناً تو دوزخ میں جانے والا ہے (8)
 (کیا اِس شخص کی روش بہتر ہے یا اُس شخص کی) جو مطیع فرمان ہے، رات کی گھڑیوں میں کھڑا رہتا اور سجدے کرتا ہے، آخرت سے ڈرتا اور اپنے رب کی رحمت سے امید لگاتا ہے؟ اِن سے پوچھو، کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں کبھی یکساں ہو سکتے ہیں؟ نصیحت تو عقل رکھنے والے ہی قبول کرتے ہیں (9
(اے نبیؐ) کہو کہ اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو، اپنے رب سے ڈرو جن لوگوں نے اِس دنیا میں نیک رویہ اختیار کیا ہے ان کے لیے بھلائی ہے اور خدا کی زمین وسیع ہے، صبر کرنے والوں کو تو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا (10)
(اے نبیؐ) اِن سے کہو، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اُس کی بندگی کروں (11) اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں خود مسلم بنوں (12)
اب کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا اور وہ اپنے رب کی طرف سے ایک روشنی پر چل رہا ہے (اُس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جس نے اِن باتوں سے کوئی سبق نہ لیا؟) تباہی ہے اُن لوگوں کے لیے جن کے دل اللہ کی نصیحت سے اور زیادہ سخت ہو گئے وہ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں (22
قرآن بہترین حدیث (اللَّـهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ)
اللہ نے بہترین حدیث کو  اتارا ہے (اللَّـهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ )، ایک ایسی کتاب جس کے تمام اجزاء ہم رنگ ہیں اور جس میں بار بار مضامین دہرائے گئے ہیں اُسے سن کر اُن لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں، اور پھر ان کے جسم اور ان کے دل نرم ہو کر اللہ کے ذکر کی طرف راغب ہو جاتے ہیں یہ اللہ کی ہدایت ہے جس سے وہ راہ راست پر لے آتا ہے جسے چاہتا ہے اور جسے اللہ ہی ہدایت نہ دے اس کے لیے پھر کوئی ہادی نہیں ہے (23)
ہم نے اِس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح کی مثالیں دی ہیں کہ یہ ہوش میں آئیں (27
ایسا قرآن جو عربی زبان میں ہے، جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے، تاکہ یہ برے انجام سے بچیں (28)
پھر اُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہو گا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور جب سچائی اس کے سامنے آئی تو اُسے جھٹلا دیا کیا ایسے کافروں کے لیے جہنم میں کوئی ٹھکانا نہیں ہے؟ (32)
23Rd Ramadan Makkah Taraweeh  ,..[......]

~~~~~~~~~
🌹🌹🌹
🔰 Quran Subjects  🔰 قرآن مضامین 🔰
"اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا" [ الفرقان 25  آیت: 30]
The messenger said, "My Lord, my people have deserted this Quran." (Quran 25:30)

Popular posts from this blog