Skip to main content

خلاصہ قرآن و منتخب آیات - پارہ # 27


ستائیسویں پارے کا آغاز سورت اَلذَّارِیَات سے ہوتا ہے اور اختتام  سورة الحديد پر- اس میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں اور جنات کی تخلیق کا مقصد صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت اور بندگی بتایا ہے۔ ارشاد ہوا کہ نہ تو مجھے ان سے رزق کی طلب ہے اور نہ میں نے کبھی ان سے کھا نامانگا ہے ۔ اس کے بعد سور ت طور ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے طور پہاڑ، بیت معمور، بلندو بالا آسمان ،سمندر کی لہروں اور کتاب مقدس کی قسم اٹھا کر کہا ہے کہ قیامت کا دن ضرور آ ئے گا اور اس دن پہاڑ چلنے لگیں گے۔ اس دن یوم جزا کو جھٹلانے والوں کو جہنم کی آگ کا سامنا کرنا پڑے گا اور ان کو کہا جائے گا کہ یہ وہ آگ ہے جس کا تم انکار کیا کرتے تھے ۔ پھر فرمایا کہ اہل تقویٰ جنت اورنعمتوںمیںپروردگارکی عطاؤںسے بہرہ مندہورہے ہوں گے اوران کارب ان کوعذاب جہنم سے بچالے گا ۔ان سے کہاجائے گا کہ اپنے اعمال کے بدلے جوجی چاہے کھاؤ اورپیواوروہ ایک دوسرے سے جُڑے قطارمیں بچھے تختوںپرٹیک لگائے ہوں گے اوراللہ تعالیٰ کشادہ آنکھوں والی حوریں ان کی زوجیت میںد ے گااوراہل ایمان کی اولاد نے بھی اگر ایمان اوراعمالِ صالحہ میںاپنے آباکی پیروی کی ہوگی تواللہ تعالیٰ جنت میںان کی اولاد کوان سے ملادیںگے۔ اللہ تعالیٰ نے اس امر کا بھی ذکر کیا کہ رسول اللہ ﷺ نہ تو(معاذ اللہ) کاہن تھے اور نہ ہی شاعر ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر کافر اپنے الزامات میں سچے ہیں تو ان کو چاہیئے کہ قرآن مجید جیسی کو ئی بات پیش کریں۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو صبر کی تلقین بھی کی اور کہا کہ آپ اپنے پروردگار کے حکم پر صبر کریں بے شک آپ میری آنکھوں کے سامنے ہیں یعنی جو صبر بھی رسول اللہ ﷺ کریں گے اللہ تعالیٰ اس سے بخوبی آگاہ ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی محبت اورمعیت ہمیشہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتی ہے ۔ سورہ طور کے بعد سورۃ النجم ہے۔ اس سورت میںپروردگار عالم نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس وقت تک کوئی کلام نہیں کرتے جب تک مالک کائنات ان پر وحی کا نزول نہیں فرماتے ۔اس میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے سفر معراج کا بھی ذکر کیا ہے اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ انہوں نے سفر معراج میں اپنے پروردگار کی بہت سی نشانیاں دیکھیں۔ فرمایا کہ کیا جو میرے بندے نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تم اس پر شک کرتے ہو؟اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل کفرکے اس باطل عقیدے کابھی ذکرکیا کہ وہ فرشتوں کوعورتیںقراردیتے تھے ۔ اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ جولوگ آخرت پرایمان نہیںلاتے وہ فرشتوں کوعورتیںقراردیتے ہیں اوران کے پاس اس حوالے سے کچھ بھی علم نہیں‘ وہ لوگ صرف وہم اورگمان کی پیروی کرتے ہیں۔ اللہ تعا لیٰ نے فرمایا کہ جو لوگ کبیرہ گناہوں اور فحاشی کے کاموں سے اجتناب کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرمادے گا‘ ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کی وسعت کابھی ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کو اس وقت سے جانتے ہیں جب ان کے خمیروں کو مٹی سے اٹھایاگیا اور جب وہ اپنی مائوں کے پیٹوں میں جنین کی شکل میں موجود تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کے صحیفوں اور موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہونے والی وحی کے اہم مضامین کا ذکر کیا کہ ان صحیفوں میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمادیا تھا کہ بے شک انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے اور وہ اپنی کوشش کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا ۔آخر میںاللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مذمت کی ہے جو قرآن مجید پر تعجب کرتے ہیں اور رونے کی بجائے ہنسی مذاق میں اپنا وقت بتا رہے ہیں اور موسیقی سننے میں اور دیگر لغویات میں اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں ۔ اس کے بعد سورت القمرہے جس کے شروع میںاللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیںکہ قیامت قریب آگئی اورچاندپھٹ گیا۔شقِ قمرکاواقعہ رسول اللہ ﷺ کی ہجرت سے تقریباً پانچ برس قبل رونما ہوا اور چاند جبل حراکے دونوںطرف ہوگیا۔ اتنی بڑی نشانی کودیکھ کر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کافرایمان لے آتے لیکن وہ سرکشی پرتلے رہے جس پراللہ تعالی نے اعلان فرمادیا کہ کفاراگرکوئی نشانی دیکھتے ہیںتومنہ پھیرلیتے ہیںاورکہتے ہیںکہ یہ توایک جادوہے جوپہلے سے چلا آ رہا ہے ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے قوم نوح ، قوم لوط کا ،قوم عاد اور قوم ثمود کا ذکر کیا کہ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے غضب کا نشانہ بنے ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر اس حقیقت کا بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو سمجھنے والوں کے لیے آسان بنادیا پس ہے کوئی جو نصیحت کو حاصل کرے ۔ اللہ تعالی نے متقیوں کے مقام کاذکرکیا کہ بے شک پرہیزگارلوگ جنت اورنہروں میں ہوں گے‘ اپنے حقیقی گھروں میںمقتدربادشاہ کے پاس ۔ اس کے بعد سورہ الرحمن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ رحمن نے قرآن مجید سکھلایا، انسان کو بنایا اور اس کو بیان کرنے کی صلاحیت عطا فرمائی ۔سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں اور ستارے اور درخت اللہ کو سجدہ کرتے ہیں۔ اسی نے آسمان بنایا اور ترازو قائم کیا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انسانوں کو چاہیے کہ ترازو کو صحیح طریقے سے قا ئم کیا کریں اور تولنے میں کوتاہی نہ کیا کریں ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے زمین کی تخلیق کا بھی ذکر کیا اور اس میں مختلف طرح کے پھلوں اور خوشبوئوں کو پیدا فرمایا اور انسانوں اور جنات کو مخاطب ہو کر کہاکہ تم دونوں گروہ پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے ۔ اللہ تعالی نے اس سورت میںجنت کے حسین مناظرکوبیان کیا کہ جوشخص اپنے رب کے مقام سے ڈرتاہے اس کے لیے دوباغ ہیں‘ وہ دونوں باغ سبز شاخوں والے ہوں گے۔ سورت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نام کے بابرکت ہونے کا بھی ذکر کیا ہے ۔ سورہ الرحمن کے بعد سورہ واقعہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے تین گروہوں کا ذکر کیا ۔ایک گروہ مقربین کا دوسرا عام جنتیوں کا اورتیسرا گروہ جہنمیوں کا ہے ۔مقربین کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کی نعمتیں تیار کی ہیں جبکہ عام جنتی بھی اللہ تعالیٰ کی عنایات پر شاداں و فر حاں ہوں گے جبکہ جہنمیوں کو تھوہر کا درخت کھانا پڑے گا ۔اس کے بعد سورۃ الحدید ہے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کا ذکر کیا کہ وہ اول بھی ہے اور آخر بھی اور ظاہر بھی ہے اور پوشیدہ بھی اور وہ ہر چیز کوجاننے والا ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام ؓکی دو جماعتوں کا بھی ذکر کیا کہ فتح مکہ سے پہلے اسلام لانے والے صحابہؓ کا مقام فتح مکہ کے بعد ایمان لانے والوں کے مقابلے میں زیادہ ہے لیکن دونوں گروہ جنتی ہیں ۔پھر اللہ تعالی نے اہل کتاب کی ایمانی حالت کابھی ذکرکیا کہ کتاب کے نزول کاایک عرصہ بعد ان کے دل سخت ہوگئے اوران کی اکثریت گناہ گار ہوگئی۔ اللہ تعالی اہل ایمان کوتلقین فرماتے ہیںکہ ان کی مانند مت ہوجانا۔ اللہ سے دعاہے کہ اللہ تعالی ہمیںقرآن مجید میںمذکورمضامین سے اورحقائق سے نصیحت حاصل کرنے کی توفیق دے ۔آمین! [ علامہ ابتسام الہی ظہیر ]

منتخب آیات ، ترجمہ 

ہم نے اِس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے، پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟ (سورہ القمر : 17)
کہ یہ ایک بلند پایہ قرآن ہے (سورة الواقعة: 77) ایک محفوظ کتاب میں ثبت (78) جسے مطہرین کے سوا کوئی چھو نہیں سکتا (79) یہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے (80) پھر کیا اس کلام کے ساتھ تم بے اعتنائی برتتے ہو (81) اور اِس نعمت میں اپنا حصہ تم نے یہ رکھا ہے کہ اِسے جھٹلاتے ہو؟ (سورة الواقعة: 82)
ابراہیمؑ نے کہا "اے فرستادگان الٰہی، کیا مہم آپ کو در پیش ہے؟ (سورة الذاريات:31) انہوں نے کہا "ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں (32) تاکہ اُس پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسا دیں (33) جو آپ کے رب کے ہاں حد سے گزر جانے والوں کے لیے نشان زدہ ہیں" (34) پھر ہم نے اُن سب لوگوں کو نکال لیا جو اُس بستی میں مومن تھے (35) اور وہاں ہم نے ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا (36) اس کے بعد ہم نے وہاں بس ایک نشانی اُن لوگوں کے لیے چھوڑ دی جو درد ناک عذاب سے ڈرتے ہوں (37)
اور (تمہارے لیے نشانی ہے) موسیٰؑ کے قصے میں جب ہم نے اُسے صریح سند کے ساتھ فرعون کے پاس بھیجا (38
آخر کار ہم نے اُسے اور اس کے لشکروں کو پکڑا اور سب کو سمندر میں پھینک دیا اور وہ ملامت زدہ ہو کر رہ گیا (40)
 اور (تمہارے لیے نشانی ہے) عاد میں، جبکہ ہم نے ان پر ایک ایسی بے خیر ہوا بھیج دی (41) کہ جس چیز پر بھی وہ گزر گئی اسے بوسیدہ کر کے رکھ دیا (42)
 اور (تمہارے لیے نشانی ہے) ثمود میں، جب اُن سے کہا گیا تھا کہ ایک خاص وقت تک مزے کر لو (43) مگر اس تنبیہ پر بھی انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی آخر کار ان کے دیکھتے دیکھتے ایک اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب نے اُن کو آ لیا (44)
اور ان سب سے پہلے ہم نے نوحؑ کی قوم کو ہلاک کیا کیونکہ وہ فاسق لوگ تھے (46
تو دوڑو اللہ کی طرف، میں تمہارے لیے اس کی طرف سے صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں (50) اور نہ بناؤ اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود، میں تمہارے لیے اُس کی طرف سے صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں  (سورة الذاريات:51)
پس اے نبیؐ، ان سے رخ پھیر لو، تم پر کچھ ملامت نہیں (54) البتہ نصیحت کرتے رہو، کیونکہ نصیحت ایمان لانے والوں کے لیے نافع ہے (55) میں نے جن اور انسانوں کو اِس کے سوا کسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں (56)
جو لوگ ایمان لائے ہیں اور اُن کی اولاد بھی کسی درجہ ایمان میں ان کے نقش قدم پر چلی ہے ان کی اُس اولاد کو بھی ہم (جنت میں) اُن کے ساتھ ملا دیں گے اور اُن کے عمل میں کوئی گھاٹا ان کو نہ دیں گے ہر شخص اپنے کسب کے عوض رہن ہے (21)
اے نبیؐ، اپنے رب کا فیصلہ آنے تک صبر کرو، تم ہماری نگاہ میں ہو تم جب اٹھو تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو (48) رات کو بھی اس کی تسبیح کیا کرو اور ستارے جب پلٹتے ہیں اُس وقت بھی (49)
تمہارا رفیق نہ بھٹکا ہے نہ بہکا ہے (2) وہ اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتا (3) یہ تو ایک وحی ہے جو اُس پر نازل کی جاتی ہے (4) اُسے زبردست قوت والے نے تعلیم دی ہے (5) جو بڑا صاحب حکمت ہے (6) وہ سامنے آ کھڑا ہوا جبکہ وہ بالائی افق پر تھا (7) پھر قریب آیا اور اوپر معلق ہو گیا (8) یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا (9) تب اُس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو وحی بھی اُسے پہنچانی تھی (10) نظر نے جو کچھ دیکھا، دل نے اُس میں جھوٹ نہ ملایا (11) اب کیا تم اُس چیز پر اُس سے جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے؟ (12) اور ایک مرتبہ پھر اُس نے (13) سدرۃالمنتہیٰ کے پاس اُس کو دیکھا (14) جہاں پاس ہی جنت الماویٰ ہے (15) اُس وقت سدرہ پر چھا رہا تھا جو کچھ کہ چھا رہا تھا (16) نگاہ نہ چوندھیائی نہ حد سے متجاوز ہوئی (17) اور اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں (18
آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے موجود ہیں، اُن کی شفاعت کچھ بھی کام نہیں آ سکتی جب تک کہ اللہ کسی ایسے شخص کے حق میں اُس کی اجازت نہ دے جس کے لیے وہ کوئی عرضداشت سننا چاہے اور اس کو پسند کرے (26)
وَمَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ ۖ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ ۖ وَإِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا ﴿٢٨﴾
حالانکہ اس معاملہ کا کوئی علم انہیں حاصل نہیں ہے، وہ محض گمان کی پیروی کر رہے ہیں، اور گمان حق کی جگہ کچھ بھی کام نہیں دے سکتا (28) پس اے نبیؐ، جو شخص ہمارے ذکر سے منہ پھیرتا ہے، اور دنیا کی زندگی کے سوا جسے کچھ مطلوب نہیں ہے، اُسے اس کے حال پر چھوڑ دو (29)
جو بڑے بڑے گناہوں اور کھلے کھلے قبیح افعال سے پرہیز کرتے ہیں، الا یہ کہ کچھ قصور اُن سے سرزد ہو جائے بلاشبہ تیرے رب کا دامن مغفرت بہت وسیع ہے وہ تمھیں اُس وقت سے خوب جانتا ہے جب اُس نے زمین سے تمہیں پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹوں میں ابھی جنین ہی تھے پس اپنے نفس کی پاکی کے دعوے نہ کرو، وہی بہتر جانتا ہے کہ واقعی متقی کون ہے (32)
کیا اُسے اُن باتوں کی کوئی خبر نہیں پہنچی جو موسیٰؑ کے صحیفوں (36) اور اُس ابراہیمؑ کے صحیفوں میں بیان ہوئی ہیں جس نے وفا کا حق ادا کر دیا؟ (37
"یہ کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا (38
اور یہ کہ انسان کے لیے کچھ نہیں ہے مگر وہ جس کی اُس نے سعی کی ہے (39
اور یہ کہ اس کی سعی عنقریب دیکھی جائے گی (40) اور اس کی پوری جزا اسے دی جائے گی (41)
اور یہ کہ اُسی نے عاد اولیٰ کو ہلاک کیا (50) اور ثمود کو ایسا مٹایا کہ ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑا (51) اور اُن سے پہلے قوم نوحؑ کو تباہ کیا کیونکہ وہ تھے ہی سخت ظالم و سرکش لوگ (52) اور اوندھی گرنے والی بستیوں کو اٹھا پھینکا (53)
قیامت کی گھڑی قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا (1) مگر اِن لوگوں کا حال یہ ہے کہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں منہ موڑ جاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ تو چلتا ہوا جادو ہے (2) اِنہوں نے (اس کو بھی) جھٹلا دیا اور اپنی خواہشات نفس ہی کی پیروی کی ہر معاملہ کو آخر کار ایک انجام پر پہنچ کر رہنا ہے (3) اِن لوگوں کے سامنے (پچھلی قوموں کے) وہ حالات آ چکے ہیں جن میں سرکشی سے باز رکھنے کے لیے کافی سامان عبرت ہے (4) اور ایسی حکمت جو نصیحت کے مقصد کو بدرجہ اتم پورا کرتی ہے مگر تنبیہات اِن پر کارگر نہیں ہوتیں (5)
ہم نے اِس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے، پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟ (17)
 عاد نے جھٹلایا، تو دیکھ لو کہ کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات (18)
 اور آل فرعون کے پاس بھی تنبیہات آئی تھیں (41) مگر انہوں نے ہماری ساری نشانیوں کو جھٹلا دیا آخر کو ہم نے انہیں پکڑا جس طرح کوئی زبردست قدرت والا پکڑتا ہے (42)
ہم نے ہر چیز ایک تقدیر کے ساتھ پیدا کی ہے (49)
اور ہمارا حکم بس ایک ہی حکم ہوتا ہے اور پلک جھپکاتے وہ عمل میں آ جاتا ہے (50)
 اِس قرآن کی تعلیم دی ہے (2) اُسی نے انسان کو پیدا کیا (3) اور اسے بولنا سکھایا (4) سورج اور چاند ایک حساب کے پابند ہیں (5) اور تارے اور درخت سب سجدہ ریز ہیں (6) آسمان کو اُس نے بلند کیا اور میزان قائم کر دی (7) اِس کا تقاضا یہ ہے کہ تم میزان میں خلل نہ ڈالو (8) انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تولو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو (9) زمین کو اس نے سب مخلوقات کے لیے بنایا (10)
دونوں مشرق اور دونوں مغرب، سب کا مالک و پروردگار وہی ہے (17) پس اے جن و انس، تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے؟ (18)
ہر چیز جو اس زمین پر ہے فنا ہو جانے والی ہے (26) اور صرف تیرے رب کی جلیل و کریم ذات ہی باقی رہنے والی ہے (27) پس اے جن و انس، تم اپنے رب کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے؟ (28)
 نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے (60)
اِن نعمتوں کے درمیان خوب سیرت اور خوبصورت بیویاں (70) اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟ (71) خیموں میں ٹھیرائی ہوئی حوریں (72) اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟ (73)
جب وہ ہونے والا واقعہ پیش آ جائے گا (1) تو کوئی اس کے وقوع کو جھٹلانے والا نہ ہوگا (2) وہ تہ و بالا کر دینے والی آفت ہوگی (3) زمین اس وقت یکبارگی ہلا ڈالی جائے گی (4) اور پہاڑ اس طرح ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے (5) کہ پراگندہ غبار بن کر رہ جائیں گے (6) تم لوگ اُس وقت تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے (7) دائیں بازو والے، سو دائیں بازو والوں (کی خوش نصیبی) کا کیا کہنا (8) اور بائیں بازو والے، تو بائیں بازو والوں (کی بد نصیبی کا) کا کیا ٹھکانا (9) اور آگے والے تو پھر آگے وا لے ہی ہیں (10) وہی تو مقرب لوگ ہیں (11) نعمت بھری جنتوں میں رہیں گے (12) اگلوں میں سے بہت ہوں گے (13) اور پچھلوں میں سے کم (14) مرصع تختوں پر (15) تکیے لگا ئے آمنے سامنے بیٹھیں گے (16)
یہ سب کچھ اُن اعمال کی جزا کے طور پر انہیں ملے گا جو وہ دنیا میں کرتے رہے تھے (24) وہاں وہ کوئی بیہودہ کلام یا گناہ کی بات نہ سنیں گے (25) جو بات بھی ہوگی ٹھیک ٹھیک ہوگی (26) اور دائیں بازو والے، دائیں بازو والوں کی خوش نصیبی کا کیا کہنا (27)   وہ اگلوں میں سے بہت ہوں گے (39) اور پچھلوں میں سے بھی بہت (40)
اور بائیں بازو والے، بائیں بازو والوں کی بد نصیبی کا کیا پوچھنا (41) وہ لو کی لپٹ اور کھولتے ہوئے پانی (42) اور کالے دھوئیں کے سائے میں ہوں گے (43) جو نہ ٹھنڈا ہوگا نہ آرام دہ (44) یہ وہ لوگ ہوں گے جو اِس انجام کو پہنچنے سے پہلے خوشحال تھے (45) اور گناہ عظیم پر اصرار کرتے تھے (46)
پھر اے گمراہو اور جھٹلانے والو! (51) تم شجر زقوم کی غذا کھانے والے ہو (52) اُسی سے تم پیٹ بھرو گے (53) اور اوپر سے کھولتا ہوا پانی (54) تونس لگے ہوئے اونٹ کی طرح پیو گے (55
 ہم نے تمہارے درمیان موت کو تقسیم کیا ہے، اور ہم اِس سے عاجز نہیں ہیں (60) کہ تمہاری شکلیں بدل دیں اور کسی ایسی شکل میں تمہیں پیدا کر دیں جس کو تم نہیں جانتے (61) اپنی پہلی پیدائش کو تو تم جانتے ہو، پھر کیوں سبق نہیں لیتے؟ (62)
کہ یہ ایک بلند پایہ قرآن ہے (سورة الواقعة: 77) ایک محفوظ کتاب میں ثبت (78) جسے مطہرین کے سوا کوئی چھو نہیں سکتا (79) یہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے (80) پھر کیا اس کلام کے ساتھ تم بے اعتنائی برتتے ہو (81) اور اِس نعمت میں اپنا حصہ تم نے یہ رکھا ہے کہ اِسے جھٹلاتے ہو؟ (سورة الواقعة: 82)
تو جب مرنے والے کی جان حلق تک پہنچ چکی ہوتی ہے (83) اور تم آنکھوں سے دیکھ رہے ہوتے ہو کہ وہ مر رہا ہے، (84) اُس وقت تمہاری بہ نسبت ہم اُس کے زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر تم کو نظر نہیں آتے (85) اب اگر تم کسی کے محکوم نہیں ہو اور اپنے اِس خیال میں سچے ہو، (86) اُس وقت اُس کی نکلتی ہوئی جان کو واپس کیوں نہیں لے آتے؟ (87)
اللہ کی تسبیح کی ہے ہر اُس چیز نے جو زمین اور آسمانوں میں ہے، اور وہی زبردست دانا ہے (1) زمین اور آسمانوں کی سلطنت کا مالک وہی ہے، زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے، اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے (2) وہی اول بھی ہے اور آخر بھی، ظاہر بھی ہے اور مخفی بھی، اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے (3)
ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر اور خرچ کرو اُن چیزوں میں سے جن پر اس نے تم کو خلیفہ بنایا ہے جو لوگ تم میں سے ایمان لائیں گے اور مال خرچ کریں گے ان کے لیے بڑا اجر ہے (7)
کون ہے جو اللہ کو قرض دے؟ اچھا قرض، تاکہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا کر واپس دے، اور اُس کے لیے بہترین اجر ہے (11)
خوب جان لو کہ، اللہ زمین کو اُس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے، ہم نے نشانیاں تم کو صاف صاف دکھا دی ہیں، شاید کہ تم عقل سے کام لو (17) مردوں اور عورتوں میں سے جو لوگ صدقات دینے والے ہیں اور جنہوں نے اللہ کو قرض حسن دیا ہے، اُن کو یقیناً کئی گنا بڑھا کر دیا جائے گا اور ان کے لیے بہترین اجر ہے (18)
اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں وہی اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں، اُن کے لیے اُن کا اجر اور اُن کا نور ہے اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہے وہ دوزخی ہیں (19) خوب جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل اور دل لگی اور ظاہری ٹیپ ٹاپ اور تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بارش ہو گئی تو اس سے پیدا ہونے والی نباتات کو دیکھ کر کاشت کار خوش ہو گئے پھر وہی کھیتی پک جاتی ہے اور تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہو گئی پھر وہ بھس بن کر رہ جاتی ہے اِس کے برعکس آخرت وہ جگہ ہے جہاں سخت عذاب ہے اور اللہ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی ہے دنیا کی زندگی ایک دھوکے کی ٹٹی کے سوا کچھ نہیں (20)
 کوئی مصیبت ایسی نہیں ہے جو زمین میں یا تمہارے اپنے نفس پر نازل ہوتی ہو اور ہم نے اس کو پیدا کرنے سے پہلے ایک کتاب میں لکھ نہ رکھا ہو ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان کام ہے (22) (یہ سب کچھ اس لیے ہے) تاکہ جو کچھ بھی نقصان تمہیں ہو اس پر تم دل شکستہ نہ ہو اور جو کچھ اللہ تمہیں عطا فرمائے اس پر پھول نہ جاؤ اللہ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے ہیں اور فخر جتاتے ہیں (23) جو خود بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بخل پر اکساتے ہیں اب اگر کوئی رو گردانی کرتا ہے تو اللہ بے نیاز اور ستودہ صفات ہے (24)
ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا، اور اُن کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں، اور لوہا اتارا جس میں بڑا زور ہے اور لوگوں کے لیے منافع ہیں یہ اس لیے کیا گیا ہے کہ اللہ کو معلوم ہو جائے کہ کون اُس کو دیکھے بغیر اس کی اور اُس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے یقیناً اللہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے (25) ہم نے نوحؑ اور ابراہیمؑ کو بھیجا اور اُن دونوں کی نسل میں نبوت اور کتاب رکھ دی پھر ان کی اولاد میں سے کسی نے ہدایت اختیار کی اور بہت سے فاسق ہو گئے (26) اُن کے بعد ہم نے پے در پے اپنے رسول بھیجے، اور ان سب کے بعد عیسیٰؑ ابن مریم کو مبعوث کیا اور اُس کو انجیل عطا کی اور جن لوگوں نے اس کی پیروی اختیار کی اُن کے دلوں میں ہم نے ترس اور رحم ڈال دیا اور رہبانیت انہوں نے خود ایجاد کرلی، ہم نے اُسے اُن پر فرض نہیں کیا تھا، مگر اللہ کی خوشنودی کی طلب میں انہوں نے آپ ہی یہ بدعت نکالی اور پھر اس کی پابندی کرنے کا جو حق تھا اسے ادا نہ کیا اُن میں سے جو لوگ ایمان لائے ہوئے تھے اُن کا اجر ہم نے ان کو عطا کیا، مگر ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں (27)
خلاصہ قرآن و منتخب آیات - پارہ # 27
مکمل خلاصه لنک پر : https://flip.it/GNYfzi
انڈکس - خلاصہ قرآن و منتخب آیات - پارہ 1 سے پارہ 30 تک : https://flip.it/eTMXJN
قرآن مضامین انڈیکس:  https://flip.it/6zSSlW

27Th Ramadan Makkah Taraweeh  ,..[......]
~~~~~~~~~
🌹🌹🌹
🔰 Quran Subjects  🔰 قرآن مضامین 🔰
"اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا" [ الفرقان 25  آیت: 30]
The messenger said, "My Lord, my people have deserted this Quran." (Quran 25:30)
~~~~~~~~~
اسلام دین کامل کو واپسی ....
"اللہ چاہتا ہے کہ تم پر ان طریقوں  کو واضح کرے اور انہی طریقوں پر تمہیں چلائے جن کی پیروی تم سے پہلے گزرے ہوئے صلحاء کرتے تھے- وہ اپنی رحمت کے ساتھ تمہاری طرف متوجّہ ہونے کا ارادہ رکھتا ہے ، اور وہ علیم بھی ہے اور دانا بھی- ہاں، اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ خود اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور نکل جاؤ. اللہ تم پر سے پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے." (قرآن  4:26,27,28]
اسلام کی پہلی صدی، دین کامل کا عروج کا زمانہ تھا ، خلفاء راشدین اور اصحابہ اکرام، الله کی رسی قرآن کو مضبوطی سے پکڑ کر اس پر کاربند تھے ... پہلی صدی حجرہ کے بعد جب صحابہ اکرام بھی دنیا سے چلے گیے تو ایک دوسرے دور کا آغاز ہوا ... الله کی رسی قرآن کو بتدریج پس پشت ڈال کر تلاوت تک محدود کر دیا ...اور مشرکوں کی طرح فرقہ واریت اختیار کرکہ دین کامل کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے-  ہمارے مسائل کا حل پہلی صدی کے اسلام دین کامل کو واپسی میں ہے  .. مگر کیسے >>>>>>

Popular posts from this blog