Skip to main content

خلاصہ قرآن و منتخب آیات - پارہ # 12

بارہواں پارہ سورہ ہود آیت 6 سے سورہ یوسف آیت 52 تک مشتمل ہے۔سورہ ہود کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کا ذکر کیا ہے کہ زمین پر چلنے والا کوئی چوپایہ ایسا نہیں ‘جس کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمہ نہ ہو اور اللہ تعالیٰ اس کے ٹھکانے کو اور اس کے پلٹنے کی جگہ کو نہ جانتے ہوں اور یہ ساری تفصیل لوح ِمحفوظ میں محفوظ ہے ۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے ان اقوام کا ذکر کیا‘ جواپنی نافرمانیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے غضب کا نشانہ بنیں۔ حضرت نوحں کی قوم بتوں کی پوجا کرتی تھی۔ اللہ تعالیٰ کے نبی نوحں نے اپنی قوم کو شرک سے باز رہنے کی تلقین کی ‘مگر انہوں نے جناب نوح ں کا شدید مذاق اڑایا ۔اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام  کی مدد فرمائی۔ آسمان اور زمین سے بارش اور سیلاب کی شکل میں پانی جاری کردیا ‘جس کی زد میں حضرت نوح علیہ السلام  کے بیٹے اور نافرمان بیوی سمیت تمام کافر آگئے ۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کا ذکر کیا کہ قوم ِعاد بھی قوم ِنوح کی طرح شرک کی بیماری میں مبتلا تھی۔ جناب ہود ں اُن کو اللہ تعالیٰ کی توحید کی دعوت دیتے رہے‘ لیکن انہوں نےحضرت ھود علیہ السلام کی ایک نہ سنی۔ قوم عاد کو اپنی طاقت پر گھمنڈ تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے ایک طاقتور طوفانی ہوا کو ان پر مسلّط کر دیا‘ جس نے ان کو اکھاڑ کر پھینک دیا اور اپنی طاقت پر ناز کرنے والے زمین پر یوں پڑے تھے ‘جس طرح کٹے ہوئے درخت کی شاخیں ہوتی ہیں ۔
قوم ِعاد کے بعد اللہ تعالیٰ نے قومِ ثمود کا ذکر کیا ۔ قومِ ثمود کے لوگ بھی اللہ تعالیٰ کی توحید کو فراموش کر چکے تھے۔ قومِ ثمود کے لیے اللہ نے اپنی ایک نشانی کو ظاہر فرمادیا۔ا للہ کے حکم سے بستی کی ایک بڑی پہاڑی پھٹی‘ جس سے ایک اونٹنی نکلی۔ اس اونٹنی نے باہر نکلتے ہی بچہ دیا ‘ مگر بستی کے لوگوں نے اتنے بڑے معجزے کو دیکھ کر ایمان لانے کی بجائے اونٹنی کے پیروں کو کاٹ دیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوئے اور ان پر ایک چنگھاڑ کو مسلط کر دیا۔ فرشتے نے چیخ ماری اور اس چیخ کی وجہ سے بستی کے لوگوں کے بھیجے اور دماغ پھٹ گئے ۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قوم ِلوط کا ذکر کیا۔ قومِ لوط کے لوگ ہم جنس پرستی کی بیماری کا شکار تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے قومِ لوط کے پاس عذاب والے فرشتے بھیجے اور ان فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ بدکاروں کی اس بستی پر عذاب کو مسلّط کر دیں۔ فرشتوں نے بستی کو اٹھاکر زمین پر پھینک دیا اور پوری بستی کو پتھروں سے کچل دیا۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قومِ مدین کا ذکر کیا‘ جو کہ شرک کی برائی کے ساتھ ساتھ ناجائز منافع خوری کا شکار تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر اسی طرح کی چیخ کو مسلّط کر دیا‘ جس چیخ کے ساتھ قوم ثمود تباہ ہوئی تھی ۔
سورہ ہود کے بعد سورہ یوسف ہے۔سو رہ یوسف میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف   علیہ السلام کے واقعہ کو بیان کیا ہے ۔جناب یوسف نے بچپن میں ایک خواب دیکھا کہ گیارہ ستارے‘ سورج اور چاند ان کو سجدہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے والد گرامی جناب یعقوب سے اپنا یہ خواب بیان کیا‘ تو یعقوب علیہ السلام  نے فرمایا کہ اے بیٹے‘ آپ نے اپنا خواب اپنے بھائیوں کو بیان نہیں کرنا‘ اس لیے کہ وہ سننے کے بعد حسد کا شکار ہو جائیں گے۔
ادھر یہ معاملہ ہو رہا تھا‘ اُدھر جناب یوسف ں کے سوتیلے بھائی آپس میں مشورہ کر رہے تھے کہ ہم جوان ہیں‘ لیکن بابا یعقوب‘ جناب یوسف ہی سے پیار کرتے ہیں‘ کیوں نہ کسی بہانے سے بھائی یوسف کو بابا سے علیحدہ کردیا جائے ‘تاکہ ہم ان کے منظور نظر بن سکیں ۔بھائی اکٹھے ہو کر جناب یعقوب ں کے پاس آئے اور کہا کہ آپ بھائی یوسف کو ہمارے ساتھ کیوں روانہ نہیں کرتے‘ وہ ہمارے ساتھ جنگل کی طرف جائے اور ہم ان کے ساتھ کھیلیں۔ جناب یعقوب ں نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں تم اپنے کاموں میں مصروف ہو جائواور کوئی بھیڑیا اس کو نہ کھا جائے۔بھائیوں نے کہاکہ بابا ہم جوان ہیں اور یہ کیسے ممکن ہے کہ ہمار ے ہوتے ہوئے کوئی بھیڑیا بھائی یوسف کو کھاجائے۔ جناب یعقوب نے یقین دہانیوں پر جناب یوسف کو اپنے بیٹوں کے ساتھ روانہ کر دیا ۔ جناب یوسف کے بھائیوں نے جناب یوسف کو ایک کنوئیں میں پھینک دیا اور رات کے وقت روتے ہوئے جنا ب یعقوب ں کے پاس آگئے کہ بھیڑیا جناب یوسف کو کھا گیا ہے ۔اس پر یعقوب  علیہ السلام نے کہا کہ میں صبر کروں گا‘ اللہ کو پتا ہے کہ حقیقت کیا ہے ۔
جناب یوسف جس کنوئیں میں موجود تھے‘ وہاں سے ایک قافلے والوں کا گزر ہوا‘ انہوں نے پانی نکالنے کے لیے کنویں میں ڈول ڈالا‘ جناب یوسف ں کنوئیں سے باہر نکل آئے ۔اہل قافلہ مصر جا رہے تھے‘ انہوں نے جناب یوسف کو مصر کے ایک بڑے گھرانے میں فروخت کردیا ۔جناب یوسف کی خوبصورتی اور وجاہت کو دیکھ کر اس گھر کے مالک نے اپنی اہلیہ کو کہا کہ جناب یوسف کو اپنا بیٹا بنالیں گے‘ امید ہے کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائیں گے۔ جناب یوسف علیہ السلام جب جوان ہوئے تو گھر کی مالکن ان پر بُری نظر رکھنے لگی اور ایک دن اس نے ان کو بُرائی کی دعوت دی‘ جس کو جناب یوسف نے ٹھکرا دیا ۔اس عورت نے جناب یوسف ں پر بُرائی کا الزام لگا یا‘ لیکن اللہ نے محل میں ایک بچے کو قوت گویائی عطا کر کے جناب یوسف کو اس الزام سے بری کروادیا۔
عزیز مصر کی بیوی فتنے کا شکار تھی ‘اس نے یوسف  علیہ السلام کو مصر کی دیگر عورتوں سے مل کر فتنے کا نشانہ بنانا چاہا ‘تو جناب یوسف نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا مانگی کہ اللہ! مجھے برائی سے بچا کر جیل میں پہنچا دے۔اللہ نے جناب یوسف  علیہ السلام  کی دعا کو قبول فرما کر ان کو جیل میں پہنچادیا۔ جیل میں آپ کی ملاقات دو قیدیوں سے ہوئی۔ ان دونوں قیدیوں کو آپ نے توحید کی دعوت دی اور دعوت دینے کے بعد ان دونوں قیدیوں نے اپنے خواب‘ حضرت یوسف علیہ السلام  کو بتلائے۔ ایک قیدی نے خواب دیکھا کہ وہ انگوروں کو نچوڑ رہا ہے‘ جبکہ دوسرے قیدی کو خواب آیا کہ اس کے سر پر روٹیاں ہیں ‘جن سے پرندے کھانا کھا رہے ہیں۔ حضرت یوسف  علیہ السلام  نے پہلے تو قیدیوں کوتوحید کی دعوت دی اور اس کے بعد جناب یوسف نے فرمایا کہ ایک آدمی بادشاہ کا ساقی بنے گا ‘جبکہ دوسرے کو پھانسی ہوگی ‘جس آدمی نے بادشاہ کا ساقی بننا تھا‘ اس کو جناب یوسف ں نے کہا کہ بادشاہ کو بتلانا کہ جیل میں ایک بے گناہ قیدی پڑا ہے‘ لیکن آزاد ہونے والا قید یہ بات بھول گیا اور یوسف  علیہ السلام  کئی برس تک جیل میں قید رہے ۔
اسی اثنا میں بادشاہ وقت کو خواب آیا کہ سات پتلی گائیں سات موٹی گایوں کو کھا رہی ہیں اور سات سر سبز بالیاں ہیں اور سات خشک بالیاں ہیں۔ اس پر بادشاہ کے ساقی کو جناب یوسف  علیہ السلام  کی یاد آئی۔ اس نے کہا کہ بادشاہ سلامت ! جیل خانے میں ایک بہت بڑا عالم فاضل قیدی ہے‘ جو اس کی صحیح تعبیر بتلا سکتا ہے۔جناب یوسف  علیہ السلام  سے جب تعبیر پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ آنے والے سات سال قحط سالی کے ہو ں گے اور اس کے بعد خوشحالی اور ہریا لی ہو گی ۔جناب یوسفں کی تعبیر سننے کے بعد بادشاہ نے کہا کہ انہیں جیل سے بلایا جائے۔ جناب یوسف ں نے کہا کہ جب تک میری اعلانیہ بے گناہی ثابت نہیں ہو گی‘ میں جیل سے نہیں نکلوں گا۔ جناب یوسفں کے مطالبے پر عزیز مصر کی بیوی نے برملا جناب یوسف  علیہ السلام کو پا کدامن قرار دیا۔ جس کے بعد یوسف  علیہ السلام  جیل سے باہر آنے پر آمادہ ہو گئے ۔
جناب یوسف  علیہ السلام  کا باقی واقعہ تیرھویں پارے میں بیان ہو گا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں قرآن پاک پڑھنے‘ سمجھنے اور اس میں بیان کردہ واقعات سے نصیحت حاصل کرنے کی توفیق دے۔(آمین!)  [ علامہ ابتسام الہی ظہیر ]
منتخب آیات ، ترجمہ
 زمین میں چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو اور جس کے متعلق وہ نہ جانتا ہو کہ کہاں وہ رہتا ہے اور کہاں وہ سونپا جاتا ہے، سب کچھ ایک صاف دفتر میں درج ہے (6 : 11)
 اگر کبھی ہم انسان کو اپنی رحمت سے نوازنے کے بعد پھر اس سے محروم کر دیتے ہیں تو وہ مایوس ہوتا ہے اور ناشکری کرنے لگتا ہے (9) اور اگر اُس مصیبت کے بعد جو اُس پر آئی تھی ہم اسے نعمت کا مزا چکھاتے ہیں تو کہتا ہے میرے تو سارے دلدر پار ہو گئے، پھر وہ پھولا نہیں سماتا اور اکڑنے لگتا ہے (10: 11)
جو لوگ بس اِسی دنیا کی زندگی اور اس کی خو ش نمائیوں کے طالب ہوتے ہیں ان کی کار گزاری کا سارا پھل ہم یہیں ان کو دے دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی (15) مگر آخرت میں ایسے لوگوں کے لیے آگ کے سوا کچھ نہیں ہے (وہاں معلوم ہو جائے گا کہ) جو کچھ انہوں نے دنیا میں بنایا وہ سب ملیامیٹ ہو گیا اور اب ان کا سارا کیا دھرا محض باطل ہے (16: 11)
 نوحؑ پر وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں سے جو لوگ ایمان لا چکے بس وہ لا چکے، اب کوئی ماننے والا نہیں ہے ان کے کرتوتوں پر غم کھانا چھوڑو (36: 11)
حکم ہوا "اے زمین، اپنا سارا پانی نگل جا اور اے آسمان، رک جا" چنانچہ پانی زمین میں بیٹھ گیا، فیصلہ چکا دیا گیا، کشتی جودی پر ٹک گئی، اور کہہ دیا گیا کہ دور ہوئی ظالموں کی قو م! (44: 11)
اور عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہودؑ کو بھیجا اُس نے کہا "اے برادران قوم، اللہ کی بندگی کرو، تمہارا کوئی خدا اُس کے سوا نہیں ہے تم نے محض جھوٹ گھڑ رکھے ہیں (50: 11)

 پھر جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے اپنی رحمت سے ہودؑ کو اور اُن لوگوں کو جو اُس کے ساتھ ایمان لائے تھے نجات دے دی اور ایک سخت عذاب سے بچا لیا (58: 11)
 (صالح نے کھا) اور اے میری قوم کے لوگو، دیکھو یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی ہے اِسے خدا کی زمین میں چرنے کے لیے آزاد چھوڑ دو اِس سے ذرا تعرض نہ کرنا ورنہ کچھ زیادہ دیر نہ گزرے گی کہ تم پر خدا کا عذاب آ جائے گا" (64) مگر انہوں نے اونٹنی کو مار ڈالا اس پر صالحؑ نے اُن کو خبردار کر دیا کہ "بس اب تین دن اپنے گھروں میں اور رہ بس لو یہ ایسی میعاد ہے جو جھوٹی نہ ثابت ہوگی" (65: 11)
 فرشتوں نے کہا "اللہ کے حکم پر تعجب کرتی ہو؟ ابراہیمؑ کے گھر والو، تم لوگوں پر تو اللہ کی رحمت اور اُس کی برکتیں ہیں، اور یقیناً اللہ نہایت قابل تعریف اور بڑی شان والا ہے" (73)
 تب فرشتوں نے اس سے کہا کہ "اے لوطؑ، ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں، یہ لوگ تیرا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے بس تو کچھ رات رہے اپنے اہل و عیال کو لے کر نکل جا اور دیکھو، تم میں سے کوئی شخص پیچھے پلٹ کر نہ دیکھے مگر تیر ی بیوی (ساتھ نہیں جائے گی) کیونکہ اس پر بھی وہی کچھ گزرنے والا ہے جو اِن لوگوں پر گزرنا ہے ان کی تباہی کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے صبح ہوتے اب دیر ہی کتنی ہے!" (81: 11)
(شعیب نےکہا) اور اے برادران قوم، ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ پورا ناپو اور تولو اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں گھاٹا نہ دیا کرو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو (85) اللہ کی دی ہوئی بچت تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم مومن ہو اور بہر حال میں تمہارے اوپر کوئی نگران کار نہیں ہوں" (86: 11)
اور اے برادران قوم، میرے خلاف تمہاری ہٹ دھرمی کہیں یہ نوبت نہ پہنچا دے کہ آخر کار تم پر بھی وہی عذاب آ کر رہے جو نوحؑ یا ہودؑ یا صالحؑ کی قوم پر آیا تھا اور لوطؑ کی قوم تو تم سے کچھ زیادہ دور بھی نہیں ہے (89 : 11)
آخر کار جب ہمارے فیصلے کا وقت آ گیا تو ہم نے اپنی رحمت سے شعیبؑ اور اس کے ساتھی مومنوں کو بچا لیا اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو ایک سخت دھماکے نے ایسا پکڑا کہ وہ اپنی بستیوں میں بے حس و حرکت پڑے کے پڑے رہ گئے (94 : 11)
یہ چند بستیوں کی سرگزشت ہے جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں ان میں سے بعض اب بھی کھڑی ہیں اور بعض کی فصل کٹ چکی ہے (100) ہم نے اُن پر ظلم نہیں کیا، انہوں نے آپ ہی اپنے اوپر ستم ڈھایا اور جب اللہ کا حکم آ گیا تو ان کے وہ معبود جنہیں وہ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے ان کے کچھ کام نہ آ سکے اور انہوں نے ہلاکت و بربادی کے سوا انہیں کچھ فائدہ نہ دیا ( 101: 11)

اور تیرا رب جب کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے تو پھر اس کی پکڑ ایسی ہی ہوا کرتی ہے، فی الواقع اس کی پکڑ بڑی سخت اور درد ناک ہوتی ہے (102 : 11)
حقیقت یہ ہے کہ اس میں ایک نشانی ہے ہر اُس شخص کے لیے جو عذاب آخرت کا خوف کرے وہ ایک دن ہوگا جس میں سب لوگ جمع ہوں گے اور پھر جو کچھ بھی اُس روز ہوگا سب کی آنکھوں کے سامنے ہوگا (103 : 11)
 ہم اس سے پہلے موسیٰؑ کو بھی کتاب دے چکے ہیں اور اس کے بارے میں بھی اختلاف کیا گیا تھا (جس طرح آج اِس کتاب کے بارے میں کیا جا رہا ہے جو تمہیں دی گئی ہے) اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات پہلے ہی طے نہ کر دی گئی ہوتی تو اِن اختلاف کرنے والوں کے درمیان کبھی کا فیصلہ چکا دیا گیا ہوتا یہ واقعہ ہے کہ یہ لوگ اس کی طرف سے شک اور خلجان میں پڑے ہوئے ہیں (110) اور یہ بھی واقعہ ہے کہ تیرا رب انہیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے کر رہے گا، یقیناً وہ ان کی سب حرکتوں سے باخبر ہے (111 : 11)
اور دیکھو، نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں پر اور کچھ رات گزرنے پر درحقیقت نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں، یہ ایک یاد دہانی ہے ان لوگوں کے لیے جو خدا کو یاد رکھنے والے ہیں (114 : 11)
 اور صبر کر، اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتا (115 : 11)
پھر کیوں نہ اُن قوموں میں جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں ایسے اہل خیر موجود رہے جو لوگوں کو زمین میں فساد برپا کرنے سے روکتے؟ ایسے لوگ نکلے بھی تو بہت کم، جن کو ہم نے ان قوموں میں سے بچا لیا، ورنہ ظالم لوگ تو انہی مزوں کے پیچھے پڑے رہے جن کے سامان انہیں فراوانی کے ساتھ دیے گئے تھے اور وہ مجرم بن کر رہے (116 : 11)
 تیرا رب ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ناحق تباہ کر دے حالانکہ ان کے باشندے اصلاح کرنے والے ہوں (117 : 11)
اور اگر آپ کا رب چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا (مگر اس نے جبراً ایسا نہ کیا بلکہ سب کو مذہب کے اختیار کرنے میں آزادی دی) اور (اب) یہ لوگ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے، (118) سوائے اس شخص کے جس پر آپ کا رب رحم فرمائے، اور اسی لئے اس نے انہیں پیدا فرمایا ہے، اور آپ کے رب کا فرمان پورا ہو چکا بیشک میں دوزخ کو جِنّوں اور انسانوں میں سے سب (اہلِ باطل) سے ضرور بھر دوں گا، (119 : 11)
 زمینوں اور آسمانوں کا علم غیب اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، تمام معاملات کا رجوع بھی اسی کی جانب ہے، پس تجھے اسی کی عبادت کرنی چاہئے اور اسی پر بھروسہ رکھنا چاہئے اور تم جو کچھ کرتے ہو اس سے اللہ تعالیٰ بے خبر نہیں (123 : 11)
یقیناً یوسف اور اس کے بھائیوں میں دریافت کرنے والوں کے لئے (بڑی) نشانیاں ہیں (7  :12)
اور وہ یوسفؑ کے قمیص پر جھوٹ موٹ کا خون لگا کر آئے تھے یہ سن کر ان کے باپ نے کہا "بلکہ تمہارے نفس نے تمہارے لیے ایک بڑے کام کو آسان بنا دیا اچھا، صبر کروں گا اور بخوبی کروں گا، جو بات تم بنا رہے ہو اس پر اللہ ہی سے مدد مانگی جا سکتی ہے" (18:12)
مصر کے جس شخص نے اسے خریدا اس نے اپنی بیوی سے کہا "اِس کو اچھی طرح رکھنا، بعید نہیں کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو یا ہم اسے بیٹا بنا لیں" اس طرح ہم نے یوسفؑ کے لیے اُس سرزمین میں قدم جمانے کی صورت نکالی اور اسے معاملہ فہمی کی تعلیم دینے کا انتظام کیا اللہ اپنا کام کر کے رہتا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں (21) اور جب وہ اپنی پوری جوانی کو پہنچا تو ہم نے اسے قوت فیصلہ اور علم عطا کیا، اِس طرح ہم نیک لوگوں کو جزا دیتے ہیں (22 :12)
جب شوہر نے دیکھا کہ یوسفؑ کا قمیص پیچھے سے پھٹا ہے تو اس نے کہا "یہ تم عورتوں کی چالاکیاں ہیں، واقعی بڑ ے غضب کی ہوتی ہیں تمہاری چالیں (28) یوسفؑ، اس معاملے سے درگزر کر اور اے عورت، تو اپنے قصور کی معافی مانگ، تو ہی اصل میں خطا کار تھی" (29) شہر کی عورتیں آپس میں چرچا کرنے لگیں کہ "عزیز کی بیوی اپنے نوجوان غلام کے پیچھے پڑی ہوئی ہے، محبت نے اس کو بے قابو کر رکھا ہے، ہمارے نزدیک تو وہ صریح غلطی کر رہی ہے" (30 :12)
اے زنداں کے ساتھیو، تمہارے خواب کی تعبیر یہ ہے کہ تم میں سے ایک تو اپنے رب (شاہ مصر) کو شراب پلائے گا، رہا دوسرا تو اسے سولی پر چڑھایا جائے گا اور پرندے اس کا سر نوچ نوچ کر کھائیں گے فیصلہ ہو گیا اُس بات کا جو تم پوچھ رہے تھے" (41 :12)
 یوسفؑ نے کہا "سات بر س تک لگاتار تم لوگ کھیتی باڑی کرتے رہو گے اس دوران میں جو فصلیں تم کاٹو اُن میں سے بس تھوڑا ساحصہ، جو تمہاری خوراک کے کام آئے، نکالو اور باقی کو اس کی بالوں ہی میں رہنے دو (47) پھر سات برس بہت سخت آئیں گے اُس زمانے میں وہ سب غلہ کھا لیا جائے گا جو تم اُس وقت کے لیے جمع کرو گے اگر کچھ بچے گا تو بس وہی جو تم نے محفوظ کر رکھا ہو (48) اس کے بعد پھر ایک سال ایسا آئے گا جس میں باران رحمت سے لوگوں کی فریاد رسی کی جائے گی اور وہ رس نچوڑیں گے" (49 :12)
اس پر بادشاہ نے ان عورتوں سے دریافت کیا "تمہارا کیا تجربہ ہے اُس وقت کا جب تم نے یوسفؑ کو رجھانے کی کوشش کی تھی؟" سب نے یک زبان ہو کر کہا "حاشاللہ، ہم نے تو اُس میں بدی کا شائبہ تک نہ پایا" عزیز کی بیوی بول اٹھی "اب حق کھل چکا ہے، وہ میں ہی تھی جس نے اُس کو پھسلانے کی کوشش کی تھی، بے شک وہ بالکل سچا ہے" (51) (یوسفؑ نے کہا) "اِس سے میری غرض یہ تھی کہ (عزیز) یہ جان لے کہ میں نے درپردہ اس کی خیانت نہیں کی تھی، اور یہ کہ جو خیانت کرتے ہیں ان کی چالوں کو اللہ کامیابی کی راہ پر نہیں لگاتا (52 :12)
12Th Ramadan Makkah Taraweeh 


منتخب آیات ، ترجمہ




~~~~~~~~~
🌹🌹🌹
🔰 Quran Subjects  🔰 قرآن مضامین 🔰
"اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا" [ الفرقان 25  آیت: 30]
The messenger said, "My Lord, my people have deserted this Quran." (Quran 25:30)
~~~~~~~~~
اسلام دین کامل کو واپسی ....
"اللہ چاہتا ہے کہ تم پر ان طریقوں  کو واضح کرے اور انہی طریقوں پر تمہیں چلائے جن کی پیروی تم سے پہلے گزرے ہوئے صلحاء کرتے تھے- وہ اپنی رحمت کے ساتھ تمہاری طرف متوجّہ ہونے کا ارادہ رکھتا ہے ، اور وہ علیم بھی ہے اور دانا بھی- ہاں، اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ خود اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور نکل جاؤ. اللہ تم پر سے پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے." (قرآن  4:26,27,28]
اسلام کی پہلی صدی، دین کامل کا عروج کا زمانہ تھا ، خلفاء راشدین اور اصحابہ اکرام، الله کی رسی قرآن کو مضبوطی سے پکڑ کر اس پر کاربند تھے ... پہلی صدی حجرہ کے بعد جب صحابہ اکرام بھی دنیا سے چلے گیے تو ایک دوسرے دور کا آغاز ہوا ... الله کی رسی قرآن کو بتدریج پس پشت ڈال کر تلاوت تک محدود کر دیا ...اور مشرکوں کی طرح فرقہ واریت اختیار کرکہ دین کامل کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے-  ہمارے مسائل کا حل پہلی صدی کے اسلام دین کامل کو واپسی میں ہے  .. مگر کیسے >>>>>>

Popular posts from this blog