Featured Post

قرآن مضامین انڈیکس

"مضامین قرآن" انڈکس   Front Page أصول المعرفة الإسلامية Fundaments of Islamic Knowledge انڈکس#1 :  اسلام ،ایمانیات ، بنی...

Key 2 Quran کلید قرآن (3:7)

 قرآن راہ ھدایت اور راہ نجات ہے، جو شخص طالب حق ہو اور یہ جاننے کے لیے قرآن کی طرف رجوع کرنا چاہتا ہو کہ وہ کس راہ پر چلے اور کس راہ پر نہ چلے، اس کے لیے قرآن کی "آیات محکمات" ہی اصل مرجع ہیں اور فطرةً انہی پر اس کی توجہ مرکوز ہوگی اور وہ زیادہ تر انہی سے فائدہ اٹھانے میں مشغول رہے گا۔  محکم پکی اور پختہ چیز کو کہتے ہیں۔
هُوَ الَّذِي أَنزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُّحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ ۖ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ ۗ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ ۗ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا ۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ ‎﴿٧﴾
“It is God who has revealed the Book to you in which some verses are clear statements (which accept no interpretation) and these are the fundamental ideas of the Book, while other verses may have several possibilities. Those whose hearts are perverse, follow the unclear statements in pursuit of their own mischievous goals by interpreting them in a way that will suit their own purpose. No one knows its true interpretations except God and those who have a firm grounding in knowledge say, "We believe in it. All its verses are from our Lord." No one can grasp this fact except the people of reason.” (Quran;3:7)
”آیات محکمات (clear ,decisive, ,precise) سے مراد وہ آیات ہیں، جن کی زبان بالکل صاف ہے، جن کا مفہوم متعین کرنے میں کسی اشتباہ کی گنجائش نہیں ہے، جن کے الفاظ معنی و مدعا پر صاف اور صریح دلالت کرتے ہیں، جنہیں تاویلات کا تختہ مشق بنانے کا موقع مشکل ہی سے کسی کو مل سکتا ہے۔ یہ آیات ”کتاب کی اصل بنیاد ہیں“ ، یعنی قرآن جس غرض کے لیے نازل ہوا ہے، اس غرض کو یہی آیتیں پورا کرتی ہیں۔ انہی میں اسلام کی طرف دنیا کی دعوت دی گئی ہے، انہی میں عبرت اور نصیحت کی باتیں فرمائی گئی ہیں، انہی میں گمراہیوں کی تردید اور راہ راست کی توضیح کی گئی ہے۔ انہی میں دین کے بنیادی اصول بیان کیے گئے ہیں۔ انہی میں عقائد، عبادات، اخلاق، فرائض اور امر و نہی کے احکام ارشاد ہوئے ہیں۔
قرآن میں دوسری قسم، "آیات متشابہات" (ambiguous, unspecificallegorical)، یعنی وہ آیات جن کے مفہوم میں اشتباہ کی گنجائش ہے >>>>>>

المُحْكَمَاتُ

Lane's Arabic-English Lexicon
مُحْكَمٌ [pass. part. n. of أَحْكَمَهُ;] applied to a building [&c.,] Made, or rendered, firm, stable, strong, solid, compact, &c.; held to be secure from falling to pieces. (KT.) B2: And hence, A passage, or portion, of the Kur-án of which the meaning is secured (أُحْكِمَ) from change, and alteration, and peculiarization, and interpretation not according to the obvious import, and abrogation. (KT.) And سُورَةٌ مُحْكَمَةٌ A chapter of the Kur-án not abrogated. (K.) And الآيَاتُ المُحْكَمَاتُ, [see Kur iii. 5, where it is opposed to آيَاتٌ مُتَشَابِهَاتٌ,] The portion commencing with قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ [Kur vi. 152], to the end of the chapter: or the verses that are rendered free from defect or imperfection, so that the hearer thereof does not need to interpret them otherwise than according to their obvious import; such as the stories of the prophets; (K;) or so that they are preserved from being susceptible of several meanings. (Bd in iii. 5.) And المُحْكَمُ The portion of the Kur-án called المُفَصَّلُ [q. v.]; because nought thereof has been abrogated: or, as some say, what is unequivocal, or unambiguous; because its perspicuity is made free from defect, or imperfection, and it requires nothing else [to explain it]. (TA.) مَحْكَمَةٌ A place of judging; a tribunal; a court of justice.]

 مُتَشَابِهَاتٌ 

See also مُشْتَبِهٌ. B3: مُتَشَابِهَاتٌ in the Kuran iii. 7 means Verses that are equivocal, or ambiguous; i. e. susceptible of different interpretations: (Kshaf Zmakhashri) or verses unintelligible; such as the commencements [of many] of the chapters: (Tafseer Jalaleen Al Syauti) or the مُتَشَابِه in the Kuran is that of which the meaning is not to be learned from its words; and this is of two sorts; one is that of which the meaning is known by referring it to what is termed مُحْكَم [q. v.]; and the other is that of which the knowledge of its real meaning is not attainable in any way: (Taj AlAroos) or it means what is not understood without repeated consideration: (Taj Alaroos. فسر:)

مُشَبَّهٌ: [see its verb: B2: and] see مُشْتَبِهٌ. B3: Also, applied to the plant called نَصِىّ, Becoming yellow. (TA.) مُشَبِّهٌ: [see its verb: B2: and] see مَشْتَبِهٌ.

مَشَابِهُ: see شَبَهٌ, of which it is said to be an anomalous pl. مُشْتَبِهٌ [part. n. of 8, q. v.]. مُشْتَبِهَاتٌ, (S,) and ↓ مُشَبِّهَاتٌ, [thus agreeably with an explanation of its verb by IAar, (see 8, last sentence,)] (JK,) or أُمُورٌ مُشْتَبِهَةٌ, and ↓ مُشَبَّهَةٌ like مُعَظَّمَةٌ, (K,) Things, or affairs, that are confused or dubious [by reason of their resembling one another or from any other cause]: (JKSK:) [and uncertain: (see an ex. of مُشَبَّه in this sense in a verse cited voce سَنَفَ:)]

↓ مُشْتَبِهًا وَغَيْرَ مُتَشَابِه ٍ, in the Kur [vi. 99], means resembling one another so that they become confounded, or confused, or dubious, and not resembling one another &c. (TA.) مُتَشَابِهٌ Consimilar, or conformable, in its several parts: thus مُتَشَابِهًا means in the Kur xxxix. 24. (Jel.) And مُتَشَابِهَاتٌ Things like, or resembling, one another. (JKS.) 
ترجمہ : 
مُشْتَبِهٌ بھی دیکھیں۔ ب3: مُتَشَابِهَاتٌ قرآن (3:7) میں  سے مراد وہ آیات ہیں جو متضاد، یا مبہم ہیں(ایک سے زیادہ تشریح ممکن ؛ مبہم۔: "اس کے ریمارکس کی متضاد نوعیت"۔). e مختلف تشریحات کے لیے حساس: (زمخشری،  تفسیر کشاف ) یا ناقابل فہم آیات؛ جیسا کہ بہت سی سورہ کے آغاز: (تفسیر جلالین، السیوطی) 
یا قرآن میں مُتَشَابِه وہ ہے جس کے معنی اس کے الفاظ سے نہیں سیکھے جاتے۔ اور یہ دو طرح کا ہے۔
(١) ایک وہ ہے جس کا مفہوم مُحْكَم [آیات] کی طرف رجوع کرنے سے معلوم ہوتا ہے۔
(٢) اور دوسرا وہ ہے جس کے حقیقی معنی کا علم کسی طرح بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا: (تاج العروس ) یا اس کا مطلب ہے جو بار بار غور و فکر کے بغیر سمجھ میں نہیں آتا: (تاج العروس )
 متشابہات  آیات  ملتے جلتے کئی معانی کا احتمال رکھتی ہیں، اس لیے ان کا اصل مرادی معنی سمجھنے میں لوگوں کو اشتباہ ہوجاتا ہے، یا ان میں تاویل کی گنجائش نکل سکتی ہے، یا جن میں ایسے حقائق کا بیان ہے جن پر مجمل طور پر ایمان لانا تو ضروری ہے لیکن ان کی تفصیلات کو جاننا نہ انسان کے لیے ضروری ہے اور نہ عقلی استعداد کے ساتھ ممکن ہے۔
قرآن سے ھدائیت  حاصل کرنے اور فتنہ، گمراہی، ضلالہ ، فرقہ واریت سے محفوظ رہنے کا آسان طریقہ  (   The Master Key Quran(3:7) شاه کلید قرآن) صرف قرآن کی "اٰيٰتٌ مُّحۡكَمٰتٌ"  جو کہ "اُمُّ الۡكِتٰبِ " ہیں ، ان پر پر عمل سے مشروط ہے. الله کا فرمان ہے :
هُوَ الَّذِىۡۤ اَنۡزَلَ عَلَيۡكَ الۡكِتٰبَ مِنۡهُ اٰيٰتٌ مُّحۡكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الۡكِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ‌ؕ فَاَمَّا الَّذِيۡنَ فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ زَيۡغٌ فَيَتَّبِعُوۡنَ مَا تَشَابَهَ مِنۡهُ ابۡتِغَآءَ الۡفِتۡنَةِ وَابۡتِغَآءَ تَاۡوِيۡلِهٖۚ وَمَا يَعۡلَمُ تَاۡوِيۡلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ ؔ‌ۘ وَ الرّٰسِخُوۡنَ فِى الۡعِلۡمِ يَقُوۡلُوۡنَ اٰمَنَّا بِهٖۙ كُلٌّ مِّنۡ عِنۡدِ رَبِّنَا ‌ۚ وَمَا يَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ۞ 
(القرآن - سورۃ نمبر 3 آل عمران، آیت نمبر 7)
ترجمہ:
وہی خدا ہے، جس نے یہ کتاب تم پر نازل کی ہے۔ اس کتاب میں دو طرح کی آیات ہیں: ایک محکمات، جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور دُوسری متشابہات۔ *جن لوگوں کو دلوں میں ٹیڑھ ہے، وہ فتنے کی تلاش میں ہمیشہ متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور اُن کو معنی (تاویلیں) پہنانے کی کو شش کیا کرتے ہیں حالانکہ ان کا حقیقی مفہوم اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ بخلا ف اِ س کے جو لوگ علم میں پختہ کار ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ”ہمارا اُن پر ایمان ہے، یہ سب ہمارے رب ہی کی طرف سے ہیں۔“ اور سچ یہ ہے کہ کسی چیز سے صحیح سبق صرف دانشمند لوگ ہی حاصل کرتے ہیں(القرآن  3:7)

اگر اس آیت(  3:7) کو اور اس کے معنی کو زہن نشین کرلیں اور اللہ کے حکم کے مطابق آیات محکمات پر توجہ مرکوز رکھیں تو ہم فتنہ،  اختلافات اور فرقہ واریت، بحث مباحث اور دلوں میں ٹیڑھ سے بچ سکتے ہیں۔  آیات متشابہات کا ایک مقصد شائید ہمارا امتحان  بھی ممکن ہو سکتا ہے؟  جیسے "ہاروت ماروت فرشتے اور جادو" جس کازکر سورہ البقرہ آیت 102 میں ہے۔ 
متشابہات سے دور رہو !
حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ آپ  فرماتے تھے
حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہات ہیں جنہیں اکثر لوگ نہیں جانتے
پس جو شبہ میں ڈالنے والی چیز سے بچا اس نے اپنے دین اور عزت کو محفوظ کرلیا اور جو شبہ ڈالنے والی چیزوں میں پڑگیا تو وہ حرام میں پڑگیا-
اس کی مثال اس چرواہے کی ہے جو کسی دوسرے کی چراگاہ کے ارد گرد چراتا ہے، تو قریب ہے کہ جانور اس چراگاہ میں سے بھی چر لیں خبردار رہو ہر بادشاہ کے لئے چراگاہ کی حد ہوتی ہے اور اللہ کی چراگاہ کی حد اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں آگاہ رہو جسم میں ایک لوتھڑا ہے جب وہ سنور گیا تو سارا بدن سنور گیا اور جب وہ بگڑ کیا تو سارا ہی بدن بگڑ کیا آگاہ رہو کہ وہ دل ہے۔ (مسلم،  4094)

حضرت عائشہ فرماتی ہیں: مجھے نصیحت فرمائی کہ جب تو ایسے لوگوں کو دیکھے جو قرآن کی متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں تو سمجھ لینا ،یہی ہیں جن کا ﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید (سورۂ آل عمران ۳: ۷)میں ذکر کیا ہے۔ ان سے بچ کر رہنا
(بخاری، رقم ۴۵۴۷۔مسلم، رقم ۶۸۶۹۔ ابوداؤد، رقم ۴۵۹۸۔ ترمذی، رقم ۲۹۹۴۔ ابن ماجہ، رقم ۴۷۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۲۱۰)۔
ایک دوسری روائیت میں ارشاد فرمایا کہ :
مجھے اپنی امت پر تین باتوں کا خوف ہے،
1۔اول یہ کہ مال بہت مل جائے جس کی وجہ سے باہمی حسد میں مبتلا ہوجائیں اور کشت و خون کرنے لگیں، 
2۔وسری یہ کہ کتاب اللہ سامنے کھل جائے (یعنی ترجمہ کے ذریعہ ہر عامی اور جاہل بھی اس کے سمجھنے کا مدعی ہوجائے) اور اس میں جو باتیں سمجھنے کی نہیں ہیں یعنی متشابہات ان کے معنی سمجھنے کی کوشش کرنے لگیں، حالانکہ ان کا مطلب اللہ ہی جانتا ہے 
3۔ تیسری یہ کہ ان کا علم بڑھ جائے تو اسے ضائع کردیں اور علم کو بڑھانے کی جستجو چھوڑ دیں۔ (ابن کثیر بحوالہ طبرانی، بحولہ معارف قرآن )
 حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ قرآن میں جھگڑنا کفر ہے۔ (ابو داؤد) پس ضروری ہے کہ قرآن کا جو حصہ محکم ہے اس پر عمل کیا جائے اور جو متشابہ ہے اس پر جوں کا توں ایمان رکھا جائے اور تفصیلات سے بحث نہ کی جائے۔ (فتح البیان۔ ابن کثیر)

اللہ کی آیات کس انکار کرنے والوں کی بربادی

کہہ دو کہ : کیا ہم تمہیں بتائیں کہ کون لوگ ہیں جو اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام ہیں ؟ ۞
یہ وہ لوگ ہیں کہ دنیوی زندگی میں ان کی ساری دوڑ دھوپ سیدھے راستے سے بھٹکی رہی، اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ ۞
یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے مالک کی آیتوں کا اور اس کے سامنے پیش ہونے کا انکار کیا، اس لیے ان کا سارا کیا دھرا غارت ہوگیا۔ چنانچہ قیامت کے دن ہم ان کا کوئی وزن شمار نہیں کریں گے۔ ۞  (القرآن - سورۃ نمبر 18 الكهف، آیت نمبر 103-105)
---------
اب ایک کوشش  کریں ... جتنے بڑے چھوٹے فرقے ہیں ان سے ان سے اسلام کے متفقہ  بنیادی  عقائد  کے علاوہ اضافی اور مختلف نظریات کی قرآن سے دلیل مانگیں -
جو آیات وہ پیش کریں تو بغور (3:7) کی روشبی میں تجزیہ کریں کہ :
کیا یہ واضح ، محکمات ہیں یا کہ تاویلوں سے مطلب نکالا گیا ہے؟
اکثر تاویلوں سے اپنی مرضی کے  مطلب حاصل کیے جاتے ہیں - واضح آیات کو بھی متشبہ بنانے کی جسارت کرتے ہیں تاکہ اپنے  فرقہ کے خود ساختہ من گھڑت نظریات کو قرآن سے ثابت کر سکیں- 
آخری فیصلہ تو الله قیامت لو کرے گا مگر جو انسان کو عقل الله نے عطا فرمیائی اور قرآن میں ھدایت بھی واضح کر دی تو جواب بھی دینا پڑے گا کہ قرآن کو کیوں نظر انداز کر کہ مذہبی پیشواؤں کے پیچھے گمراہی کا راستہ اختیار کیا؟
ہر کوئی اپنا بوجھ خود اٹھائے گا، ہدائئت و گمراہی انفرادی ذمہ داری ہے:
وَكُلَّ اِنۡسَانٍ اَلۡزَمۡنٰهُ طٰۤئِرَهٗ فِىۡ عُنُقِهٖ‌ؕ وَنُخۡرِجُ لَهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ كِتٰبًا يَّلۡقٰٮهُ مَنۡشُوۡرًا‏ ۞ اِقۡرَاۡ كِتٰبَك َؕ كَفٰى بِنَفۡسِكَ الۡيَوۡمَ عَلَيۡكَ حَسِيۡبًا ۞ مَنِ اهۡتَدٰى فَاِنَّمَا يَهۡتَدِىۡ لِنَفۡسِهٖ ‌ۚ وَمَنۡ ضَلَّ فَاِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيۡهَا‌ ؕ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى‌ ؕ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيۡنَ حَتّٰى نَبۡعَثَ رَسُوۡلًا ۞ 
ترجمہ:
اور ہم نے ہر انسان کا نصیبہ اس کے گلے کے ساتھ باندھ دیا ہے اور ہم قیامت کے روز اس کے لیے ایک رجسٹر نکالیں گے جس کو وہ بالکل کھلا ہوا پائے گا ۞ لو، پڑھ لو، اپنا عمال نامہ ! آج تم خود ہی اپنا حساب کرلینے کے لیے کافی ہو ۞
جو ہدایت کی راہ چلتا ہے تو وہ اپنے ہی لیے ہدایت کی راہ چلتا ہے اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے ہی اوپر وبال لاتا ہے اور کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ اٹھانے والی نہیں بنے گی اور ہم عذاب دینے والے نہیں تھے جب تک کسی رسول کو بھیج نہ لیں ۞
(القرآن - سورۃ نمبر 17 الإسراء، آیت نمبر 13-15)
-------
متشابہات  اور شیعہ نظریہ -راسخون فی العلم
قرآن کی آیات کو تبدیل کرنا ناممکن ہے مگر معنی ، تشریح میں اختلاف پیدا کیا جا سکتا ہے - اہل تشیع حصرات کا نظریہ ہے کہ " راسخون علم بھی تاویل سے آگاہ ہیں"-  شیعہ علما  «الراسخون فی العلم» کا «اللہ» پر عطف کیا ہے قائل ہیں کہ وہ راسخون فی العلم تاویل سے آگاہ ہیں اور وہ استدلال کرتے ہیں کہ اگر راسخون علم بھی دوسرے لوگوں کی مانند تاویل نہیں جانتے تو اللہ نے کیوں ان کی تمجید کی ہے۔ شیعہ حضرات  راسخون علم سے مراد اہل بیت لیتے ہیں۔ ( extract-wikishia)
اس تاویل کے بعد شیعہ مذھب کے وہ عقائد و نظریات جن کی بنیاد متشابہات کی تاویلات  پرہے، ان کو مسلمانوں کی اکثریت سے جدا کرتے ہیں- 
~~~~~~
کچھ حضرات نے ایک آیت قرآن کو سیاق و ثبات سے الگ کر کہ الله کی آخری کتاب  قرآن کے علاوہ کتب کا جواز پیدا کر لیا- اس کو تحریف کہیں ، تاویل یا محکم آیت کو مششتبہ کرنا ؟ 
~~~~~~
مرزا قادیانی قرآن کی واضح آیت33:40 میں " رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ۗ: کے معانی تبدیل کرکہ گمراہ ہو گیا، محکمات کو متشابھات بنانے کی مذموم کوشش کرتے ہیں-
~~~~~~
 حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ قرآن میں جھگڑنا کفر ہے۔ (ابو داؤد)
 پس ضروری ہے کہ قرآن کا جو حصہ محکم ہے اس پر عمل کیا جائے اور جو متشابہ ہے اس پر جوں کا توں ایمان رکھا جائے اور تفصیلات سے بحث نہ کی جائے۔ (فتح البیان۔ ابن کثیر)
~~~~~~~
اس آیت (3:7) کی اہمیت کے پیش نظر کچھ مشہورمفسرین کی تفاسیر پیش ہیں تاکہ شکوک و شبھات نہ رہیں :

هُوَ الَّذِىۡۤ اَنۡزَلَ عَلَيۡكَ الۡكِتٰبَ مِنۡهُ اٰيٰتٌ مُّحۡكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الۡكِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ‌ؕ فَاَمَّا الَّذِيۡنَ فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ زَيۡغٌ فَيَتَّبِعُوۡنَ مَا تَشَابَهَ مِنۡهُ ابۡتِغَآءَ الۡفِتۡنَةِ وَابۡتِغَآءَ تَاۡوِيۡلِهٖۚ وَمَا يَعۡلَمُ تَاۡوِيۡلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ ؔ‌ۘ وَ الرّٰسِخُوۡنَ فِى الۡعِلۡمِ يَقُوۡلُوۡنَ اٰمَنَّا بِهٖۙ كُلٌّ مِّنۡ عِنۡدِ رَبِّنَا ‌ۚ وَمَا يَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ۞ 
(القرآن - سورۃ نمبر 3 آل عمران، آیت نمبر 7)
ترجمہ:
وہی خدا ہے، جس نے یہ کتاب تم پر نازل کی ہے۔ اس کتاب میں دو طرح کی آیات ہیں: ایک محکمات، جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور دُوسری متشابہات۔ *جن لوگوں کو دلوں میں ٹیڑھ ہے، وہ فتنے کی تلاش میں ہمیشہ متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور اُن کو معنی (تاویلیں) پہنانے کی کو شش کیا کرتے ہیں حالانکہ ان کا حقیقی مفہوم اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ بخلا ف اِ س کے جو لوگ علم میں پختہ کار ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ”ہمارا اُن پر ایمان ہے، یہ سب ہمارے رب ہی کی طرف سے ہیں۔“ اور سچ یہ ہے کہ کسی چیز سے صحیح سبق صرف دانشمند لوگ ہی حاصل کرتے ہیں(القرآن  3:7)
~~~~~~~~~
 تفہیم القرآن: مفسر: مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی
سورۃ نمبر 3 آل عمران، آیت نمبر 7
تفسیر:
محکم پکی اور پختہ چیز کو کہتے ہیں۔ ”آیات محکمات“ سے مراد وہ آیات ہیں، جن کی زبان بالکل صاف ہے، جن کا مفہوم متعین کرنے میں کسی اشتباہ کی گنجائش نہیں ہے، جن کے الفاظ معنی و مدعا پر صاف اور صریح دلالت کرتے ہیں، جنہیں تاویلات کا تختہ مشق بنانے کا موقع مشکل ہی سے کسی کو مل سکتا ہے۔ یہ آیات ”کتاب کی اصل بنیاد ہیں“ ، یعنی قرآن جس غرض کے لیے نازل ہوا ہے، اس غرض کو یہی آیتیں پورا کرتی ہیں۔ انہی میں اسلام کی طرف دنیا کی دعوت دی گئی ہے، انہی میں عبرت اور نصیحت کی باتیں فرمائی گئی ہیں، انہی میں گمراہیوں کی تردید اور راہ راست کی توضیح کی گئی ہے۔ انہی میں دین کے بنیادی اصول بیان کیے گئے ہیں۔ انہی میں عقائد، عبادات، اخلاق، فرائض اور امر و نہی کے احکام ارشاد ہوئے ہیں۔ پس جو شخص طالب حق ہو اور یہ جاننے کے لیے قرآن کی طرف رجوع کرنا چاہتا ہو کہ وہ کس راہ پر چلے اور کس راہ پر نہ چلے، اس کی پیاس بجھانے کے لیے آیات محکمات ہی اصل مرجع ہیں اور فطرةً انہی پر اس کی توجہ مرکوز ہوگی اور وہ زیادہ تر انہی سے فائدہ اٹھانے میں مشغول رہے گا۔

متشابہات، یعنی وہ آیات جن کے مفہوم میں اشتباہ کی گنجائش ہے۔
یہ ظاہر ہے کہ انسان کے لیے زندگی کا کوئی راستہ تجویز نہیں کیا جاسکتا، جب تک کائنات کی حقیقت اور اس کے آغاز و انجام اور اس میں انسان کی حیثیت اور ایسے ہی دوسرے بنیادی امور کے متعلق کم سے کم ضروری معلومت انسان کو نہ دی جائیں۔ اور یہ بھی ظاہر ہے کہ جو چیزیں انسان کے حواس سے ماورا ہیں، جو انسانی علم کی گرفت میں نہ کبھی آئی ہیں، نہ آسکتی ہیں، جن کو اس نے نہ کبھی دیکھا، نہ چھوا، نہ چکھا، ان کے لیے انسانی زبان میں نہ ایسے الفاظ مل سکتے ہیں جو انہی کے لیے وضع کیے گئے ہوں اور نہ ایسے معروف اسالیب بیان مل سکتے ہیں، جن سے ہر سامع کے ذہن میں ان کی صحیح تصویر کھنچ جائے۔ لامحالہ یہ ناگزیر ہے کہ اس نوعیت کے مضامین کو بیان کرنے کے لیے الفاظ اور اسالیب بیان وہ استعمال کیے جائیں، جو اصل حقیقت سے قریب تر مشابہت رکھنے والی محسوس چیزوں کے لیے انسانی زبان میں پائے جاتے ہیں۔ چناچہ مابعد الطبیعی مسائل کے بیان میں قرآن کے اندر ایسی ہی زبان استعمال کی گئی ہے اور متشابہات سے مراد وہ آیات ہیں، جن میں یہ زبان استعمال ہوئی ہے۔
لیکن اس زبان کا زیادہ سے زیادہ فائدہ بس اتنا ہی ہوسکتا ہے کہ آدمی کو حقیقت کے قریب تک پہنچا دے یا اس کا ایک دھندلا سا تصور پیدا کردے۔ ایسی آیات کے مفہوم کو متعین کرنے کی جتنی زیادہ کوشش کی جائے گی، اتنے ہی زیادہ اشتباہات و احتمالات سے سابقہ پیش آئے گا، حتٰی کہ انسان حقیقت سے قریب تر ہونے کے بجائے اور زیادہ دور ہوتا چلا جائے گا۔ پس جو لوگ طالب حق ہیں اور ذوق فضول نہیں رکھتے، وہ تو متشابہات سے حقیقت کے اس دھندلے تصور پر قناعت کرلیتے ہیں جو کام چلانے کے لیے کافی ہے اور اپنی تمام تر توجہ محکمات پر صرف کرتے ہیں، مگر جو لوگ بوالفضول یا فتنہ جو ہوتے ہیں، ان کا تمام تر مشغلہ متشابہات ہی کی بحث و تنقیب ہوتا ہے۔

یہاں کسی کو یہ شبہہ نہ ہو کہ جب وہ لوگ متشابہات کا صحیح مفہوم جانتے ہی نہیں، تو ان پر ایمان کیسے لے آئے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک معقول آدمی کو قرآن کے کلام اللہ ہونے کا یقین محکمات کے مطالعہ سے حاصل ہوتا ہے، نہ کہ متشابہات کی تاویلوں سے۔ اور جب آیات محکمات میں غور و فکر کرنے سے اس کو یہ اطمینان حاصل ہوجاتا ہے کہ یہ کتاب واقعی اللہ ہی کی کتاب ہے، تو پھر متشابہات اس کے دل میں کوئی خلجان پیدا نہیں کرتے۔ جہاں تک ان کا سیدھا سادھا مفہوم اس کی سمجھ میں آجاتا ہے، اس کو وہ لے لیتا ہے اور جہاں پیچیدگی رونما ہوتی ہے، وہاں کھوج لگانے اور موشگافیاں کرنے کے بجائے وہ اللہ کے کلام پر مجمل ایمان لا کر اپنی توجہ کام کی باتوں کی طرف پھیر دیتا ہے۔
---------
 معارف القرآن، مفسر: مفتی محمد شفیع
سورۃ نمبر 3 آل عمران، آیت نمبر 7
تفسیر:
ربط آیات 
 پچھلی چار آیتوں میں توحید باری تعالیٰ کا اثبات تھا، اس آیت میں توحید کے خلاف بعض شبہات کا جواب ہے، واقعہ اس کا یہ ہے کہ ایک دفعہ نجران کے کچھ نصاری حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور مذہبی گفتگو شروع کی، آپ ﷺ نے نصاری کے عقیدہ تثلیث کی تردید بڑی تفصیل سے فرما کر توحید باری تعالیٰ کو ثابت کیا، آپ ﷺ نے اپنے دعوے پر اللہ تعالیٰ کی صفات حیات دائمہ، قدرت کاملہ، علم محیط اور قدرت تخلیق میں اللہ تعالیٰ کے یکتا اور منفرد ہونے سے استدلال کیا، اور یہ سب مقدمات نصاری کو تسلیم کرنا پڑے، جب توحید ثابت ہوگئی تو اسی سے تثلیث کے عقیدہ کا بطلان بھی ثابت ہوگیا، ان لوگوں نے قرآن کے ان الفاظ پر اپنے کچھ شبہات پیش کئے جن میں عیسیٰ ؑ کا روح اللہ یا کلمة اللہ ہونا مذکور ہے کہ ان الفاظ سے حضرت عیسیٰ ؑ کی شرکت الہیت ثابت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان شبہات کو ختم کردیا کہ یہ کلمات متشابہات ہیں، ان کے ظاہری معنی مراد نہیں ہوتے، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے درمیان ایک راز ہیں، جن کی حقیقت پر عوام مطلع نہیں ہوسکتے، عوام کے لئے ان الفاظ کی تحقیق میں پڑنا بھی روا نہیں، ان پر اس طرح ایمان لانا ضروری ہے کہ جو کچھ ان سے اللہ تعالیٰ کی مراد ہے وہ حق ہے، مزید تفتیش اور کھود کرید کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
خلاصہ تفسیر 
وہ (اللہ تعالی) ایسا ہے جس نے نازل کیا تم پر کتاب کو، جس کا ایک حصہ وہ آیتیں ہیں جو کہ اشتباہ مراد سے محفوظ ہیں، (یعنی ان کا مطلب ظاہر ہے) اور یہی آیتیں اصلی مدار ہیں (اس) کتاب (یعنی قرآن) کا (یعنی جن کے معنی ظاہر نہ ہوں ان کو بھی ظاہر المعنی کے موافق بنایا جاتا ہے) اور دوسری آیتیں ایسی ہیں جو کہ مشتبہ المراد ہیں (یعنی ان کا مطلب خفی ہے، خواہ مجمل ہونے کی وجہ سے خواہ کسی نص ظاہر المراد کے ساتھ معارض ہونے کی وجہ سے) سو جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ تو اس کے اسی حصہ کے پیچھے ہو لیتے ہیں جو مشتبہ المراد ہے (دین میں) شورش ڈھونڈنے کی غرض سے اور اس (مشتبہ المراد) کے (غلط) مطلب ڈھونڈنے کی غرض سے (تاکہ اپنے غلط عقیدہ میں اس سے مطلب حاصل کریں) حالانکہ اس کا (صحیح) مطلب بجز حق تعالیٰ کے کوئی اور نہیں جانتا (یا اگر وہ خود قرآن یا حدیث کے ذریعہ سے صراحة یا اشارة بتلادیں، جیسے لفظ صلوٰة کی مراد صراحة معلوم ہوگئی، اور استواء علی العرش وغیرہ کی تاویل بعض کی رائے پر قواعد کلیہ سے معلوم ہوگئی، تو بس اسی قدر دوسروں کو بھی خبر ہوسکتی ہے، زیادہ معلوم نہیں ہوسکتا، جیسے مقطعات قرآنیہ کے الف لام میم وغیرہ کے معنی کسی کو معلوم نہیں ہوئے، اور بعض کی رائے پر استواء علی العرش کے معنی بھی معلوم نہیں ہوئے) اور (اسی واسطے) جو لوگ علم (دین) میں پختہ کار (اور فہیم) ہیں وہ (ایسی آیتوں کے متعلق) یوں کہتے ہیں کہ ہم اس پر (اجمالا) یقین رکھتے ہیں سب (آیتیں ظاہر المعنی بھی خفی المعنی بھی) ہمارے پروردگار کی طرف سے ہیں (پس ان کے جو کچھ معنی اور مراد واقع میں ہوں وہ حق ہیں) اور نصیحت (کی بات کو) وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو کہ اہل عقل ہیں (یعنی عقل کا مقتضا بھی یہی ہے کہ مفید اور ضروری بات میں مشغول ہو مضر اور فضول قصہ میں نہ لگے)۔
معارف و مسائل 
پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے آیات محکمات اور متشابہات کا ذکر فرماکر ایک عام اصول اور ظابطے کی طرف اشارہ کردیا ہے، جس کے سمجھ لینے کے بعد بہت سے شبہات اور نزاعات ختم ہوسکتے ہیں، جس کی تفصیل یہ ہے کہ قرآن مجید میں دو قسم کی آیات پائی جاتی ہیں، ایک قسم کو محکمات کہتے ہیں اور دوسری کو متشابہات۔ محکمات ان آیات کو کہتے ہیں جن کی مراد ایسے شخص پر بالکل ظاہر اور بین ہو جو قواعد عربیہ کو اچھی طرح جاننے والا ہو، اور جن آیات کی تفسیر اور معانی ایسی شخص پر ظاہر نہ ہوں ان کو متشابہات کہتے ہیں ، (مظہری ج 2) 
پہلی قسم کی آیات کو اللہ تعالیٰ نے ام الکتاب کہا، جس کا مطلب یہ ہے کہ ساری تعلیمات کا اصل اصول یہی آیات ہوتی ہیں جن کے معانی اور مفاہیم اشتباہ و التباس سے پاک ہوتے ہیں۔
اور دوسری قسم کی آیات میں چونکہ متکلم کی مراد مبہم اور غیر متعین ہوتی ہے اس لئے ان آیات کے بارے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ ان کو پہلی قسم کی طرف راجع کر کے دیکھنا چاہئے، جو معنی اس کے خلاف پڑیں ان کی قطعا نفی کی جائے، اور متکلم کی مراد وہ سمجھی جائے جو آیات محکمات کے مخالف نہ ہو، اور کوئی ایسی تاویل اور توجیہہ صحیح نہ سمجھی جائے گی جو اصول مسلمہ اور آیات محکمہ کے خلاف ہو، مثلا قرآن حکیم نے مسیح ؑ کی نسبت تصریح کردی کہ (ان ھو الا عبد انعمنا علیہ۔ 34: 95) ایسے ہی دوسری جگہ ارشاد ہے (ان مثل عیسیٰ عنداللہ کمثل ادم خلقہ من تراب۔ 3: 95) 
ان آیات اور انہی کی مثل دوسری بہت سی آیات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مسیح ؑ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے اور اس کی مخلوق ہیں، لہذا نصاری کا ان کے بارے میں الوہیت اور ابنیت کا دعویٰ کرنا صحیح نہیں۔
اب اگر کوئی شخص ان سب محکمات سے آنکھیں بند کر کے صرف کلمة اللہ اور روح منہ وغیرہ متشابہات کو لے دوڑے اور اس کے وہ معنی لینے لگے جو محکمات قرآنیہ اور متواتر بیانات کے منافی ہوں تو یہ اس کی کجروی اور ہٹ دھرمی ہوجائے گی۔
کیونکہ متشابہات کی صحیح مراد صرف اللہ ہی کو معلوم ہے وہی اپنے کرم و احسان سے جس کو جس قدر حصہ پر آگاہ کرنا چاہتا ہے کردیتا ہے، لہذا ایسے متشابہات سے اپنی رائے کے مطابق کھینچ تان کر کوئی معنی نکالنا صحیح نہیں ہے۔
(فاما الذین فی قلوبھم زیغ) اس آیت سے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ جو لوگ سلیم الفطرت ہوتے ہیں، وہ متشابہات کے بارے میں زیادہ تحقیق و تفتیش نہیں کرتے، بلکہ اجمالا ایسی آیات پر ایمان لے آتے ہیں کہ یہ بھی اللہ کا بر حق کلام ہے، اگرچہ اس نے کسی مصلحت کیوجہ سے ہم کو ان کے معانی پر مطلع نہیں فرمایا، در حقیقت یہی طریقہ سلامتی اور احتیاط کا ہے، اس کے برخلاف بعض ایسے لوگ بھی ہیں جن کے دلوں میں کجی ہے، وہ محکمات سے آنکھیں بند کر کے متشابہات کی کھوج کرنے میں لگے رہتے ہیں، ان اور ان سے اپنی خواہش کے مطابق معانی نکال کر لوگوں کو مغالطے میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، ایسے لوگوں کے بارے میں قرآن و حدیث میں سخت وعید آئی ہے۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جب آپ ایسے لوگوں کو دیکھیں جو متشابہات کی تفتیش میں لگے ہوئے ہیں تو آپ ان سے دور بھاگیں، کیونکہ یہ وہی لوگ ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے (قرآن) میں کیا ہے۔ (بخاری ج 2) ایک دوسری حدیث میں ارشاد فرمایا کہ مجھے اپنی امت پر تین باتوں کا خوف ہے، اول یہ کہ مال بہت مل جائے جس کی وجہ سے باہمی حسد میں مبتلا ہوجائیں اور کشت و خون کرنے لگیں، دوسری یہ کہ کتاب اللہ سامنے کھل جائے (یعنی ترجمہ کے ذریعہ ہر عامی اور جاہل بھی اس کے سمجھنے کا مدعی ہوجائے) اور اس میں جو باتیں سمجھنے کی نہیں ہیں یعنی متشابہات ان کے معنی سمجھنے کی کوشش کرنے لگیں، حالانکہ ان کا مطلب اللہ ہی جانتا ہے، تیسری یہ کہ ان کا علم بڑھ جائے تو اسے ضائع کردیں اور علم کو بڑھانے کی جستجو چھوڑ دیں۔ (ابن کثیر بحوالہ طبرانی) 
(والراسخون فی العلم یقولون امنا بہ) راسخون فی العلم سے کون لوگ مراد ہیں ؟ اس میں علماء کے اقوال مختلف ہیں، راجح قول یہ ہے کہ ان سے مراد اہل السنة والجماعة ہیں جو قرآن وسنت کی اسی تعبیر و تشریح کو صحیح سمجھتے ہیں جو صحابہ کرام سلف صالحین اور اجماع امت سے منقول ہو، اور قرآنی تعلیمات کا محور اور مرکز محکومات کو مانتے ہیں، اور متشابہات کے جو معانی ان کے فہم و ادراک سے باہر میں کوتاہ نظری اور قصور علمی کا اعتراف کرتے ہوئے ان کو خدا کے سپرد کرتے ہیں، وہ اپنے کمال علمی اور قوت ایمانی پر مغرور نہیں ہوتے، بلکہ ہمیشہ حق تعالیٰ سے استقامت اور مزید فضل و عنایت کے طلبگار رہتے ہیں ان کی طبعیتیں فتنہ پسند نہیں ہوتیں کہ متشابہات ہی کے پیچھے لگی رہیں، وہ محکمات اور متشابہات سب کو حق سمجھتے ہیں، کیونکہ انہیں یقین ہے کہ دونوں قسم کی آیات ایک ہی سرچشمہ سے آئی ہیں، البتہ ایک قسم یعنی محکمات کے معانی ہمارے لئے معلوم کرنے مفید اور ضروری تھے تو اللہ تعالیٰ نے وہ پوشیدہ نہیں رکھے بلکہ کھول کھول کر بیان کردیئے اور دوسری قسم یعنی متشابہات کے معانی اللہ تعالیٰ نے اپنی مصلحت سے بیان نہیں فرمائے۔ لہذا ان کا معلوم کرنا بھی ہمارے لئے ضروری نہیں، ایسی آیات پر ایمان اجمالا لے آنا ہی کافی ہے۔
 (طبرانی ملخصا)
-----
 تدبر قرآن:مفسر: مولانا امین احسن اصلاحی
سورۃ نمبر 3 آل عمران، آیت نمبر 7

تفسیر:
آیات نمبر 7 تا 17 کا خلاصہ مضمون : قرآن کے نزول کی ضرورت واضح کرنے کے بعد اب یہ بات واضح کی جا رہی ہے کہ کس طرح کے لوگ ہیں جو اس قرآن کا انکار کر رہے ہیں اور وہ کیا چیزیں ہیں جن کو وہ اپنے اس انکار کے لیے بہانہ بنا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں فرمایا ہے کہ انکار کی راہ ان لوگوں نے اختیار کی ہے جن کے دلوں میں کجی اور جن کی طبیعتوں میں فتنہ پسندی ہے۔ اپنے اس ذوق کی وجہ سے وہ قرآن کی اصل تعلیمات سے کوئی لگاؤ نہیں رکھتے۔ وہ اس میں صرف ایسی چیزیں ڈھونڈھتے ہیں جن کی آڑ لے کر وہ قرآن کے خلاف لوگوں کے دلوں میں کچھ شبہات و شکوک پیدا کرسکیں اور اس طرح خود بھی راہ حق سے گریز اختیار کریں اور جس حد تک ان کا زور چلے دوسروں کو بھی اس سے بدکائیں۔ چناچہ ان کی ساری دلچسپی محکمات کے بجائے صرف متشابہات سے ہوتی ہے اس لیے کہ ان کا تعلق آخرت کی زندگی کی تمثیلات و تشبیہات سے ہوتا ہے، ان کے اندر موشگافی اور کر پزی کر کے کوئی ایسی بات نکالی جاسکتی ہے جو خود ان کی ضلالت کے لیے بھی ایک بہانہ بن سکے اور دوسروں کو بھی اس سے فتنے میں مبتلا کیا جاسکے۔ اس کے بعد ان لوگوں کا ذکر فرمایا ہے جن کے اندر علم و عقل کی پختگی موجود ہے۔ ان لوگوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ یہ لوگ اللہ کی آیات کی قدر کرتے ہیں اور اس کی تعلیمات و ہدایات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہ قرآن کے محکمات کی طرح اس کے متشابہات کی بھی قدر کرتے ہیں اور ان کو اعتراض و فتنہ جوئی کا ذریعہ بنانے کے بجائے ان کو اضافہ علم کا ذریعہ بانتے اور ان پر صدق دل سے ایمان لاتے ہیں۔ اگر کوئی بات اپنی فہم کی گرفت سے ماورا پاتے ہیں تو اس کی حقیقت و ماہیت کے درپے ہونے اور اس کو فتنہ بنانے کے بجائے اس کو اللہ کے حوالے کرتے ہیں کہ یہی رویہ علم و ایمان کی پختگی کا مقتضی ہے۔ نیز ان کے اندر آخرت کا پختہ یقین ہوتا ہے۔ اس وجہ سے وہ شیاطین کی وسوسہ اندازیوں سے محفوظ رہنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے برابر دعا بھی کرتے رہتے ہیں کہ ایمان کی دولت سے بہرہ یاب فرمانے کے بعد وہ ان کو کسی گمراہی میں پڑنے سے محفوظ رکھے۔
اس کے بعد گمراہی کے ان اسباب کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو ان کے پچھلے ہم مشربوں کی تباہی کے باعث ہوئے اور ساتھ ہی مسلمانوں کی کامیابی کے بعض تازہ واقعات کا حوالہ دے کر یہ حقیقت واضح کی ہے کہ اگر ان واقعات سے انہوں نے عبرت نہ پکڑی تو ان کا بھی وہی انجام ہوگا جو پچھلوں کا ہوچکا ہے۔ اس کے بعد ان حجابات کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو ان کے اور قرآن کے درمیان آج حائل ہیں اور ساتھ ہی ان کے بےحقیقتی اور بےثباتی کی طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ دنیائے فانی کی جن چیزوں پر ریجھ کر قرآن سے منہ موڑ رہے ہو ان کی حقیقت جلوہ سراب سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ ان کے پیچھے بھاگنے کے بجائے ابدی زندگی کی نعمتوں اور خدا کی خوشنودی کے طالب بنو جس کی راہ صبر، سچائی، اطاعت الٰہی، انفاق فی سبیل اللہ اور استغفار سے کھلتی ہے۔ اور قرآن اسی راہ کی طرف بلانے کے لیے نازل ہوا ہے۔ اب اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے :
ھُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ (وہی خدا ہے جس نے تہارے اوپر کتاب اتاری) سے اشارہ اس عزیز و حکیم اور حی وقیوم خدا کی طرف ہے جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے اور اس سے مقصود یہاں مخاطب کو کوئی چیزوں کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ ایک تو اس عظیم رحمت کی طرف اشارہ کرنا ہے جو اس کتاب کی شکل میں ظہور میں آئی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی صفات حیات و قیومیت کا ظہور ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو زندگی جاوداں سے بہرہ مند اور ان کو جادہ حق پر استوار کرنے کے لیے یہ کتاب اتاری ہے۔ اس عظیم نعمت کا حق یہ ہے کہ بندے اس کی قدر پہچانیں، اس پر ایمان لائیں اور اس کے ذریعے سے حیات جاوداں اور بقائے دوام حاصل کریں۔ دوسرے اس میں ان لوگوں کے لیے تخویف و تہدید کا پہلو بھی ہے جو اس کی تردید و تکذیب کریں گے اس لیے کہ جس خدا نے یہ کتاب اتاری ہے وہ عزیز بھی ہے اور قیوم بھی۔ اس کی اس عزت و حکمت اور اس قیومیت کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ وہ ان لوگوں کو سزا دے جو اس کے قانونِ حق و عدل کی راہ میں مزاحم ہوں۔ تیسرے اس سے نفس کتاب کے مزاج کی طرف بھی اشارہ ہو رہا ہے کہ یہ ایک خدائے عزیز و حکیم کا کلام ہے۔ اس وجہ سے یہ خود بھی عزیز و حکیم ہے۔ چناچہ قرآن میں جگہ جگہ اس کی صفت عزیز و حکیم آئی بھی ہے۔ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ کتاب الجھنے اور موشگافی کرنے کے لیے نہیں ہے بلکہ بقدر ظرف و توفیق فائدہ اٹھانے کے لیے ہے۔ آدمی اس ناپیدا کنار سمندر کی حکمتوں سے جو فائدہ اٹھا سکے اٹھا لے، یہ توقع نہ کرے کہ وہ اس کے تمام اسرار و حقائق کا احاطہ کرسکتا ہے۔ اس کی جو باتیں سمجھ میں آئیں ان کو فتنہ اور شبہات و شکوک کا ذریعہ نہ بنائے بلکہ ان کو اللہ کے حوالہ کرے۔
 اس آیت میں چند الفاظ ایسے استعمال ہوئے جن کی نوعیت کچھ قرآنی اصطلاحات کی سی ہے۔ چونکہ آیت کا ٹھیک ٹھیک مفہوم اس وقت تک واضح نہیں ہوسکے گا جب تک ان اصطلاحات کا مفہوم اچھی طرح واضح نہ ہوجائے اس وجہ سے پہلے ہم ان کی وضاحت کرتے ہیں۔ 
’ آیات محکمات ‘ سے مراد :
 آیات محکمات سے مراد قرآن کی وہ آیات ہیں جو آفاق وانفس کی بالکل بدیہیات، خیر و شر کے مسلمات، اور معروف و منکر کے قطعیات و یقینیات پر مشتمل ہیں۔ جن کو دل قبول کرتے ہیں اور جن کو قبول کرنے کے لیے اس کے سوا کوئی شرط نہیں ہے کہ دل سلیم ہو۔ جن کے حق میں ہر عقل گواہی دیتی ہے بشرطیکہ اس پر تعصب جذبات اور غیر فطری عقلیات کے پردے پڑے ہوئے نہ ہوں۔ انہی محکمات پر ہر صحیح مذہب کی بنیاد ہوتی ہے اس وجہ سے تمام آسمانی مذاہب اور تمام انبیاء سے یہ تواتر کے ساتھ نقل ہوئی ہیں۔ چونکہ فطرت انسانی کے اندر ان کی جڑیں نہایت مستحکم ہوتی ہیں، شبہات و شکوک کی آندھیاں ان کو ہلانے سے قاصر رہتی ہیں اس وجہ سے قرآن نے ان کو محکمات سے تعبیر کیا ہے۔
’ ام الکتاب ‘ کا مفہوم : 
آیات محکمات کی تعریف یہ فرمائی ہے کہ ان کی حیثیت ام الکتاب کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بقیہ ساری کتاب کا مرجع و مرکز وہی محکمات ہوتی ہیں، انہی پر ساری بحث کا مدار ہوتا ہے، ساری شاخیں انہی سے پھوٹتی ہیں۔ اگر کوئی نزاع و اختلاف پیدا ہوتا ہے تو اس کا فیصلہ بھی انہی کی کسوٹی پر پرکھ کر ہوتا ہے۔ پھر انہی کا یہ درجہ ہوتا ہے کہ ان کو اصول قرار دے کر ان سے مسائل مستنبط کیے جائیں اور ان مسائل پر اسی طرح اعتماد کیا جائے جس طرح اصولوں پر اعتماد کیا جاتا ہے۔ 
آیات متشابہات سے مراد :
 متشابہات سے مراد وہ آیتیں ہیں جن میں ہمارے مشاہدات و معلومات کے دسترس سے باہر کی باتیں تمثیلی و تشبیہی رنگ میں قرآن نے بتائی ہیں۔ یہ باتیں جس بنیادی حقیقت سے تعلق رکھنے والی ہوتی ہیں وہ بجائے خود واضح اور مبرہن ہوتی ہے، عقل اس کے اتنے حصے کو سمجھ سکتی ہے جتنا سمجھنا اس کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ البتہ چونکہ اس کا تعلق ایک نادیدہ عالم سے ہوتا ہے اس وجہ سے قرآن ان کو تمثیل و تشبیہ کے انداز میں پیش کرتا ہے تاکہ علم کے طالب بقدر استعداد ان سے فائدہ اٹھا لیں اور ان کی اصل صورت و حقیقت کو علم الٰہی کے حوالہ کریں۔ یہ باتیں خدا کی صفات و افعال یا آخرت کی نعمتوں اور اس کے آلام سے تعلق رکھنے والی ہوتی ہیں۔ ان کا جس حد تک ہمارے لیے سمجھنا ضروری ہے اتنا ہماری سمجھ میں آجاتا ہے اور اس سے ہمارے علم و یقین میں اضافہ ہوتا ہے لیکن اگر ہم اپنی حد سے آگے بڑھ کر ان کی اصل حقیقت اور صورت کو اپنی گرفت میں لینے کی کوشش کریں تو یہ چیز فتنہ بن جاتی ہے اور اس کا نتیجہ صرف یہ نکلتا ہے کہ انسان اپنے ذہن سے شک کا ایک کانٹا نکالنا چاہتا ہے اور اس کے نتیجے میں بیشمار کانٹے اس کے اندر چبھا لیتا ہے۔ یہاں تک کہ اس نایافتہ کی طلب میں اپنی یافتہ دولت کو بھی ضائع کر بیٹھتا ہے اور نہایت واضح حقائق کی اس لیے تکذیب کردیتا ہے کہ ان کی شکل و صورت ابھی اس کے سامنے نمایاں نہیں ہوئی۔ قرآن نے اسی چیز کی طرف اشارہ فرمایا ہے بَلْ كَذَّبُوا بِمَا لَمْ يُحِيطُوا بِعِلْمِهِ وَلَمَّا يَأْتِهِمْ تَأْوِيلُهُ (یونس :39) بلکہ انہوں نے اس چیز کو جھٹلایا جو ان کے علم کی گرفت میں نہیں آئی اور ابھی تک اس کی حقیقت ان کے سامنے ظاہر نہیں ہوئی ہے۔
متشابہات کی بعض مثالیں : 
ہم یہاں قرآن سے اس قسم کے بعض متشابہات کی مثالیں نقل کرتے ہیں۔ سورة مدثر میں قرآن نے دوزخ کے عذاب کی تصویر ان الفاظ میں پیش کی ہے ”سَأُصْلِيهِ سَقَرَ (26) وَمَا أَدْرَاكَ مَا سَقَرُ (27) لا تُبْقِي وَلا تَذَرُ (28) لَوَّاحَةٌ لِلْبَشَرِ (29) عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ (30)“ ، میں اس کو دوزخ میں داخل کروں گا اور تمہیں کیا پتہ کہ دوزخ کیا ہے ؟ وہ نہ ذرا ترس کھائے گی اور نہ کسی چیز کو چھوڑے گی، جسموں کو جھلس دینے والی ہوگی۔ اس پر خدا کے انیس سرہنگ مقرر ہوں گے (مدثر :26-30)۔ اس آیت میں جس سزا کا ذکر ہے وہ ایک حقیقت ہے اور قانون مجازات پر جس کا ایمان ہو اس کے لیے اس سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں، رہی اس کی تفصیل تو اس کا تعلق چونکہ ایک نادیدہ عالم سے ہے اس وجہ سے اس کی اصل صورت کسی طرح ہماری گرفت میں نہیں آسکتی۔ اس طرح کے معاملات میں صحیح روش یہ ہے کہ آدمی اتنے پر قناعت کرے جو سمجھ میں آتا ہے۔ جو سمجھ میں نہیں آتا وہ اس عالم میں سمجھ میں آ ہی نہیں سکتا، اس وجہ سے اس کے درپے ہونے کے بجائے اس کو خدا کے حوالے کرے۔ سلیم الطبع انسان ایسا ہی کرتے ہیں لیکن جن کے دلوں میں کئی اور عقلوں میں ٹیڑھ ہوتی ہے وہ یہ روش اختیار کرنے کے بجائے متشابہات و تمثیلات کی حقیقت معلوم کرنے کے درپے ہوجاتے ہیں جس سے وہ خود بھی فتنوں میں پڑتے ہیں اور اپنے جیسے دوسرے بہتوں کو بھی فتنوں میں ڈال دیتے ہیں۔ چناچہ دیکھیے مذکورہ بالا آیت میں تسعۃ عشر کا جو لفظ آیا تو قرآن نے اس کے متعلق شرارت پسندوں کا رد عمل یہ بتایا ہے کہ وہ اسی کے درپے ہوگئے کہ اس سے کیا مراد ہے ؟ اگر اس سے فرشتے مراد ہیں تو یہ سوال انہوں نے اٹھایا کہ انیس کے عدد کی تخصیص میں کیا رمز ہے ؟ قرآن نے ان کے اس رد عمل پر ان الفاظ میں تبصرہ فرمایا ”وَمَا جَعَلْنَا أَصْحَابَ النَّارِ إِلا مَلائِكَةً وَمَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ إِلا فِتْنَةً لِلَّذِينَ كَفَرُوا لِيَسْتَيْقِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وَيَزْدَادَ الَّذِينَ آمَنُوا إِيمَانًا وَلا يَرْتَابَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وَالْمُؤْمِنُونَ وَلِيَقُولَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ وَالْكَافِرُونَ مَاذَا أَرَادَ اللَّهُ بِهَذَا مَثَلا كَذَلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلا هُوَ وَمَا هِيَ إِلا ذِكْرَى لِلْبَشَرِ : اور ہم نے دوزخ کی پہرہ داری پر نہیں مقرر کیے ہیں مگر فرشتے، اور ہم نے ان کی تعداد کو نہیں بنایا مگر کافروں کے لیے فتنہ، تاکہ وہ لوگ یقین کریں جن کو کتاب ملی ہے اور ایمان والے اپنے ایمان میں اضافہ کریں اور کتاب پانے والے اور اہل ایمان شک میں نہ پڑیں اور جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جو کافر ہیں وہ یہ کہیں کہ اس قسم کی تمثیل سے اللہ تعالیٰ کا کیا مطلب ہے ؟ اسی طرح اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے اور تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور یہ نہیں ہے مگر انسانوں کے لیے یاد دہانی“ (مدثر :31)۔۔
اسی طرح سورة بقرہ میں جنت کی نعمتوں کا تمثیلی رنگ میں ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جب اہل جنت کے سامنے جنت کی نعمتیں پیش کی جائیں گی تو وہ خوشی سے پکار اٹھیں گے کہ یہ تو وہی نعمتیں ہیں جن کی ہمیں پہلے قرآن میں سیر کرا دی گئی تھی، قَالُوا هَذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا : وہ پکاریں گے، یہ تو وہی چیز ہے جو ہمیں اس سے پہلے بخشی گئی اور وہ دیے جائیں گے اس سے ملتی جلتی (بقرہ :25)۔ یعنی جنت کی نعمتوں کا ذکر جو تمثیلات و متشابہات کے رنگ میں قرآن میں ہوا ہے اس سے اہل ایمان کو تو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ وہ دنیا میں بیٹھے ہوئے ایک سیر جنت کی کرلیتے ہیں لیکن انہی تمثیلات و متشابہات سے متعلق فتنہ جو یوں اور ضلالت پسندوں کے رویہ کا ذکر قرآن نے ان الفاظ میں کیا ہے ”إِنَّ اللَّهَ لا يَسْتَحْيِي أَنْ يَضْرِبَ مَثَلا مَا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّهِمْ وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَيَقُولُونَ مَاذَا أَرَادَ اللَّهُ بِهَذَا مَثَلا يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلا الْفَاسِقِينَ : اللہ اس بات سے نہیں جھجھکتا کہ کوئی تمثیل بیان کرے خواہ وہ کسی مچھر کی ہو یا اس سے بھی کسی چھوٹی چیز کی، تو جو لوگ ایمان رکھتے ہیں وہ تو جانتے ہیں کہ یہ حق ہے اور ان کے پروردگار ہی کی جانب سے ہے لیکن جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ اس قسم کی تمثیلیں پیش کرنے سے اللہ تعالیٰ نے کیا چاہا ؟ اللہ ان تمثیلوں سے بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور ان سے بہتوں کو راہ یاب کرتا ہے اور ان سے نہیں گمراہ کرتا مگر انہیں لوگوں کو جو خدا کی نافرمانی کرنے والے ہوں“ (بقرہ :26)۔۔ اس تفصیل سے یہ بات معلوم ہوئی کہ آیات متشابہات سے مراد قرآن کی وہ آیتیں ہیں جن میں یا تو آخرت کی نعمتوں اور نقمتوں میں سے کسی نعمت و نقمت کا بیان تمثیلی و تشبیہی رنگ میں ہوا ہے یا خدا کی صفات و افعال میں سے کوئی بات تمثیلی اسلوب میں پیش ہوئی ہے۔ مثلا آدم میں خدا کا اپنی روح پھونکنا یا حضرت عیسیٰ ؑ کو بن باپ کے پیدا کرنا وغیرہ۔ اس طرح کی آیات سے، جیسا کہ اوپر بیان ہوا اہل ایمان کے علم و ایمان میں اضافہ ہوتا ہے لیکن جن کی طبیعتوں میں فتنہ پسندی ہوتی ہے وہ انہی کے اندر موشگافیاں کر کے بہت سے فتنے پیدا کرلیتے ہیں۔ 
تاویل کا مفہوم : 
تاویل کا لفظ بھی اس آیت میں ذرا ایک خاص مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ اس سے یہاں مراد مذکورہا بالا قسم کی کسی بیان کردہ شے کی حقیقت اور اس کی صورت ہے۔ جس مفہوم میں یہ لفظ یہاں استعمال ہوا ہے اسی مفہوم میں سورة یوسف میں استعمال ہوا ہے ”قَالَ يٰٓاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ ۡ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّيْ حَقًّا : اس نے کہا اے میرے باپ، یہ ہے میرے اس خواب کی حقیقت جو میں نے اس سے پہلے دیکھا تھا، میرے پروردگار نے اس کو واقعہ ثابت کر دکھایا“ (یوسف :100)۔ 
محکمات و متشابہات کے بارے میں چند تنبیہات :
 یہاں چند باتیں بطور تنبیہ اور بھی قابل ذکر ہیں۔ ان سے اس راہ کی ساری الجھنیں انشاء اللہ دور ہوجائیں گی۔۔
ایک یہ کہ اس آیت میں اسلوبِ کلام حصر کا نہیں ہے۔ اس وجہ سے یہ نہیں گمان کرنا چاہیے کہ بس قرآن کی آیات دو ہی قسموں، محکمات اور متشابہات، ہی میں تقسیم ہیں۔ یہاں صرف انہی دونوں قسموں کا ذکر متقابل قسموں کی حیثیت سے ہوا ہے اور مقصود ان کے ذکر سے محض فتنہ پسندوں اور ہدایت پسندوں کے اختلافِ ذوق کو نمایاں کرنا ہے کہ جو طبیعتیں فتنہ پسند ہوں ان کی ساری دلچسپی صرف متشابہات سے ہوتی ہے تاکہ ان کے ذوق فتنہ جوئی کے لیے کوئی غذا فراہم ہوسکے۔ برعکس اس کے جو علم و معرفت کے طالب ہوتے ہیں اور جن پر حقیقت پسندی کا رنگ غالب ہوتا ہے ان کی اصلی دلچسپی محکمات سے ہوتی ہے۔ جہاں تک متشابہات کا تعلق ہے ان کا جتنا حصہ ان کی سمجھ میں آتا ہے اس سے وہ فائدہ اٹھاتے ہیں، جو حصہ سمجھ میں نہیں آتا اس کی صورت ہیئت معلوم کرنے کے پیچھے نہیں پڑتے بلکہ اس کو خدا کے حوالے کرتے ہیں۔ 
محکمات کی بدولت چونکہ ان کے قدم علم میں بہت راسخ ہوجاتے ہیں اس وجہ سے اس طرح کی چیزیں ان کو متزلزل نہیں کرتیں۔
 قرآن میں ان دو قسموں کے علاوہ بھی آیات ہیں لیکن مقصود یہاں چونکہ آیات قرآنی کی تمام انواع کا احاطہ نہیں ہے اس وجہ سے ان کے ذکر کی ضرورت نہیں تھی۔ مثلاً قصص قرآن، امثال قرآن، تلمیحات و اشارات۔ یہ چیزیں نہ تو ام الکتاب کے درجے اور مرتبے کی ہیں اور نہ ان کو ان متشابہات کے درجے میں رکھنا صحیح ہے جن کی تاویل میں غور و فکر کرنا ممنوع ہو۔۔ 

دوسری یہ حقیقت یاد رکھنی چاہیے کہ قرآن کی آیات کا محکم و متشابہ ہونا ہرگز بلحاظ الفاظ نہیں ہے بلکہ صرف بلحاظ معنی ہے۔ قرآن، اپنے الفاظ اور اپنی زبان کے اعتبار سے، تمام تر عربی مبین میں ہے۔ الفاظ کی تاویل میں جو اختلافات ہوئے ہیں وہ بالعموم تین اسباب سے ہوئے ہیں۔ یا تو غور و تحقیق میں کوتاہی ہوئی ہے یا کسی غلط عقیدے کی بےجا عصبیت اس کا باعث ہوئی ہے، یا عربی زبان سے ناواقفیت اس کا سبب بنی ہے۔ ظاہر ہے کہ جہاں اس طرح کے کسی سبب سے کوئی الجھن پیدا ہوئی ہو تو اس پر غور و فکر عربی زبان کے معروف و مسلم قواعد و ضوابط کی روشنی میں ہونا چاہیے، یہ ان چیزوں میں سے نہیں ہے جن پر غور وفکر ممنوع ہو۔۔
تیسری بات یہ ہے کہ متشابہات ہوں یا محکمات، قرآن میں یہ دونوں قسمیں ممیز اور معلوم ہیں۔ یہ بات نہیں ہے، جیسا کہ بعض متکلمین نے گمان کیا ہے کہ یہ دونوں غیر ممیز ہیں اور نہ یہ بات ہے کہ الفاظ کی اپنے معانی پر دلالت کوئی مشتبہ اور مشکوک چیز ہے۔ جن لوگوں نے ایسا سمجھا ہے انہوں نے بالکل غلط سمجاھ ہے۔ ان میں سے پہلی بات تو صریحاً غلط ہے اور دوسری بات نہایت مبہم ہے جو سرے سے قرآن ہی سے مایوس کردینے والی ہے حالانکہ قرآن کو اللہ تعالیٰ نے نور وبرہان بنا کر اتارا ہے، جو باتیں عالم غیب سے تعلق رکھنے والی ہیں ان کے متعلق خدا نے ہماری ضرورت کے حد تک خبر دے دی ہے، اس کا جو حصہ ہم سے محجوب رکھا گیا ہے بس اس کی تاویل پردہ خفا میں ہے۔۔ چوتھی یہ کہ قرآن نے یہاں محکم اور متشابہ کا ایک خاص مفہوم مراد لیا ہے جو ان کے لغوی مفہوم سے ایک حد تک الگ ہے۔ بعض دوسرے مقامات میں بھی قرآن میں یہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں جہاں ان کے لغوی مفہوم مراد ہیں۔ مثلا محکم سے مراد وہ کلام ہے جو جامع، واضح اور موجز ہو۔ اس صورت میں اس کا مقابل لفظ مفصل آتا ہے۔ مثلاً ”كِتَابٌ أُحْكِمَتْ آيَاتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ : یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیات پہلے محکم کی گئیں، پھر ان کی تفصیل کی گئی خدائے حکیم وخبیر کی طرف سے“ (ھود :1)۔ سنت الٰہی یہ رہی ہے کہ شروع شروع میں اللہ تعالیٰ نے اپنی تعلیمات و ہدایات قول محکم کی شکل میں اتاریں تاکہ وہ ذہن و حافظے میں اچھی طرح راسخ ہوسکیں اور دل و زبان دونوں کے لیے وہ ہلکی پھلکی محسوس ہوں پھر بعد میں اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے سے یا نبی ﷺ کی سنت کے ذریعے سے ان کی تفصیل فرما دی۔ اسی طرح متشابہ کا ایک عام مفہوم بھی ہے وہ یہ کہ ایک دوسری سے ملتی جلتی ہم آہنگ و ہم رنگ چیز اپنے اس مفہوم کے اعتبار سے پورا قرآن مشابہ ہے۔ چناچہ اسی پہلو سے قرآن کو متشابہ کہا گیا ہے ”كِتَابًا مُتَشَابِهًا مَثَانِيَ“ (زمر :23)۔۔ پانچویں یہ کہ جس طرح قرآن محکمات و متشابہات دونوں ہی قسم کی آیات پر مشتمل ہے اسی طرح عالم انفس اور عالم آفاق میں جو نشانیاں ہیں وہ بھی محکمات و متشابہات دونوں ہی پر مشتمل ہیں۔ ان کے باب میں بھی ارباب علم اور اہل زیغ کا رویہ وہی ہوتا ہے جو اوپر مذکورہوا جن کے ذہن و فکر میں پختگی ہوتی ہے وہ محکمات سے اطمینان و یقین حاصل کرتے ہیں اور متشابہات سے شبہات وشکوک میں گرفتار ہونے کے بجائے ان کو خدا کے علم و حکمت کے حوالے کرتے ہیں اور اپنے علم کی کوتاہی کا اقرار کرتے ہیں۔ برعکس اس کے جن کے دلوں میں کجی ہوتی ہے وہ ان متشابہات کو اپنی اور دوسروں کی گمراہی کا ذریعہ بناتے ہیں۔ اس مسئلے پر مفصل بحث انشاء اللہ ہم سورة کہف کی تفسیر کریں گے۔ غزوہ احد کے واقعہ کو بھی، جیسا کہ ہم تمہیدی بحث میں اشارہ کرچکے ہیں، ایک متشابہ واقعہ کی نوعیت حاصل ہے، چناچہ اس جنگ کے بعد اس عظیم آیت کا اترنا اس کائنات کی ایک بہت بڑی حقیقت سے پردہ اٹھانے کے لیے تھا۔ ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں کہ جس طرح غزوہ بدر حق و باطل کے درمیان ایک یوم فرقان تھا جس سے اہل ایمان کے قلوب اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر مطمئن ہوئے اور اس نے ایک آیت محکم بن کر اہل کفر پر اللہ تعالیٰ کی حجت پوری کردی اسی طرح غزوہ احد کی حیثیت ایک آیت متشابہ کی ہے اس لیے کہ اس میں بظاہر باطل کو حق پر غلبہ حاصل ہوا جس سے کفار کو یہ گمان ہوا کہ جنگ میں کامیابی و ناکامی کا تعلق صرف تدابیر اور اسباب و وسائل ہی سے ہے، اس میں نہ خدا کو کوئی دخل ہے اور نہ اس کا کوئی تعلق حق اور باطل سے ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک شدید قسم کی غلط فہمی تھی، جس کا دور ہونا نہایت ضروری تھا چناچہ جب اس کے دور کرنے لیے مناسب وقت آگیا تو اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں یہ دور فرمائی اور یہ اس سلسلے کی ایک عظیم آیت ہے۔ 
زیغ کی حقیقت :
 اس آیت میں ’ زیغ ‘ کا جو لفظ آیا ہے مختصراً اس کی حقیقت بھی سمجھ لینی چاہیے۔ زیغ کے اصل معنی میل یعنی جھکنے اور مائل ہونے کے ہیں۔ یہ لفظ بیک وقت دو مفہوموں کا حامل ہے، ایک کجی، اور دوسرے سقوط، کوئی چیز جو کھڑی ہو جب جھک جاتی ہے تو گرنے سے قریب ہوجاتی ہے۔ یہ حالت اس رسوخ کے برعکس حالت ہے جو اس آیت میں الرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ کی بیان ہوئی ہے۔ یہ زیغ یوں تو اہل ضلالت کی عام بیماری ہے لیکن اہل کتاب اس مرض میں سب سے زیادہ شدت کے ساتھ مبتلا رہے ہیں۔ یہود کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ شروع ہی سے اس بیماری میں مبتلا رہے۔ اور ان کے زیغ کا یہ پہلو خاص طور پر نہایت سنگین ہے کہ وہ اپنے پیغمبر کی موجودگی میں اس میں مبتلا رہے۔ چناچہ یہی وجہ ہے کہ وہ اس کے سبب سے خدا کے غضب میں مبتلا ہوئے۔ قرآن میں اس بات کا ذکر ہوا ہے۔ سورة صف میں اس کا ذکر اس طرح ہے ”وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ لِمَ تُؤْذُونَنِي وَقَدْ تَعْلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ وَاللَّهُ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ : اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! تم مجھے کیوں دکھ پہنچا رہے ہو جب کہ تم اچھی طرح یہ جان چکے ہو کہ میں تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ پس جب وہ کج ہوگئے تو خدا نے بھی ان کے دل کج کردیے اور اللہ بد عہدوں کو ہدایت نہیں بخشتا“ (صف :5)۔۔ یہی یہود ہیں جنہوں نے کلمۃ اللہ اور اس قسم کے بعض دوسرے الفاظ کی حقیقت کی تشریح میں فلسفیانہ قسم کی موشگافیاں پیدا کر کے ان کو ایک گورکھ دھندا بنایا جس سے نصاری کے لیے گمراہی کی راہیں کھلیں اور وہ حضرت مسیح کی الوہیت کے عقیدے میں مبتلا ہوئے۔ بعد میں نصاری کی اس گمراہی پر مزید اضافہ بت پرست قوموں کی تقلید سے ہوا اور پھر آہستہ آہستہ وہ حق سے اتنے دور ہوگئے کہ اس سے ان کا رشتہ ہی منقطع ہوگیا اور وہ صریح کفر میں مبتلا ہوگئے۔ چناچہ قرآن نے ان کے بارے میں یہ تصریح فرمائی ہے کہ ”لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ : ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے یہ کہا کہ اللہ تو وہی مسیح ابن مریم ہے“ (مائدہ :72)۔۔
یہود و نصاریٰ کی گمراہی میں فرق : 
یہود اور نصاری کی گمراہی کی نوعیت میں بس یہ فرق ہے کہ یہود کی گمراہی اصلاً عملی ہے اور نصاری کی اعتقادی۔ اس فرق کی وجہ سے حق کی مخالفت میں ان کا رویہ بھی ایک دوسرے سے مختلف رہا۔ یہود تو قرآن کو حق جاننے کے باوجود اس کی مخالفت کرتے تھے
 نصاری جس طرح تورات اور انجیل کے متشابہات میں پڑنے کی وجہ سے گمراہ ہوئے تھے اسی طرح قرآن میں بھی ان کی ساری دلچسپی بس متشابہات ہی سے تھی۔ انہی میں موشگافیاں کر کے وہ طرح طرح کے فتنے پیدا کرتے اور اس طرح اپنی گمراہی کا بھی سامان کرتے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے۔
قرآن کے محکمات سے نہ انہوں نے خود دلچسپی لی اور نہ ان لوگوں کو دلچسپی لینے دی جن پر ان کا بس چلا الغرض قلب و نظر کے زیغ اور متشابہات کی پیروی کے باب میں تھے تو یہود و نصاری دونوں ایک ہی سطح پر، یہ بیماری ان میں مشترک تھی لیکن ان کے ذوقی رجحانات ذرا الگ الگ تھے۔ 
یہود ابتغاء فتنہ سے زیادہ رغبت رکھتے تھے اور نصاری ابتغائے تاویل سے۔ 
یہ گمراہیاں چونکہ دنیا کے تمام گمراہوں میں مشترک ہیں اس وجہ سے قرآن نے اسلوب بیان عام ہی رکھا ہے تاکہ کلام میں وسعت پیدا ہوسکے، یہود و نصاریٰ کی تخصیص نہیں کی۔ لیکن قرآن کا ذوق رکھنے والے جانتے ہیں کہ اشارہ انہی کی طرف ہے۔ یہی انداز سورة فاتحہ میں بھی ہے۔ اس میں بھی مغضوب علیہم اور ضالین کے الفاظ ہرچند عام ہیں اور ان کے عام ہونے کی وجہ سے ان میں بڑی وسعت پیدا ہوگئی ہے لیکن ان کا خاص اشارہ یہود و نصاری کی طرف ہے۔ 
متشابہات سے گمراہی کی ایک مثال :
 متشابہات کی پیروی کی وجہ سے نصاری جس قسم کی گمراہیوں میں مبتلا ہوئے اس کو ایک مثال سے واضح کرنا مفید رہے گا۔۔ قرآن اور انجیل دونوں اس امر میں باہم متفق ہیں کہ حضرت مسیح کلمۃ اللہ ہیں۔ کلمۃ اللہ کا مفہوم بالک واضح ہے کہ اس سے امر و حکم کی تعبیر کی جاتی ہے۔ حضرت مسیح ؑ کی پیدائش چونکہ فطرت کے عام ضابطے کے خلاف ہوئی تھی اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے کلمہ سے تعبیر کیا یعنی ان کی ولادت اللہ تعالیٰ کے کلمہ ’ کن ‘ کہنے سے ہوئی ہے، یہ اس حقیقت کا اظہار تھا کہ اص شے کسی چیز کے واقع ہونے کے لیے اللہ تعالیٰ کا حکم ہی ہے۔ اسباب محض ظاہر کا پردہ ہیں۔ یہ بات قرآن میں نہایت وضاحت سے بیان ہوئی ہے اور اس میں کسی قسم کا ایچ پیچ نہیں ہے جس سے کسی صاف ذہن کے آدمی کے اندر کوئی الجھن پیدا ہوسکے۔ قرآن نے نہایت غیر مبہم الفاظ میں فرمایا ہے ”مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ : بیشک عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک ایس ہے جیسی آدم کی، آدم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر اس سے کہا کہ ہوجا بس وہ ہوگیا“ (آل عمران : 59)۔ یعنی آدم کو کلمہ کن کے ذریعے سے حی و ناطق بنایا۔ اسی چیز کو دوسری جگہ نفخ روح سے تعبیر فرمایا ہے۔ بعینہ یہی معاملہ حضرت عیسیٰ ؑ کا ہے۔
 نصاری نے اس واضح بات میں جو تحریف کی اس کی صورت یہ ہوئی کہ جب ان کو بت پرست قوموں سے سابقہ پیش آیا اور ان کے ساتھ ان کی مذہبی بحثیں شروع ہوئیں تو انہوں نے ان پر یہ اعتراض شروع کیا کہ تم تو ایک مصلوب خدا کی پرستش کرتے ہو، ہم تم سے ہزار درجے افضل ہیں اس لیے کہ ہم آسمانی دیوتاؤں کی پر تستش کرتے ہیں۔ نصاری نے اپنے حریفوں کے اس اعتراض سے بچنے کے لیے یہ کوشش کی کہ اپنے عقیدے کو بھی انہی کے عقیدے کے سانچے میں ڈھال دیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے یہ دعوی کیا کہ مسیح تو ابن اللہ ہیں، وہ مخلوق نہیں ہیں۔ اپنے اس نئے عقیدے کی آرائش میں انہوں نے ایک طرف تو یونانیوں، مجوسیوں اور ہندوؤں کے فکر و فلسفہ سے مواد لیا اور دوسرے ان یہودی متکلمین کے علم کلام سے رہنمائی حاصل کی جو یہود کے آخری دور کی پیداوار تھے اور جو نہ صرف خالق اور مخلوق کے درمیان وسائل و وسائط کے قائل تھے بلکہ ان کو مستقل ذوات کا درجہ دیتے اور ان کو کلمۃ اللہ کہتے تھے۔ نصاری نے بعینہ یہی عقیدہ حضرت عیسیٰ ؑ کے لیے اختیار کرلیا۔ کچھ عرصے تک تو بات اسی حد تک رہی لیکن آہستہ آہستہ گمراہی سے گمراہی پیدا ہونی شروع ہوئی اور انہوں نے ان کو خدا کا کفو، اسی کے جوہر سے اور ازل سے اس کے ساتھ قرار دے دیا۔ اور پھر اس عقیدے کی تائید کے لیے انجیل یوحنا کے آغاز میں تحریف کے چور دروازے سے بعض عبارتیں بھی داخل کردیں تاکہ باہر سے بر آمد کیے ہوئے اس عقیدے کے لیے گھر کی ایک دلیل بھی فراہم ہوجائے۔ 
وَمَا یعلم الایۃ پر وقف ہے : وَمَا يَعْلَمُ تَاْوِيْلَهٗٓ اِلَّا اللّٰهُ (اور اس کی اصل حقیقت نہیں جانتا مگر اللہ): اوپر کی تفصیلات سے یہ بات آپ سے آپ واضح ہوگئی کہ یہاں وقف ہے۔ یہی مذہب جمہور اہل سنت کا ہے اور یہی حضرت ابن عباس، حضرت عائشہ، حضرت علی، حضرت حسن، مالک بن انس، کسائی اور فرا سے منقول ہے۔ البتہ شیعہ اور بعض متکلمین یہاں وصل کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک متشابہات کی تاویل اللہ تعالیٰ کے سوا راسخین فی العلم بھی جانتے ہیں۔ اس کی وجہ جہاں تک شیعوں کا تعلق ہے، وہ تو یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے اماموں کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان کو ہر بات کا علم ہوتا ہے۔ رہے دوسرے لوگ جو اس بات کے قائل ہوئے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ تاویل سے مراد معنی لیتے ہیں حالانکہ آیت کا سیاق وسباق اس کے خلاف ہے۔ اوپر اس کی وضاحت ہوچکی ہے۔ اگرچہ آیت کے الفاظ اور اس کے مختلف اجزا کی اس وضاحت کے بعد آیت کی صحیح تاویل خود بخود سامنے آگئی ہے لیکن اس کی اہمیت کے پیش نظر مزید اطمینان کے لیے ہم اس کا واضح مفہوم بھی یش کیے دیتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہی خدا جو عزیز بھی ہے اور حکیم بھی، جو زندہ بھی اور قیوم بھی، اسی نے تورات اور انجیل اتاریں، پھر جب ان میں گھپلا کردیا گیا تو اس کی حکمت اور قیومیت مقتضی ہوئی کہ یہ قرآن اتارے تاکہ اس کے ذریعے سے حق و باطل میں امتیاز ہوسکے تو جو لوگ اس کی مزاحمت کریں گے وہ یاد رکھیں کہ خدائے عزیز حق کو مظلوم نہیں چھوڑے گا، وہ اس کا ضرور انتقام لے گا۔ اس کے بعد اس بات کی وضاحت فرمائی کہ اہل کتاب جو اس فرقان کی مخالفت کر رہے ہیں تو اس کی اصل وجہ یہ نہیں ہے کہ فی نفسہ اس کتاب میں کوئی بات ایسی ہے جو ان کی وحشت کا باعث ہو رہی ہے بلکہ اس کی اصلی وجہ یہ ہے کہ ان کے اپنے دلوں میں کجی ہے۔ اس کجی کے سبب سے ان کو اس کتاب کے محکمات سے، جن کی حیثیت اصل کتاب کی ہے اور جن پر اس کی تمام تعلیمات اور اس کے سارے حکمت و فلسفہ کی بنیاد ہے، کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ انہیں اگر دلچسپی ہے تو بس اس کی ان آیات متشابہات سے ہے جن میں کوئی بات تمثیلی و تشبیہی رنگ میں بتائی گئی ہے۔ وہ اپنی طبیعت کے بگاڑ کے سبب سے انہی کے درپے ہوتے ہیں اور فساد انگیزی اور فتنہ آرائی کے لیے ان کی صورت و حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ ان کی اصل حقیقت اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ جس حد تک ان کا علم ضروری ہے وہ خدا نے کھول دیا ہے، بس اتنے پر قناعت کرنی چاہیے، ان کی اصل حقیقت کا معاملہ اللہ کے حوالہ کرنا چاہیے، وہ اس دن کھلیں گی جس دن وہ سامنے آئیں گی، جو لوگ علم میں راسخ ہیں ان کی روش متشابہات کے معاملے میں یہی ہے۔ وہ محکمات اور متشابہات دونوں کو اپنے رب ہی کا عطیہ سمجھتے ہیں اور دونوں پر یکساں ایمان رکھتے ہیں۔ وہ اپنے علم کی پختگی کی وجہ سے اس رمز سے واقف ہیں کہ آیات الٰہی کا مقصود بندوں کو یاد دہانی ہے اور چونکہ وہ عقل رکھتے ہیں اس وجہ سے ان سے جو فائدہ اٹھانا چاہیے وہ فائدہ اٹھاتے ہیں، کسی سعی نامراد و لا طائل میں اپنا وقت برباد کر کے اپنے خسران کے اسباب نہیں فراہم کرتے، اللہ تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ اس کی آیات سے فائدہ وہی لوگ اٹھاتے ہیں جو عقل رکھتے ہیں اور اس عقل سے صحیح طور پر کام لیتے ہیں۔ 

_____

🌹🌹🌹
🔰 Quran Subjects  🔰 قرآن مضامین 🔰
"اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا" [ الفرقان 25  آیت: 30]
The messenger said, "My Lord, my people have deserted this Quran." (Quran 25:30)
~~~~~~~~~

Popular Books