Skip to main content

خلاصہ قرآن و منتخب آیات - پارہ # 21


اکیسویں پارے کا آغاز سورہ عنکبوت سے ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ حبیبؐ سے فرماتے ہیں کہ جو کتاب آپ پر نازل کی گئی ہے‘ اس کی تلاوت کریں اور نماز قائم کریں‘ بیشک نماز فحاشی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آپ پہلے سے نہ کوئی کتاب پڑھتے تھے ‘نہ اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے ‘ورنہ اہل باطل شک کرتے ۔اللہ کے حبیب نے کسی مکتب یا مدرسے سے تعلیم حاصل نہیں کی؛اگر آپ لکھنا پڑھنا جانتے ہوتے تو اہلِ باطل کے شک میں کوئی وزن ہوتا ‘لیکن آپﷺ کا بغیر کسی سابقہ تعلیم کے قرآن مجید جیسی کتاب کو پیش کرنا اس امر کی واضح دلیل ہے کہ آپ اللہ کے نبی اور اس کے سچے رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ یہ واضح آیات ہیں‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے اہل علم کے سینوں میں محفوظ فرمادیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی آیات سے جھگڑنے والے لوگ ظالم اور کافر ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں مشرکینِ مکہ کی بد اعتقادی کا ذکر کیا کہ جب وہ سمندروں میں ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کو پورے اخلاص سے پکارتے ہیں اور جب خشکی پر ہوتے ہیں تو وہ شرک کا ارتکاب اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں‘ جو لوگ میرے راستے میں جدوجہد کرتے ہیں میں ان کو اپنا راستہ ضرور دکھائوں گا اور بے شک اللہ تعالیٰ نیکو کاروں کے ساتھ ہے ۔سورہ عنکبوت کے بعد سورہ روم ہے۔ یہ سورت اس وقت نازل ہوئی جب روم کے اہلِ کتاب کو ایران کے آتش پرستوں سے شکست ہوئی۔ کفار مکہ ایرانیوں کی اس فتح پر دلی طور پر بہت خوش تھے ۔اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں مومنوں کی دل جوئی کیلئے اس امر کا اعلان فرمایا کہ اہل روم مغلوب ہوگئے‘ قریب کی سرزمین (شام)میں اور اپنی مغلوبیت کے بعد چند ہی سالوں میں غالب آئیں گے۔ پہلے بھی ہر چیز کا اختیار صرف اللہ کے پاس تھا اور بعد میں بھی صرف اسی کے پاس رہے گا اور اس دن مومن خوش ہوجائیں گے۔ جب ان آیات کا نزول ہوا مشرکین مکہ نے ظاہری حالات کو دیکھتے ہوئے اس کو ناممکن خیال کیا۔ابی بن خلف تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ شرط لگا نے پر اتر آیا کہ ایسا ہونا نا ممکن ہے ۔کافر اللہ تعالیٰ کی طاقت اور اختیارات سے نا واقف تھے‘ اس لیے کہ ان کی نگاہ صرف ظاہری حالات پر تھی ۔اللہ تعالیٰ نے ہجرت سے ایک سال قبل ایرانیوں کو کمزور کرناشروع کردیا اور 2ہجری میں ایرانیوں کا سب سے بڑا آتشکدہ بھی رومی فتوحات کی لپیٹ میں آگیا اور اسی سال بدر کے معرکے میں مسلمانوں کو اللہ نے غلبہ عطافرمایا اور مسلمانوں کی خوشیاں دو چند ہو گئیں کہ رومیوں کی فتح کی اچھی خبر سننے کو مل گئی اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بھی کافروں کے مقابلے میں فتحیاب فرمادیا ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو نصیحت کی کہ قرابت داروں‘مساکین اورمسافروں کا حق ان کو دینا چاہیے۔ یہ بہتر ہے ان لوگوں کیلئے جو اپنے اللہ کی زیارت کرنا چاہتے ہیں اور یہی لوگ کامیاب ہیں۔ سورہ روم کے بعد سورہ لقمان ہے ۔سورہ لقمان میں اللہ تعالیٰ نے بتلایا ہے کہ کامیابی حاصل کرنے والے لوگ‘ نمازیں قائم کرنے والے ‘زکوٰ ۃ ادا کرنے والے اور آخرت پر پختہ یقین رکھنے والے ہوتے ہیں ۔سورہ لقمان میں اللہ تعالیٰ نے بتلایا ہے کہ بعض لوگ لغو باتوں کی تجارت کرتے ہیں اور ان کا مقصد صرف لوگوں کو گمراہ کرنا ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کیلئے اللہ تعالیٰ نے ذلت والے عذاب کو تیار کر دیا ہے ۔سورۃ لقمان میں اللہ تعالیٰ نے جناب لقمان کا ذکر کیا ہے کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے دانائی سے نوازا تھا۔ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کوکچھ قیمتی نصیحتیں کی تھیں ‘ان کا خلاصہ درج ذیل ہے۔ جناب لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا کہ بیٹے شرک نہ کرنا ‘شرک بہت بڑا ظلم ہے اور اپنے بیٹے کو والدین کی خدمت کی بھی تلقین کی‘ نیز اللہ کے علم کی وسعتوں سے آگا ہ کرتے ہوئے فرمایاکہ اے میرے بیٹے! اگر رائی کے دانے کے برابر کوئی چیز کسی چٹان کے اندر یا آسمان و زمین میں ہوتو اللہ تعالیٰ اس کوبھی سامنے لائے گا۔ بے شک اللہ بڑا باریک بین باخبر ہے۔ آپ نے اپنے بیٹے کو یہ بھی حکم دیا کہ اے میرے بیٹے !نماز قائم کر ‘بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روک اور تجھے جو تکلیف پہنچے اس پر صبر کر۔ بے شک یہ بڑی ہمت والے اور ضروری کام ہیں ۔آپ نے اپنے بیٹے کو مزید یہ نصیحت کی کہ لوگوں سے اپنا چہرہ پھیر کر بات نہ کر (یعنی بے رُخی) اور زمین پر اکڑ کر نہ چل۔ بے شک اللہ تعالیٰ اکڑ کر چلنے والے متکبرین کو پسند نہیں کرتا‘ اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر اور اپنی آواز پست رکھ۔ اس سورت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے غیب کی ان پانچ باتوں کا ذکر کیا ہے‘ جن کو صرف وہ جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں بے شک اس کے پاس قیامت کا علم ہے اور وہ جانتا ہے‘ بارش کب ہو گی اور وہ جانتا ہے جو ماں کے رحم میں ہے اور کسی نفس کو نہیں پتا کہ وہ کل کیا کر سکے اور کوئی نہیں جانتا وہ کس زمین میں مرے گا۔ ان تمام باتوں کا علم صرف باخبر اور علم رکھنے والے اللہ کے پاس ہے ۔اس کے بعد سورہ سجدہ ہے‘ جس میں اللہ تعالیٰ نے بتلایا کہ اس نے ملک الموت کی ڈیوٹی انسانوں کی ارواح قبض کرنے پر لگائی ہے ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے جنت کی نعمتوں کا ذکر کر تے ہوئے بتلایا کہ کسی انسان کو علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کیلئے کیا اہتمام فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں بتلایا ہے کہ مومن اور گناہ گار برابر نہیں ہو سکتے ۔مومن کا مقدر جنت‘ جبکہ سرکشی اور نافرمانی اختیار کرنے والے کا مقدر جہنم کے انگارے ہیں ۔ سورت سجدہ کے بعد سورہ احزاب ہے۔سورۃ احزاب میں اللہ تعالیٰ نے جنگ ِ خندق کا ذکر کیا ہے کہ جس میں کافروں کی افرادی قوت دیکھ کر منافقین کے دلوں پر ہیبت طاری ہوگئی تھی‘ جبکہ اہل ایمان پوری استقامت سے میدان میں ڈٹے رہے ۔چوبیس ہزار کے لشکر جرار نے مدینے پر حملہ کیا۔ رسول کریمﷺ کے ساتھ صحابہ کرام کے علاوہ سترہ سو یہودی حلیف تھے۔سترہ سو حلیف اتنی بڑی فوج کو دیکھ کر بھاگ گئے ۔اب رسول کریمﷺ کے ہمراہ صرف جانباز مسلمانوں کی ایک مختصر جماعت تھی ۔مسلمانوں نے جب اللہ کی ذات پر بھروسہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے تیز آندھیوں اور فرشتوں کی جماعتوں کے ذریعے اہل ایمان کی مدد فرمائی اور کافر کثرت ِتعداد اور وسائل کی فراوانی کے باوجود ذلت اور شکست سے دوچار ہوکر بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جس کو اللہ تعالیٰ سے ملاقات اور یوم حساب کی آمد کا یقین ہے‘ اس کیلئے رسول کریمﷺ کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ رسول کریمﷺہرشعبہ زندگی میں ہمارے لیے نمونے کی حیثیت رکھتے ہیں اور گھریلو زندگی‘ سماجی زندگی‘ انفرادی زندگی‘ اجتماعی زندگی میں ان کی ذات ہی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن ِ مجیدمیں بیان کردہ مضامین سے عبرت اور نصیحت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔(آمین ) [ علامہ ابتسام الہی ظہیر ]
منتخب آیات ، ترجمہ 

اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقہ سے، سوائے اُن لوگوں کے جو اُن میں سے ظالم ہوں، اور اُن سے کہو کہ "ہم ایمان لائے ہیں اُس چیز پر بھی جو ہماری طرف بھیجی گئی ہے اور اُس چیز پر بھی جو تمہاری طرف بھیجی گئی تھی، ہمارا خدا اور تمہارا خدا ایک ہی ہے اور ہم اُسی کے مُسلم (فرماں بردار) ہیں" (سورة العنكبوت46 )

(اے نبیؐ) ہم نے اِسی طرح تمہاری طرف کتاب نازل کی ہے، اس لیے وہ لوگ جن کو ہم نے پہلے کتاب دی تھی وہ اس پر ایمان لاتے ہیں، اور اِن لوگوں میں سے بھی بہت سے اس پر ایمان لا رہے ہیں، اور ہماری آیات کا انکار صرف کافر ہی کرتے ہیں (47)
 (اے نبیؐ) تم اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے، اگر ایسا ہوتا تو باطل پرست لوگ شک میں پڑ سکتے تھے (48)
 ہر متنفس کو موت کا مزا چکھنا ہے، پھر تم سب ہماری طرف ہی پلٹا کر لائے جاؤ گے (57) جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کو ہم جنت کی بلند و بالا عمارتوں میں رکھیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، کیا ہی عمدہ اجر ہے عمل کرنے والوں کے لیے (58
اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں میں سے جس کا چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کرتا ہے، یقیناً اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے (62)
اور یہ دنیا کی زندگی کچھ نہیں ہے مگر ایک کھیل اور دل کا بہلاوا اصل زندگی کا گھر تو دار آخرت ہے، کاش یہ لوگ جانتے (64)
اُس شخص سے بڑا ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا حق کو جھُٹلائے جب کہ وہ اس کے سامنے آ چکا ہو؟ کیا ایسے کافروں کا ٹھکانہ جہنم ہی نہیں ہے؟ (68
جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے، اور یقیناً اللہ نیکو کاروں ہی کے ساتھ ہے (69)
 رومی قریب کی سرزمین میں مغلوب ہو گئے ہیں (2) اور اپنی اِس مغلوبیت کے بعد چند سال کے اندر وہ غالب ہو جائیں گے (3
 اللہ ہی خلق کی ابتدا کرتا ہے، پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا، پھر اسی کی طرف تم پلٹائے جاؤ گے (11) اور جب وہ ساعت برپا ہو گی اس دن مجرم ہَک دَک رہ جائیں گے (12) ان کے ٹھیرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ان کا سفارشی نہ ہو گا اور وہ اپنے شریکوں کے منکر ہو جائیں گے (13) جس روز وہ ساعت برپا ہو گی، اس دن (سب انسان) الگ گروہوں میں بٹ جائیں گے (14) جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں وہ ایک باغ میں شاداں و فرحاں رکھے جائیں گے (15)
 پس تسبیح کرو اللہ کی جبکہ تم شام کرتے ہو اور جب صبح کرتے ہو (17) آسمانوں اور زمین میں اُسی کے لیے حمد ہے اور (تسبیح کرو اس کی) تیسرے پہر اور جبکہ تم پر ظہر کا وقت آتا ہے (18)
اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش، اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف ہے یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں دانشمند لوگوں کے لیے (22)
 وہی ہے جو تخلیق کی ابتدا کرتا ہے، پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا اور یہ اس کے لیے آسان تر ہے آسمانوں اور زمین میں اس کی صفت سب سے برتر ہے اور وہ زبردست اور حکیم ہے (27
مگر یہ ظالم بے سمجھے بوجھے اپنے تخیلات کے پیچھے چل پڑے ہیں اب کون اُس شخص کو راستہ دکھا سکتا ہے جسے اللہ نے بھٹکا دیا ہو ایسے لوگوں کا تو کوئی مدد گار نہیں ہو سکتا (29)
فرقہ واریت - مشرکین کا طریقہ 
(قائم ہو جاؤ اِس بات پر) اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے، اور ڈرو اُس سے، اور نماز قائم کرو، اور نہ ہو جاؤ اُن مشرکین میں سے (31) جنہوں نے اپنا اپنا دین الگ بنا لیا ہے اور گروہوں میں بٹ گئے ہیں، ہر ایک گروہ کے پاس جو کچھ ہے اسی میں وہ مگن ہے (32)
جب ہم لوگوں کو رحمت کا ذائقہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر پھول جاتے ہیں، اور جب ان کے اپنے کیے کرتوتوں سے ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یکایک وہ مایوس ہونے لگتے ہیں (36) کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ اللہ ہی رزق کشادہ کرتا ہے جس کا چاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے (جس کا چاہتا ہے) یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (37)
جو سُود تم دیتے ہو تاکہ لوگوں کے اموال میں شامل ہو کر وہ بڑھ جائے، اللہ کے نزدیک وہ نہیں بڑھتا، اور جو زکوٰۃ تم اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے ارادے سے دیتے ہو، اسی کے دینے والے در حقیقت اپنے مال بڑھاتے ہیں (39)
خشکی اور تری میں فساد برپا ہو گیا ہے لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے تاکہ مزا چکھائے اُن کو ان کے بعض اعمال کا، شاید کہ وہ باز آئیں (41)
 اور آپ اپنے رخ کو مستقیم اور مستحکم دین کی طرف رکھیں قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس کی واپسی کا کوئی امکان نہیں ہے اور جس دن لوگ پریشان ہوکر الگ الگ ہوجائیں گے (43)
 جو کفر کرے گا وہ اپنے کفر کا ذمہ دار ہوگا اور جو لوگ نیک عمل کررہے ہیں وہ اپنے لئے راہ ہموار کررہے ہیں (44) تاکہ خدا ایمان اور نیک عمل کرنے والوں کو اپنے فضل سے جزا دے سکے کہ وہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا ہے (45)
بیشک آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو (اپنی) آواز سنا سکتے ہیں جب کہ وه پیٹھ پھیر کر مڑ گئے ہوں (52) اور نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے ہدایت کرنے والے ہیں آپ تو صرف ان ہی لوگوں کو سناتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں پس وہی اطاعت کرنے والے ہیں (53)
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے دلوں پر جو سمجھ نہیں رکھتے یوں ہی مہر کر دیتا ہے (59)
 یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں (2) جو نیکو کاروں کے لئے رہبر اور (سراسر) رحمت ہے (3) جو لوگ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰة ادا کرتے ہیں اور آخرت پر (کامل) یقین رکھتے ہیں (4) یہی لوگ ہیں جو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ نجات پانے والے ہیں (5 سورة لقمان)
اور ہم نے یقیناً لقمان کو حکمت دی تھی کہ تو اللہ تعالیٰ کا شکر کر ہر شکر کرنے واﻻ اپنے ہی نفع کے لئے شکر کرتا ہے جو بھی ناشکری کرے وه جان لے کہ اللہ تعالیٰ بے نیاز اور تعریفوں واﻻ ہے (12)
 اور جب کہ لقمان نےواعظ  کہتے ہوئے اپنے لڑکے سے فرمایا کہ میرے پیارے بچے! اللہ کے ساتھ شریک نہ کرنا بیشک شرک بڑا بھاری ﻇلم ہے (13) ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق نصیحت کی ہے (14)
(اور لقمان نے کہا تھا کہ) "بیٹا، کوئی چیز رائی کے دانہ برابر بھی ہو اور کسی چٹان میں یا آسمانوں یا زمین میں کہیں چھپی ہوئی ہو، اللہ اُسے نکال لائے گا وہ باریک بیں اور باخبر ہے (16) بیٹا، نماز قائم کرنے کا حکم دے، بدی سے منع کر، اور جو مصیبت بھی پڑے اس پر صبر کر یہ وہ باتیں ہیں جن کی بڑی تاکید کی گئی ہے (17) اور لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کر، نہ زمین میں اکڑ کر چل، اللہ کسی خود پسند اور فخر جتانے والے شخص کو پسند نہیں کرتا (18) اپنی چال میں اعتدال اختیار کر، اور اپنی آواز ذرا پست رکھ، سب آوازوں سے زیادہ بُری آواز گدھوں کی آواز ہوتی ہے (19)
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ پیروی کرو اُس چیز کی جو اللہ نے نازل کی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو اُس چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے کیا یہ انہی کی پیروی کریں گے خواہ شیطان اُن کو بھڑکتی ہوئی آگ ہی کی طرف کیوں نہ بلاتا رہا ہو؟ (21)
 جو شخص اپنے آپ کو اللہ کے حوالہ کر دے اور عملاً وہ نیک ہو، اس نے فی الواقع ایک بھروسے کے قابل سہارا تھام لیا، اور سارے معاملات کا آخری فیصلہ اللہ ہی کے ہاتھ ہے (22)
 زمین میں جتنے درخت ہیں اگر وہ سب کے سب قلم بن جائیں اور سمندر (دوات بن جائے) جسے سات مزید سمندر روشنائی مہیا کریں تب بھی اللہ کی باتیں (لکھنے سے) ختم نہ ہوں گی بے شک اللہ زبردست اور حکیم ہے (27) تم سارے انسانوں کو پیدا کرنا اور پھر دوبارہ جِلا اُٹھانا تو (اُس کے لیے) بس ایسا ہے جیسے ایک متنفس کو (پیدا کرنا اور جِلا اٹھانا) حقیقت یہ ہے کہ اللہ سب کچھ سُننے اور دیکھنے والا ہے (28)
 یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ اللہ ہی حق ہے اور اسے چھوڑ کر جن دُوسری چیزوں کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ سب باطل ہیں، اور (اس وجہ سے کہ) اللہ ہی بزرگ و برتر ہے (30)
 لوگو، بچو اپنے رب کے غضب سے اور ڈرو اُس دن سے جبکہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے بدلہ نہ دے گا اور نہ کوئی بیٹا ہی اپنے باپ کی طرف سے کچھ بدلہ دینے والا ہوگا فی الواقع اللہ کا وعدہ سچا ہے پس یہ دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ دھوکہ باز تم کو اللہ کے معاملے میں دھوکا دینے پائے (33)
ہماری آیات پر تو وہ لوگ ایمان لاتے ہیں جنہیں یہ آیات سنا کر جب نصیحت کی جاتی ہے تو سجدے میں گر پڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے ( سورة السجدة 15)



واپس ، انڈکس - خلاصہ قرآن و منتخب آیات -<<  پارہ 1 سے پارہ 30 >>

21Th Ramadan Makkah Taraweeh  ,..[......]

~~~~~~~~~
🌹🌹🌹
🔰 Quran Subjects  🔰 قرآن مضامین 🔰
"اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا" [ الفرقان 25  آیت: 30]
The messenger said, "My Lord, my people have deserted this Quran." (Quran 25:30)
~~~~~~~~~
اسلام دین کامل کو واپسی ....
"اللہ چاہتا ہے کہ تم پر ان طریقوں  کو واضح کرے اور انہی طریقوں پر تمہیں چلائے جن کی پیروی تم سے پہلے گزرے ہوئے صلحاء کرتے تھے- وہ اپنی رحمت کے ساتھ تمہاری طرف متوجّہ ہونے کا ارادہ رکھتا ہے ، اور وہ علیم بھی ہے اور دانا بھی- ہاں، اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ خود اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور نکل جاؤ. اللہ تم پر سے پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے." (قرآن  4:26,27,28]
اسلام کی پہلی صدی، دین کامل کا عروج کا زمانہ تھا ، خلفاء راشدین اور اصحابہ اکرام، الله کی رسی قرآن کو مضبوطی سے پکڑ کر اس پر کاربند تھے ... پہلی صدی حجرہ کے بعد جب صحابہ اکرام بھی دنیا سے چلے گیے تو ایک دوسرے دور کا آغاز ہوا ... الله کی رسی قرآن کو بتدریج پس پشت ڈال کر تلاوت تک محدود کر دیا ...اور مشرکوں کی طرح فرقہ واریت اختیار کرکہ دین کامل کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے-  ہمارے مسائل کا حل پہلی صدی کے اسلام دین کامل کو واپسی میں ہے  .. مگر کیسے >>>>>>

Popular posts from this blog