Skip to main content

خلاصہ قرآن و منتخب آیات - پارہ # 7


ساتواں پارہ سورہ المائدہ آیت 82 سے سورہ الانعام کی آیت 110 تک مشتمل ہے-  اس  پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے نرم دل اورایمان شناس عیسائیوں کی جماعت کا ذکر کیا ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کے کلام کی تلاوت کی جاتی ہے تو حقیقت کو پہچاننے کی وجہ سے ایسے لوگوں کی آنکھوں سے آنسوئوں کی جھڑیاں لگ جاتی ہیںاور وہ لوگ حق کو پہچاننے کے بعد اس کو قبول کر لیتے ہیں‘ وہ کہتے ہیں؛ اے ہمارے رب ہم ایمان لائے‘ ہمارا نام بھی (اسلام کی)گواہی دینے والوں میں لکھ دے ۔ قرآن مجید کی یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب کفار کے شر سے بچنے کیلئے مسلمان حبشہ کی طرف ہجرت کرجاتے ہیں ‘کافر مسلمانوں کے بارے میں حبشہ کے بادشاہ کو اکسانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حبشہ کا نرم دل عیسائی بادشاہ نجاشی جناب جعفرطیار کی زبان سے قرآن کی تلاوت سنتا ہے تو اس کی آنکھوں سے آنسوبہنا شروع ہوگئے اور اُس نے اپنا شمار اسلام کی گواہی دینے والوں میں کروالیا ۔ 
ساتویں پارے میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو مخاطب ہو کر کہا کہ اُنہیں پاک چیزوں کو اپنے اوپر حرام نہیں کرنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کے پاک رزق کو کھانا چاہیے اور اس سے ڈرتے رہنا چاہیے ۔اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ انسان کی بلا ارادہ کھائی گئی قسموں پر مواخذہ نہیں کرتے‘ لیکن جب کسی قَسم کو پوری پختگی سے کھایا جائے ‘تو ایسی صورت میں انسان کو اس قَسم کو پورا کرنا چاہیے۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے ان آیات کا نزول فرمایا ہے‘ جن میں صراحت سے شراب کو حرام قرار دیا گیاہے۔ا للہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ''اے ایمان والو بے شک شراب‘ جوا‘ بت گری اور پانسہ ناپاک اور شیطانی کام ہیں۔ پس‘ تم ان سے بچو‘ تاکہ کامیاب ہوجائو‘ بے شک شیطان جوئے اور شراب کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور عداوت پیدا کرنا چاہتا ہے اور تمہیں اللہ کی یاد اورنماز سے روکنا چاہتا ہے تو کیا تم لوگ باز آجائو گے ‘‘
جب ان آیات کا نزول ہوا تو حضرت عمرص اور دیگر صحابہ کرام ث نے کہا :اللہ! ہم رک گئے۔اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے سمندری شکار کو حلال قرار دیا ہے اور حالت احرام میں خشکی کے شکار کو منع کیا ہے۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے بکثرت سوال کرنے سے بھی روکا ہے۔ کئی مرتبہ کثرتِ سوال کی وجہ سے جائز اشیا ء بھی حرام ہو جاتی ہیں۔ اللہ نے اس سورت میں یہ بھی بتلایا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں نے عیسیٰں سے کہا:''کیا آپ کا رب ہمارے لیے آسمان سے دستر خوان کو اتار سکتا ہے ۔ عیسیٰ ں نے حواریوں کے اس بلا جواز مطالبے پر انہیں تنبیہ کرتے ہوئے کہا ''اللہ سے ڈر جائو اگر تم مومن ہو‘‘حواریوں نے عیسیٰ ںکی اس نصیحت کے جواب میں کہا کہ ''ہم چاہتے ہیں کہ اس میں سے کھائیں اور اپنے دلوں کو مطمئن کریں اور ہم جان لیں کہ ہمیں سچ بتایا گیا ہے اور اس پر گواہ رہیں‘‘ عیسیٰ علیہ السلام نے حواریوں کے اصرار پر دعا مانگی: ''اے اللہ اے ہمارے پروردگار ہمارے اوپر آسمان سے دستر خوان نازل فرماجو ہمارے اول اور آخر کے لیے عید اور تیری جانب سے ایک نشانی بن جائے اور ہمیں رزق عطافرما اور تو بہت ہی بہتر رزق دینے والا ہے‘‘۔ اس دعا پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ''میں وہ (دستر خوان) تمہارے لیے اتاروں گا پھر جوکوئی تم میں سے اس کے بعد کفر کرے گا تو میں اس کو ایسا عذاب دوں گا جو جہان والوںمیں سے کسی کو نہیں دیا ہوگا‘‘۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ اور اس کے نبی کی باتوں کو بلا چون وچراماننا چاہیے۔ جب بھی کبھی اللہ سے نشانی مانگ کر اس کے راستے کو چھوڑا گیا اللہ نے چھوڑنے والوں کو بہت برا عذاب دیا ۔
اس سورت میں اللہ نے اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جناب عیسیٰ ں سے پوچھیں گے کہ کیاانہوں نے لوگوں کو کہا تھا کہ ان کی اوران کی والدہ سیدہ مریم کی پوجا کی جائے ۔ عیسیٰ ں جواب میں کہیں گے یا اللہ! میں ایسی بات کیسے کہہ سکتا ہوں جسے کہنے کا مجھے حق نہیں۔ میں تو ان کو ہمیشہ یہی کہتا رہا کہ میرے اور اپنے رب اللہ کی پوجا کرو ۔انبیاء نے ہمیشہ اپنی اُمتوں کو توحید کا درس دیا ‘لیکن یہ ان اقوام کی بد نصیبی تھی کہ انبیاء کے راستے کو چھوڑ کر شرک کی دلدل میں اتر گئے ۔ 
سورۃ المائدہ کے بعد سورہ انعام ہے۔ سورہ انعام کے شروع میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہر قسم کی تعریف اس اللہ کے لیے ہے جو زمین اور آسمان کا خالق ہے اور جس نے اندھیروں اور اُجالوں کو پیدا کیا لیکن کافر پھر بھی اس کا شریک بناتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بتلایا کہ اس نے انسا ن کو مٹی سے پیدا کیا ‘پھر اس کو رہنے کا ایک وقت دیا پھر ایک مخصوص مدت کے بعد اس کو زندہ کیا جائے گا‘ لیکن انسان ہے کہ دوبارہ جی اٹھنے کے بارے میں شک کا شکار ہے۔ اس کے بعد اللہ نے اس بات کا ذکر کیا کہ اللہ ہی ہے آسمان اور زمین میں جو کہ انسان کے ظاہر اور باطن کو جانتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے‘ جو وہ کماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں اپنی ملکیت کی و سعت کا بھی ذکر کیا اور ارشاد فرمایا کہ دن اور رات میں جو کچھ بھی موجود ہے ‘اسی کا ہے اور وہ سننے اور جاننے والا ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اگر اللہ انسان کو کوئی گزند پہنچانا چاہیں تو اس کو کوئی نہیں ٹال سکتا اور اگر وہ اس کو خیریت سے رکھیں تو بھی وہ ہر چیز پر قادر ہیں‘ یعنی انسان کی حالت کو بدلنا اللہ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں۔ 
اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں یہ بھی بتلایا کہ اہل کتاب کے صاحب علم لوگ رسول اللہ ﷺ کو اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح کوئی اپنے سگے بیٹے کو پہچانتا ہے ‘اس کے باوجود یہ لوگ ایمان نہ لا کر اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ کافروں کے طعن و تشنیع رسول اللہ ﷺ کو دکھ پہنچاتے تھے۔ اللہ نے اپنے نبی کی ڈھارس بندھاتے ہوئے کہا کہ یہ ظالم لوگ در حقیقت آپ کو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی آیا ت کو جھٹلاتے ہیں۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کی وسعت کا بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس غیب کے خزانوں کی چابیاں ہیں اور ان کو ا س کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ خشکی اور سمندر میں جو کچھ بھی موجود ہے‘ اللہ تعالیٰ اس کو جانتے ہیں اور کوئی پتا جو زمین پر گرتا ہو‘ اللہ تعالیٰ اس کو بھی جانتے ہیں اور کوئی ذرہ جو کہ زمین کے کسی اندھیرے مقام پر پڑا ہے وہ اس کو بھی جانتے ہیں اور ہر خشک و تر سے پوری طرح واقف ہیں ۔اس پارے میں اللہ نے اس امر کا ذکرکیا ہے کہ جناب ابراہیمںنے اپنے باپ آذر اور اپنی قوم کی بت پرستی کی بھر پور طریقے سے مذمت کی ۔بت پرستی کی مذمت کے ساتھ ساتھ آپ نے اجرام سماویہ کی حقیقت کو بھی لوگوں پر کھول دیا ۔جگمگ کرتے ستارے ‘چانداور سورج کو ڈوبتے ہوئے دیکھ کر اعلان کردیا میں قوم کے شرک سے بری ہوں اور اپنے چہرے کا رخ اس ذات کی طرف کرتاہوں ‘جس نے زمین و آسمان کو بنایا ہے اور میں شرک کرنے والوں میں شامل نہیں۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ انہیں غیراللہ کے پجاریوں کو گالی نہیں دینی چاہیے کہ یہ لوگ معاذ اللہ جواب میں اللہ کو گالی دیں گے۔اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ وہ آنکھوں کو پاتا ہے‘ مگر آنکھیں اس کو دنیا میں نہیں دیکھ سکتیں ‘تاہم سورۃ القیامۃ میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا ذکر کیا کہ جنتی جنت میں جانے کے بعد اللہ تعالیٰ کے دیدار کی نعمت سے بھی بہرہ ور ہو نگے ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن مجید پڑھنے ‘سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے ۔(آمین) [ علامہ ابتسام الہی ظہیر ]

منتخب آیات ، ترجمہ 

تمہارے رب کی بات سچائی اور انصاف کے اعتبار سے کامل ہے، کوئی اس کے فرامین کو تبدیل کرنے والا نہیں ہے اور وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے (115: 6)
اور اے محمدؐ! اگر تم اُن لوگوں کی اکثریت کے کہنے پر چلو جو زمین میں بستے ہیں تو وہ تمہیں اللہ کے راستہ سے بھٹکا دیں گے وہ تو محض گمان پر چلتے اور قیاس آرائیاں کرتے ہیں (116: 6 ) 
در حقیقت تمہارا رب زیادہ بہتر جانتا ہے کہ کون اُس کے راستے سے ہٹا ہوا ہے اور کون سیدھی راہ پر ہے (117: 6)
  تم کھلے گناہوں سے بھی بچو اور چھپے گناہوں سے بھی، جو لوگ گناہ کا اکتساب کرتے ہیں وہ اپنی اس کمائی کا بدلہ پاکر رہیں گے (120: 6)
 اور جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو اس کا گوشت نہ کھاؤ، ایسا کرنا فسق ہے شیاطین اپنے ساتھیوں کے دلوں میں شکوک و اعتراضات القا کرتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں لیکن اگر تم نے اُن کی اطاعت قبول کر لی تو یقیناً تم مشرک ہو (121: 6)
کافروں کے لیے تو اسی طرح ان کے اعمال خوشنما بنا دیے گئے ہیں (122: 6)
اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں اس کے بڑے بڑے مجرموں کو لگا دیا ہے کہ وہاں اپنے مکر و فریب کا جال پھیلائیں دراصل وہ اپنے فریب کے جال میں آپ پھنستے ہیں، مگر اُنہیں اس کا شعور نہیں ہے (123: 6)
پس اﷲ جس کسی کو (فضلاً) ہدایت دینے کا ارادہ فرماتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لئے کشادہ فرما دیتا ہے اور جس کسی کو (عدلاً اس کی اپنی خرید کردہ) گمراہی پر ہی رکھنے کا ارادہ فرماتا ہے اس کا سینہ (ایسی) شدید گھٹن کے ساتھ تنگ کر دیتا ہے گویا وہ بمشکل آسمان (یعنی بلندی) پر چڑھ رہا ہو، اسی طرح اﷲ ان لوگوں پر عذابِ (ذّلت) واقع فرماتا ہے جو ایمان نہیں لاتے، (125: 6)
اور یہ (اسلام ہی) آپ کے رب کا سیدھا راستہ ہے، بیشک ہم نے نصیحت قبول کرنے والے لوگوں کے لئے آیتیں تفصیل سے بیان کر دی ہیں، (126: 6)
 اسی طرح ہم ظالموں میں سے بعض کو بعض پر مسلط کرتے رہتے ہیں ان اعمالِ(بد) کے باعث جو وہ کمایا کرتے ہیں، (129: 6)
یہ اس وجہ سے ہے کہ آپ کا رب کسی بستی والوں کو کفر کے سبب ایسی حالت میں ہلاک نہیں کرتا کہ اس بستی کے رہنے والے بے خبر ہوں (131 :6)
اور ہر ایک کے لئے ان کے اعمال کے سبب درجے ملیں گے اور آپ کا رب ان کے اعمال سے بے خبر نہیں ہے (132 : 6 )
 تمہارا رب بے نیاز ہے اور مہربانی اس کا شیوہ ہے اگر و ہ چاہے تو تم لوگوں کو لے جائے اور تمہاری جگہ دوسرے جن لوگوں کو چاہے لے آئے جس طرح اُس نے تمہیں کچھ اور لوگوں کی نسل سے اٹھایا ہے (133: 6)
 اے محمدؐ! ان سے کہو کہ جو وحی تمہارے پاس آئی ہے اس میں تو میں کوئی چیز ایسی نہیں پاتا جو کسی کھانے والے پر حرام ہو، الا یہ کہ وہ مُردار ہو، یا بہایا ہوا خون ہو، یاسور کا گوشت ہو کہ وہ ناپاک ہے، یا فسق ہو کہ اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو پھر جو شخص مجبوری کی حالت میں (کوئی چیز اِن میں سے کھا لے) بغیر اس کے کہ وہ نافرمانی کا ارادہ رکھتا ہو اور بغیر اس کے کہ وہ حد ضرورت سے تجاوز کرے، تو یقیناً تمہارا رب در گزر سے کام لینے والا اور رحم فرمانے والا ہے ( 145: 6)
 عنقریب یہ مشرکین کہیں گے کہ اگر خدا چاہتا تو نہ ہم مشرک ہوتے نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کسی چیز کو حرام قرار دیتے -اسی طرح ان سے پہلے والوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی یہاں تک کہ ہمارے عذاب کا مزہ چکھ لیا -ان سے کہہ دیجئے کہ تمہارے پاس کوئی دلیل ہے تو ہمیں بھی بتاؤ -تم تو صرف خیالات کا اتباع کرتے ہو اور اندازوں کی باتیں کرتے ہو (148: 6)
 کہہ دیجئے کہ اللہ کے پاس منزل تک پہنچانے والی دلیلیں ہیں وہ اگر چاہتا تو جبرا تم سب کو ہدایت دے دیتا (149: 6)
کہہ دیجئے کہ آؤ ہم تمہیں بتائیں کہ تمہارے پروردگار نے کیا کیا حرام کیا ہے .... خبردار کسی کو اس کا شریک نہ بنانا اور ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا .اپنی اولاد کو غربت کی بنا پر قتل نہ کرنا کہ ہم تمہیں بھی رزق دے رہے ہیں اور انہیں بھی ... اور بدکاریوں کے قریب نہ جانا وہ ظاہری ہوں یا چھپی ہوئی اور کسی ایسے نفس کو جسے خدا نے حرام کردیا ہے قتل نہ کرنا مگر یہ کہ تمہارا کوئی حق ہو .یہ وہ باتیں ہیں جن کی خدا نے نصیحت کی ہے تاکہ تمہیں عقل آجائے (151: 6)
اور خبردار مال هیتیم کے قریب بھی نہ جانا مگر اس طریقہ سے جو بہترین طریقہ ہو یہاں تک کہ وہ توانائی کی عمر تک پہنچ جائیں اور ناپ تول میں انصاف سے پورا پورا دینا -ہم کسی نفس کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے ہیں اور جب بات کرو تو انصاف کے ساتھ چاہے اپنی اقرباہی کے خلاف کیوں نہ ہو اور عہد خدا کو پورا کرو کہ اس کی پروردگار نے تمہیں وصیت کی ہے کہ شاید تم عبرت حاصل کرسکو (152 :6) 
اس کے بعد ہم نے موسٰی علیھ السّلام کو اچھی باتوں کی تکمیل کرنے والی کتاب دی اور اس میں ہر شے کو تفصیل سے بیان کردیا اور اسے ہدایت اور رحمت قرار دے دیا کہ شاید یہ لوگ لقائے الٰہی پر ایمان لے آئیں (154) اور یہ کتاب جو ہم نے نازل کی ہے یہ بڑی بابرکت ہے لہذا اس کا اتباع کرو اور تقوٰی اختیار کرو کہ شاید تم پر رحم کیا جائے (155: 6)
جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ان سے آپ کا کوئی تعلق نہیں ہے -ان کا معاملہ خدا کے حوالے ہے پھر وہ انہیں ان کے اعمال کے بارے میں باخبر کرے گا (159: 6)
جو شخص بھی نیکی کرے گا اسے دس گنا اجر ملے گا اور جو برائی کرے گا اسے صرف اتنی ہی سزا ملے گی اور کوئی ظلم نہ کیا جائے گا (160: 6)
آپ کہہ دیجئے کہ میرے پروردگار نے مجھے سیدھے راستے کی ہدایت دے دی ہے جو ایک مضبوط دین اور باطل سے اعراض کرنے والے ابراہیم علیھ السّلامکا مذہب ہے اور وہ مشرکین میں سے ہرگز نہیں تھے (161: 6) 
کہہ دیجئے کہ میری نماز ,میری عبادتیں ,میری زندگی ,میری موت سب اللہ کے لئے ہے جو عالمین کا پالنے والا ہے (162: 6)
 اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں (163: 6) 
ر جو نفس جو کچھ کرے گا اس کا وبال اسی کی ذمہ ہوگا اور کوئی نفس دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا -اس کے بعد تم سب کی بازگشت تمہارے پروردگار کی طرف ہے پھر وہ بتائے گا کہ تم کس چیز میں اختلاف کررہے تھے (164: 6) 
وہی وہ خدا ہے جس نے تم کو زمین میں نائب بنایا اور بعض کے درجات کو بعض سے بلند کیا تاکہ تمہیں اپنے دئیے ہوئے سے آزمائے ---  (165 : 6)
 یہ کتاب آپ کی طرف نازل کی گئی ہے لہذا آپ اس کی طرف سے کسی تنگی کا شکار نہ ہوں اور اس کے ذریعہ لوگوں کو ڈرائیں یہ کتاب صاحبانِ ایمان کے لئے مکمل یاددہانی ہے ( 2: 7)
آج کے دن اعمال کا وزن ایک برحق شے ہے پھر جس کے نیک اعمال کا پّلہ بھاری ہوگا وہی لوگ نجات پانے والے ہیں (8 :7)
اور جن کا پّلہ ہلکا ہوگیا یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنے نفس کو خسارہ میں رکھا کہ وہ ہماری آیتوں پر ظلم کررہے تھے (7:9)
(ابلیس نے کھا ) اس کے بعد سامنے ,پیچھے اور داہنے بائیں سے آؤں گا اور تو اکثریت کو شکر گزار نہ پائے گا (17) فرمایا کہ یہاں سے نکل جا تو ذلیل اور مردود ہے اب جو بھی تیرا اتباع کرے گا میں تم سب سے جہّنم کو بھردوں گا (18 :7)
ان دونوں  (آدم و  حوا) نے کہا کہ پروردگار ہم نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے اب اگر تو معاف نہ کرے گا اور رحم نہ کرے گا تو ہم خسارہ اٹھانے والوں میں ہوجائیں گے ( 23) ارشاد ہوا کہ تم سب زمین میں اتر جاؤ اور سب ایک دوسرے کے دشمن ہو -زمین میں تمہارے لئے ایک مّدت تک ٹھکانا اور سامان زندگانی ہے (24) فرمایا کہ وہیں تمہیں جینا ہے اور وہیں مرنا ہے اور پھر اسی زمین سے نکالے جاؤ گے ( 25: 7)
اے اولادُ آدم ہم نے تمہارے لئے لباس نازل کیا ہے جس سے اپنی شرمگاہوں کا پردہ کرو اور زینت کا لباس بھی دیا ہے لیکن تقوٰی کا لباس سب سے بہتر ہے یہ بات آیات الٰہیٰہ میں ہے کہ شاید وہ لوگ عبرت حاصل کرسکیں (26: 7)
اور یہ لوگ جب کوئی براکام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے آباؤ اجداد کو اسی طریقہ پر پایا ہے اور اللہ نے یہی حکم دیا ہے -آپ فرمادیجئے کہ خدا بری بات کا حکم دے ہی نہیں سکتا ہے کیا تم خدا کے خلاف وہ کہہ رہے ہو جو جانتے بھی نہیں ہو (  28: 7)
اس نے ایک گروہ کو ہدایت دی ہے اور ایک پر گمراہی مسلط ہوگئی ہے کہ انہوں نے شیاطین کو اپنا ولی بنالیا ہے اور خدا کو نظر انداز کردیا ہے اور پھر ان کا خیال ہے کہ وہ ہدایت یافتہ بھی ہیں (30: 7)
پیغمبر آپ پوچھئے کہ کس نے اس زینت کو جس کو خدا نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کیا ہے اور پاکیزہ رزق کو حرام کردیا ہے ... اور بتائیے کہ یہ چیزیں روزِ قیامت صرف ان لوگوں کے لئے ہیں جو زندگانی دنیا میں ایمان لائے ہیں .ہم اسی طرح صاحبان هعلم کے لئے مفصل آیات بیان کرتے ہیں (32) کہہ دیجئے کہ ہمارے پروردگار نے صرف بدکاریوں کو حرام کیا ہے چاہے وہ ظاہری ہوں یا باطنی .... اور گناہ اور ناحق ظلم اور بلادلیل کسی چیز کو خدا کا شریک بنانے اور بلاجانے بوجھے کسی بات کو خدا کی طرف منسوب کرنے کو حرام قرار دیا ہے (33: 7)
 ہر قوم کے لئے ایک وقت مقر ّر ہے جب وہ وقت آجائے گا تو ایک گھڑی کے لئے نہ پیچھے ٹل سکتا ہے اور نہ آگے بڑھ سکتا ہے (34 :7 )
اور جن لوگوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی اور اکڑ گئے وہ سب جہّنمی ہیں اور اسی میں ہمیشہ رہنے والے ہیں (36 :7 ) 
اس سے بڑا ظالم کون ہے جو خدا پر جھوٹا الزام لگائے یا اس کی آیات کی تکذیب کرے -ان لوگوں کو ان کی قسمت کا لکھا ملتا رہے گا یہاں تک کہ جب ہمارے نمائندے فرشتے مّدت حیات پوری کرنے کے لئے آئیں گے تو پوچھیں گے کہ وہ سب کہاں ہیں جن کو تم خدا کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے وہ لوگ کہیں گے کہ وہ سب تو گم ہوگئے اور اس طرح اپنے خلاف خود بھی گواہی دیں گے کہ وہ لوگ کافر تھے ( 37 :7 )
کہ یہ وہ جّنت ہے جس کا تمہیں تمہارے اعمال کی بنا پر وارث بنایا گیا ہے (43: 7)
 اور ان کے درمیان پردہ ڈال دیا جائے گا اور اعراف پر کچھ لوگ ہوں گے جو سب کو ان کی نشانیوں سے پہچان لیں گے اور اصحابِ جنّت کو آواز دیں گے کہ تم پر ہمارا سلام -وہ جنّت میں داخل نہ ہوئے ہوں گے لیکن اس کی خواہش رکھتے ہوں گے (46 :7  )
 جن لوگوں نے اپنے دین کو کھیل تماشہ بنالیا تھا اور انہیں زندگانی دنیا نے دھوکہ دے دیا تھا تو آج ہم انہیں اسی طرح بھلادیں گے جس طرح انہوں نے آج کے دن کی ملاقات کو بھلادیا تھا اور ہماری آیات کا دیدہ و دانستہ انکار کررہے تھے ( 51 : 7)
ہم ان کے پاس ایسی کتاب لے آئے ہیں جسے علم و اطلاع کے ساتھ مفصل بیان کیا ہے اور وہ صاحبانِ ایمان کے لئے ہدایت اور رحمت ہے (52: 7) 
 تم اپنے رب کو گڑگڑا کراور خاموشی کے ساتھ پکارو کہ وہ زیادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا ہے (55: 7)
 اور دنیا میں اس کے بعد کہ اس کی درستی کردی گئی ہے، فساد مت پھیلاؤ اور تم اللہ کی عبادت کرو اس سے ڈرتے ہوئے اور امیدوار رہتے ہوئے۔ بے شک اللہ تعالیٰ کی رحمت نیک کام کرنے والوں کے نزدیک ہے (56: 7)
 سو وه لوگ ان کی تکذیب ہی کرتے رہے تو ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اور ان کو جو ان کےساتھ کشتی میں تھے، بچالیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ان کو ہم نے غرق کردیا۔ بے شک وه لوگ اندھے ہورہے تھے (64: 7)
 اور ہم نے قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود (علیہ السلام) کو بھیجا۔ انہوں نے فرمایا اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں، سو کیا تم نہیں ڈرتے (65: 7)
 پس انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈاﻻ اور اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی اور کہنے لگے کہ اے صالح! جس کی آپ ہم کو دھمکی دیتے تھے اس کو منگوائیے اگر آپ پیغمبر ہیں (77) پس ان کو زلزلہ نے آپکڑا اور وه اپنے گھروں میں اوندھے کے اوندھے پڑے ره گئے (78: 7)
اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو بھیجا جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم ایسا فحش کام کرتے ہو جس کو تم سے پہلے کسی نے دنیا جہان والوں میں سے نہیں کیا (80) تم مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو عورتوں کو چھوڑ کر، بلکہ تم تو حد ہی سے گزر گئے ہو (81)  سو ہم نے لوط (علیہ السلام) کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیا بجز ان کی بیوی کے کہ وه ان ہی لوگوں میں رہی جو عذاب میں ره گئے تھے (83: 7)



~~~~~~~~~
🌹🌹🌹
🔰 Quran Subjects  🔰 قرآن مضامین 🔰
"اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا" [ الفرقان 25  آیت: 30]
The messenger said, "My Lord, my people have deserted this Quran." (Quran 25:30)
~~~~~~~~~
اسلام دین کامل کو واپسی ....
"اللہ چاہتا ہے کہ تم پر ان طریقوں  کو واضح کرے اور انہی طریقوں پر تمہیں چلائے جن کی پیروی تم سے پہلے گزرے ہوئے صلحاء کرتے تھے- وہ اپنی رحمت کے ساتھ تمہاری طرف متوجّہ ہونے کا ارادہ رکھتا ہے ، اور وہ علیم بھی ہے اور دانا بھی- ہاں، اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ خود اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور نکل جاؤ. اللہ تم پر سے پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے." (قرآن  4:26,27,28]
اسلام کی پہلی صدی، دین کامل کا عروج کا زمانہ تھا ، خلفاء راشدین اور اصحابہ اکرام، الله کی رسی قرآن کو مضبوطی سے پکڑ کر اس پر کاربند تھے ... پہلی صدی حجرہ کے بعد جب صحابہ اکرام بھی دنیا سے چلے گیے تو ایک دوسرے دور کا آغاز ہوا ... الله کی رسی قرآن کو بتدریج پس پشت ڈال کر تلاوت تک محدود کر دیا ...اور مشرکوں کی طرح فرقہ واریت اختیار کرکہ دین کامل کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے-  ہمارے مسائل کا حل پہلی صدی کے اسلام دین کامل کو واپسی میں ہے  .. مگر کیسے >>>>>>

Popular posts from this blog