Featured Post

قرآن مضامین انڈیکس

"مضامین قرآن" انڈکس   Front Page أصول المعرفة الإسلامية Fundaments of Islamic Knowledge انڈکس#1 :  اسلام ،ایمانیات ، بنی...

خلاصہ قرآن و منتخب آیات - پارہ # 20


بیسویں پارے کا آغاز سورۃنمل سے ہوتا ہے۔ شروع میں ہی اللہ تعالیٰ نے بڑی وضاحت کے ساتھ اپنی قوت تخلیق اور توحیدکا ذکر کیا ہے ۔اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اللہ کے سوا کون ہے جس نے زمین و آسمان کو بنایا؟ اور آسمان سے پانی کو اتارا ؟ جس کی وجہ سے مختلف قسم کے باغات اُگتے ہیں اور فرمایا کون ہے جس نے زمین کو قرار دیا ہے ؟اور اس میں پہاڑوں کو لگایا اور اس میں نہروں کو جاری فرمایا؟ کیا اللہ کے سوا بھی کوئی الٰہ ہے۔ پھر پوچھا‘ اللہ کے سوا کون ہے جو بے قراری کی حالت میں کی گئی دعائوں کو سننے والا ہو اور جو تکلیف پہنچتی ہے اس کو دور فرمانے والا ہو ۔اور اللہ کے سوا کون ہے جو خشکی اور رات کی تاریکیوں میں انسانوں کی رہنمائی فرمانے والا ہے اور کون ہے جو خوشخبری دینے والی ہوائوں کو بھیجنے والا ہو‘ کیا اللہ کے سوا بھی کوئی معبود ہے جو تخلیق کا آغاز کرنے والا ہو اوردوبارہ اس کو زندہ کرنے والا ہو اور کون ہے جو زمین و آسمان سے رزق عطا فرمانے والا ہو اس کے بعد اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں اگر تمہارے پاس کوئی دلیل ہے تو پیش کرو۔ سورہ نمل کے بعد سورہ قصص ہے ۔سورہ قصص میں اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰؑ کی ولادت کا ذکر کیا ہے ۔ فرعون ایک برس بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کرواتا اور ایک سال ان کو زندہ چھوڑ دیتا تھا۔جناب موسیٰ ؑاس سال پیدا ہوئے جس سال فرعون نے بچوں کے قتل کا حکم دے رکھا تھا ۔اللہ تعالیٰ نے موسیٰؑ کی والدہ کو وحی کے ذریعے ڈھارس بندھائی اور فرمایا جب خدشہ ہو کہ فرعون کے ہرکارے آپہنچے ہیں تو انہیں جھولے میں لٹا کر سمندر کی لہروں کی نذر فرمادیں۔جناب موسیٰؑ کی والدہ نے ایسے ہی کیا۔ سمندر کی لہروں نے جھولے کو فرعون کے محل تک پہنچا دیا۔فرعون کی اہلیہ جناب آسیہ نے جھولے میں ایک خوبصورت بچے کو آتے دیکھا تو فرعون سے کہا کہ اسے قتل نہ کریں یہ میری اور آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن جائے گا ،ہم اس کو بیٹا بنا لیں گے اور یہ ہمارے لیے نفع بخش بھی ہو سکتا ہے۔ ادھر موسیٰؑ کی بہن بھی جھولے کے ساتھ ساتھ فرعون کے محل تک پہنچ گئیں ؛ چنانچہ بچے کو دودھ پلانے کی تلاش ہوئی تو اس لمحے جناب موسیٰؑ کی بہن آگے بڑھیں اور کہنے لگیں کہ کیا میں آپ کو ایک ایسے خانوادے سے آگاہ نہ کروں جو آپ کے لیے اس بچے کی کفالت کر دے ۔فرعون آمادہ ہو گیا۔ یوں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کو اُن کی والدہ سے ملا دیا۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا عجیب منظر ہے کہ دشمن‘ مو سیٰؑ کی والدہ کو دودھ پلانے کی اجرت دے رہا تھا ۔ جب جوان ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو علم و حکمت سے بہرہ ور فرما دیا ۔ایک دن جناب موسیٰؑ شہر میں داخل ہوتے ہیں تو کیا دیکھتے ہیںکہ فرعون کے قبیلے کا ایک آدمی بنی اسرائیل کے ایک آدمی کے ساتھ لڑ رہا ہے ۔بنی اسرائیل کے آدمی نے جب موسیٰؑ کو دیکھا تو اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کی دہائی دی۔ جناب مو سیٰ نے بنی اسرائیل کے آدمی کی حمایت میں فرعونی کو ایسا گھونسا رسید کیا کہ وہ ڈھیر ہو گیا۔ یقینا یہ قتل سہو تھا۔ آپؑ نے پروردگارعالم سے توبہ و استغفار کی جسے اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا: اگلے دن پھر وہ ڈرتے ڈرتے شہر میں داخل ہوئے تو وہی بنی اسرائیلی کسی اور سے گتھم گتھا تھا‘ حضرت نے اُس کی مدد کے لیے ہاتھ اٹھایا‘ تو وہ سمجھا کہ آپ اُسے مارنے لگے ہیں۔ اس ہڑبڑاہٹ میں اس نے کل کے قتل کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ اسی اثنا میںموسیٰؑ کو اس بات کی اطلاع ملی کہ فرعون کے ہرکارے ان کو تلاش کر رہے ہیں۔آپ ںنے اللہ تعالیٰ سے رہنمائی طلب کی۔ اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰؑ کی رہنمائی کی اور ان کو مدین کے گھاٹ پر پہنچا دیا ۔موسیٰؑ مدین کے گھاٹ پر پہنچے تو دیکھا کہ لوگ پانی نکالنے کے لیے قطاروں میں کھڑے ہیں اور وہاں پر دو لڑکیاں بھی پانی لینے آئی تھیں لیکن رش کی وجہ سے پانی لینے سے قاصر تھیں ۔جناب موسیٰؑ نے ان کے لیے پانی نکالا اور ایک طرف ہٹ کر سائے میں بیٹھ گئے ۔بھوک اور پیاس محسوس کی تو پروردگار عالم سے دعا مانگی اے میرے پروردگار تو میری جھولی میں خیر کو ڈال دے۔ دعا مانگنے کی دیر تھی کہ یکا یک انہی دو لڑکیوں میں سے ایک لڑکی انتہائی شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی جناب موسیٰ کے پاس آئی اور کہا کہ میرے بابا آپ کو بلا رہے ہیں تاکہ جو آپ ہمارے کام آئے ہیں اس کا آپ کو صلہ دیا جاسکے ۔جناب موسیٰؑ مدین کے بزرگ شخص (بعض مفسرین کے مطابق حضرت شعیبؑ) کے پاس پہنچے۔ آپ نے ان کو اپنے حالات سے آگاہ کیا تو جناب شعیبؑ نے کہا کہ آپ میرے پاس رہیں اور آپ نے جناب موسیٰؑ کی شادی بھی اپنی بیٹی سے کردی ۔دس برس کے بعد جناب موسیٰؑ نے وطن واپسی کاارادہ کیا۔ راستے میں طور پہاڑ کے پاس سے گزرے تو دور سے آگ جلتی نظر آئی‘ اہلیہ سے فرمانے لگے کہ تم ذرا ٹھہرو میں طُور پہاڑ سے آگ لے کر آتا ہوں کہ اس سے سردی اور ٹھنڈ دور ہو جائے گی۔جب طور پر پہنچے تو خالق کائنات نے آواز دی‘ اے موسیٰؑ !میں اللہ عزیزو حکیم ہوں۔ اس موقع پر آپ کو اللہ تعالیٰ نے نبوت سے نواز دیا اور آپ کے عصا کو معجزاتی عصا اور آپ کے ہاتھ کو نورانی بنا دیا۔ جناب موسیٰؑ نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا مانگی کہ اے پروردگار ! میرے بھائی ہارونؑ کو بھی نبوت عطا فرمادے۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کی یہ دعا بھی قبول کی۔ جناب موسیٰؑ فرعون کے پاس آئے تو فرعون نے آپ کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ۔موسیٰؑ نے ہر طرح اس کو سمجھایا مگر وہ نہ مانا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اُسے اور اُس کے لشکریوں کو سمندر میں ڈبو کر ہلاک کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں پچھلی قوموں اور افراد کا ذکر کیا ہے جنہوں نے وقت کے حاکموں کے ظلم اور استبداد کی پروا نہ کی اور اللہ کی توحید پر بڑی استقامت کے ساتھ کاربند رہے اور اپنے ایمان کے دعوے کو عمل سے ثابت کیا۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ مشرکوں کی مثال مکڑی کی ہے جو گھر بناتی ہے لیکن اس کی کوئی بنیا د نہیں ہوتی ۔اسی طرح مشرک غیر اللہ کو پکارتے ہیں مگر ان کی پکار میں کوئی وزن نہیں ہوتا ۔بے شک ان کے نظریات مکڑی کے کمزور گھروں کی طرح ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن پڑھنے ، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین![علامہ ابتسام الہی ظہیر ]

منتخب آیات ، ترجمہ
~~~~~~~~~
🌹🌹🌹
🔰 Quran Subjects  🔰 قرآن مضامین 🔰
"اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا" [ الفرقان 25  آیت: 30]
The messenger said, "My Lord, my people have deserted this Quran." (Quran 25:30)
~~~~~~~~~
اسلام دین کامل کو واپسی ....
"اللہ چاہتا ہے کہ تم پر ان طریقوں  کو واضح کرے اور انہی طریقوں پر تمہیں چلائے جن کی پیروی تم سے پہلے گزرے ہوئے صلحاء کرتے تھے- وہ اپنی رحمت کے ساتھ تمہاری طرف متوجّہ ہونے کا ارادہ رکھتا ہے ، اور وہ علیم بھی ہے اور دانا بھی- ہاں، اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ خود اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور نکل جاؤ. اللہ تم پر سے پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے." (قرآن  4:26,27,28]
اسلام کی پہلی صدی، دین کامل کا عروج کا زمانہ تھا ، خلفاء راشدین اور اصحابہ اکرام، الله کی رسی قرآن کو مضبوطی سے پکڑ کر اس پر کاربند تھے ... پہلی صدی حجرہ کے بعد جب صحابہ اکرام بھی دنیا سے چلے گیے تو ایک دوسرے دور کا آغاز ہوا ... الله کی رسی قرآن کو بتدریج پس پشت ڈال کر تلاوت تک محدود کر دیا ...اور مشرکوں کی طرح فرقہ واریت اختیار کرکہ دین کامل کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے-  ہمارے مسائل کا حل پہلی صدی کے اسلام دین کامل کو واپسی میں ہے  .. مگر کیسے >>>>>>

Popular Books