Skip to main content

خلاصہ قرآن و منتخب آیات - پارہ # 14

.
چودھویں پارے کا آغاز سورۃ الحجر سے ہوتا ہے  اورسورة النحل مکمل شامل ہے ۔ چودھویں پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا ذکر کیا ہے کہ کافر رسول اللہﷺکی ذات کو تنقید کا نشانہ بناتے اور کہتے کہ اگر آپ سچے ہیں‘ تو ہمارے لیے فرشتوں کو کیوں لے کر نہیں آتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ فرشتوں کو تو ہم عذاب دینے کے لیے اتارتے ہیں اور جب فرشتوں کا نزول ہوجاتا ہے تو اقوام کو مہلت نہیں دی جاتی ۔ قرآن مجید کے نزول پر شک اور اعتراض کرنے والے کافروں سے مخاطب ہو کر اللہ نے کہا کہ بے شک ہم نے ہی ذکر (مراد: فرقان حمید) کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ 

اس پارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم نے آسمانِ دنیا کو ستاروں سے مزیّن کیا اور ان کو شیطان کے شر سے محفوظ کیا‘ مگر جو آسمان کی بات کو چرا کر زمین پر لانا چاہے تو اس کو اللہ تعالیٰ شہاب ثاقب سے نشانہ بناتے ہیں۔اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے قومِ لوط کی طرف روانہ کیے جانے والے فرشتوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ یہ فرشتے جناب لوط ں کی طرف جانے سے قبل جناب ابراہیم ں کے پاس آئے۔ انہوں نے جناب ابراہیم علیہ السلام کو ایک عالم فاضل بیٹے کی بشارت دی اور انہیں بتلایاکہ ہم ایک مجرم قوم کو ہلاک کرنے کیلئے بھیجے گئے ہیں۔ اس قوم میں سے لوطں کے گھرانے کے علاوہ ہر شخص کو ہلاک کردیا جائے گا۔ سوائے‘ لوط ں کی بیوی کے کہ جس کے بارے میں ہمارا فیصلہ ہے کہ وہ ضرور مجرموں کے ساتھ پیچھے رہ جائے گی۔ اللہ کے فرشتوں نے لوط علیہ السلام کی پوری بستی کو بلندی پر لے جا کر الٹ دیا اور ان پر پتھروں کی بارش کر دی۔
اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا بھی اعلان فرمایا کہ جو رسول کریمﷺکا مذاق اڑاتا ہے‘ اس سے نبٹنے کیلئے خود اللہ کی ذات کافی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول کریمﷺکے ہر دشمن کو ذلت اور عبرت کا نشان بنا دیا۔ ابوجہل‘ عتبہ‘ شیبہ‘ ولید‘ امیہ بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط رسول کریمﷺکو مذاق کا نشانہ بناتے تھے۔ اللہ نے میدان ِبدر میں ان کو حسرت ناک انجام سے دوچار کر دیا۔ ابولہب کے ایک بیٹے نے رسول کریمﷺکا استہزا کیا تو ایک کاروباری سفر کے دوران جنگل کا شیر اس کو کھا گیا۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ رسول کریم ﷺکو سات بار بار پڑھی جانے والی آیات اور قرآن عظیم‘ یعنی سورہ فا تحہ عطا کی گئی ہے ۔
سورۃ الحجر کے بعد سورۃ النحل ہے ۔سورۃ النحل میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے جس بندے پر چاہتے ہیں‘ روح الامین کو فرشتوں کے ہمراہ نازل فرماتے ہیں‘ تا کہ وہ لوگوں کو ڈرائیں کہ اللہ کے سوا کو ئی معبود نہیں۔ سورۃ النحل میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کیلئے انواع و اقسام کی سواریوں کو پیدا فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے گھوڑوں ‘خچر وں اور گدھوں کو پیدا کیااور وہ کچھ پیدا فرمایا‘ جس کو انسان نہیں جانتا ۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے دو خدائوں کے تصور کی نفی کی اور کہا انسانوں کو دو الٰہ نہیں پکڑنے چاہئیں بے شک وہ اکیلا اللہ ہے۔ ثنویت کا عقیدہ آتش پرستوں میں موجود تھا اور وہ دو خدائوں کی بات کیا کرتے تھے ۔اللہ تعالیٰ نے ان کے عقیدے کو رد کیا۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے انسانوںکی توجہ مویشیوں کی طرف بھی مبذول کرائی اور کہا کہ چوپایوں میں انسانوں کیلئے عبرت ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے پیٹوں سے خالص دودھ پلاتے ہیں ‘جو کہ خون اور گوبر کے درمیان سے نکلتا ہے ‘لیکن اس میں نہ خون کی رنگت ہوتی ہے اور نہ فضلے کی گندگی۔ فلٹریشن کا یہ غیر معمولی پلانٹ خالق ِکائنات کی کاریگری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان کیا کہ پرندے کو فضائے بسیط میں اللہ تعالیٰ ہی سہارا دیتے ہیں۔ یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے گھروں کو ہمار ے لیے جائے سکونت بنایا ہے‘ جو سکون انسان کو اپنے گھر میں حاصل ہوتا ہے‘ وہ کسی دوسرے مقام پر حاصل نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ پر قرآن مجید کو اس لیے نازل فرمایا کہ وہ لوگوں کو بیان کریں ‘جو ان پر نازل کیا گیا ہے ‘گویا کہ رسول کریمﷺ کے فرامین اور آپ کی سنتیں قرآن مجید کے بیان کی حیثیت رکھتی ہیں ۔
اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے کافروں کی ہرزہ سرائی کا ذکر کیا ہے کہ وہ کہا کرتے تھے کہ رسول کریم ﷺ پر قرآن ‘اللہ کی طرف سے نازل نہیں ہوا‘ بلکہ محمدﷺ روم کے ایک نومسلم (مراد صہیب رومیؓ) سے سن کر اس کو آگے لوگوں کو سناتے ہیں۔ رسول کریمﷺکی طرف سے اللہ نے خود جواب دیا کہ جس آدمی کے بارے میں ان کا یہ گمان ہے کہ وہ رسول کریمﷺکو سکھلاتا ہے وہ تو عجمی ہے‘ جبکہ رسول کریمﷺپر نازل ہونے والے قرآن کی زبان تو عربیِ مبین (صاف صاف) ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا کہ قرآن مجید کو روح القدس نے رسول کریم ﷺکے قلب پر نازل کیا ‘تاکہ مومنوں کو ثابت قدم رکھا جائے اور اس میں مسلمانوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہے ۔اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے سبا کی بستی کا بھی ذکر کیا ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے رزق اور امن کی جملہ نعمتوں سے نوازا تھا‘ لیکن وہ اللہ کی ناشکری اور نافرمانی کے کاموں میں مشغول ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے امن کو چھین کر خوف میں اور رزق کو چھین کر بھوک میں مبتلا کر دیا تھا۔اس واقعے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قوموں کے امن اور معیشت کا تعلق ‘اللہ کی فرمانبرداری کے ساتھ ہے اور جب کوئی قوم اللہ کی نافرمانی اور ناشکری کا ارتکاب کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بدامنی اور بھوک اور خوف میں مبتلا کر دیتے ہیں ۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے جناب ابراہیم علیہ السلام کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ بے شک وہ اپنی ذات میں ایک امت تھے۔ وہ اللہ کے انتہائی فرمان بردار اور یکسو (حنیف) مسلمان تھے‘ انہوں نے کبھی شرک نہیں کیا۔ وہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والے تھے ۔اللہ تعالیٰ نے ان کو قبول کر لیا تھا اور ان کو سیدھے راستے پر چلا دیا تھا ۔اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے دعوت و تبلیغ کا طریقہ بھی بتلایا کہ دعوت ِدین کا کام بڑی حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ ہو نا چاہیے ۔بے شک اللہ کو پتا ہے کہ کون اس کے راستے سے بھٹکا ہوا اور کون ہدایت پر ہے۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اعدائے دین کی تکلیفوںپر صبر کرنے کو اچھا عمل قرار دیا اور یہ بھی بتلایا ہے کہ صبر اللہ تعالیٰ کی ذات پر یقین رکھ کر ہی ہو سکتا ہے۔ اس پارے کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ تقویٰ اختیار کرنے والوں اور نیکوکاروں کے ساتھ ہیں۔اللہ تعالیٰ کی تائید حاصل کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ کا ڈر اور نیکی کے راستے پر استقامت درکار ہے‘ جس انسان کو یہ دو چیزیں حاصل ہو جائیں گی‘ یقینا اس کو اللہ کی تائید بھی حاصل ہو جائے گی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن مجید پڑھنے ‘ سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمادے ۔(آمین)  [خلاصہ: علامہ ابتسام الہی ظہیر ]
منتخب آیات ، ترجمہ : 
  بعید نہیں کہ ایک وقت وہ آ جائے جب وہی لوگ جنہوں نے آج (دعوت اسلام کو قبول کرنے سے) انکار کر دیا ہے پچھتا پچھتا کر کہیں گے کہ کاش ہم نے سر تسلیم خم کر دیا ہوتا (2) چھوڑو اِنہیں کھائیں، پییں، مزے کریں، اور بھلاوے میں ڈالے رکھے اِن کو جھوٹی امید عنقریب اِنہیں معلوم ہو جائے گا (3) ہم نے اِس سے پہلے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لیے ایک خاص مہلت عمل لکھی جاچکی تھی (4) کوئی قوم نہ اپنے وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہوسکتی ہے، نہ اُس کے بعد چھوٹ سکتی ہے (5 : 15)

 ہم فرشتوں کو یوں ہی نہیں اتار دیا کرتے وہ جب اترتے ہیں تو حق کے ساتھ اترتے ہیں، اور پھر لوگوں کو مہلت نہیں دی جاتی (8 : 15)
رہا یہ ذکر (قرآن )، تو اِس کو ہم نے نازل کیا ہے اور ہم خود اِس کے نگہبان ہیں (9: 15)

ہم نے زمین کو پھیلایا، اُس میں پہاڑ جمائے، اس میں ہر نوع کی نباتات ٹھیک ٹھیک نپی تلی مقدار کے ساتھ اگائی (19) اور اس میں معیشت کے اسباب فراہم کیے، تمہارے لیے بھی اور اُن بہت سی مخلوقات کے لیے بھی جن کے رازق تم نہیں ہو (20
 زندگی اور موت ہم دیتے ہیں، اور ہم ہی سب کے وارث ہونے والے ہیں (23)
رب نے پوچھا "اے ابلیس، تجھے کیا ہوا کہ تو نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ نہ دیا؟ (32) اس نے کہا "میرا یہ کام نہیں ہے کہ میں اِس بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے پیدا کیا ہے" (33) رب نے فرمایا "اچھا تو نکل جا یہاں سے کیونکہ تو مردود ہے (34) اور اب روز جزا تک تجھ پر لعنت ہے" (35)فرمایا "یہ راستہ ہے جو سیدھا مجھ تک پہنچتا ہے (41) بے شک، جو میرے حقیقی بندے ہیں ان پر تیرا بس نہ چلے گا تیرا بس تو صرف اُن بہکے ہوئے لوگوں ہی پر چلے گا جو تیری پیروی کریں (42) اور ان سب کے لیے جہنم کی وعید ہے" (43)
اے نبیؐ، میرے بندوں کو خبر دے دو کہ میں بہت درگزر کرنے والا اور رحیم ہوں (49) مگر اِس کے ساتھ میرا عذاب بھی نہایت دردناک عذاب ہے (50 : 15)
 لوطؑ نے کہا "بھائیو، یہ میرے مہمان ہیں، میری فضیحت نہ کرو (68) اللہ سے ڈرو، مجھے رسوا نہ کرو" (69)
 آخرکار پو پھٹتے ہی اُن کو ایک زبردست دھماکے نے آ لیا (73) اور ہم نے اُس بستی کو تل پٹ کر کے رکھ دیا اور ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھروں کی بارش برسا دی (74) اِس واقعے میں بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو صاحب فراست ہیں (75 : 15)
 ہم نے تم کو سات ایسی آیتیں (سورها لفاتحه) دے رکھی ہیں جو بار بار دہرائی جانے کے لائق ہیں، اور تمہیں قرآن عظیم عطا کیا ہے (87: 15)
 تم اُس متاع دنیا کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھو جو ہم نے اِن میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے، اور نہ اِن کے حال پر اپنا دل کڑھاؤ انہیں چھوڑ کر ایمان لانے والوں کی طرف جھکو (88 : 15)
اور (نہ ماننے والوں سے) کہہ دو کہ میں تو صاف صاف تنبیہ کرنے والا ہوں (89) یہ اُسی کی طرح کی تنبیہ ہے جیسی ہم نے اُن تفرقہ پردازوں کی طرف بھیجی تھی (90) جنہوں نے اپنے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا ہے (91) تو قسم ہے تیرے رب کی، ہم ضرور ان سب سے پوچھیں گے (92 : 15)

اُس نے آسمان و زمین کو برحق پیدا کیا ہے، وہ بہت بالا و برتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں (سورة النحل :3 16)
 اور اللہ ہی کے ذمہ ہے سیدھا راستہ بتانا جب کہ راستے ٹیڑھے بھی موجود ہیں اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا (9)
 اُس نے تمہاری بھلائی کے لیے رات اور دن کو اور سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے اور سب تارے بھی اُسی کے حکم سے مسخر ہیں اِس میں بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں (12)
پھر کیا وہ جو پیدا کرتا ہے اور وہ جو کچھ بھی پیدا نہیں کرتے، دونوں یکساں ہیں؟ کیا تم ہوش میں نہیں آتے؟ (17) اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو گن نہیں سکتے، حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا ہی درگزر کرنے والا اور رحیم ہے (18) حالانکہ وہ تمہارے کھلے سے بھی واقف ہے اور چھپے سے بھی (19) اور وہ دوسری ہستیاں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر لوگ پکارتے ہیں، وہ کسی چیز کی بھی خالق نہیں ہیں بلکہ خود مخلوق ہیں (20 :16)

یہ باتیں وہ اس لیے کرتے ہیں کہ قیامت کے روز اپنے بوجھ بھی پورے اٹھائیں، اور ساتھ ساتھ کچھ اُن لوگوں کے بوجھ بھی سمیٹیں جنہیں یہ بر بنائے جہالت گمراہ کر رہے ہیں دیکھو! کیسی سخت ذمہ داری ہے جو یہ اپنے سر لے رہے ہیں (25)
اُن متقیوں کو جن کی روحیں پاکیزگی کی حالت میں جب ملائکہ قبض کرتے ہیں تو کہتے ہیں "سلام ہو تم پر، جاؤ جنت میں اپنے اعمال کے بدلے" (32
یہ مشرکین کہتے ہیں "اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم اور نہ ہمارے باپ دادا اُس کے سوا کسی اور کی عبادت کرتے اور نہ اُس کے حکم کے بغیر کسی چیز کو حرام ٹھیراتے" ایسے ہی بہانے اِن سے پہلے کے لوگ بھی بناتے رہے ہیں تو کیا رسولوں پر صاف صاف بات پہنچا دینے کے سوا اور بھی کوئی ذمہ داری ہے؟ ( 35 :16 )

 یہ لوگ اللہ کے نام سے کڑی کڑی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ "اللہ کسی مرنے والے کو پھر سے زندہ کر کے نہ اٹھائے گا" اٹھائے گا کیوں نہیں، یہ تو ایک وعدہ ہے جسے پورا کرنا اس نے اپنے اوپر واجب کر لیا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں (38) اور ایسا ہونا اس لیے ضروری ہے کہ اللہ اِن کے سامنے اُس حقیقت کو کھول دے جس کے بارے میں یہ اختلاف کر رہے ہیں اور منکرین حق کو معلوم ہو جائے کہ وہ جھوٹے تھے (39) (رہا اس کا امکان تو) ہمیں کسی چیز کو وجود میں لانے کے لیے اس سے زیادہ کچھ کرنا نہیں ہوتا کہ اسے حکم دیں "ہو جا" اور بس وہ ہو جاتی ہے (40 :16)
 پچھلے رسولوں کو بھی ہم نے روشن نشانیاں اور کتابیں دے کر بھیجا تھا، اور اب یہ ذکر تم پر نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کے سامنے اُس تعلیم کی تشریح و توضیح کرتے جاؤ جو اُن کے لیے اتاری گئی ہے، اور تاکہ لوگ (خود بھی) غور و فکر کریں (44)
اللہ کا فرمان ہے کہ "دو خدا نہ بنا لو، خدا تو بس ایک ہی ہے، لہٰذا تم مجھی سے ڈرو (51) اُسی کا ہے وہ سب کچھ جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے، اور خالصاً اُسی کا دین (ساری کائنات میں) چل رہا ہے پھر کیا اللہ کو چھوڑ کر تم کسی اور سے تقویٰ کرو گے؟ (52 :16)
اگر کہیں اللہ لوگوں کو اُن کی زیادتی پر فوراً ہی پکڑ لیا کر تا تو روئے زمین پر کسی متنفس کو نہ چھوڑتا لیکن وہ سب کو ایک وقت مقرر تک مہلت دیتا ہے، پھر جب وہ وقت آ جاتا ہے تو اس سے کوئی ایک گھڑی بھر بھی آگے پیچھے نہیں ہو سکتا (61)
 ہم نے یہ کتاب تم پر اس لیے نازل کی ہے کہ تم اُن اختلافات کی حقیقت اِن پر کھول دو جن میں یہ پڑے ہوئے ہیں یہ کتاب رہنمائی اور رحمت بن کر اتری ہے اُن لوگوں کے لیے جو اِسے مان لیں (64)
اور دیکھو، اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فضیلت عطا کی ہے پھر جن لوگوں کو یہ فضیلت دی گئی ہے وہ ایسے نہیں ہیں کہ اپنا رزق اپنے غلاموں کی طرف پھیر دیا کرتے ہوں تاکہ دونوں اس رزق میں برابر کے حصہ دار بن جائیں تو کیا اللہ ہی کا احسان ماننے سے اِن لوگوں کو انکار ہے؟ (71 :16)
اور زمین و آسمان کے پوشیدہ حقائق کا علم تو اللہ ہی کو ہے اور قیامت کے برپا ہونے کا معاملہ کچھ دیر نہ لے گا مگر بس اتنی کہ جس میں آدمی کی پلک جھپک جائے، بلکہ اس سے بھی کچھ کم حقیقت یہ ہے کہ اللہ سب کچھ کر سکتا ہے (77)
اب اگر یہ لوگ منہ موڑتے ہیں تو اے محمدؐ، تم پر صاف صاف پیغام حق پہنچا دینے کے سوا اور کوئی ذمہ داری نہیں ہے (82)(اے محمدؐ، اِنہیں اُس دن سے خبردار کر دو) جب کہ ہم ہر امت میں خود اُسی کے اندر سے ایک گواہ اٹھا کھڑا کریں گے جو اُس کے مقابلے میں شہادت دے گا، اور اِن لوگوں کے مقابلے میں شہادت دینے کے لیے ہم تمہیں لائیں گے اور (یہ اسی شہادت کی تیاری ہے کہ) ہم نے یہ کتاب تم پر نازل کر دی ہے جو ہر چیز کی صاف صاف وضاحت کرنے والی ہے اور ہدایت و رحمت اور بشارت ہے اُن لوگوں کے لیے جنہوں نے سر تسلیم خم کر دیا ہے (89)
 اللہ عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی و بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو (90)
 اللہ کے عہد کو پورا کرو جبکہ تم نے اس سے کوئی عہد باندھا ہو، اور اپنی قسمیں پختہ کرنے کے بعد توڑ نہ ڈالو جبکہ تم اللہ کو اپنے اوپر گواہ بنا چکے ہو اللہ تمہارے سب افعال سے باخبر ہے (91 :16)
 اور اگر اللہ چاہتا تو تم (سب) کو ایک ہی امت بنا دیتا لیکن وہ جسے چاہتا ہے ( اس کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ) گمراہ ٹھہرا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت فرما دیتا ہے، اور تم سے ان کاموں کی نسبت ضرور پوچھا جائے گا جو تم انجام دیا کرتے تھے، (93)
اور تم اپنی قَسموں کو آپس میں فریب کاری کا ذریعہ نہ بنایا کرو(94)
اور اللہ کے عہد حقیر سی قیمت (یعنی دنیوی مال و دولت) کے عوض مت بیچ ڈالا کرو، بیشک جو (اجر) اللہ کے پاس ہے وہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم (اس راز کو) جانتے ہو، (95 :16)
جو (مال و زر) تمہارے پاس ہے فنا ہو جائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے باقی رہنے والا ہے، اور ہم ان لوگوں کو جنہوں نے صبر کیا ضرور ان کا اجر عطا فرمائیں گے ان کے اچھے اعمال کے عوض جو وہ انجام دیتے رہے تھے، (96)
 جو کوئی نیک عمل کرے (خواہ) مرد ہو یا عورت جبکہ وہ مومن ہو تو ہم اسے ضرور پاکیزہ زندگی کے ساتھ زندہ رکھیں گے، اور انہیں ضرور ان کا اجر (بھی) عطا فرمائیں گے ان اچھے اعمال کے عوض جو وہ انجام دیتے تھے، (97)
 سو جب آپ قرآن پڑھنے لگیں تو شیطان مردود (کی وسوسہ اندازیوں) سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کریں، (98
اور ہم جب ایک آیت کی جگہ پر دوسری آیت تبدیل کرتے ہیں تو اگرچہ خدا خوب جانتا ہے کہ وہ کیا نازل کررہا ہے لیکن یہ لوگ یہی کہتے ہیں کہ محمد تم افترا کرنے والے ہو حالانکہ ان کی اکثریت کچھ نہیں جانتی ہے (101) تو آپ کہہ دیجئے کہ اس قرآن کوروح القدس جبرئیل نے تمہارے پروردگار کی طرف سے حق کے ساتھ نازل کیا ہے تاکہ صاحبانِ ایمان کو ثبات و استقلال عطاکرے اور یہ اطاعت گزاروں کے لئے ایک ہداےت اور بشارت ہے (102)
 جو شخص بھی ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کرلے .... علاوہ اس کے کہ جو کفر پر مجبور کردیا جائے اور اس کا دل ایمان کی طرف سے مطمئن ہو ....اور کفر کے لئے سینہ کشادہ رکھتا ہو اس کے اوپر خدا کا غضب ہے اور اس کے لئے بہت بڑا عذاب ہے (106)
قیامت کا دن وہ دن ہوگا جب ہر انسان اپنے نفس کی طرف سے دفاع کرنے کے لئے حاضر ہوگا اور نفس کو اس کے عمل کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کسی پر ظلم نہیں کیا جائے گا (16:11)
لہذا اب تم اللہ کے دئے ہوئے رزق حلال و پاکیزہ کو کھاؤ اور اس کی عبادت کرنے والے ہو تو اس کی نعمتوں کا شکریہ بھی ادا کرتے رہو (114) اس نے تمہارے لئے صرف اَمفِدار ,خون ,سور کا گوشت اور جو غیر خدا کے نام پر ذبح کیا جائے اسے حرام کردیا ہے اور اس میں بھی اگر کوئی شخص مضطر و مجبور ہوجائے اور نہ بغاوت کرے نہ حد سے تجاوز کرے تو خدا بہت بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے (115)
 اور خبردار جو تمہاری زبانیں غلط بیانی سے کام لیتی ہیں اس کی بنا پر یہ نہ کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اس طرح خدا پر جھوٹا بہتان باندھنے والے ہوجاؤ گے اور جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھتے ہیں ان کے لئے فلاح اور کامیابی نہیں ہے (116 :16)
بیشک ابراہیم علیھ السّلامایک مستقل امّت اور اللہ کے اطاعت گزار اور باطل سے کترا کر چلنے والے تھے اور مشرکین میں سے نہیں تھے (120) وہ اللہ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے خدا نے انہیں منتخب کیا تھا اور سیدھے راستہ کی ہدایت دی تھی (121) اور ہم نے انہیں دنیا میں بھی نیکی عطا کی اور آخرت میں بھی ان کا شمار نیک کردار لوگوں میں ہوگا (122)
  آپ اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ذریعہ دعوت دیں اور ان سے اس طریقہ سے بحث کریں جو بہترین طریقہ ہے کہ آپ کا پروردگار بہتر جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے بہک گیا ہے اور کون لوگ ہدایت پانے والے ہیں (125 :16)
....
14Th Ramadan Makkah Taraweeh  ,..[......]


~~~~~~~~~
🌹🌹🌹
🔰 Quran Subjects  🔰 قرآن مضامین 🔰
"اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا" [ الفرقان 25  آیت: 30]
The messenger said, "My Lord, my people have deserted this Quran." (Quran 25:30)
~~~~~~~~~
اسلام دین کامل کو واپسی ....
"اللہ چاہتا ہے کہ تم پر ان طریقوں  کو واضح کرے اور انہی طریقوں پر تمہیں چلائے جن کی پیروی تم سے پہلے گزرے ہوئے صلحاء کرتے تھے- وہ اپنی رحمت کے ساتھ تمہاری طرف متوجّہ ہونے کا ارادہ رکھتا ہے ، اور وہ علیم بھی ہے اور دانا بھی- ہاں، اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ خود اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور نکل جاؤ. اللہ تم پر سے پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے." (قرآن  4:26,27,28]
اسلام کی پہلی صدی، دین کامل کا عروج کا زمانہ تھا ، خلفاء راشدین اور اصحابہ اکرام، الله کی رسی قرآن کو مضبوطی سے پکڑ کر اس پر کاربند تھے ... پہلی صدی حجرہ کے بعد جب صحابہ اکرام بھی دنیا سے چلے گیے تو ایک دوسرے دور کا آغاز ہوا ... الله کی رسی قرآن کو بتدریج پس پشت ڈال کر تلاوت تک محدود کر دیا ...اور مشرکوں کی طرح فرقہ واریت اختیار کرکہ دین کامل کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے-  ہمارے مسائل کا حل پہلی صدی کے اسلام دین کامل کو واپسی میں ہے  .. مگر کیسے >>>>>>

Popular posts from this blog