Skip to main content

خلاصہ قرآن و منتخب آیات - پارہ # 29


انتیسویں پارے کا آغاز سورہ ملک سے ہوتا ہے اور اختتام سورة المرسلات پر- اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ بابرکت ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں حکومت ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انہوں نے زندگی اور موت کو اس لیے بنایا‘ تاکہ وہ جان لیں کہ کون اچھے عمل کرتا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے اپنی قوت تخلیق کا ذکر کرتے ہوئے ارشادفرمایا کہ اس نے سات آسمان بنائے اور اس نے اس انداز میں ان کو بنایا کہ اس کی تخلیق میں کسی بھی قسم کا کوئی رخنہ یا دراڑ نظر نہیں آتی ۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انہوں نے آسمان دنیا کو چراغوں سے مزین کیا اور ان کے ذریعے وہ شیطان کو رجم بھی کرتے ہیں ۔

سورۃ القلم میں ارشاد ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کا اخلاق عظیم ہے ۔ رسول کریم ﷺ نے خود بھی اعلان فرمایا تھا کہ مجھے مکارم اخلاق کی تکمیل کیلئے مبعوث کیا گیا ہے۔کسی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے پوچھا کہ رسول اللہﷺ کا اخلاق کیسا تھا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے جواب دیا کہ آپ ﷺ کا اخلاق قرآن تھا‘ یعنی جو کچھ قرآن میں اللہ نے آپؐ پر نازل فرمایا۔ آپ ﷺ ساری زندگی اسی پر عمل پیرا رہے ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے ایک سخی اور نیک زمیندار کا بھی ذکر کیا کہ وہ اپنے باغات کی آمدنی میں سے اللہ تعالیٰ کے حق کو احسن طریقے سے ادا کیا کرتا تھا ۔ جب اس کا انتقال ہوا تو اس کے بیٹوں نے اس بات کا فیصلہ کیا کہ وہ فصلوں کی کٹائی میں سے کسی غریب کو کچھ بھی ادا نہ کریں گے ۔جب فصلوں کی کٹائی کا وقت آیا تو وہ صبح سویرے نکلے ‘تاکہ راستے میں ان کو کوئی مسکین نہ مل جائے۔ جب وہ باغ میں پہنچے تو دیکھاکہ وہاں پر کھیت یا باغ نام کی کوئی چیز موجود نہ تھی۔ ان کو شک ہوا کہ وہ راستہ بھول گئے ہیں لیکن اچھی طرح غور کرنے کے بعد وہ سمجھ گئے کہ وہ راستہ نہیں بھولے بلکہ ان کا باغ اجڑ چکا تھا ۔یہ واقعہ اس امر کی دلیل ہے کہ جب مال کو راہ خدا میں خرچ نہ کیا جائے تو اس مال کے ضائع ہونے کے خدشات پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے بتلایا کہ کافر ‘رسول کریمؐ کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتے تھے۔ جب وہ قرآن کو سنتے تو نعوذ باللہ آپ کو مجنون کہتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ آپ ؐکو اپنی نگاہوں سے گرانا چاہتے ہیں اس لیے آپ کے بارے میں ہرزہ سرائی کرتے ہیں؛ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن مجید جہانوں کیلئے نصیحت ہے۔ 
سورۃ الحاقہ : الحاقہ سے مراد حقیقت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں قیامت کو حقیقت کے نام سے پکارا اور اس حقیقی کھڑکھڑاہٹ کو جھٹلانے والوں کے انجام سے آگاہ کیا ہے۔ اس سورت میں قومِ ثمود اور عاد کے انجام سے آگاہ کیا‘ جنہوں نے قیامت کو جھٹلایا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کو ایک چیخ کے ذریعے اور قوم عاد کو تیز ہوا کے ذریعے ہلاک کر دیا تھا ۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺکے بارے میں کافروں کے اقوال کو نقل کر کے ان کی تردید کی ہے ۔کافر‘رسول کریم ﷺ کو شاعر اور کاہن کہتے تھے ‘جبکہ اﷲتعالیٰ فرماتے ہیں ‘جو کچھ بھی آپ پر اترا ہے‘ پروردگار نے اتارا ہے اور اس میں جھوٹ والی کوئی بات نہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی ذات پر جھوٹ باندھنے والے کو کبھی فلاح نہیں دیتے‘ جبکہ اللہ کے حبیب ﷺ کے تذکروں کو اللہ تعالیٰ نے رہتی دنیا تک جاری و ساری فرمادیا ہے ۔
سورۃ المعارج میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کا ذکر کیا ہے کہ اس کی طوالت پچاس ہزار برس کے برابر ہو گی وہ دن ایسا ہو گا کہ مجرم کی خواہش ہو گی کہ اپنا آپ چھڑوانے کیلیے اپنے بیٹے یا اپنی بیوی اور اپنے بھائی کو پیش کردے یا زمین میں جو کچھ ہے ‘اس کو بطور فدیہ دے دے۔ اس دن جو لوگ عذاب سے بچیں گے‘ ان کے اوصاف بھی اللہ تعالیٰ نے بیان فرمادیے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوں گے‘ جو اپنی پاک دامنی کا تحفظ کرنیوالے ہونگے۔یہ لوگ امانتوں اور وعدوں کی پاسداری کرنیوالے ہونگے۔ یہ لوگ حق کی گواہی پر قائم رہنے والے ہوں گے اور نماز کی حفاظت کرنیوالے ہونگے اور یہ لوگ جنتوں کے حق دار ٹھہریں گے۔ 
سورہ نوح میں اللہ تعالیٰ نے جناب نوح علیہ السلام کی دین کیلئے محنت کا ذکر کیا کہ جناب نوح علیہ السلام ساڑھے نو سوبرس تک اپنی قوم کے لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے رہے۔ انہوں نے صبح شام پوری تندہی سے اللہ کے دین کی خدمت کی اور اپنی قوم کے لوگوں کو یہ بات سمجھائی کہ وہ پروردگار سے استغفار کیا کریں‘ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ اللہ تعالیٰ بارشوں کو ان کی مرضی کے مطابق نازل فرمائے گا اور مال اور بیٹوں میں بھی اضافہ کرے گا اور ان کیلئے نہروں کو چلا دیں گے اور باغات کو آباد کر دیں گے ۔
سورہ جن میں اللہ تعالیٰ نے جنات کی ایک جماعت کے قبول اسلام کا ذکر کیا کہ انہوں نے قرآن کی تلاوت سنی تو کہنے لگے کہ قرآن کیا خوبصورت کلام ہے ہدایت کی طرف رہنمائی کرتا ہے ۔پس ‘ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور ہم اپنے پروردگار کے ساتھ شرک نہیں کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ پروردگار کا مقام بہت بلند ہے‘ نہ اس کی کوئی بیوی ہے اور نہ ہی کوئی بیٹا۔ انہوں نے قرآن مجید کے نزول کے بعد اپنی قوم کے لوگوں کو بھی توحید کی دعوت دی چنانچہ انسانوں کی طرح جنات کی بھی ایک جماعت اہل توحید میں شامل ہو گئی۔ 
سورہ مزمل میں اللہ تعالیٰ نے حبیبؐ کو کہاہے کہ وہ پوری رات عبادت نہ کیا کریں بلکہ نصف رات‘ اس سے کچھ زیادہ یا کم عبادت کیا کریں‘ اس لیے کہ انہوں نے دن کو بھی بہت سے کام انجام دینے ہوتے ہیں اوراللہ تعالیٰ کا نام وقفے وقفے سے لیتے رہا کریں۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایاکہ قرآن جس حد تک ممکن ہو ضرورپڑھنا چاہیے۔ 
سورہ مدثر میں اللہ تعالیٰ نے بعض لوگوں کے انجام بد کا ذکر کیا اور فرمایا جو قرآن مجید کو غرور کی وجہ سے جھٹلاتے ہیں‘ انہیں جہنم کا مزا چکھنا
پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ نے جہنم کے پہریدار فرشتوں کی تعدادانیس بتلائی ہے اور جہنم میں لے کر جانے والے بڑے بڑے گناہوں میں‘نمازمیں کوتاہی اور مساکین کو کھانا نہ کھلا نے کابھی ذکر کیا ہے ۔
سورة القيامة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کی گھڑیوں کا ذکر کیا کہ یقینا قیامت آئے گی اور کافر جو اللہ کے بارے میں یہ گمان کرتا ہے کہ وہ ہڈیوں کو دوبارہ کیسے بنائے گا تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہمارے لیے انگلیوں کے پوروں تک کو بھی دوبارہ ٹھیک ٹھیک پیدا کرنا مشکل نہیں ہے۔ 
سورة الانسان (دہر) میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ انسان پرایک دورایساتھاجب وہ کوئی قابل ذکرچیزنہیں تھا۔ اللہ تعالی نے پانی کے قطرے سے اسے دیکھنے اورسننے والابنادیا۔اس کودوراہیں بھی بتلا دیں چاہے شکرکرے یاانکارکرے-
سورة المرسلات میں اللہ تعالی نے متعدد مرتبہ قیامت کوجھٹلانے والوں کے لیے تباہی کادن قراردیاہے اورکامیابی وکامرانی کواہل تقویٰ کامقدرقراردیاہے ۔ [ علامہ ابتسام الہی ظہیر ]

منتخب  مضامین و آیات ، ترجمہ 

قرآن 
یہ ایک نصیحت ہے، اب جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف جانے کا راستہ اختیار کر لے( سورة الانسان :29)
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ﴿٤٩﴾ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ ﴿٥٠
اب اِس (قرآن) کے بعد اور کونسی  حَدِيثٍ  (کلام) ایسا ہو سکتا ہے جس پر یہ ایمان لائیں؟ (المرسلات: 50)
کہ یہ (قرآن ) ایک محترم فرشتے کا بیان ہے (سورۃ الحاقہ:40) اور یہ کسی شاعر کا قول نہیں ہے ہاں تم بہت کم ایمان لاتے ہو (41) اور یہ کسی کاہن کا کلام نہیںہے جس پر تم بہت کم غور کرتے ہو (42) یہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے (سورۃ الحاقہ:43) اور اگر یہ پیغمبر ہماری طرف سے کوئی بات گڑھ لیتا (44) تو ہم اس کے ہاتھ کو پکڑ لیتے (45) اور پھر اس کی گردن اڑادیتے (46) پھر تم میں سے کوئی مجھے روکنے والا نہ ہوتا (47) اور یہ قرآن صاحبانِ تقویٰ کے لئے نصیحت ہے (48) اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے جھٹلانے والے بھی ہیں (49) اور یہ کافرین کے لئے باعث هحسرت ہے (50) اور یہ بالکل یقینی چیز ہے (51) لہذا آپ اپنے عظیم پروردگار کے نام کی تسبیح کریں(سورۃ الحاقہ:52)
پس اے نبیؐ، تم اِس کلام کے جھٹلانے والوں کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دو ہم ایسے طریقہ سے اِن کو بتدریج تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ اِن کو خبر بھی نہ ہوگی ( سورۃ القلم :44) میں اِن کی رسی دراز کر رہا ہوں، میری چال بڑی زبردست ہے ( (سورۃ القلم :45)
کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم یہ پڑھتے ہو(سورۃ القلم :37) کہ تمہارے لیے ضرور وہاں وہی کچھ ہے جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو؟ سورۃ القلم :38)
جب یہ کافر لوگ کلام نصیحت (قرآن) سنتے ہیں تو تمہیں ایسی نظروں سے دیکھتے ہیں کہ گویا تمہارے قدم اکھاڑ دیں گے، اور کہتے ہیں یہ ضرور دیوانہ ہے (51) حالانکہ یہ تو سارے جہان والوں کے لیے ایک نصیحت ہے (سورۃ القلم :52)
 دیکھئے آپ قرآن کی تلاوت میں عجلت کے ساتھ زبان کو حرکت نہ دیں( سورة القيامة: 16) یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسے جمع کریں اور پڑھوائیں (17) پھر جب ہم پڑھوادیں تو آپ اس کی تلاوت کو دہرائیں (18) پھر اس کے بعد اس کی وضاحت کرنا بھی ہماری ہی ذمہ داری ہے ( سورة القيامة:19)
ہم نے آپ پر قرآن تدریجا نازل کیا ہے( سورة الانسان:23
بہت بابرکت ہے وه (اللہ) جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے اور جو ہر چیز پر قدرت رکھنے واﻻ ہے (1)
جس نے موت اور حیات کو اس لیے پیدا کیاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے کام کون کرتا ہے، اور وه غالب (اور) بخشنے واﻻ ہے (2)
 جس نے سات آسمان اوپر تلے بنائے۔ (تو اے دیکھنے والے) اللہ رحمٰن کی پیدائش میں کوئی بے ضابطگی نہ دیکھے گا، دوباره (نظریں ڈال کر) دیکھ لے کیا کوئی شگاف بھی نظر آرہا ہے (3)
 جن لوگوں نے اپنے رب سے کفر کیا ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے (6)
جو لوتم خواہ چپکے سے بات کرو یا اونچی آواز سے (اللہ کے لیے یکساں ہے)، وہ تو دلوں کا حال تک جانتا ہے (13)گ بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں، یقیناً اُن کے لیے مغفرت ہے اور بڑا اجر (12)
بھلا سوچو، جو شخص منہ اوندھائے چل رہا ہو وہ زیادہ صحیح راہ پانے والا ہے یا وہ جو سر اٹھائے سیدھا ایک ہموار سڑک پر چل رہا ہو؟ (22)
 اِن سے کہو اللہ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، تم کو سننے اور دیکھنے کی طاقتیں دیں اور سوچنے سمجھنے والے دل دیے، مگر تم کم ہی شکر ادا کرتے ہو (23
اِن سے کہو، اللہ ہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا اور اسی کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے (24)
ن، قسم ہے قلم کی اور اُس چیز کی جسے لکھنے والے لکھ رہے ہیں (1) تم اپنے رب کے فضل سے مجنوں نہیں ہو (2) اور یقیناً تمہارے لیے ایسا اجر ہے جس کا سلسلہ کبھی ختم ہونے والا نہیں (3) اور بیشک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو (4) عنقریب تم بھی دیکھ لو گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے (5) کہ تم میں سے کون جنون میں مبتلا ہے (6) تمہارا رب اُن لوگوں کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں، اور وہی ان کو بھی اچھی طرح جانتا ہے جو راہ راست پر ہیں (7)
 ہرگز نہ دبو کسی ایسے شخص سے جو بہت قسمیں کھانے والا بے وقعت آدمی ہے (10) طعنے دیتا ہے، چغلیاں کھاتا پھرتا ہے (11) بھلائی سے روکتا ہے، ظلم و زیادتی میں حد سے گزر جانے والا ہے، سخت بد اعمال ہے، جفا کار ہے (12
 ہم نے اِن (اہل مکہ) کو اُسی طرح آزمائش میں ڈالا ہے جس طرح ایک باغ کے مالکوں کو آزمائش میں ڈالا تھا، جب اُنہوں نے قسم کھائی کہ صبح سویرے ضرور اپنے باغ کے پھل توڑیں گے (17)
کیا ہم فرماں برداروں کا حال مجرموں کا سا کر دیں؟ (35) تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، تم کیسے حکم لگاتے ہو؟ (36) کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم یہ پڑھتے ہو (37) کہ تمہارے لیے ضرور وہاں وہی کچھ ہے جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو؟ (38)
پس اے نبیؐ، تم اِس کلام کے جھٹلانے والوں کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دو ہم ایسے طریقہ سے اِن کو بتدریج تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ اِن کو خبر بھی نہ ہوگی ( سورۃ القلم :44) میں اِن کی رسی دراز کر رہا ہوں، میری چال بڑی زبردست ہے ( سورۃ القلم :45)
یقینا پیش آنے والی قیامت (1) اور کیسی پیش آنے والی (2) اور تم کیا جانو کہ یہ یقینا پیش آنے والی شے کیا ہے (3) قوم ثمود و عاد نے اس کھڑ کھڑانے والی کا انکار کیا تھا (4) تو ثمود ایک چنگھاڑ کے ذریعہ ہلاک کردیئے گئے (5) اور عاد کو انتہائی تیز و تند آندھی سے برباد کردیا گیا (6) جسے ان کے اوپر سات رات اور آٹھ دن کے لئے مسلسل مسخّرکردیا گیا تو تم دیکھتے ہو کہ قوم بالکل مفِدہ پڑی ہوئی ہے جیسے کھوکھلے کھجور کے درخت کے تنے (7) تو کیا تم ان کا کوئی باقی رہنے والا حصہّ دیکھ رہے ہو (8)
 ہم نے تم (فرعون) کو اس وقت کشتی میں اٹھالیا تھا جب پانی سر سے چڑھ رہا تھا (11) تاکہ اسے تمہارے لئے نصیحت بنائیں اور محفوظ رکھنے والے کان سن لیں (12)
 پھر جس کو نامئہ اعمال داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ سب سے کہے گا کہ ذرا میرا نامئہ اعمال تو پڑھو (19)
لیکن جس کو نامئہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا اے کاش یہ نامہ اعمال مجھے نہ دیا جاتا (25) ا
 پھر اسے جہنم ّمیں جھونک دو (31) یہ خدائے عظیم پر ایمان نہیں رکھتا تھا (33) اور لوگوں کو مسکینوں کو کھلانے پر آمادہ نہیں کرتا تھا (34)
  کہ یہ ایک محترم فرشتے کا بیان ہے (40) اور یہ کسی شاعر کا قول نہیں ہے ہاں تم بہت کم ایمان لاتے ہو (41) اور یہ کسی کاہن کا کلام نہیںہے جس پر تم بہت کم غور کرتے ہو (42) یہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے (سورۃ الحاقہ:43) اور اگر یہ پیغمبر ہماری طرف سے کوئی بات گڑھ لیتا (44) تو ہم اس کے ہاتھ کو پکڑ لیتے (45) اور پھر اس کی گردن اڑادیتے (46) پھر تم میں سے کوئی مجھے روکنے والا نہ ہوتا (47) اور یہ قرآن صاحبانِ تقویٰ کے لئے نصیحت ہے (48) اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے جھٹلانے والے بھی ہیں (49) اور یہ کافرین کے لئے باعث هحسرت ہے (50) اور یہ بالکل یقینی چیز ہے (51) لہذا آپ اپنے عظیم پروردگار کے نام کی تسبیح کریں (52)
مانگنے والے نے عذاب مانگا ہے، (وہ عذاب) جو ضرور واقع ہونے والا ہے (1) کافروں کے لیے ہے، کوئی اُسے دفع کرنے والا نہیں (2) اُس خدا کی طرف سے ہے جو عروج کے زینوں کا مالک ہے (3) ملائکہ اور روح اُس کے حضور چڑھ کر جاتے ہیں ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے (4) پس اے نبیؐ، صبر کرو، شائستہ صبر (5) یہ لوگ اُسے دور سمجھتے ہیں (6) اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں (7)
 (جھنم / قیامت) ان سب کو آواز دے رہی ہے جو منہ پھیر کر جانے والے تھے (17) اور جنہوں نے مال جمع کرکے بند کر رکھا تھا (18) بیشک انسان بڑا لالچی ہے (19) جب تکلیف پہنچ جاتی ہے تو فریادی بن جاتا ہے (20) اور جب مال مل جاتا ہے تو بخیل ہو جاتا ہے (21) علاوہ ان نمازیوں کے (22) جو اپنی نمازوں کی پابندی کرنے والے ہیں (23) اور جن کے اموال میں ایک مقررہ حق معین ہے (24) مانگنے والے کے لئے اور نہ مانگنے والے کے لئے (25) اور جو لوگ روز قیامت کی تصدیق کرنے والے ہیں (26) اور جو اپنے پروردگار کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں (27) بیشک عذاب پروردگار بے خوف رہنے والی چیز نہیں ہے (28) اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں (29) علاوہ اپنی بیویوں اور کنیزوں کے کہ اس پر ملامت نہیں کی جاتی ہے (30) پھر جو اس کے علاوہ کا خواہشمند ہو وہ حد سے گزر جانے والا ہے (31) اور جو اپنی امانتوں اور عہد کا خیال رکھنے والے ہیں (32) اور جو اپنی گواہیوں پر قائم رہنے والے ہیں (33) اور جو اپنی نمازوں کا خیال رکھنے والے ہیں (34) یہی لوگ جنّت میں باعزّت طریقہ سے رہنے والے ہیں (35)
میں تمام مشرق و مغرب کے پروردگار کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ہم قدرت رکھنے والے ہیں (40) اس بات پر کہ ان کے بدلے ان سے بہتر افراد لے آئیں اور ہم عاجز نہیں ہیں (41)
بیشک ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا کہ اپنی قوم کو دردناک عذاب کے آنے سے پہلے ڈراؤ (1)
اور نوح نے کہا کہ پروردگار ان لوگوں نے میری نافرمانی کی ہے اور اس کا اتباع کرلیا ہے جو مال و اولاد میں سوائے گھاٹے کے کچھ نہیں دے سکتا ہے (21)
یہ سب اپنی غلطیوں کی بنا پر غرق کئے گئے ہیں اور پھر جہنم ّمیں داخل کردیئے گئے ہیں اور خدا کے علاوہ انہیں کوئی مددگار نہیں ملا ہے (25)
اور نوح نے کہا کہ پروردگار اس زمین پر کافروں میں سے کسی بسنے والے کو نہ چھوڑنا (26) کہ تو انہیں چھوڑ دے گا تو تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور فاجر و کافر کے علاوہ کوئی اولاد بھی نہ پیدا کریں گے (27) پروردگار مجھے اور میرے والدین کو اور جو ایمان کے ساتھ میرے گھر میں داخل ہوجائیں اور تمام مومنین و مومنات کو بخش دے اور ظالموں کے لئے ہلاکت کے علاوہ کسی شے میں اضافہ نہ کرنا (28)
پیغمبر آپ کہہ دیجئے کہ میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے کان لگا کر قرآن کو سنا تو کہنے لگے کہ ہم نے ایک بڑا عجیب قرآن سنا ہے (1) جو نیکی کی ہدایت کرتا ہے تو ہم تو اس پر ایمان لے آئے ہیں اور کسی کو اپنے رب کا شریک نہ بنائیں گے (2) اور ہمارے رب کی شان بہت بلند ہے اس نے کسی کو اپنی بیوی بنایا ہے نہ بیٹا (3) اور ہمارے بیوقوف لوگ طرح طرح کی بے ربط باتیں کررہے ہیں (4)
اور ہم  (جنوں) میں سے بعض نیک کردار ہیں اور بعض کے علاوہ ہیں اور ہم طرح طرح کے گروہ ہیں (11) اور ہمارا خیال ہے کہ ہم زمین میں خدا کو عاجز نہیں کرسکتے اور نہ بھاگ کر اسے اپنی گرفت سے عاجز کرسکتے ہیں (12) اور ہم نے ہدایت کو سنا تو ہم تو ایمان لے آئے اب جو بھی اپنے پروردگار پر ایمان لائے گا اسے نہ خسارہ کا خوف ہوگا اور نہ ظلم و زیادتی کا (13)
 اور مساجد سب اللہ کے لئے ہیں لہذا اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرنا (18)
 وہ عالم الغیب ہے اور اپنے غیب پر کسی کو بھی مطلع نہیں کرتا ہے (26) مگر جس رسول کو پسند کرلے تو اس کے آگے پیچھے نگہبان فرشتے مقرر کردیتا ہے (27) تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچادیا ہے اور وہ جس کے پاس جو کچھ بھی ہے اس پر حاوی ہے اور سب کے اعداد کا حساب رکھنے والا ہے (28)
اے میرے چادر لپیٹنے والے (1) رات کو اٹھو مگر ذرا کم (2) آدھی رات یا اس سے بھی کچھ کم کر دو (3) یا کچھ زیادہ کردو اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر باقاعدہ پڑھو (4
اور ہمیں اور ان دولت مند جھٹلانے والوں کو چھوڑ دیں اور انہیں تھوڑی مہلت دے دیں (11)
 یہ درحقیقت عبرت و نصیحت کی باتیں ہیں اور جس کا جی چاہے اپنے پروردگار کے راستے کو اختیار کرلے (19)
آپ کا پروردگار جانتا ہے کہ دو تہائی رات کے قریب یا نصف شب یا ایک تہائی رات قیام کرتے ہیں اور آپ کے ساتھ ایک گروہ اور بھی ہے اور اللہ د ن و رات کا صحیح اندازہ رکھتا ہے وہ جانتا ہے کہ تم لوگ اس کا صحیح احصاءنہ کر سکوگے تو اس نے تمہارے اوپر مہربانی کر دی ہے اب جس قدر قرآن ممکن ہو اتنا پڑھ لو کہ وہ جانتا ہے کہ عنقریب تم میں سے بعض مریض ہوجائےں گے اور بعض رزق خدا کو تلاش کرنے کے لئے سفر میں چلے جائےں گے اور بعض راہِ خدا میں جہاد کریں گے تو جس قدر ممکن ہو تلاوت کرو اور نماز قائم کرو اور زکوٰة ادا کرو اور اللہ کو قرض حسنہ دو اور پھر جو کچھ بھی اپنے نفس کے واسطے نیکی پیشگی پھیج دو گے اسے خدا کی بارگاہ میں حاضر پاﺅگے ،بہتر اور اجر کے اعتبار سے عظیم تر۔اور اللہ سے استغفار کرو کہ وہ بہت زیادہ بخشنے والا اور مہربا ن ہے (20)
اے میرے کپڑا اوڑھنے والے (1) اٹھو اور لوگوں کو ڈراؤ (2) اور اپنے رب کی بزرگی کا اعلان کرو (3) اور اپنے لباس کو پاکیزہ رکھو (4) اور برائیوں سے پرہیز کرو (5) اور اس طرح احسان نہ کرو کہ زیادہ کے طلب گار بن جاؤ (6) اور اپنے رب کی خاطر صبر کرو (7) پھر جب صور پھونکا جائے گا (8) تو وہ دن انتہائی مشکل دن ہوگا (9)
 اس (جہنم) پر انیس فرشتے معین ہیں (30) اور ہم نے جہنمّ کا نگہبان صرف فرشتوں کو قرار دیا ہے اور ان کی تعداد کو کفار کی آزمائش کا ذریعہ بنادیا ہے کہ اہل کتاب کو یقین حاصل ہوجائے اور ایمان والوں کے ایمان میں اضافہ ہوجائے اور اہل کتاب یا صاحبانِ ایمان اس کے بارے میں کسی طرح کا شک نہ کریں اور جن کے دلوں میں مرض ہے اور کفار یہ کہنے لگیں کہ آخر اس مثال کا مقصد کیا ہے اللہ اسی طرح جس کو چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے اور اس کے لشکروں کو اس کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ہے یہ تو صرف لوگوں کی نصیحت کا ایک ذریعہ ہے  (سورہ مدثر :31)
ہر نفس اپنے اعمال میں گرفتار ہے (38)
مجرمین کے بارے میں (41) آخر تمہیں کس چیز نے جہنمّ میں پہنچادیا ہے (42) وہ کہیں گے کہ ہم نماز گزار نہیں تھے (43) اور مسکین کو کھانا نہیں کھلایا کرتے تھے (44) لوگوں کےبرے کاموں میں شامل ہوجایا کرتے تھے (45) اور روزِ قیامت کی تکذیب کیا کرتے تھے (46) یہاں تک کہ ہمیں موت آگئی (47)
 اور حق کے خلاف باتیں بنانے والوں کے ساتھ مل کر ہم بھی باتیں بنانے لگتے تھے (45) اور روز جزا کو جھوٹ قرار دیتے تھے (46) یہاں تک کہ ہمیں اُس یقینی چیز (موت) سے سابقہ پیش آ گیا" (47)
 آخر انہیں کیا ہوگیا ہے کہ یہ نصیحت سے منہ موڑے ہوئے ہیں (49) گویا بھڑکے ہوئے گدھے ہیں (50) جو شیر سے بھاگ رہے ہیں (51)
 ہاں ہاں بیشک یہ سراسر نصیحت ہے (54) اب جس کا جی چاہے اسے یاد رکھے (55) اور یہ اسے یاد نہ کریں گے مگر یہ کہ اللہ ہی چاہے کہ وہی ڈرانے کا اہل اور مغفرت کا مالک ہے (56)
میں روزِ قیامت کی قسم کھاتا ہوں (1) اور برائیوں پر ملامت کرنے والے نفس کی قسم کھاتا ہوں (2) کیا یہ انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہ کرسکیں گے (3) یقینا ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی انگلیوں کے پور تک درست کرسکیں (4)
اس دن انسان کو بتایا جائے گا کہ اس نے پہلے اور بعد کیا کیا اعمال کئے ہیں (13) بلکہ انسان خود بھی اپنے نفس کے حالات سے خوب باخبر ہے (14) چاہے وہ کتنے ہی عذر کیوں نہ پیش کرے (15)
 دیکھئے آپ قرآن کی تلاوت میں عجلت کے ساتھ زبان کو حرکت نہ دیں( سورة القيامة: 16) یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسے جمع کریں اور پڑھوائیں (17) پھر جب ہم پڑھوادیں تو آپ اس کی تلاوت کو دہرائیں (18) پھر اس کے بعد اس کی وضاحت کرنا بھی ہماری ہی ذمہ داری ہے ( سورة القيامة:19)
نہیں بلکہ تم لوگ دنیا کو دوست رکھتے ہو (20) اور آخرت کو نظر انداز کئے ہوئے ہو (21)
اس نے نہ کلام خدا کی تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی (31) بلکہ تکذیب کی اور منہ پھیر لیا (32) پھر اپنے اہل کی طرف اکڑتا ہوا گیا (33) افسوس ہے تیرے حال پر بہت افسوس ہے (34) حیف ہے اور صد حیف ہے (35) کیا انسان کا خیال یہ ہے کہ اسے اسی طرح آزاد چھوڑ دیا جائے گا (36) کیا وہ اس منی کا قطرہ نہیں تھا جسے رحم میں ڈالا جاتا ہے (37) پھر علقہ بنا پھر اسے خلق کرکے برابر کیا (38) پھر اس سے عورت اور مرد کا جوڑا تیار کیا (39) کیا وہ خدا اس بات پر قادر نہیں ہے کہ مفِدوں کو دوبارہ زندہ کرسکے (40)
یقینا انسان پر ایک ایسا وقت بھی آیا ہے کہ جب وہ کوئی قابل ذکر شے نہیں تھا (1) یقینا ہم نے انسان کو ایک ملے جلے نطفہ سے پیدا کیا ہے تاکہ اس کا امتحان لیں اور پھر اسے سماعت اور بصارت والا بنادیا ہے (2) یقینا ہم نے اسے راستہ کی ہدایت دے دی ہے چاہے وہ شکر گزار ہوجائے یا کفران نعمت کرنے والا ہوجائے (3) بیشک ہم نے کافرین کے لئے زنجیریں - طوق اور بھڑکتے ہوئے شعلوں کا انتظام کیا ہے (4) بیشک ہمارے نیک بندے اس پیالہ سے پئیں گے جس میں شراب کے ساتھ کافور کی آمیزش ہوگی (5)
 یہ اس کی محبت میں مسکینً یتیم اور اسیر کو کھانا کھلاتے ہیں (8) ہم صرف اللہ کی مرضی کی خاطر تمہیں کھلاتے ہیں ورنہ نہ تم سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ (9) ہم اپنے پروردگار سے اس دن کے بارے میں ڈرتے ہیں جس دن چہرے بگڑ جائیں گے اور ان پر ہوائیاں اڑنے لگیں گی (10) تو خدا نے انہیں اس دن کی سختی سے بچالیا اور تازگی اور سرور عطا کردیا (11)  اور انہیں ان کے صبر کے عوض جنّت اور حریر جنّت عطا کرے گا (12)
ہم نے آپ پر قرآن تدریجا نازل کیا ہے( سورة الانسان:23) لہذا آپ حکم اَ خدا کی خاطر صبر کریں اور کسی گنہگار یا کافر کی بات میں نہ آجائیں (24) اور صبح و شام اپنے پروردگار کے نام کی تسبیح کرتے رہیں (25)
یہ ایک نصیحت ہے، اب جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف جانے کا راستہ اختیار کر لے( سورة الانسان :29) اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک اللہ نہ چاہے یقیناً اللہ بڑا علیم و حکیم ہے (30) اپنی رحمت میں جس کو چاہتا ہے داخل کرتا ہے، اور ظالموں کے لیے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے (31)
جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ ضرور واقع ہونے والی ہے (7) پھر جب ستارے ماند پڑ جائیں گے (8) اور آسمان پھاڑ دیا جائے گا (9) اور پہاڑ دھنک ڈالے جائیں گے (10) اور رسولوں کی حاضری کا وقت آ پہنچے گا (اس روز وہ چیز واقع ہو جائے گی) (11)
کیا ہم نے ایک حقیر پانی سے تمہیں پیدا نہیں کیا (20) اور ایک مقررہ مدت تک، (21) اُسے ایک محفوظ جگہ ٹھیرائے رکھا؟ (22) تو دیکھو، ہم اِس پر قادر تھے، پس ہم بہت اچھی قدرت رکھنے والے ہیں (23) تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے (24) کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والی نہیں بنایا (25) زندوں کے لیے بھی اور مُردوں کے لیے بھی (26) اور اس میں بلند و بالا پہاڑ جمائے، اور تمہیں میٹھا پانی پلایا؟ (27) تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے (28) چلو اب اُسی چیز کی طرف جسے تم جھٹلایا کرتے تھے (29) چلو اُس سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے (30) نہ ٹھنڈک پہنچانے والا اور نہ آگ کی لپٹ سے بچانے والا (31) وہ آگ محل جیسی بڑی بڑی چنگاریاں پھینکے گی (32) (جو اچھلتی ہوئی یوں محسوس ہوں گی) گویا کہ وہ زرد اونٹ ہیں (33) تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے (34) یہ وہ دن ہے جس میں وہ نہ کچھ بولیں گے (35) اور نہ اُنہیں موقع دیا جائے گا کہ کوئی عذر پیش کریں (36) تباہی ہے اُس دن جھٹلانے والوں کے لیے (37) یہ فیصلے کا دن ہے ہم نے تمہیں اور تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو جمع کر دیا ہے (38) اب اگر کوئی چال تم چل سکتے ہو تو میرے مقابلہ میں چل دیکھو (39) تباہی ہے اُس دن جھٹلانے والوں کے لیے (40) متقی لوگ آج سایوں اور چشموں میں ہیں (41) اور جو پھل وہ چاہیں (اُن کے لیے حاضر ہیں) (42) کھاؤ اور پیو مزے سے اپنے اُن اعمال کے صلے میں جو تم کرتے رہے ہو (43) ہم نیک لوگوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں (44) تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے (45) کھا لو اور مزے کر لو تھوڑے دن حقیقت میں تم لوگ مجرم ہو (46) تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے (47) جب اِن سے کہا جاتا ہے کہ (اللہ کے آگے) جھکو تو نہیں جھکتے (48)
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ﴿٤٩﴾ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ ﴿٥٠
 تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے (49) اب اِس (قرآن) کے بعد اور کونسی  حَدِيثٍ  (کلام) ایسا ہو سکتا ہے جس پر یہ ایمان لائیں؟ (المرسلات: 50)  
خلاصہ قرآن و منتخب آیات - پارہ # 29
مکمل خلاصہ لنک پر : https://flip.it/0LwhfZ
انڈکس - خلاصہ قرآن و منتخب آیات - پارہ 1 سے پارہ 30 تک : https://flip.it/eTMXJN
قرآن مضامین انڈیکس: https://flip.it/9MZXE_

منتخب آیات ، ترجمہ


~~~~~~~~~
🌹🌹🌹
🔰 Quran Subjects  🔰 قرآن مضامین 🔰
"اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا" [ الفرقان 25  آیت: 30]
The messenger said, "My Lord, my people have deserted this Quran." (Quran 25:30)
~~~~~~~~~

Popular posts from this blog