Skip to main content

خلاصہ قرآن و منتخب آیات - پارہ # 5


پانچواں پارہ سورۃ النساء کی آیت 24 سے 147تک مشتمل ہے-  چوتھے پارے کے آخر میں ان رشتوں کا ذکر کیا گیا ہے‘ جن سے نکاح کرنا حرام ہے۔ پانچویں پارے کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے نکاح کے لیے چنی جانے والی عورتوں کے اوصاف کا ذکر کیا کہ نہ ان میں بُرائی کی علت ہونی چاہیے اور نہ ان میں غیرمردوں سے خفیہ مراسم پیدا کرنے کی بری عادت۔ اسی طرح انسان جب کسی عورت سے نکاح کا ارادہ کرے تو اُسے عورت کے اہل خانہ کی اجازت سے یہ کام کرنا چاہیے-
اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو نصیحت کی ہے کہ ان کو باطل طریقے سے ایک دوسرے کا مال ہڑپ کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ باہمی رضا مندی سے ایک دوسرے کے ساتھ تجارت کیا کریں ۔
 اللہ تعالیٰ نے اس پارے میں اپنے بندوں کو خوشخبری بھی دی ہے کہ اگر وہ بڑے گناہوں سے بچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے چھوٹے گناہوں کو معاف فرمادے گا اور ان کو جنت میں داخل فرما دے گا۔اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے گھریلو سطح پر اختیارات کا تعین بھی فرمادیا کہ مرد ‘عورتوں پر نگران کی حیثیت رکھتے ہیں- قرآن مجید نے ہمیشہ مردوزن کے باہمی حقوق کاذکر کیا ہے‘ لیکن حتمی فیصلے کرنے کے حوالے سے مردوں کو عورتوں پر یک گونہ فوقیت دی ہے-  اس کی ایک وجہ تو مردوں کی و ہبی فضیلت ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ عام طور پر گھروں کے اخراجات مردوں کے ذمے ہوتے ہیں۔اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے والدین ‘قریبی اعزہ و اقارب ‘یتیموں ‘مسکینوں ‘قریبی ہمسایوں اور دور کے ہمسایوں سے حسن سلوک کا حکم دیا ہے ۔
اس پارے میں اس آیت کا بھی نزول ہوا کہ اے ایمان والو!نماز کے قریب نہ جائو‘ جبکہ تم حالت نشہ میں ہو ‘یہاں تک کہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ کیا کہہ رہے ہو۔اس آیت کے شان نزول کے حوالے سے ابو داؤد‘ نسائی اور ترمذی نے الفاظ کے کچھ اختلاف کے ساتھ روایت کی ہے کہ '' عبدالرحمان بن عوف نے شراب حرام ہونے سے پہلے چند مہاجرین اور انصار صحابہ کو دعوت پر مدعو کیا۔ انہوں نے کھانا کھایا اور شراب پی لی‘ جب نماز کا وقت آیا تو عبدالرحمان بن عوف نے نماز پڑھائی‘‘۔ نشہ کی وجہ سے آپ کوئی لفظ پڑھنا بھول گئے‘ جس سے آیت کے معنی بالکل بدل گئے تو اللہ نے اس پر مذکورہ بالا آیت کا نزول فرمایا‘ اس کے کچھ دنوں کے بعد سورۃ مائدہ میں اللہ نے آیات کا نزول فرما دیا کہ ''اے ایمان والو بے شک شراب ‘ جوائ‘ بت گری اور پانسہ ناپاک اور شیطانی کام ہیں۔ پس‘ تم ان سے بچو کہ تم کامیاب ہو جاؤ۔‘‘اور شراب ہمیشہ کیلئے حرام ہو گئی۔ 
اللہ تعالیٰ نے شرک کو سب سے بڑا گناہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ شرک کے علاوہ ہر گناہ کو معاف کر سکتے ہیں ‘لیکن وہ شرک کو کسی بھی طور پر معاف نہیں کریں گے ۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے حسد کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حسدکرنے والے لوگ در حقیقت اللہ کے فضل اور عطا سے حسد کرتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آل پر کیے جانے والے انعامات کا ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ابراہیم علیہ السلام کی آل کو نبوت اور حکومت سے نوازا تھا۔
اللہ نے اس پارے میں یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ
'' اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل کے پاس پہنچا دو۔ امانتوں میں ہر قسم کی امانتیں چاہے اللہ کی ہوں یا بندوںکی سبھی شامل ہیں۔ 
رسول کریمﷺکو اہل مکہ دشمنی کے باوجود امین کہتے تھے اور جس دن آپ ہجرت فرما رہے تھے‘ اس دن بھی کفار کی امانتیں آپ کے پاس تھیں‘ جن کو لوٹانے کی ذمہ داری آپﷺ‘ حضرت علی کے سپرد کر کے مدینہ روانہ ہوئے تھے۔ اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ:
 اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول ﷺکی اطاعت کرو اور اپنے میں سے اختیار( یا علم) والوں کی بھی ‘پھر ؛اگر کسی معاملے میں اختلاف ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو۔‘‘
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اور رسول ﷺکی اطاعت لازمی ہے اور صاحب اختیار کی اطاعت بھی ہونی چاہیے ‘لیکن ؛اگر تنازع کی صورت پیدا ہوجائے تو اللہ اور اس کے رسولﷺ کی بات کو حرف آخر سمجھنا چاہیے-
امام احمد نے حضرت علی سے روایت کی ہے کہ رسول کریمﷺنے ایک انصاری صحابی کی قیادت میں ایک فوجی دستے کو بھیجا ‘ دستے کے امیر کسی بات پر لوگوں سے ناراض ہو گئے تو انہوں نے آگ جلائی اور لوگوں کو اس میں کودنے کے لیے کہا- دستے کے ایک نوجوان نے لوگوں کو کہا کہ ہم لوگ رسول کریمﷺپر آگ سے بچنے کے لیے ایمان لائے ہیں‘ اس لیے ہم جلدی نہ کریں‘ یہاں تک کہ رسول ﷺسے پوچھ لیں۔ جب انہوں نے واپس آکر رسول کریمﷺسے اس بارے میں پوچھا تو آپﷺ نے کہا کہ اگر تم لوگ اس میں کود جاتے تو اس سے کبھی نہ نکلتے۔ یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اگر لیڈر یا حاکم قرآن وسنت کے خلاف یا عوام کے مفادات اور مصالح کے خلاف کوئی اقدامات کر رہا ہو تو اس کے ان ناجائز اقدامات کو قبول کرنا خلاف ِدین ہے۔ 
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی اہمیت کا بھی ذکر کیا کہ جو رسول کریم ﷺ کی اطاعت کرتا ہے ‘وہ در حقیقت اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے۔ اسی طرح اس پارے میں یہ بھی ارشاد ہوا کہ 
جو لوگ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرتے ہیں ‘وہ قیامت کے دن نبیوں‘ صدیقوں‘ شہیدوں اور صلحاء کے ہمراہ ہوں گے۔ 
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے تحفے اور سلام کے جواب دینے کے آداب بھی بتلائے ہیں کہ جب کوئی کسی کو سلام کہے یا تحفہ دے تو ایسی صورت میں بہتر جواب اور بہتر تحفہ پلٹانا چاہیے اور اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں کم از کم اتنا جواب اور اتنا تحفہ ضرور دینا چاہیے ‘جتنا وصول کیا گیا ہو ۔اس پارہ میں اللہ تعالیٰ نے دارا لکفر میں رہنے والے مسلمانوں کا بھی ذکر کیا ہے کہ ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے فرائض اور واجبات کو احسن انداز میں ادا کریں ؛اگر وہ ایسانہ کر سکیں‘ تو ان کو اس ملک سے ہجرت کر جانی چاہیے ۔اگر وہ ہمت او ر استطاعت رکھنے کے باوجود ہجرت نہیںکرتے تو ان کو اللہ کی بارگاہ میں جواب دہ ہونا پڑے گا‘ تاہم ایسے لوگ اور عورتیں ‘جو معذوری اور بڑھاپے کی وجہ سے ہجرت سے قاصر ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے مواخذہ نہیں کریں گے۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے نماز کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ نماز حالت جہاد میں بھی معاف نہیں‘ تاہم جہاد اور سفر کے دوران نمازکو قصر کیا جاسکتا ہے ۔ خوف اور جنگ کی حالت میں فوج کے ایک حصہ کو اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کو ادا کرنا چاہیے‘ جبکہ ایک حصے کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نماز کو ادا کرنا چاہیے اور جونہی امن حاصل ہو جائے نماز کو بر وقت اور احسن انداز سے ادا کرنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ نے رسول ﷺ کی مخالفت کرنے والوں کی بھی مذمت کی ہے اور ارشادفرمایا کہ جو کوئی ہدایت واضح ہوجانے کے بعد رسول ﷺ کی مخالفت کرے گا‘اللہ تعالیٰ اس کا رخ اس کی مرضی کے راستے کی طرف موڑ دیں گے اور اس کا ٹھکانہ جہنم کی آگ ہے‘ جو کہ بہت بُرا ٹھکانہ ہے۔
آخر میں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے بارے میں اپنے بندوں کو بتلاتے ہیں کہ اگر لوگ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان لے آئیں اور اس کی نعمتوں کا شکریہ اداکریں تو اللہ تعالیٰ کو انہیں عذاب دینے کی کیا ضرورت ہے؟ اگر ہم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایمان اور شکر گزاری کے راستے کو اختیار کرنا ہو گا ۔اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کو پڑھنے‘ سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین) [ علامہ ابتسام الہی ظہیر ]

منتخب آیات کا ترجمہ :

ہاں، اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ خود اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور نکل جاؤ (27) اللہ تم پر سے پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے (28) اے لوگو جو ایمان لائے ہو، آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقوں سے نہ کھاؤ، لین دین ہونا چاہیے آپس کی رضامندی سے اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو یقین مانو کہ اللہ تمہارے اوپر مہربان ہے (  4:29)
اگر تم اُن بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرتے رہو جن سے تمہیں منع کیا جا رہا ہے تو تمہاری چھوٹی موٹی برائیوں کو ہم تمہارے حساب سے ساقط کر دیں گے اور تم کو عزت کی جگہ داخل کریں گے ( 4:31)
مرد عورتوں کے حاکم اور نگراں ہیں ان فضیلتوں کی بنا پر جو خد انے بعض کو بعض پر دی ہیں اور اس بنا پر کہ انہوں نے عورتوں پر اپنا مال خرچ کیا ہے- پس نیک عورتیں وہی ہیں جو شوہروں کی اطاعت کرنے والی اور ان کی غیبت میں ان چیزوں کی حفاظت کرنے والی ہیں جن کی خدا نے حفاظت چاہی ہے اور جن عورتوں کی نافرمانی کا خطرہ ہے انہیں موعظہ کرو- انہیں خواب گاہ میں الگ کردو اور مارو اور پھر اطاعت کرنے لگیں تو کوئی زیادتی کی راہ تلاش نہ کرو کہ خدا بہت بلند اور بزرگ ہے ( 4:34)
اور تم سب اللہ کی بندگی کرو، اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ، ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو، قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ، اور پڑوسی رشتہ دار سے، اجنبی ہمسایہ سے، پہلو کے ساتھی اور مسافر سے، اور اُن لونڈی غلاموں سے جو تمہارے قبضہ میں ہوں، احسان کا معاملہ رکھو، یقین جانو اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اپنے پندار میں مغرور ہو اور اپنی بڑائی پر فخر کر ے (4:36)
اور ایسے لوگ بھی اللہ کو پسند نہیں ہیں جو کنجوسی کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی کنجوسی کی ہدایت کرتے ہیں اور جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے اسے چھپاتے ہیں ایسے کافر نعمت لوگوں کے لیے ہم نے رسوا کن عذاب مہیا کر رکھا ہے (4:37)
 اور پھر پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے کام لو اور اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کر لو، بے شک اللہ نرمی سے کام لینے والا اور بخشش فرمانے والا ہے (4:43)
اللہ اس بات کو معاف نہیں کرسکتا کہ اس کا شریک قرار دیا جائے اور اس کے علاوہ جس کو چاہے بخش سکتا ہے اور جو بھی اس کا شریک بنائے گا اس نے بہت بڑا گناہ کیا ہے (48: 4)
 بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتوں کو ان کے اہل تک پہنچا دو اور جب کوئی فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ کرو اللہ تمہیں بہترین نصیحت کرتا ہے بیشک اللہ سمیع بھی ہے اور بصیر بھی (58: 4)
ایمان والو اللہ کی اطاعت کرو رسول اور صاحبانِ امر کی اطاعت کرو جو تم ہی میں سے ہیں پھر اگر آپس میں کسی بات میں اختلاف ہوجائے تو اسے خدا اور رسول کی طرف پلٹا دو اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھنے والے ہو- یہی تمہارے حق میں خیر اور انجام کے اعتبار سے بہترین بات ہے (4:59)
جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے یعنی انبیا٫ اور صدیقین اور شہدا٫ اور صالحین کیسے اچھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسر آئیں (4:69)
 جو اللہ کی راہ میں لڑے گا اور مارا جائے گا یا غالب رہے گا اُسے ضرور ہم اجر عظیم عطا کریں گے (4:74)
اور آخر تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان کمزور مردوں, عورتوں اور بچوں کے لئے جہاد نہیں کرتے ہو جنہیں کمزور بناکر رکھا گیا ہے اور جو برابر دعا کرتے ہیں کہ خدایا ہمیں اس قریہ سے نجات دے دے جس کے باشندے ظالم ہیں اور ہمارے لئے کوئی سرپرست اور اپنی طرف سے مددگار قرار دے دے (75: 4)
 تم تک جو بھی اچھائی اور کامیابی پہنچی ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو بھی برائی پہنچی ہے وہ خود تمہاری طرف سے ہے .... ( 4:79)
کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے ہیں کہ اگر وہ غیر خدا کی طرف سے ہوتا تو اس میں بڑا اختلاف ہوتا (82 :4) 
اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی خبر آتی ہے تو فورا نشر کردیتے ہیں حالانکہ اگر رسول اور صاحبانِ امر کی طرف پلٹا دیتے تو ان سے استفادہ کرنے والے حقیقت حال کا علم پیدا کرلیتے اور اگر تم لوگوں پر خدا کا فضل اور ا سکی رحمت نہ ہوتی تو چند افراد کے علاوہ سب شیطان کا اتباع کرلیتے (83 4:)
جو شخص اچھی سفارش کرے گا اسے اس کا حصہ ّملے گااور جو اِری سفارش کرے گا اسے اس میں سے حصہّ ملے گا اور اللہ ہر شے پر اقتدار رکھنے والا ہے (85: 4)
اور جب تم لوگوں کو کوئی تحفہ(سلام) پیش کیا جائے تو اس سے بہتر یا کم سے کم ویسا ہی واپس کرو کہ بیشک اللہ ہر شے کا حساب کرنے والا ہے (86: 4)
اور جو بھی کسی مومن کو قصدا قتل کردے گا اس کی جزا جہّنم ہے- اسی میں ہمیشہ رہنا ہے اور اس پر خدا کا غضب بھی ہے اور خدا لعنت بھی کرتا ہے اور اس نے اس کے لئے عذابِ عظیم بھی مہیاّ کررکھا ہے (93: 4)
اور آپ اللہ سے بخشش طلب کریں، بیشک اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے، (4:106) 
مگر جو شخص رسول کی مخالفت پر کمر بستہ ہو اور اہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور روش پر چلے، درآں حالیکہ اس پر راہ راست واضح ہو چکی ہو، تو اُس کو ہم اُسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا اور اسے جہنم میں جھونکیں گے جو بد ترین جائے قرار ہے (4:115) 
اللہ کے ہاں بس شرک ہی کی بخشش نہیں ہے، اس کے سوا اور سب کچھ معاف ہوسکتا ہے جسے وہ معاف کرنا چاہے جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیرایا وہ تو گمراہی میں بہت دور نکل گیا (4:116)
 اور جو نیک عمل کرے گا، خواہ مرد ہو یا عورت، بشر طیکہ ہو وہ مومن، تو ایسے ہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور اُن کی ذرہ برابر حق تلفی نہ ہونے پائے گی (4:124)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو فریق معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب، اللہ تم سے زیادہ اُن کا خیر خواہ ہے لہٰذا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو اور اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے (4:135)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل کی ہے اور ہر اُس کتاب پر جو اس سے پہلے وہ نازل کر چکا ہے جس نے اللہ اور اس کے ملائکہ اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور روز آخرت سے کفر کیا وہ گمراہی میں بھٹک کر بہت دور نکل گیا (4:136)
اللہ اِس کتاب میں تم کو پہلے ہی حکم دے چکا ہے کہ جہاں تم سنو کہ اللہ کی آیات کے خلاف کفر بکا جا رہا ہے اور ا ن کا مذاق اڑایا جا رہا ہے وہاں نہ بیٹھو جب تک کہ لوگ کسی دوسری بات میں نہ لگ جائیں اب اگر تم ایسا کرتے ہو تو تم بھی انہی کی طرح ہو یقین جانو کہ اللہ منافقوں اور کافروں کو جہنم میں ایک جگہ جمع کرنے والا ہے (4:140)
 اے ایمان والو! اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بناؤ۔ کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے خلاف اللہ کو کھلی ہوئی دلیل مہیا کر دو۔ (4:144, تفہیم القرآن ) 
~~~~~~~~~
🌹🌹🌹
🔰 Quran Subjects  🔰 قرآن مضامین 🔰
"اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا" [ الفرقان 25  آیت: 30]
The messenger said, "My Lord, my people have deserted this Quran." (Quran 25:30)
~~~~~~~~~
اسلام دین کامل کو واپسی ....
"اللہ چاہتا ہے کہ تم پر ان طریقوں  کو واضح کرے اور انہی طریقوں پر تمہیں چلائے جن کی پیروی تم سے پہلے گزرے ہوئے صلحاء کرتے تھے- وہ اپنی رحمت کے ساتھ تمہاری طرف متوجّہ ہونے کا ارادہ رکھتا ہے ، اور وہ علیم بھی ہے اور دانا بھی- ہاں، اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ خود اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور نکل جاؤ. اللہ تم پر سے پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے." (قرآن  4:26,27,28]
اسلام کی پہلی صدی، دین کامل کا عروج کا زمانہ تھا ، خلفاء راشدین اور اصحابہ اکرام، الله کی رسی قرآن کو مضبوطی سے پکڑ کر اس پر کاربند تھے ... پہلی صدی حجرہ کے بعد جب صحابہ اکرام بھی دنیا سے چلے گیے تو ایک دوسرے دور کا آغاز ہوا ... الله کی رسی قرآن کو بتدریج پس پشت ڈال کر تلاوت تک محدود کر دیا ...اور مشرکوں کی طرح فرقہ واریت اختیار کرکہ دین کامل کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے-  ہمارے مسائل کا حل پہلی صدی کے اسلام دین کامل کو واپسی میں ہے  .. مگر کیسے >>>>>>

Popular posts from this blog