Skip to main content

خلاصہ قرآن و منتخب آیات - پارہ # 30


تیسویں پار سورة النبإ (78) سورہ الناس  (114) تک  36 سورہ پر مشتمل ہے،  پارے کا آغاز سورة النبإ سے ہوتا ہے-
 سورة النبإ میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کی گھڑیوں کا ذکر کیا ہے کہ قیامت کی آمد ایک بہت بڑی خبر ہو گی‘ اس کی آمد سے قبل بہت سے لوگوں کو اس کے ہونے کے بارے میں شبہات اور اختلافات تھے ۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے جہنمیوں کی سزا کا بھی ذکر کیا کہ وہ کس طرح صد ہاہزار سال جہنم کی قید میں پڑے رہیں گے ۔
سورہ نازعات میں پروردگار عالم ارشاد فرماتے ہیں‘ جو اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا اور اس نے اپنے آپ کو نفسانی خواہشات سے بچالیا تواس کا ٹھکانہ جنت ہے۔ 
سورہ عبس میں ا للہ تعالیٰ نے قیامت کی گھڑیوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ جب قیامت کا د ن آئے گا بھائی اپنے بھائی سے‘ بیٹا اپنے والدین سے اور بیوی اپنے شوہر سے بھاگے گی اور والدین اپنے بیٹے سے بھاگیں گے۔ ہر کسی کی خواہش ہو گی کہ وہ آگ سے کسی بھی طور پر بچ جائے‘ چاہے اس کے بدلے کسی دوسرے کو پکڑ لیا جائے۔ 
سورہ تکویرمیں اللہ تعالیٰ نے قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرمایا ہے کہ قرآن مجید کل کائنات کے ان لوگوں کے لیے نصیحت ہے ‘جو صراط مستقیم پر چلنا چاہتے ہیں۔ 
سورہ انفطار میں اللہ تعالیٰ نے جہاں قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر کیا‘ وہیں دنیا میں انسانوں کے حساب کتاب کو نوٹ کرنے والے فرشتوں کا بھی ذکر کیا‘ جن کو کراماًکاتبین کہا جاتا ہے ۔کراماً کاتبین انسانوں کے عمل کو نوٹ کرتے ہیں اور یہی اعمال نامہ قیامت کے دن انسانوں کو پیش کیا جائے گا ۔
سورہ مطففین میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر کیا ہے‘ جو اپنے حق میں تو ترازو کو پوری طرح استعمال کرتے ہیں‘ لیکن دوسروں کے لیے ترازو میں کمی کرتے ہیں۔ قیامت کے دن ایسے لوگوں کو تباہی اور بربادی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 
سورہ انشقاق میں اللہ تعالیٰ نے بتلایا ہے کہ انسان محنت و مشقت کا خوگر ہے اور اس کو چاہیے کہ اپنے پروردگار کے لیے محنت کرے‘ جس سے اس نے ملاقات کرنی ہے؛ اگر انسان اپنے پروردگار کے لیے محنت کرے گا تو اس کو آسان حساب کا سامنا کرنا پڑے گا‘-
سورہ بروج میں اللہ تعالیٰ نے اصحاب اخدود کی بستی کاذکر کیا کہ جنہیں ایمان لانے کی پاداش میں انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔ اہل ایمان نے اس سزا کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا‘ لیکن دعوت توحید سے دستبردار ہونا گوارا نہیں کیا۔ 
سورہ طارق میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ کس طرح انسان کو پانی کے معمولی قطرے سے اللہ تعالیٰ نے تخلیق کیا اور جو اللہ تعالیٰ انسان کو پانی کے معمولی قطرے سے پیدا کر سکتا ہے‘ وہ انسان کو اس کی موت کے بعد آسانی سے زندہ بھی کر سکتا ہے ‘اس لیے انسان کو اپنی حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔
سورۃ الاعلیٰ میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ لوگوں کی نگاہ دنیا کی زندگی پر ہوتی ہے‘ لیکن حقیقی اور باقی رہنے والی زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔ 
سورة الغاشية میں آخرت کے حالات کا بیان ہے-
سورہ فجر میں اللہ تعالیٰ نے سابق اقوام کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ جب قیامت کا دن آئے گا تو اللہ تعالیٰ مومن کو مخاطب ہو کر کہیں گے‘ اے نفس مطمئنہ! اپنے پروردگار کی طرف راضی ہو کر پلٹ جا اور میرے بندوں اور میری جنت میں داخل ہو جا۔ 
سورۃ البلد میں اللہ تعالیٰ نے انسان پر اپنے انعامات کا ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو دو آنکھیں‘زبان اور دوہونٹ عطا فرمائے اور اس کی رہنمائی دو راستوں (ہدایت اور گمراہی) کی طرف کی ہے۔ اب اس کی مرضی ہے کہ وہ کس راستے کا انتخاب کرتا ہے ‘جو صحیح راستے پر چلے گا ‘جنت میں جائے گا اور جو غلط راستہ اختیار کرے گا‘ وہ جہنمی ہو گا۔ اس کے  سورہ شمس میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نفس کو تخلیق کیا اور ا س میں نیکی اور برائی کی سمجھ کو الہام کر دیا تو جو اپنے نفس کو نیکی کے راستے پر چلائے گا وہ جنتی ہوگا اور جو اپنے نفس کو آلودہ کرے گا وہ تباہ و برباد ہو جائے گا۔
سورۃ الیل میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں‘ جس نے صدقہ دیا اور نیکی کی تائید کی‘ اس کے لیے اللہ تعالیٰ جنت کی راہ آسان کر دیں گے۔ جس نے بخل کیا اور اچھی بات کی تکذیب کی اللہ تعالی اس کے لیے مشکل راستے‘ یعنی جہنم کے راستے کو ہموار کردیں گے۔
سورہ ضحیٰ میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کی تلقین کی ہے کہ پروردگار کی نعمتوں کا اعتراف کرنا چاہیے اوران کا اظہاربھی کرنا چاہیے
سورہ الم نشرح میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہر تنگی کے بعد آسانی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس امر کا بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے رسو ل اکرم ﷺ کے تذکروں کو بلند کر دیا ہے۔ 
سورة التين میں انسان کی ساخت بلندی پستی  سزاو جزا کا تذکرہ ہے-
سورہ علق میں اللہ تعالیٰ نے حبیبﷺ کو پروردگار کے نا م سے پڑھنے کا حکم دیا کہ اس نے انسان کو سکھا یا جو کہ وہ نہیں جانتا تھا
سورہ قدر میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کو قدر والی رات میں نازل کیا اور قدر والی رات ہزار مہینوں سے زیادہ فضیلت کی حامل ہے۔ 
سورة البينة  اہل کتاب اور مشرکین میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ یقیناً جہنم کی آگ میں جائیں گے اور ہمیشہ اس میں رہیں گے، یہ لوگ بد ترین خلائق ہیں -جو لوگ ایمان لے آئے اور جنہوں نے نیک عمل کیے، وہ یقیناً بہترین خلائق ہیں-
سورة الزلزلة  میں قیامت کا تذکرہ ہے جب مین اپنے اندر کے سارے بوجھ نکال کر باہر ڈال دے گی , اُس روز وہ اپنے اوپر گزرے ہوئے حالات بیان کرے گی- اُس روز لوگ متفرق حالت میں پلٹیں گے تاکہ اُن کے اعمال اُن کو دکھائے جائیں- پھر جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا , اور جس نے ذرہ برابر بدی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا-
سورة العاديات : انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے اور وہ مال و دولت کی محبت میں بری طرح مبتلا ہے تو کیا وہ اُس حقیقت کو نہیں جانتا جب قبروں میں جو کچھ مدفون ہے اُسے نکال لیا جائے گا اور حساب کتاب گا-
سورة القارعة : اس  سورہ کا موضوع ہے قیامت اور آخرت۔ سب سے پہلے لوگوں کو یہ کہہ کر چَونکا یا گیا ہے کہ عظیم حادثہ ! کیا ہے وہ عظیم حادثہ؟ تم کیا جانو کہ وہ عظیم حادثہ کیا ہے؟ اِس طرح سامعین کو کسی ہولناک واقعہ کے پیش آنے کی خبر سننے کے لیے تیار کرنے کے بعد دو فقروں میں ان کے سامنے قیامت کا نقشہ پیش کر دیا گیا ہے کہ اُس روز لوگ گھبراہٹ کے عالم میں اِس طرح ہر طرف بھاگے بھاگے پھر یں گے جیسے روشنی پر آنے والے پروانے بِکھرے ہوئے ہوتے ہیں، اور پہاڑوں کا حال یہ ہو گا کہ وہ اپنی جگہ سے اکھڑ جائیں گے ، ان کی بندش ختم ہو جائے گی اور وہ دُھنکے ہوئے اون کی طرح ہو کر رہ جائیں گے۔ پھر بتایا گیا ہے کہ آخرت میں جب لوگوں کا حساب کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی  عدالت قائم ہو گی تو اُس میں فیصلہ اِس بنیاد پر ہو گا کہ کس شخص کوے نیک اعمال بُرے اعمال سے زیادہ وزنی ہیں ، اور کس کے نیک اعمال کا وزن اس کے بُرے اعمال کی بہ نسبت ہلکا ہے۔ پہلی قسم کے لوگوں کو وہ عیش نصیب  ہوگا  جس سے وہ خوش ہو جائیں گے ، اور دوسری قسم کے لوگوں کو اُس گہری کھائی میں پھینک دیا جائے گا جو آگ سے بھری ہوئی ہو گی۔ [تفہیم القرآن ]
سورة التكاثر :  اِس سورہ میں لوگوں کو اُس دنیا پرستی کے برے انجام سے خبردار کیا گیا ہے  جس کی وجہ سے وہ مرتے دم تک زیادہ سے زیادہ مال و دولت، اور دنیوی فائدے اور لذّتیں اور جوہ و اقتدار حاصل کرنے اور اُس میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے ، اور انہی چیزوں کے حصول پر فخر کرنے میں لگے رہتے ہیں ،اور اِس ایک فکر نے اُن کو اس قدر منہمک کر رکھا ہے کہ انہیں اس سے بالاتر کسی چیز کی طرف توجہ کرنے کا ہوش ہی نہیں ہے۔ اِس کے برے انجام پر متنبہ کرنے کے بعد لوگوں کو یہ بتایا گیا ہے کہ یہ نعمتیں جن کو تم یہاں بے فکری کے ساتھ سمیٹ رہے ہو، یہ محض نعمتیں ہی نہیں ہیں بلکہ تمہاری آزمائش کا سامان بھی ہیں۔ ان میں سے ہر نعمت کے بارے میں تم کو آخرت میں جواب دہی کرنی ہو گی۔  [تفہیم القرآن ]
سورہ العصر میں اللہ تعالیٰ نے زمانے کی قسم اٹھا کر انسان کو ناکام کہا ہے کہ ہر انسان نا کام ہے سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے ایمان اور عمل صالح کو اختیار کیا اور حق بات اور صبر کی تلقین کرتے رہے۔ 
سورہ عصر جامع اور مختصر کلام کا بے نظیر نمونہ ہے۔ اِس کے اندر چند جَچے تُلے الفاظ میں معنی کی ایک دُنیا بھر دی گئی ہے جس کو بیان کرنے کا حق ایک پوری کتاب میں بھی مشکل سے ادا کیا جا سکتا ہے۔ اس میں بالکل دوٹوک طریقہ سے بتا دیا گیا ہے کہ انسان کی فلاح کا راستہ کون سا ہے اور اس کی تباہی و بربادی کا راستہ کون سا۔ امام شافعی بہت صحیح کہا ہے کہ  اگر لوگ اِس سورۃ پر غور کریں تو  یہی ان کی ہدایت کے لیے کافی ہے۔ صحابہء کرام کی نگاہ میں اس کی اہمیت کیا تھی، اُس کا اندازہ اِ س بات سے کیا جا سکتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن حِصْن الدّارِمی ابومدینہ کی روایت کے مطابق  اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  میں سے جب دو آدمی ایک دوسرے سے ملتے تو اُس وقت تک جدا نہ ہوتے جب تک ایک دوسرے کو سُورۃ عصر نہ سُنا لیتے(طَبَرانی)۔ [تفہیم القرآن ]
سورة الهمزة: اِس میں چند ایسی  اخلاقی برائیوں کی مذمت کی گئی ہے جو جاہلیت کے معاشرے میں زرپرست مالداروں کے اندر پائی جاتی تھیں، جنہیں ہر عرب جانتا تھا کہ یہ برائیاں فی الواقع اُس کے معاشرے میں موجود ہیں، اور جن کو سب ہی برا سمجھتے تھے ، کسی کا بھی یہ خیال نہ تھا کہ یہ کوئی خوبیاں ہیں۔ اِس گھناؤنے کردار کو پیش کرنے کے بعد یہ بتایا گیا ہے کہ آخرت میں اُن لوگوں کا کیا انجام ہو گا جن کا یہ کردار ہے۔ یہ دونوں باتیں (یعنی ایک طرف یہ کردار اور دوسری طرف آخرت میں اُس کا یہ انجام) ایسے انداز سے بیان کی گئی ہیں  جس سے سامع کا ذہن خود بخود اِس نتیجے پر پہنچ جائے کہ اِس طرح کے کردار کا یہی انجام ہونا چاہیے ، اور چونکہ دنیا میں ایسے کردار  والوں کو کوئی سزا نہیں ملتی، بلکہ وہ پھلتے پھولتے ہی نظر آتے ہیں، اس لیے آخرت کا برپا ہونا قطعی ناگزیر  ہے۔  [تفہیم القرآن ]
سورة الفيل: :  سورۂ فیل پرغور کیا جائے تو یہ بات چھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے کہ اِس سورۂ میں اِس قدر اختصار کے ساتھ صرف اصحاب الفیل پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا ذکر کر دینے پر کیوں اکتفا کیا گیاہے۔ 
تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟ (1) کیا اُس نے اُن کی تدبیر کو اکارت نہیں کر دیا؟ (2) اور اُن پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیے (3) جو اُن پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر پھینک رہے تھے (4) پھر اُن کا یہ حال کر دیا جیسے جانوروں کا کھایا ہوا بھوسا (5)
واقعہ کچھ بہت پرانا نہ تھا ۔ مکّے کا بچہ بچہ اس کو جانتا تھا۔ عرب کے لوگ عام طور پر اس سے واقف تھے۔ تمام اہلِ عرب اِس بات کے قائل تھے کہ ابرھہ کے اِس حملے سے کعبے کی حفاظت کسی دیوی یا دیوتا نے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے کی تھی۔ اللہ ہی سے قریش کے سرداروں نے مدد  کے لیے دعائیں مانگی تھیں۔ اور چند سال تک قریش کے لوگ اِس واقعہ سے اس قدر متأثر  رہے تھے کہ اُنہوں نے  اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کی تھی۔ اس لیے سورۂ فیل میں اِن تفصیلات کے ذکر کی حاجت نہ تھی، بلکہ صرف اس واقعے کو یاد دلانا کافی تھا ، تاکہ قریش کے لوگ خصوصًا ، اور اہلِ عرب عمومًا، اپنے دلوں میں اس بات پر غور کریں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جس چیز کی طرف دعوت دے رہےہیں وہ آخر اِس کے سوا اور کیا  ہے کہ تمام دوسرے معبودوں کو چھوڑ کر صرف اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کی جائے ۔ نیز وہ یہ بھی سوچ لیں کہ اگر اِس دعوتِ حق کو دبانے کے لیے اُنہوں نے زور زبردستی سے کام لیا تو جس خدا نے اصحاب الفیل کا تہس نہس کیا تھا اسی کے غضب میں وہ گرفتار ہوں گے۔  [تفہیم القرآن ]
سورة قريش: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بِعثت کے زمانہ میں یہ حالات چونکہ سب ہی کو معلوم تھے ، اِس لیے اُن کے ذکر کی حاجت نہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اِس سورۃ کے چار مختضر فقروں میں قریش سے صرف اِتنی بات کہنے پر اکتفا کیا گیا کہ جب تم خود اِس گھر (خانہ ٔ کعبہ) کو بُتوں کا نہیں بلکہ اللہ کا گھر مانتے ہو، اور جب تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں اِس گھر کےطفیل یہ امن عطا کیا ، تمہاری تجارتوں کو یہ فروغ بخشا، اور تمہیں فاقہ زدگی سے بچا کر یہ خوشحالی نصیب فرمائی، تو تمہیں اُسی کی عبادت کرنی چاہیے۔  [تفہیم القرآن ]
سورة الماعون: آخرت پر ایمان نہ لانا انسان کے اندر  کس قسم کے ا خلاق پیدا کرتا ہے۔ اُن  کفار کی حالت بیان کی گئی ہے جو عَلانیہ آخرت کو جھٹلاتے ہیں۔ اور اُن منافقین کا حال بیان کیا گیا ہے جو بظاہر مسلمان ہیں ، مگر دل میں آخرت اور اُس کی جزا و سزا اور اُس کے ثواب و عِقاب کا  کوئی تصور نہیں رکھتے۔ مجموعی طور پر دونوں قسم کے گروہوں کے طرزِ عمل کو بیان کرنے سے مقصود یہ حقیقت  لوگوں کے ذہن نشین کرنا ہے کہ انسان کے اندر ایک مضبوط اور مستحکم پاکیزہ کردار عقیدۂ آخرت کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتا۔   [تفہیم القرآن ]
سورۃ الکوثرمیں اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم ﷺ کو حوض ِکوثر کی بشارت دی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی بتلایا ہے کہ آپ کا دشمن بے نام و نشان رہے گا۔ان کے بعد تین قل ہیں‘ جن میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی پناہ طلب کرنے کا ذکر کیا گیا ہے ۔ 
سورة الکافرون:  کفّار  کے دین اور اُن کی پوجا پاٹ اور اُن کے معبودوں سے قطعی براءت ، بیزاری اور لاتعلقی کا اعلان کر دیا جائے اور اُنہیں بتا دیا جائے کہ دینِ کفر اور دینِ اسلام ایک دوسرے سے بالکل الگ ہیں، اُن کے باہم مل جانے کا سرے سے کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ صدیوں بعد آج بھی مسلمان اس کو پڑھتے ہیں کیونکہ کفر اور کافری سے بیزاری و لاتعلقی  ایمان کا دائمی تقاضا ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ میں نے بار ہا حضورؐ کو فجر کی نماز سے پہلے اور مغرب کی نماز کے بعد کی دورکعتوں میں قُلْ یٰٓااَیُّھَا الْکٰفِرُوْنََ اور  قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَد پڑھتے دیکھا ہے۔(اِس مضمون کی متعدد روایات کچھ لفظی اختلافات کے ساتھ امام احمد، تِرْمذی، نَسائی، ابن ماجہ، ابن حِبّان اور ابن مَردویَہ نے ابن عمرؓ سے نقل کی ہیں)۔
حضرت خَبّاب ؓ کہتے ہیں کہ نبی   صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ جب تم سونے کے لیے اپنے بستر  پر لیٹو تو قُلْ یٰٓااَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ پڑھ لیا کرو، اور حضورؐ کا خود بھی یہ طریقہ تھا کہ جب آپؐ سونے کے لیے لیٹتے تو یہ سورۃ پڑھ لیا کرتے تھے(بزّار، طَبَرانی، ابن مردویہ)
ابنِ عباسؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا ”میں تمہیں بتاؤں وہ کلمہ جو تم کو شرک سے محفوظ رکھنے والا ہے؟ وہ یہ ہے کہ سوتے وقت قُلْ قُلْ یٰٓااَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ پڑھ لیا کرو (ابو یَعلیٰ، طَبَرانی)۔
حضرت اَنَسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مُعاذ بن جَبَل سے فرمایا سوتے وقت قُلْ یٰٓااَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ پڑھ لیا کرو کیونکہ یہ شرک سے براءت ہے(بَیْہَقِی فی الشعب)۔
فَرْدَہ بن نَوفَل اور عبد الرحمان بن نَوفَل ، دونوں کا بیان ہے کہ ان کے والد نوفل بن معاویہؓ الاَشْجَعی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی چیز بتا دیجیئے  جسے میں سوتے وقت پڑھ لیا کروں۔ آپ نے فرمایا قُلْ یٰٓااَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ آخر تک پڑھ کر سو جایا کرو، کیونکہ یہ شرک سے براءت ہے(مُسند احمد، ابو داؤد، تِرمِذی، نَسائی، ابن ابی شَیبہ، حاکم ، ابن مَرْدُوْیَہ، بِیْہَقِی فی الشعب) ۔ ایسی ہی درخواست حضرت زید بن ؓ حارثہ کے بھائی حضرت جَبَلہ بنؓ حارثہ نے حضور سے کی تھی اور ان کو بھی آپ نے یہی جواب دیا تھا ( مُسند احمد، طَبَرانی)۔  [ ماخوز از تفہیم القرآن ]
سورة النصر:  اِس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بتا دیا تھا کہ جب عرب میں اسلام کی فتح مکمل ہوجائے اور لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہونے لگیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ کام مکمل ہو گیا  جس کے لیے آپؐ دنیا میں بھیجے گئے تھے۔ اس کے بعد آپؐ کو حکم دیا گیا  کہ آپؐ اللہ کی حمد اور اس کی تسبیح کرنے میں مشغول  ہو جائیں کہ اُس کے فضل سے آپؐ اتنا بڑا کام انجام دینے میں کامیاب ہو ئے ، اور اُس سے دعا کریں کہ اِس خدمت کی انجام دہی میں جو بھول چوک یا کوتاہی بھی آپؐ سے ہوئی ہو اُسے وہ معاف فرمادے۔
 حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات سے پہلے سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْ بُ اِلَیْکَ (بعض روایات میں الفاظ یہ ہیں سُبْحَانَ اللہِ وَبَحَمْدِہٖ اَسْتَغْفِرُاللہَ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ ) کثرت سے پڑھا کرتے تھے ۔ میں عرض کیا یا رسول اللہ یہ کیسے کلمات ہیں جو آپؐ نے اب پڑھنے شروع کر دیے ہیں؟ فرمایا میرے لیے ایک علامت مقرر کر دی گئی ہے کہ جب میں اُسے دیکھوں تو یہ الفاظ کہا کروں اور وہ ہے اَذَا جَآءَ نَصْرُ اللہِ وَالْفَتَحُ (مُسند احمد، مسلم ، ابن جریر، ابن المنذر، ابن مردویہ)۔ اسی سے ملتی جُلتی بعض روایات میں حضرت عائشہؓ کا بیان ہے کہ آپؐ  اپنے رکوع و سجود میں بکثرت یہ الفاظ کہتے تھے سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ۔ یہ قرآن (یعنی سورۂ نصر) کی تاویل تھی جو آپؐ نے فرمائی تھی (بخاری، مسلم، ابو داؤد، نَسائی، ابن ماجہ، ابن جریر)۔
ابن عباسؓ کا بیان ہے کہ اس سورت کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخرت کے لیے محنت و ریاضت کرنے میں اِس قدر شدّت  کے ساتھ مشغول ہوگئے  جتنے اس سے پہلے کبھی نہ ہوئے تھے (نَسائی، طَبَرانی، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ)۔  [ ماخوز - تفہیم القرآن ]
سورة اللھب:  نام لے کر جب آپؐ کے چچا ابو للھب کی مذمت کی گئی تو لوگوں کی یہ توقع ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دین کے معاملہ میں کسی کا لحاظ کر کے کوئی مداہنت برت سکتے ہیں۔ 
ٹوٹ گئے ابولہب کے ہاتھ اور نامراد ہو گیا وہ (1) اُس کا مال اور جو کچھ اس نے کمایا وہ اُس کے کسی کام نہ آیا (2)
جب علی الاعلان رسول  کے  اپنے چچا کی خبر لے ڈالی گئی تو لوگ سمجھ گئے کہ یہاں کسی لاگ لپیٹ کی گنجائش نہیں ہے۔ غیر اپنا ہو سکتا ہے اگر ایمان لے آئے، اور اپنا غیر ہو جاتا ہے اگر کفر کرے۔ اِس معاملہ میں فلاں ابنِ فلاں کوئی چیز نہیں ہے۔
سورة الاخلاص: قرآن مجید جس دین کو پیش کرتا ہے اُس کی بنیا د تین عقیدے ہیں۔ (١) ایک توحید۔  (٢) دوسرے رسالت اور (٣)تیسرے آخرت۔ یہ سورۃ چونکہ خالص توحید کو بیان کرتی ہے اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ایک تہائی قرآن کے برابر قرار دیا۔  قرآن مجید کا یہ اعجاز ہے کہ اُس نے الله تعالی پرسوالات کا جواب چند الفاظ میں دے کر اللہ کی ہستی کا ایسا واضح تصور پیش کر دیا جو تمام مشرکانہ  تصورات کا قلع قمع کردیتا ہے اور اُس کی ذات کے ساتھ مخلوقات کی صفات میں سے کسی صفت کی آلودگی کے لیے کوئی گنجائش باقی نہیں رہنے دیتا۔
 یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ میں اِس سورت کی بڑی عظمت تھی اور آپؐ مختلف طریقوں سے مسلمانوں کو اِس کی اہمیت محسوس کراتے تھے، تاکہ وہ کثرت سے اِس کو پڑھیں اور عام الناس میں اِسے پھیلائیں، کیونکہ یہ اسلام کے اولین بنیادی عقیدے(توحید) کو چار ایسے مختصر فقروں میں بیان کر دیتی ہے جو فوراً انسان کے ذہن نشین ہو جاتے ہیں اور آسانی سے زبانوں پر چڑھ جاتے ہیں۔ احادیث میں کثرت سے یہ روایات بیان ہوئی ہیں کہ حضورؐ نے مختلف مواقع پر مختلف طریقوں سے لوگوں کو  بتایا کہ یہ سورت ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔ بخاری، مسلم، ابوداؤد، نَسائی ، تِرمِذی، ابن ماجہ، مُسند احمد، طَبَرانی، وغیرہ میں اِس مضمون کی متعدد  احادیث ابو سعید خُدری، ابو ہریرہ، ابو ایوب انصاری، ابو الدَّ رْدا، مُعاذ بن جَبَل، جابر بن عبداللہ، اُبَیّ بن کَعب، امّ کُلثوم بنت عُقْبَہ بن ابی مُعَیط، ابنِ عمر ، ابن مسعود، قَتادہ بن النُعمان، اَنَس بن مالک اور ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے منقول ہوئی ہیں ۔
سورة الفلق: اور سورة الناس کو  مُعَوِّذَّتَیْن کھا جاتا ہے-  اگرچہ  قرآن مجید کی یہ آخری دو سورتیں بجائے خود الگ الگ ہیں، اور مُصْحَف میں الگ ناموں ہی سے لکھی ہوئی ہیں ، لیکن اِن کے درمیان باہم اتنا گہرا تعلق ہے، اور اِن کے مضامین ایک دوسرے سے اِتنی قریبی مناسبت رکھتے ہیں کہ اِن کا ایک مشترک نام”مُعَوِّذَتَیْن“ (پناہ مانگنے والی دو سورتیں) رکھا گیا ہے۔ امام بَیْہَقی نے دلائلِ نبوت میں لکھا ہے کہ یہ نازل بھی ایک ساتھ ہی ہوئی ہیں، اِسی وجہ سے دونوں کا مجموعی نام مُعَوِّذَتَیْن ہے۔ 
آپ کے خلاف جادو ٹونے کیے جارہے تھے تاکہ آپ یا تو وفات پاجائیں یا سخت بیمار پڑجائیں، یا دیوانے ہوجائیں۔ شیاطینِ جِنّ و انس ہر طرف پھیل گئے تھے تاکہ عوام کے دلوں میں آپ کے خلاف اور آپ کے لائے ہوئے دین اور قرآن کے خلاف کوئی نہ کوئی وسوسہ ڈال دیں جس سے لوگ بدگمان ہوکر آپ سے دور بھاگنے لگیں۔ 
اِن حالات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم سے فرمایا گیا کہ اِن لوگوں سے کہہ دو کہ میں پناہ مانگتا ہوں  طلوعِ صبح کے رب کی، تمام مخلوقات کے شر سے، رات کے اندھیرے اور جادوگروں اور جادوگرنیوں کے شر سے، اور ھاسدوں کے شر سے۔ اور ان سے کہہ دو کہ میں پناہ مانگتا ہوں انسانوں کے رب، انسانوں کے بادشاہ اور انسانوں کے معبود کی ہر اُس وسوسہ انداز کے شر سے جو بار بار پلٹ کر آتا ہے اور لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے، خواہ وہ شیاطینِ جن میں سے ہو یا شیاطینِ اِنس میں سے۔ یہ اُسی طرح کی بات ہے جیسی حضرت موسٰی نے اُس وقت فرمائی تھی جب فرعون نے بھرے دربار میں اُن کے قتل کا ارادہ ظاہر کیا تھا کہ اِنِّی عُذْتُ بِرَبِّیْ وَرَبِّکُمْ مِّنْ کُلِّ مُتَکَبِّرٍ لَّا یُوٴمِنُ بِیَوْمِالْحِسَبِ،  ”میں نے اپنے اور تمہارے رب کی پناہ لےلی ہے ہر اُس متکبِّر کے مقابلے میں جو روزِ حساب پر ایمان نہیں رکھتا“(المومن، ۲۷) وَانِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَرَبِّکُمْ اَنْ تَرْ جُمُوْنِ، ”اور میں نے اپنے اور تمہارے رب کی پناہ لے لی ہے اِس بات سے کہ تم مجھ پر حملہ آور ہو“۔ (الدُّخان - ۲۰)۔
روایات کی رو سے حضورؐ پر جادو کیا گیا تھا، اور اس کے اثر سے آپ بیمار ہوگئے تھے، اور اس اثر کو  دور کرنے کے لیے جبریل علیہ السلام نے آکر آپ کو یہ سورتیں پڑھنے کی ہدایت کی تھی۔ 
 بکثرت صحیح احادیث میں یہ ذکر آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات کو سوتے وقت، اور خاص طور پر بیماری کی حالت میں معوّذتین، یا بعض روایات کے مطابق مُعوّذات (یعنی قل ہو اللہ اور معوِّذتین) تین مرتبہ پڑھ کر اپنے دونوں ہاتھوں میں پھونکتے اور سر سے لے کر پاؤں تک پورے جسم پر، جہاں جہاں تک بھی آپ کے ہاتھ پہنچ سکتے، انہیں پھیرتے تھے۔آخر بیماری میں جب آپ کے لیے خود ایسا کرنا ممکن نہ رہا تو حضرت عائشہ نے یہ سورتیں (بطور خود یا حضورؐ کے حکم سے) پڑھیں اور آپ کے دست مبارک کی برکت کے خیال سے آپ ہی کے ہاتھ لے کر آپ کے جسم پر پھیرے ۔ اس مضمون کی روایات صحیح سندوں  کے ساتھ بخاری، مسلم، نسائی، ابن ماجہ، ابو داؤد اور مؤطا امام مالک میں خود حضرت عائشہ سے مروی ہیں-
سورہ فاتحہ اور اِن سورتوں کی مناسبت:
معوّذتین کے بارے میں  قابل توجہ قرآن کے آغاز اور اختتام کی مناسبت ہے۔ ترتیب کے لحاظ سے قرآن کا آغاز سورہ فاتحہ سے ہوتا ہے اور اختتام معوّذتین پر ۔اب ذرا دونوں پر ایک نگاہ ڈالیے ۔ آغاز میں اللہ رب العالمین، رحمٰن الرحیم ، اور مالک یوم الدین کی حمد و ثناہ کر کے بندہ عرض کرتا ہے کہ آپ ہی کی میں  بندگی کرتا ہوں اور آپ ہی سے مدد چاہتا ہوں، اور سب سے بڑی مدد جو مجھے درکار ہے وہ یہ ہے کہ مجھے سیدھا راستہ بتائیے۔ جو اب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے سیدھا راستہ دکھانے کے لیے اسے پورا قرآن دیا جاتا ہے، اور اس کو ختم اس بات پر کیا جاتا ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ سے جو رب الفلق ، رب الناس ، مالک الناس اور الہ الناس ہے ، عرض کرتا ہے کہ میں ہر مخلوق کے ہر فتنے اور شر سے محفوظ رہنے کے لیے آپ ہی کی پناہ لیتا ہوں، ااور خصوصیت کے ساتھ  شیاطین جن و انس کے وسوسوں سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں، کیونکہ رائے راست کی پیروری میں وہی سب سے زیادہ مانع ہوتے ہیں۔ اس آغاز کے ساتھ یہ اختتام جو مناسبت رکھتا ہے وہ کسی صاحب نظر سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی-   [ ماخوز - تفہیم القرآن ]
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن پڑھنے‘ سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ (آمین)

منتخب مضامین و آیات ، ترجمہ :

قرآن :
اور یہ (قرآن) کسی شیطان مردود کا قول نہیں ہے (25) پھر تم لوگ کدھر چلے جا رہے ہو؟ (26) یہ تو سارے جہان والوں کے لیے ایک نصیحت ہے (27) تم میں سے ہر اُس شخص کے لیے جو راہ راست پر چلنا چاہتا ہو (28) اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک اللہ رب العالمین نہ چاہے (سورہ تکویر: 29)
اور جب قرآن اِن کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے؟ (21) بلکہ یہ منکرین تو الٹا جھٹلاتے ہیں (سورہ انشقاق :22)
یقینا یہ بزرگ و برتر قرآن ہے (21) جو لوح محفوظ میں محفوظ کیا گیا ہے( سورہ بروج:22)
 بیشک یہ (قرآن) البتہ دو ٹوک فیصلہ کرنے واﻻ کلام ہے (13)  اور مذاق نہیں ہے (سورہ طارق:14
ہم تجھے پڑھائیں گے پھر تو نہ بھولے گا (سورۃ الاعلیٰ: 6) مگر جو کچھ اللہ چاہے۔ وه ﻇاہر اور پوشیده کو جانتا ہے (7)
یقیناً ہم نے اسے (قرآن) شب قدر میں نازل فرمایا ( سورہ قدر: 1)
ہرگز نہیں، عنقریب اِنہیں (قیامت کا) معلوم ہو جائیگا (4)
 بے شک فیصلے کا دن ایک مقرر وقت ہے (17) جس روز صور میں پھونک مار دی جائے گی، تم فوج در فوج نکل آؤ گے (18)
اور ہماری آیات کو انہوں نے بالکل جھٹلا دیا تھا (28) اور حال یہ تھا کہ ہم نے ہر چیز گن گن کر لکھ رکھی تھی (29) اب چکھو مزہ، ہم تمہارے لیے عذاب کے سوا کسی چیز میں ہرگز اضافہ نہ کریں گے (30)
 وہ دن برحق ہے، اب جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف پلٹنے کا راستہ اختیار کر لے (39)
پھر موسیٰؑ نے (فرعون کے پاس جا کر) اُس کو بڑی نشانی دکھائی (20) مگر اُس نے جھٹلا دیا اور نہ مانا (21)
 آخرکار اللہ نے اسے آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑ لیا (25) درحقیقت اِس میں بڑی عبرت ہے ہر اُس شخص کے لیے جو ڈرے (26)
 کیا تم لوگوں کی تخلیق زیادہ سخت کام ہے یا آسمان کی؟ اللہ نے اُس کو بنایا (27)
پھر جب وہ ہنگامہ عظیم برپا ہوگا (34) جس روز انسان اپنا سب کیا دھرا یاد کرے گا (35) اور ہر دیکھنے والے کے سامنے دوزخ کھول کر رکھ دی جائے گی (36) تو جس نے سرکشی کی تھی (37) اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی تھی (38) دوزخ ہی اس کا ٹھکانا ہوگی (39) اور جس نے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف کیا تھا اور نفس کو بری خواہشات سے باز رکھا تھا (40) جنت اس کا ٹھکانا ہوگی (41)
یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ "آخر وہ گھڑی کب آ کر ٹھیرے گی؟" (42) تمہارا کیا کام کہ اس کا وقت بتاؤ (43) اس کا علم تو اللہ پر ختم ہے (44) تم صرف خبردار کرنے والے ہو ہر اُس شخص کو جو اُس کا خوف کرے (45
جو شخص بے پروائی برتتا ہے (5) اس کی طرف تو تم توجہ کرتے ہو (6) حالانکہ اگر وہ نہ سدھرے تو تم پر اس کی کیا ذمہ داری ہے؟ (7) اور جو خود تمہارے پاس دوڑا آتا ہے (8) اور وہ ڈر رہا ہوتا ہے (9) اس سے تم بے رخی برتتے ہو (10) ہرگز نہیں، یہ تو ایک نصیحت ہے (11) جس کا جی چاہے اِسے قبول کرے (12) یہ ایسے صحیفوں میں درج ہے جو مکرم ہیں (13) بلند مرتبہ ہیں، پاکیزہ ہیں (14) معزز اور نیک کاتبوں کے (15) ہاتھوں میں رہتے ہیں (16) لعنت ہو انسان پر، کیسا سخت منکر حق ہے یہ (17)
کس چیز سے اللہ نے اِسے پیدا کیا ہے؟ (18) نطفہ کی ایک بوند سے اللہ نے اِسے پیدا کیا، پھر اِس کی تقدیر مقرر کی (19) پھر اِس کے لیے زندگی کی راہ آسان کی (20) پھر اِسے موت دی اور قبر میں پہنچایا (21) پھر جب چاہے وہ اِسے دوبارہ اٹھا کھڑا کرے (22) ہرگز نہیں، اِس نے وہ فرض ادا نہیں کیا جس کا اللہ نے اِسے حکم دیا تھا (23
ان میں سے ہر شخص پر اس دن ایسا وقت آ پڑے گا کہ اسے اپنے سوا کسی کا ہوش نہ ہوگا (37) کچھ چہرے اُس روز دمک رہے ہوں گے (38) ہشاش بشاش اور خوش و خرم ہوں گے (39) اور کچھ چہروں پر اس روز خاک اڑ رہی ہوگی (40) اور کلونس چھائی ہوئی ہوگی (41) یہی کافر و فاجر لوگ ہوں گے (42)
جب سورج لپیٹ دیا جائے گا (1) اور جب تارے بکھر جائیں گے (2) اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے (3) اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا (8) کہ وہ کس قصور میں ماری گئی؟ (9) اور جب اعمال نامے کھولے جائیں گے (10) اور جب آسمان کا پردہ ہٹا دیا جائے گا (11) اور جب جہنم دہکائی جائے گی (12) اور جب جنت قریب لے آئی جائے گی (13) اُس وقت ہر شخص کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے (14)
اور یہ (قرآن) کسی شیطان مردود کا قول نہیں ہے (25) پھر تم لوگ کدھر چلے جا رہے ہو؟ (26) یہ تو سارے جہان والوں کے لیے ایک نصیحت ہے (27) تم میں سے ہر اُس شخص کے لیے جو راہ راست پر چلنا چاہتا ہو (28) اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک اللہ رب العالمین نہ چاہے (سورہ تکویر: 29)
جب آسمان پھٹ جائے گا (1) اور جب تارے بکھر جائیں گے (2) اور جب سمندر پھاڑ دیے جائیں گے (3) اور جب قبریں کھول دی جائیں گی (4) اُس وقت ہر شخص کو اُس کا اگلا پچھلا سب کیا دھرا معلوم ہو جائے گا (5
 اور تم کیا جانتے ہو کہ وہ جزا کا دن کیا ہے؟ (17) ہاں، تمہیں کیا خبر کہ وہ جزا کا دن کیا ہے؟ (18) یہ وہ دن ہے جب کسی شخص کے لیے کچھ کرنا کسی کے بس میں نہ ہوگا، فیصلہ اُس دن بالکل اللہ کے اختیار میں ہوگا (19)
تباہی ہے ڈنڈی مارنے والوں کے لیے (1) جن کا حال یہ ہے کہ جب لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں (2) اور جب ان کو ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو انہیں گھاٹا دیتے ہیں (3) کیا یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ ایک بڑے دن، (4) یہ اٹھا کر لائے جانے والے ہیں؟ (5) اُس دن جبکہ سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے (6) ہرگز نہیں، یقیناً بد کاروں کا نامہ اعمال قید خانے کے دفتر میں ہے (7)
ہرگز نہیں، بالیقین اُس روز یہ اپنے رب کی دید سے محروم رکھے جائیں گے (15) پھر یہ جہنم میں جا پڑیں گے (16)
بے شک نیک لوگ بڑے مزے میں ہوں گے (22)
جب آسمان پھٹ جائے گا (1) اور اپنے رب کے فرمان کی تعمیل کرے گا اور اُس کے لیے حق یہی ہے (کہ اپنے رب کا حکم مانے) (2) اور جب زمین پھیلا دی جائے گی (3) اور جو کچھ اس کے اندر ہے اُسے باہر پھینک کر خالی ہو جائے گی (4
اور جب قرآن اِن کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے؟ (21) بلکہ یہ منکرین تو الٹا جھٹلاتے ہیں (سورہ انشقاق :22)
 لہٰذا اِن کو دردناک عذاب کی بشارت دے دو (24) البتہ جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کے لیے کبھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے (25)
جن لوگوں نے مومن مردوں اور عورتوں پر ظلم و ستم توڑا اور پھر اس سے تائب نہ ہوئے، یقیناً اُن کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور ان کے لیے جلائے جانے کی سزا ہے (10) جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے، یقیناً اُن کے لیے جنت کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، یہ ہے بڑی کامیابی (11
یقینا یہ بزرگ و برتر قرآن ہے (21) جو لوح محفوظ میں محفوظ کیا گیا ہے( سورہ بروج:22)
کوئی نفس ایسا نہیں ہے جس کے اوپر نگراں نہ معین کیا گیا ہو (4
یقینا وہ خدا انسان کے دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے (8) z
 بیشک یہ (قرآن) البتہ دو ٹوک فیصلہ کرنے واﻻ کلام ہے (13)  اور مذاق نہیں ہے (سورہ طارق:14
یہ لوگ چالیں چل رہے ہیں (15) اور میں بھی ایک چال چل رہا ہوں (16) پس چھوڑ دو اے نبیؐ، اِن کافروں کو اک ذرا کی ذرا اِن کے حال پر چھوڑ دو (17)
اپنے بہت ہی بلند اللہ کے نام کی پاکیزگی بیان کر (1) جس نے پیدا کیا اور صحیح سالم بنایا (2) اور جس نے (ٹھیک ٹھاک) اندازه کیا اور پھر راه دکھائی (3
ہم تجھے پڑھائیں گے پھر تو نہ بھولے گا (سورۃ الاعلیٰ: 6) مگر جو کچھ اللہ چاہے۔ وه ﻇاہر اور پوشیده کو جانتا ہے (7) ہم آپ کے لئے آسانی پیدا کر دیں گے (8) تو آپ نصیحت کرتے رہیں اگر نصیحت کچھ فائده دے (9) ڈرنے واﻻ تو نصیحت لے گا (10) (ہاں) بد بخت اس سے گریز کرے گا (11) جو بڑی آگ میں جائے گا (12) جہاں پھر نہ وه مرے گا نہ جیے گا، (بلکہ حالت نزع میں پڑا رہے گا) (13) بیشک اس نے فلاح پالی جو پاک ہوگیا (14) اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پڑھتا رہا (15)
لیکن تم تو دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو (16) اور آخرت بہت بہتر اور بہت بقا والی ہے (17) یہ باتیں پہلی کتابوں میں بھی ہیں (18) (یعنی) ابراہیم اور موسیٰ کی کتابوں میں (19)
کیا تجھے بھی چھپا لینے والی (قیامت) کی خبر پہنچی ہے (1) اس دن بہت سے چہرے ذلیل ہوں گے (2) بہت سے چہرے اس دن تروتازه اور (آسوده حال) ہوں گے (8) اپنی کوشش پر خوش ہوں گے (9)
پس آپ نصیحت کر دیا کریں (کیونکہ) آپ صرف نصیحت کرنے والے ہیں (21) آپ کچھ ان پر داروغہ نہیں ہیں (22) ہاں! جو شخص روگردانی کرے اور کفر کرے (23) اسے اللہ تعالیٰ بہت بڑا عذاب دے گا (24) بیشک ہماری طرف ان کا لوٹنا ہے (25) پھر بیشک ہمارے ذمہ ہے ان سے حساب لینا (26)
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے عادیوں کے ساتھ کیا کیا (6) ستونوں والے ارم کے ساتھ (7) اور ﺛمودیوں کے ساتھ جنہوں نے وادی میں بڑے بڑے پتھر تراشے تھے (9) اور فرعون کے ساتھ جو میخوں واﻻ تھا (10) ان سبھوں نے شہروں میں سر اٹھا رکھا تھا (11) اور بہت فساد مچا رکھا تھا (12) آخر تیرے رب نے ان سب پر عذاب کا کوڑا برسایا (13
انسان (کا یہ حال ہے کہ) جب اسے اس کا رب آزماتا ہے اور عزت ونعمت دیتا ہے تو وه کہنے لگتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دار بنایا (15) اور جب وه اس کو آزماتا ہے اس کی روزی تنگ کر دیتا ہے تو وه کہنے لگتا ہے کہ میرے رب نے میری اہانت کی (اور ذلیل کیا) (16) ایسا ہرگز نہیں بلکہ (بات یہ ہے) کہ تم (ہی) لوگ یتیموں کی عزت نہیں کرتے (17) اور مسکینوں کے کھلانے کی ایک دوسرے کو ترغیب نہیں دیتے (18) اور (مردوں کی) میراث سمیٹ سمیٹ کر کھاتے ہو (19) اور مال کو جی بھر کر عزیز رکھتے ہو (20) یقیناً جس وقت زمین کوٹ کوٹ کر برابر کر دی جائے گی (21) اور تیرا رب (خود) آجائے گا اور فرشتے صفیں باندھ کر (آ جائیں گے) (22) اور جس دن جہنم بھی ﻻئی جائے گی اس دن انسان کو سمجھ آئے گی مگر آج اس کے سمجھنے کا فائده کہاں؟ (23)
اے اطمینان والی روح (27) تو اپنے رب کی طرف لوٹ چل اس طرح کہ تو اس سے راضی وه تجھ سے خوش (28) پس میرے خاص بندوں میں داخل ہو جا (29) اور میری جنت میں چلی جا (30)
یقیناً ہم نے انسان کو (بڑی) مشقت میں پیدا کیا ہے (4)
 کیا ہم نے اس کی دو آنکھیں نہیں بنائیں (8) اور زبان اور ہونٹ (نہیں بنائے) (9) ہم نے دکھا دیئے اس کو دونوں راستے (10) سو اس سے نہ ہو سکا کہ گھاٹی میں داخل ہوتا (11) اور کیا سمجھا کہ گھاٹی ہے کیا؟ (12) کسی گردن (غلام لونڈی) کو آزاد کرنا (13) یا بھوک والے دن کھانا کھلانا (14) کسی رشتہ دار یتیم کو (15) یا خاکسار مسکین کو (16) پھر ان لوگوں میں سے ہو جاتا جو ایمان ﻻتے اور ایک دوسرے کو صبر کی اور رحم کرنے کی وصیت کرتے ہیں (17) یہی لوگ ہیں دائیں بازو والے (خوش بختی والے) (18) اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کے ساتھ کفر کیا یہ کم بختی والے ہیں (19) انہی پر آگ ہوگی جو چاروں طرف سے گھیری ہوئی ہوگی (20)
 قسم ہے نفس کی اور اسے درست بنانے کی (7) پھر سمجھ دی اس کو بدکاری کی اور بچ کر چلنے کی (8) جس نے اسے پاک کیا وه کامیاب ہوا (9) اور جس نے اسے خاک میں ملا دیا وه ناکام ہوا (10) (قوم) ﺛمود نے اپنی سرکشی کے باعﺚ جھٹلایا (11)
جس نے دیا (اللہ کی راه میں) اور ڈرا (اپنے رب سے) (5) اور نیک بات کی تصدیق کرتا رہے گا (6) تو ہم بھی اس کو آسان راستے کی سہولت دیں گے (7) لیکن جس نے بخیلی کی اور بے پرواہی برتی (8) اور نیک بات کی تکذیب کی (9) تو ہم بھی اس کی تنگی ومشکل کے سامان میسر کر دیں گے (10) اس کا مال اسے (اوندھا) گرنے کے وقت کچھ کام نہ آئے گا (11) بیشک راه دکھا دینا ہمارے ذمہ ہے (12) اور ہمارے ہی ہاتھ آخرت اور دنیا ہے (13) میں نے تو تمہیں شعلے مارتی ہوئی آگ سے ڈرا دیا ہے (14)
جس میں صرف وہی بدبخت داخل ہوگا (15) جس نے جھٹلایا اور (اس کی پیروی سے) منھ پھیر لیا (16) اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہو گا (17) جو پاکی حاصل کرنے کے لئے اپنا مال دیتا ہے (18) کسی کا اس پر کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو (19) بلکہ صرف اپنے پروردگار بزرگ وبلند کی رضا چاہنے کے لئے (20) یقیناً وه (اللہ بھی) عنقریب رضامند ہو جائے گا (21)
نہ تو تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ وه بیزار ہو گیا ہے (3) یقیناً تیرے لئے انجام آغاز سے بہتر ہوگا (4) تجھے تیرا رب بہت جلد (انعام) دے گا اور تو راضی (وخوش) ہو جائے گا (5
پس یتیم پر تو بھی سختی نہ کیا کر (9) اور نہ سوال کرنے والے کو ڈانٹ ڈپٹ (10) اور اپنے رب کی نعمتوں کو بیان کرتا ره (11)
کیا ہم نے تیرا سینہ نہیں کھول دیا (1)
 اور ہمنے تیرا ذکر بلند کر دیا (4) پس یقیناً مشکل کے ساتھ آسانی ہے (5) بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے (6) پس جب تو فارغ ہو تو عبادت میں محنت کر (7) اور اپنے پروردگار ہی کی طرف دل لگا (8)
قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی (1) اور طور سِینِین کی (2) اور اس امن والے شہر کی (3) یقیناً ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا (4) پھر اسے نیچوں سے نیچا کر دیا (5) لیکن جو لوگ ایمان ﻻئے اور (پھر) نیک عمل کیے تو ان کے لئے ایسا اجر ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا (6) پس تجھے اب روز جزا کے جھٹلانے پر کون سی چیز آماده کرتی ہے (7) کیا اللہ تعالیٰ (سب) حاکموں کا حاکم نہیں ہے (8)
پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا (1) جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا (2) تو پڑھتا ره تیرا رب بڑے کرم واﻻ ہے (3) جس نے قلم کے ذریعے (علم) سکھایا (4) جس نے انسان کو وه سکھایا جسے وه نہیں جانتا تھا (5)
 سچ مچ انسان تو آپے سے باہر ہو جاتا ہے (6) اس لئے کہ وه اپنے آپ کو بے پروا (یا تونگر) سمجھتا ہے (7) یقیناً لوٹنا تیرے رب کی طرف ہے (8) (بھلا) اسے بھی تو نے دیکھا جو بندے کو روکتا ہے (9) جبکہ وه بنده نماز ادا کرتا ہے (10) بھلا بتلا تو اگر وه ہدایت پر ہو (11) یا پرہیز گاری کا حکم دیتا ہو (12) بھلا دیکھو تو اگر یہ جھٹلاتا ہو اور منھ پھیرتا ہو تو (13) کیا اس نے نہیں جانا کہ اللہ تعالیٰ اسے خوب دیکھ رہا ہے (14) یقیناً اگر یہ باز نہ رہا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے (15) ایسی پیشانی جو جھوٹی خطا کار ہے (16) یہ اپنی مجلس والوں کو بلالے (17) ہم بھی (دوزخ کے) پیادوں کو بلالیں گے (18) خبردار! اس کا کہنا ہرگز نہ ماننا اور سجده کر اور قریب ہو جا (19)
یقیناً ہم نے اسے (قرآن) شب قدر میں نازل فرمایا ( سورہ قدر: 1) تو کیا سمجھا کہ شب قدر کیا ہے؟ (2) شب قدر ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے (3) اس (میں ہر کام) کے سر انجام دینے کو اپنے رب کے حکم سے فرشتے اور روح (جبرائیل) اترتے ہیں (4) یہ رات سراسر سلامتی کی ہوتی ہے اور فجر کے طلوع ہونے تک (رہتی ہے) (5)
اہل کتاب کے کافر اور مشرک لوگ جب تک کہ ان کے پاس ﻇاہر دلیل نہ آجائے باز رہنے والے نہ تھے (وه دلیل یہ تھی کہ) (1) اللہ تعالیٰ کا ایک رسول جو پاک صحیفے پڑھے (2) جن میں صحیح اور درست احکام ہوں (3) اہل کتاب اپنے پاس ﻇاہر دلیل آجانے کے بعد ہی (اختلاف میں پڑ کر) متفرق ہوگئے (4) انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اسی کے لئے دین کو خالص رکھیں۔ ابراہیم حنیف کے دین پر اور نماز کو قائم رکھیں اور زکوٰة دیتے رہیں یہی ہے دین سیدھی ملت کا (5) بیشک جو لوگ اہل کتاب میں کافر ہوئے اور مشرکین سب دوزخ کی آگ میں (جائیں گے) جہاں وه ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے۔ یہ لوگ بدترین خلائق ہیں (6) بیشک جو لوگ ایمان ﻻئےاور نیک عمل کیے یہ لوگ بہترین خلائق ہیں (7) ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہمیشگی والی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وه ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا اور یہ اس سے راضی ہوئے۔ یہ ہے اس کے لئے جو اپنے پروردگار سے ڈرے (8)
جب زمین پوری طرح جھنجھوڑ دی جائے گی (1) اور اپنے بوجھ باہر نکال پھینکے گی (2) انسان کہنے لگے گا کہ اسے کیا ہوگیا؟ (3) اس دن زمین اپنی سب خبریں بیان کردے گی (4) اس لئے کہ تیرے رب نے اسے حکم دیا ہوگا (5) اس روز لوگ مختلف جماعتیں ہو کر (واپس) لوٹیں گے تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھا دیئے جائیں (6) پس جس نے ذره برابر نیکی کی ہوگی وه اسے دیکھ لے گا (7) اور جس نے ذره برابر برائی کی ہوگی وه اسے دیکھ لے گا (8)
قیناً انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے (6) اور یقیناً وه خود بھی اس پر گواه ہے (7) یہ مال کی محنت میں بھی بڑا سخت ہے (8) کیا اسے وه وقت معلوم نہیں جب قبروں میں جو (کچھ) ہے نکال لیا جائے گا (9) اور سینوں کی پوشیده باتیں ﻇاہر کر دی جائیں گی (10) بیشک ان کا رب اس دن ان کے حال سے پورا باخبر ہوگا (11)
جس دن انسان بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہو جائیں گے (4) اور پہاڑ دھنے ہوئے رنگین اون کی طرح ہو جائیں گے (5) پھر جس کے پلڑے بھاری ہوں گے (6) وه تو دل پسند آرام کی زندگی میں ہوگا (7) اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے (8) اس کا ٹھکانا ہاویہ ہے (9) تجھے کیا معلوم کہ وه کیا ہے (10) وه تند وتیز آگ (ہے) (11)
زیادتی کی چاہت نے تمہیں غافل کردیا (1) یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے (2) ہرگز نہیں تم عنقریب معلوم کر لو گے (3) ہرگز نہیں پھر تمہیں جلد علم ہو جائے گا (4) ہرگز نہیں اگر تم یقینی طور پر جان لو (5) تو بیشک تم جہنم دیکھ لو گے (6) اور تم اسے یقین کی آنکھ سے دیکھ لو گے (7) پھر اس دن تم سے ضرور بالضرور نعمتوں کا سوال ہوگا (8)
زمانے کی قسم (1) بیشک (بالیقین) انسان سرتا سر نقصان میں ہے (2) سوائے ان لوگوں کے جو ایمان ﻻئے اور نیک عمل کیے اور (جنہوں نے) آپس میں حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی (3)
بڑی خرابی ہے ہر ایسے شخص کی جو عیب ٹٹولنے واﻻ غیبت کرنے واﻻ ہو (1) جو مال کو جمع کرتا جائے اور گنتا جائے (2) وه سمجھتا ہے کہ اس کا مال اس کے پاس سدا رہے گا (3) ہرگز نہیں یہ تو ضرور توڑ پھوڑ دینے والی آگ میں پھینک دیا جائے گا (4) اور تجھے کیا معلوم کہ ایسی آگ کیا ہوگی؟ (5) وه اللہ تعالیٰ کی سلگائی ہوئی آگ ہوگی (6) جو دلوں پر چڑھتی چلی جائے گی (7) وہ ان پر ہر طرف سے بند کی ہوئی ہوگی (8) بڑے بڑے ستونوں میں (9)
تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟ (1) کیا اُس نے اُن کی تدبیر کو اکارت نہیں کر دیا؟ (2) اور اُن پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیے (3) جو اُن پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر پھینک رہے تھے (4) پھر اُن کا یہ حال کر دیا جیسے جانوروں کا کھایا ہوا بھوسا (5)
قریش کے مانوس کرنے کے لئے (1) (یعنی) انہیں جاڑے اور گرمی کے سفر سے مانوس کرنے کے لئے۔ (اس کے شکریہ میں) (2) پس انہیں چاہئے کہ اسی گھر کے رب کی عبادت کرتے رہیں (3) جس نے انہیں بھوک میں کھانا دیا اور ڈر (اور خوف) میں امن (وامان) دیا (4)
کیا تو نے (اسے بھی) دیکھا جو (روز) جزا کو جھٹلاتا ہے؟ (1) یہی وه ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے (2) اور مسکین کو کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا (3) ان نمازیوں کے لئے افسوس (اور ویل نامی جہنم کی جگہ) ہے (4) جو اپنی نماز سے غافل ہیں (5) جو ریاکاری کرتے ہیں (6) اور برتنے کی چیز روکتے ہیں (7)
(اے نبیؐ) ہم نے تمہیں کوثر عطا کر دیا (1) پس تم اپنے رب ہی کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو (2) تمہارا دشمن ہی جڑ کٹا ہے (3)
کہہ دو کہ اے کافرو (1) میں اُن کی عبادت نہیں کرتا جن کی عبادت تم کرتے ہو (2) اور نہ تم اُس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں (3) اور نہ میں اُن کی عبادت کرنے والا ہوں جن کی عبادت تم نے کی ہے (4) اور نہ تم اُس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں (5) تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین (6)

جب اللہ کی مدد آ جائے اور فتح نصیب ہو جائے (1) اور (اے نبیؐ) تم دیکھ لو کہ لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں (2) تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح کرو، اور اُس سے مغفرت کی دعا مانگو، بے شک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے (3)
ٹوٹ گئے ابولہب کے ہاتھ اور نامراد ہو گیا وہ (1) اُس کا مال اور جو کچھ اس نے کمایا وہ اُس کے کسی کام نہ آیا (2) ضرور وہ شعلہ زن آگ میں ڈالا جائے گا (3) اور (اُس کے ساتھ) اُس کی جورو بھی، لگائی بجھائی کرنے والی (4) اُس کی گردن میں مونجھ کی رسی ہوگی (5)
کہو، وہ اللہ ہے، یکتا (1) اللہ سب سے بے نیاز ہے اور سب اس کے محتاج ہیں (2) نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد (3) اور کوئی اس کا ہمسر نہیں ہے (4)
کہو، میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے رب کی (1) ہر اُس چیز کے شر سے جو اُس نے پیدا کی ہے (2) اور رات کی تاریکی کے شر سے جب کہ وہ چھا جائے (3) اور گرہوں میں پھونکنے والوں (یا والیوں) کے شر سے (4) اور حاسد کے شر سے جب کہ وہ حسد کرے (5)
کہو، میں پناہ مانگتا ہوں انسانوں کے رب (1) انسانوں کے بادشاہ (2) انسانوں کے حقیقی معبود کی (3) اُس وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے جو بار بار پلٹ کر آتا ہے (4) جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے (5) خواہ وہ جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے (6)
خلاصہ قرآن و منتخب آیات - پارہ # 30
مکمل خلاصہ لنک پر : https://flip.it/rAY..Z
انڈکس - خلاصہ قرآن و منتخب آیات - پارہ 1 سے پارہ 30 تک : https://flip.it/eTMXJN

قرآن مضامین انڈیکس:  https://flip.it/6zSSlW
~~~~~~~~~
🌹🌹🌹
🔰 Quran Subjects  🔰 قرآن مضامین 🔰
"اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا" [ الفرقان 25  آیت: 30]
The messenger said, "My Lord, my people have deserted this Quran." (Quran 25:30)

Popular posts from this blog